101
ہاتھ اٹھا اور یہ دعا کر دے
رب مجھے خود سے آشنا کر دے
آگے تقدیر میں جو ہو سو ہو
تو فقط وعدہ وفا کر دے
اب جو پاؤں وہ تیرے نام کا ہو
چاہے تو درد ہی عطا کر دے
مجھ پہ تعزیر عشق لگتی ہے
قید کر یا مجھے رہا کر دے
وہ باضد ہے اگر جدائی پہ
مسکراتے ہوئے جدا کر دے
تو نےنورین وصل سوچا تھا
وہ جو چاہے تو کچھ نیا کر دے
ثوبیہ نورین نیازی
