100
مٹا کے نقش سبھی دل سے نقش پا کی طرح
گزر گیا ہے کوئی چھیڑ کے ہوا کی طرح
وہ پہلی پہلی محبت کے دن ہیں آنکھوں میں
پھر آج کل کوئی برہم ہے ابتداء کی طرح
نہیں گریز مجھے آزمائیشوں سے تیری
مگر دراز نا کر سلسلے سزا کی طرح
ہزاروں دوست ملیں گے مگر زمانے میں
کہاں وہ پیکر ایثار اس خفا کی طرح
میں اپنے اشک ندامت سے باوضو ہو کر
اسی سے مانگ رہی ہوں اسے دعا کی طرح
غنیم شہر کو مایوسیوں نے گھیرا ہے
کوئی تو آس بندھاو میری خدا کی طرح
ثوبیہ نورین نیازی
