113
تم کو اس کا شعور تھا ہی نہیں
وہ کبھی مجھ سے دور تھا ہی نہیں
اس لیے بزم سے پلٹ آئے
حاضری میں حضور تھا ہی نہیں
یار کی دید ہو گئی مجھ کو
سامنے کوہِ طُور تھا ہی نہیں
بانٹتی پھر رہی ہیں بینائی
جن نگاہوں میں نُور تھا ہی نہیں
اُس کی غیرت جگا کے کیا ملتا
فطرتاً جو غیور تھا ہی نہیں
یوں ہی مصلوب کر دیا اُس کو
جس کا کوئی قصور تھا ہی نہیں
کاش دنیا کہے، روبینہ میں
عاجزی تھی، غرور تھا ہی نہیں
روبینہ شاد
