100
اب ہے ٹوٹا سا دل خود سے بیزار سا
اس حویلی میں لگتا تھا دربار سا
اس طرح ساتھ نبھنا ہے دشوار سا
میں بھی تلوار سا تو بھی تلوار سا
خوب صورت سی پاؤں میں زنجیر ہو
گھر میں بیٹھا رہا میں گرفتار سا
گڑیا گڈے کو بیچا خریدا گیا
گھر سجایا گیا رات بازار سا
شام تک کتنے ہاتھوں سے گزروں گا میں
چائے خانوں میں اردو کے اخبار سا
میں فرشتوں کی محبت کے لائق نہیں
ہمسفر کوئی ہوتا گناہ گار سا
بات کیا ہے مشہور لوگوں کے گھر
موت کا سوگ ہوتا ہے تیوہار سا
زینہ زینہ اترتا ہوا آئینہ
اس کا لہجہ انوکھا کھنک دار سا
وہ علی گڑھ کی شامیں کہاں کھو گئیں
اب وہ شاعر کہاں ہے طرح دار سا
بشیر بدر
