376
دست دعا کو کاسۂ سائل سمجھتے ہو
تم دوست ہو تو کیوں نہیں مشکل سمجھتے ہو
سینے پہ ہاتھ رکھ کے بتاؤ مجھے کہ تم
جو کچھ دھڑک رہا ہے اسے دل سمجھتے ہو
ہر شے کو تم نے فرض کیا اور اس کے بعد
سائے کو اپنا مد مقابل سمجھتے ہو
دریا تمہیں سراب دکھائی دیا اور اب
گرد و غبار راہ کو منزل سمجھتے ہو
خوش فہمیوں کی حد ہے کہ پانی میں ریت پر
جو بھی جگہ ملے اسے ساحل سمجھتے ہو
تنہائی جلوہ گاہ تحیر ہے اور تم
ویرانیوں کے رقص کو محفل سمجھتے ہو
جس نے تمہاری نیند پہ پہرے بٹھا دیئے
اپنی طرف سے تم اسے غافل سمجھتے ہو
سلیم کوثر
