خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپ کا سلاممختصر سیرتِ رسولﷺ
آپ کا سلاماردو تحاریراسلامی گوشہاسلامی مضامین

مختصر سیرتِ رسولﷺ

از سائیٹ ایڈمن مارچ 10, 2026
از سائیٹ ایڈمن مارچ 10, 2026 0 تبصرے 18 مناظر
19

نام و نسب

نام محمد عبداللہ بن عبد المطلب بن ہاشم بن عبد مناف اور کنیت ابو القاسم تھی بخاری و مسلم میں جبیرن مطعم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

میرے بہت سے نام ہیں ، میں محمد احمد ہوں ، ماحی (کفر کو مٹانے والا) حاشر (لوگوں کو اکٹھا کرنے والا) اور عاقب یعنی آخری نبی ہوں۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا نسب سب سے پاکیزہ ، اعلی و ارفع ہے ، واثلہ بن الاسقع رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

اللہ عز و جل نے ابراہیم(علیہ السلام) کی نسل سے اسماعیل(علیہ السلام) ، بنی اسماعیل سے کنانہ ، بنی کنانہ سے قریش ، قریش سے بنو ہاشم ، اور بنو ہاشم سے مجھے منتخب کیا (مسلم)

اور جب ہرقل (روم کا بادشاہ) نے ابو سفیان سے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے نسب کے بارے میں سوال کیا تو جواب دیا کہ:
وہ ہم میں سب سے اعلیٰ نسب والے ہیں ، ہرقل نے کہا:
انبیاء و رسل ایسے ہی ہوتے ہیں۔

ولادت باسعادت

ماہ ربیع الاول میں بروز سوموار آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش ہوئی اور جہاں تک تاریخ کی بات ہے تو اس مسئلہ میں مورخین کے یہاں اختلاف ہے راجح قول یہ ہے کہ ربیع الاول کی 9 تاریخ کو آپ کی پیدائش ہوئی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت سے قبل ہی آپ کے والد کا انتقال ہوچکا تھا ، پیدائش کے بعد ابولہب کی لونڈی ثوبیہ نے آپ کو چند دنوں تک دودھ پلایا پھر حلیمہ سعدیہ نے تقریباً 4 سال تک آپ کو دودھ پلانے کا شرف حاصل کیا اور جب شق صدر کا واقعہ پیش آیا تو حلیمہ سعدیہ نے خوف کے مارے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کی والدہ کے حوالے کر دیا۔

جب آپ کی عمر 6 سال کی ہوئی تو اپنی والدہ آمنہ بنت وہب کے ساتھ اپنے ننہیال مدینہ گئے واپسی میں مقام ابواء پر والدہ انتقال کر جاتی ہیں اس کے بعد موروثہ لونڈی ام ایمن نے آپ کی پرورش کی ، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دادا عبدا لمطلب نے کفالت کی جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر 8 سال کی ہوتی ہے آپ کے دادا کی وفات ہو جاتی ہے جنہوں نے وفات کے وقت آپ کے چچا ابو طالب کو کفالت و تربیت کی وصیت کی ، اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نبوت سے سرفراز کیا گیا تو! ابو طالب نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خوب مدد کی لیکن ایمان نہیں لائے ان کی اس تائید و نصرت کی وجہ سے قیامت کے دن انہیں ہلکا عذاب دیا جائے گا۔
٭٭

معصوم الخطا

اللہ رب العالمین نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہر قسم کی برائی سے محفوظ رکھا اور اعلی اخلاق پر فائز کیا آپ بچپن ہی سے صادق و امین کے لقب سے مشہور تھے اسی لئے جب قریش کے مابین تعمیر کعبہ کے وقت حجر اسود کو نصب کرنے میں تنازعہ ہوا اور یہ فیصلہ ہوا کہ جو سب سے پہلے کعبہ میں داخل ہو گا وہی اس کا حقدار ہو گا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم جن کی عمر اس وقت 35 سال تھی سب سے پہلے داخل ہوئے جس پر سب نے بیک زبان کہا:
یہ امین ہیں ہم ان سے راضی ہیں پھر آپ نے حجر اسود کو ایک کپڑے میں رکھ کر سرداران قبائل کو کپڑے کا ایک ایک کنارہ پکڑنے کا حکم دیا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے مبارک ہاتھوں سے حجر اسود کو اس کی جگہ پر رکھ دیا (مسند احمد ، حاکم)

ازواج مطہرات

1۔ آپ کے اخلاق عالیہ سے متاثر ہو کر خدیجہ رضی اللہ عنہا نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو شادی کا پیغام دیا اس وقت آپ کی عمر 25 سال کی تھی جب تک خدیجہ رضی اللہ عنہا زندہ رہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی دوسری عورت سے شادی نہیں کی۔

2۔ سودۃ بنت زمعہ

3 عائشہ بنت ابی بکر الصدیق

4۔ حفصہ بنت عمر

5۔ زینب بنت خزیمہ بن حارث

6۔ اُم سلمہ جن کا نام ہند بنت امیۃ تھا

7۔ زینب بنت حجش

8۔ جویریہ بنت الحارث

9۔ ام حبیبہ جن کا نام رملہ بنت ابی سفیان تھا

10 ۔صفیہ بنت حی بن اخطب

11۔ اور سب سے آخر میں میمونہ بنت الحارث سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نکاح کیا

خدیجہ و زینب بنت خزیمہ رضی اللہ عنہما یہ دونوں آپ کی زندگی میں وفات پا گئی تھیں باقی بیویاں آپ کی وفات کے بعد زندہ رہیں رضی اللہ عنھن جمیعاً۔

اولاد

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی 3 نرینہ اولاد تھیں۔

1۔ قاسم انہیں کے نام پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کنیت ابو القاسم پڑی۔

2۔ عبد اللہ جن کا لقب طیب و طاہر تھا۔

3۔ ابراہیم جو مدینہ میں پیدا ہوئے تینوں بچے بچپن میں ہی وفات پا چکے تھے واضح رہے کہ ابراہیم رضی اللہ عنہ کے سوا جو ماریہ قبطیہ کے بطن سے پیدا ہوئے آپ کی تمام اولاد لڑکے اور لڑکیاں سب حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا سے ہوئیں۔

بچیوں میں:

1۔ زینب سب سے بڑی تھیں ان کی شادی ابوالعاص بن ربیع سے ہوئی۔

2۔ رقیۃ جن کی شادی عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے ہوئی۔

3۔ فاطمہ حسن و حسین کی والدہ محترمہ جو علی رضی اللہ عنہ کی زوجیت میں تھیں۔

4۔ اُم کلثوم جو رقیہ کی وفات کے بعد عثمان رضی اللہ عنہ کی زوجیت میں آئیں۔

تمام بچیوں نے اسلام کا زمانہ پایا سب مسلمان ہوئیں فاطمہ رضی اللہ عنہا کے سوا سب کا انتقال آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات میں ہو گیا تھا۔
٭٭

نبوت و رسالت

17 رمضان المبارک بروز پیر یعنی دو شنبہ کو غارحراء میں 40 سال کی عمر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نبوت سے سرفراز کیا گیا ، جب آپ پر وحی آتی تو آپ کے چہرے کا رنگ بدل جاتا اور آپ سخت سردی میں بھی پسینہ سے شرابور ہو جاتے ، سب سے پہلے سورت علق کی 5 آیتیں نازل ہوئیں ، نزول وحی کے بعد اپنے گھر تشریف لے گئے مارے خوف کے آپ کا سینہ اچھل رہا تھا امّاں خدیجہ کو ساری داستان سنائی جس پر انہوں نے تسلی دی اور کہا:
اللہ کی قسم وہ کبھی آپ کو رسوا نہیں کرے گا آپ صلہ رحمی کرتے ہیں ، سچ بولتے ہیں ، لوگوں کا بوجھ اٹھاتے ہیں اور مصائب پر لوگوں کی مدد کرتے ہیں۔
٭٭

انقطاع وحی

کچھ مدت وحی بند رہی جس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم غم سے نڈھال تھے ، ایک دن جبریل امین علیہ والسلام کو آسمان و زمین کے مابین کرسی پر جلوہ افروز دیکھا مرعوب ہو کر گھر تشریف لائے خدیجہ سے فرمایا: زملونی زملونی: یعنی مجھے چادر اوڑھا دو ، مجھے چادر اوڑھا دو پھر سورت مدثر کی ابتدائی آیات نازل ہوئیں ، ان آیتوں کے بعد آپ نے لوگوں کو توحید کی دعوت دینا شروع کر دیا جس پر مکہ والے آپ کے دشمن ہو گئے اور ایذاء اور تکلیف پہنچانا شروع کر دیا ، جس پر چچا ابو طالب نے ڈھال کے مانند آپ کی مدد کی ، ابتدائی 3 سالوں تک خفیہ طور پر دعوت کا کام کرتے رہے اور جب (فاصدع بنا تومر) یعنی (اعلانیہ دعوت دینا شروع کر دیجئے) نازل ہوئی تو آپ نے علی الاعلان دعوت دینا شروع کر دیا ، اللہ تعالی نے جب یہ آیت نازل فرمائی (وانزرعشیرتک الاقربین) یعنی (اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈرائیں) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صفا پہاڑی پر چڑھ کر آواز لگائی اور جب آپ کے خاندان والے اکٹھا ہو گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

اگر میں یہ کہوں کہ اس پہاڑ کے پیچھے ایک لشکر ہے جو تم پر حملہ آور ہوا چاہتا ہے کیا تم لوگ میری بات مانو گے؟ سب نے بیک زبان کہا کہ ہم نے کبھی آپ کو جھوٹ بولتے نہیں پایا تو آپ نے فرمایا :

میں تم لوگوں کو سخت عذاب سے ڈراتا ہوں، ابو لہب نے کہا تیری بربادی ہو کیا تو نے اسی لئے جمع کیا تھا اس پر پوری سورت المسد نازل ہوئی۔

ہجرت حبشہ

جب مکہ والوں نے زیادہ تکلیف دینا شروع کر دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کو حبشہ ہجرت کرنے کا حکم دے دیا ، چچا ابو طالب کی وفات کے بعد لوگوں نے ایذا رسانی میں شدت پیدا کر دی ، صحیحین میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز ادا کر رہے تھے پاس ہی میں اونٹ کی اوجھڑی پڑی ہوئی تھی عقبہ بن ابی معیط نے اسے اٹھایا اور آپ سجدہ میں گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پشت مبارک پر ڈال دیا ، آپ کی بیٹی فاطمہ آئیں پھر انہوں نے اسے ہٹایا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بد دعا کرتے ہوئے فرمایا:

اے اللہ! سرداران قریش کو ہلاک کردے ، اور صحیح بخاری میں ہے کہ ایک دن عقبۃ بن ابی معیط ہی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گلے میں کپڑا لپیٹ کر زور سے کھینچا ، ابوبکر رضی اللہ عنہ آئے اور چھڑاتے ہوئے کہا:

کیا تم ایسے آدمی کو مارنا چاہتے ہو جو یہ کہتا ہے کہ میرا رب اللہ ہے۔ جب لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ابو طالب و خدیجہ کی وفات کے بعد زیادہ تکلیف دینا شروع کیا تو آپ دعوت توحید لے کر طائف پہنچے جہاں انہیں عناد ، ایذا و مذاق کے سوا کچھ نہ ملا اسی پر بس نہیں کیا گیا بلکہ پتھروں سے مار مار کر لہو لہان کر دیا طائف سے مکہ واپس آرہے تھے کہ پہاڑوں کا فرشتہ حاضر خدمت ہو کر گویا ہوا اگر آپ کا حکم ہوتو دونوں پہاڑوں کے بیچ میں اہل طائف کو پیس دیا جائے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

مجھے امید ہے کہ اللہ ان کی نسل سے ایسے لوگوں کو پیدا کرے گا جو صرف اللہ کی عبادت کریں گے اس کے ساتھ کچھ بھی شریک نہیں کریں گے۔
٭٭

مدینہ منورہ میں اسلام

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایام حج میں مدینہ کے 6 آدمیوں کو دعوت دی وہ مسلمان ہو گئے جن کی دعوت سے مدینہ میں کافی لوگ مسلمان ہوئے، جس کے بعد خفیہ طور پر بیعت عقبی اولی و ثانیہ پیش آئی ، اور جب مدینہ میں اسلام کا بول بالا ہو گیا تو آپ نے اپنے صحابہ اکرام کو مدینہ ہجرت کا حکم دے دیا۔ (بخاری و مسلم)
٭٭

ہجرت مدینہ

بحکم اللہ تعالیٰ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ کا رخ کیا آپ کے ساتھ ابو بکر رضی اللہ عنہ تھے دونوں غار ثور میں 3 دن تک چھپے رہے مدینہ پہنچنے پر آپ کا زبردست استقبال کیا گیا جہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی مسجد اور گھر تعمیر کیا۔
٭٭

غزوات

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے 27 غزوات (جنگیں) کیں چند کے نام یہ ہیں:

غزوہ بدر : 17 رمضان سن 2 ہجری میں ہیش آیا جس میں مسلمانوں کو فتح حاصل ہوئی۔

غزوہ احد : شوال سن 3 ہجری کا واقعہ ہے جس میں مسلمانوں کو شروع میں فتح ہوئی پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حکم عدولی میں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

غزوہ بنی نضیر : سنہ 4 ہجری کا واقعہ ہے جس میں یہودیوں کو بد عہدی کے جرم میں مدینہ سے جلا وطن کیا گیا۔

غزوہ مریسیع (بنی مصطلق) : ماہ شعبان سن 5 ہجری میں پیش آیا جس میں دشمن کو شکست ہوئی۔

غزوہ خندق : سنہ 5 ہجری میں ہوا جس میں کفار مکہ ناکام ہو کر واپس گئے۔

غزوہ بنی قریظہ : یہودیوں کے ساتھ پیش آیا وہ مسلمانوں کے حلیف تھے لیکن انہوں نے غداری و بغاوت کی جس کے پاداش میں مردوں کو قتل کر دیا گیا۔

صلح حدیبیہ : سنہ 6 ہجری میں اس وقت پیش آیا جب آپ اپنے جان نثار صحابہ کے ساتھ عمرہ کے لئے تشریف لے جا رہے تھے مقام حدیبیہ پر مکہ والوں نے آپ کے ساتھ 10 سال کے لئے صلح کی اور اس سال عمرہ کرنے سے روک دیا۔

فتح خیبر : یہ محرم سنہ 7 ہجری کا واقعہ ہے یہ جنگ ، خیبر کے یہودیوں کے ساتھ پیش آئی جس میں مسلمانوں کو فتح حاصل ہوئی۔

فتح مکہ : رمضان سنہ 8 ہجری میں پیش آیا 12 کافر قتل ہوئے اور صرف 2 مسلمان شہید ہوئے۔

غزوہ حنین : شوال سنہ 8 ہجری میں مسلمانوں اور رومیوں کے مابین پیش آیا۔

غزوہ موتہ : سنہ 8 ہجری میں مسلمانوں اور رومیوں کے مابین پیش آیا۔

غزوہ تبوک : جو سنہ 9 ہجری میں پیش آیا یہ آپ کا آخری غزوہ تھا رومیوں پر اتنا رعب پڑا کہ وہ مقابلہ ہی پر نہ آئے ، اس سال یعنی سنہ 9 ہجری کو عام وفود کہا جاتا ہے کیونکہ اس سال مختلف وفود آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور لوگ جوق در جوق دین اسلام میں داخل ہوئے ، اس کے علاوہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے 56 سریہ بھی بھیجا۔
٭٭

حج و عمرہ

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہجرت کے بعد صرف ایک حج کیا اور 4 عمرے کئے جو سب کے سب ذوالقعدہ کے مہینے میں ادا کئے گئے تھے۔
٭٭

حلیہ مبارک

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا قد مبارک درمیانی ، سرخی مائل روشن چہرہ ، گھنے بال ، آنکھیں سخت سیاہ ، سینے اور پیٹ پر معمولی بال ، سینے سے ناف تک بالوں کی باریک دھاری ، سینہ مبارک چوڑا۔
٭٭

اخلاق

آپ سب سے زیادہ سخی و فیاض ، راست باز ، نرم مزاج ، متواضع ، پابند عہد ، حیا دار ، بردبار اور سب سے زیادہ دلیر اور بہادر تھے۔ غیظ و غضب سے دور تھے کبھی اپنےنفس کے لئے انتقام نہ لیتے انس بن مالک رضی اللہ عنہ ارشاد فرماتے ہیں کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی 10 سال تک خدمت کی اگر میں نے کوئی کام کیا تو کبھی یہ نہیں فرمایا کہ یہ کام کیوں کیا اور اگر کوئی کام نہیں کیا تو یہ نہیں پوچھا کہ کیوں نہیں کیا ، البتہ اگر اللہ کی حرمت پامال ہوتی تو اللہ کے لئے انتقام لیتے ، جو ملتا کھا لیتے کھانوں میں کبھی عیب نہ نکالتے مہینوں آپ کے گھر میں آگ نہیں جلتی ، مریضوں کی عیادت کرتے جنازوں میں حاضر ہوتے فقراء و مساکین کے ساتھ اٹھتے بیٹھتے ، ہنسی مذاق بھی کیا کرتے تھے ، لوگوں سے ہمیشہ نرمی کے ساتھ پیش آتے غرض یہ کہ آپ تمام اخلاق عالیہ کے حسین پیکر تھے۔
٭٭

مناقب

جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ مجھے 5 چیزیں ایسی دی گئیں جو مجھ سے پہلے کسی کو نہیں دی گئیں ایک ماہ کی مسافت سے لوگوں کے دلوں میں میرا رعب ڈال دیا گیا ، پوری زمین کو میرے لئے مسجد اور پاک بنا دیا گیا جہاں بھی نماز کا وقت ہو نماز پڑھ لیں ، میرے لئے مال غنیمت کا حلال کیا گیا ، مجھے شفاعت سے نوازا گیا اور ہر نبی اپنی قوم کے لئے خاص بھیجا جاتا جبکہ مجھے پوری دنیا والوں کے لئے بھیجا گیا ہے۔ (بخاری و مسلم)

صحیح مسلم میں انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

بروز قیامت سب سے پہلے میری شفاعت قبول ہو گی ، اور میری امت سب سے زیادہ ہو گی اور میں سب سے پہلے جنت کا دروازہ کھٹکھٹاؤں گا۔
٭٭

عبادت و معیشت

عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاؤں میں قیام اللیل میں ورم ہو جاتا تھا آپ سے پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا:

کیا میں اللہ کا شکر گزار بندہ نہ بنوں۔ (بخاری و مسلم)

نیز فرماتی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا بستر چمڑے کا تھا جس میں کھجور کے تنے کی چھال بھری ہوتی تھی۔
٭٭

حجۃ الوداع

جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ 1 لاکھ مسلمانوں نے حج کیا۔
٭٭

وفات

سنہ 11 ہجری میں ربیع الاول کی 12 تاریخ سوموار کے دن بوقت چاشت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی (انا للہ وانا الیہ راجعون) وفات کے وقت آپ کا سر مبارک عائشہ رضی اللہ عنہ کی گود میں تھا ، غسل و تکفین کے بعد آپ پر لوگوں نے باری باری نماز جنازہ ادا کی ، آپ کو 63 سال کی عمر ملی جس میں سے 23 سال رسالت کے تھے ، 13 سال مکہ اور 10 سال مدینہ میں رہے۔ اس ذات مبارکہ و مقدسہ پر انگنت درودوسلام نازل ہوں۔

مختار احمد مدنی

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • مودی ناکام بیانیہ؛ بھارت کرپٹ ترین ملک قرار!
  • پاکستان کی خوشحالی کا راستہ
  • ضمیر واحد متبسم
  • ہم کون
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
کر کے تعمیر کربلا مجھ میں
پچھلی پوسٹ
ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا

متعلقہ پوسٹس

روشن ذہن

جنوری 24, 2025

سلام کس کو کرنا ہے

فروری 8, 2025

پراسرار تصویر

دسمبر 15, 2024

پتوکی از مستنصر تارڑ

ستمبر 29, 2019

لال دھرتی

جون 15, 2020

خدا کا حُسن ِ انتخاب

نومبر 26, 2021

جھوٹا ہے جانتا ہوں مگر اس کے باوجود

فروری 20, 2026

گلینا

جون 3, 2020

دشمن ہے گلے کا ہار آقا

اکتوبر 28, 2020

کوکھ جلی

مارچ 29, 2020

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • سوچتے رہو، جیتے رہو

    مارچ 18, 2026
  • بات کرتے ہو کیا دسمبر کی

    مارچ 17, 2026
  • اُردو شعرا پر سوشل انزائٹی کے اثرات

    مارچ 17, 2026
  • ماورا ہے سوچوں سے

    مارچ 17, 2026
  • گریہ و نالہ کناں ہیں دل _ برباد اور میں

    مارچ 17, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے
  • سردار حمادؔ منیر on یا رسولِ خدا اشرفِ انبیاء

اسلامی گوشہ

استخارہ

مارچ 15, 2026

مختصر سیرتِ رسولﷺ

مارچ 10, 2026

لیلۃ القدر – ایک رات اور پوری زندگی

مارچ 9, 2026

صدقۂ فطر کی حکمت و اہمیت

مارچ 9, 2026

اعتکاف احکام اور آداب

مارچ 9, 2026

اردو شاعری

بات کرتے ہو کیا دسمبر کی

مارچ 17, 2026

ماورا ہے سوچوں سے

مارچ 17, 2026

گریہ و نالہ کناں ہیں دل _ برباد...

مارچ 17, 2026

نشے میں ہم ہیں مگر

مارچ 17, 2026

یہ مرے گھر کے تین چار درخت

مارچ 17, 2026

اردو افسانے

عید کا ادھورا وعدہ اور لفظوں کا مصور

مارچ 17, 2026

دہلیز کا آخری وعدہ

مارچ 9, 2026

آدھی عورت آدھا خواب

جنوری 14, 2026

طوائف کون؟

جنوری 14, 2026

لمس

جنوری 12, 2026

اردو کالمز

سوچتے رہو، جیتے رہو

مارچ 18, 2026

اُردو شعرا پر سوشل انزائٹی کے اثرات

مارچ 17, 2026

میڈیا کا اثر اور ہماری سوچ تحریر

مارچ 17, 2026

کردار، کردار نگاری اور تخلیقیت

مارچ 16, 2026

امن بورڈ یا امن سے اکتاہٹ؟

مارچ 16, 2026

باورچی خانہ

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

سادہ مٹن ہانڈی

جولائی 5, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • سوچتے رہو، جیتے رہو

    مارچ 18, 2026
  • بات کرتے ہو کیا دسمبر کی

    مارچ 17, 2026
  • اُردو شعرا پر سوشل انزائٹی کے اثرات

    مارچ 17, 2026
  • ماورا ہے سوچوں سے

    مارچ 17, 2026
  • گریہ و نالہ کناں ہیں دل _ برباد اور میں

    مارچ 17, 2026
  • نشے میں ہم ہیں مگر

    مارچ 17, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

منقبت خلیفۂ سوم رضی اﷲ عنہ

اکتوبر 28, 2020

خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ

مئی 9, 2020

نشے میں ہم ہیں مگر

مارچ 17, 2026
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں