421
وہ جن کے نقش قدم دیکھنے میں آتے ہیں
اب ایسے لوگ تو کم دیکھنے میں آتے ہیں
کہیں نہیں ہے منارہ نہ منبر و محراب
محل سرا سے حرم دیکھنے میں آتے ہیں
طواف کوئے سخن ختم ہی نہیں ہوتا
کوئی نہیں ہے تو ہم دیکھنے میں آتے ہیں
اٹے ہوئے ہیں غبار شکستگی میں سلیمؔ
جو آئینے پس غم دیکھنے میں آتے ہیں
سلیم کوثر
