101
اس کی ادا ادا میں جو سامان برق تھا
طاق حریم دل پہ چراغان برق تھا
تھاما تھا کس کی یاد نے طبع رسا کا ہاتھ
جولانئ خیال میں عنوان برق تھا
اُڑتے ہیں جا بجا خس و خاشاک آرزو
یہ دشت دل کبھی رہ جولان برق تھا
جلنے کی آس میں کئی خرمن بکھر گئے
کس سوچ میں یہ دیدہ حیران برق تھا
دیوانہ وار سینہ شب میں اُتر گئی
دست ھوا میں تار گریبان برق تھا
اپنے ہی غم کی آتش پنہاں میں جل بجھے
خرمن پہ اہل درد کے بہتان برق تھا
آنکھوں کے سامنے وہ کب آ کر نکل گئے
جلوہ بقدر جنبش مژگان برق تھا
آخر غم جہاں کی ہوا نے مٹا دیا
داغ جگر کہ سلسلہ جنبان برق تھا
منزہ انور گوئیُندی
