101
سر پٹکنے کو کوئ در نہ دریچہ پایا
جب کھلی آنکھ تو ہر سَمت ہی صحرا پایا
کاتبِ درد ترے ہاتھ میں ایسا کیا ہے
رخصتِ جاں ہوا جس شخص کو اپنا پایا
چارہ سازوں سے کوئ بات نہ بننے پائ
زخم سینچا تو اُسی زخم کو تازہ پایا
اشک رکنے سے غمِ جاں کا مداوا نہ ہوا
ہوش آیا تو مقابل تہہ دریا پایا
جان چھوٹے گی کسی بات سے دیوانے کی
اُس نے کل شام کسی شیخ کو رسوا پایا
حافظؔ زین العٰابدین
