412
رہتے ہیں یہ جو آپ کے اتنے قریب لوگ
اک روز بن نہ جائیں یہ میرے رقیب لوگ
آنا پڑے گا آپ کو سرکار سر کے بل
مانگیں گے رب کی ذات سے جب ہم غریب لوگ
ڈر ہے تمھارے پیار کو مجھ سے نہ چھین لیں
میں نے تمھارے شہر میں دیکھے عجیب لوگ
جڑ کر تمھاری ذات سے خوشیاں ملیں مجھے
کیونکہ تمھارے دوست ہیں سب خوش نصیب لوگ
سب نے دعا کے سائے میں رخصت کیا مجھے
یعنی مریضِ عشق سے عاجز طبیب لوگ؟
منزّہ سیّد
