خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ اردو تحاریریہاں کچھ پھول رکھے ہیں
اردو تحاریراردو مزاحیہ تحاریرمشتاق یوسفی

یہاں کچھ پھول رکھے ہیں

مشتاق یوسفی کی مزاحیہ تحریر

از سائیٹ ایڈمن دسمبر 15, 2019
از سائیٹ ایڈمن دسمبر 15, 2019 0 تبصرے 606 مناظر
607

یہاں کچھ پھول رکھے ہیں

اس تقریب میں شرکت کے دعوت نامے کے ساتھ جب مجھے مطلع کیا گیا کہ میرے تقریباتی فرائض خالصتاً رسمی اور حاشیائی ہوں تو مجھے ایک گونہ اطمینان ہوا۔ ایک گونہ میں رواروی میں لکھ گیا، ورنہ سچ پوچھئے تو دو گونہ اطمینان ہوا۔ اس لئے کہ مجھےاطمینان دلایا گیاکہ رسم اجرا نہایت مختصر وسادہ ہو گئی۔ اس میں وہی ہو گا جو اس طرح کے شاموں میں شایان شان ہوتا ہے یعنی کچھ نہیں ہو گا۔ بس صاحب شام (میں نے جان بوجھ کر صاحبہ شام نہیں کہا) شاہدہ حسن کی تاج پوشی نہیں ہو گی۔ میرے تردّدتامّل اور اس وضاحت کا سبب یہ تھاکہ ایک ہفتے قبل میں شاہدہ کا ایک خیال انگیز تعارفی مضمون مخدومی ومکرمی جناب جاذب قریشی کی تاج پوشی کی تقریب سعید میں سن چکا تھا۔ جاذب صاحب کی شاعری اور تنقید کا دل پذیر سلسلہ، نصف صدی کا قصہ ہے، دو چار برس کی بات نہیں۔ ایک عمر کےریاض، مہارت تامّہ،ژرف نگاہی، وضعداری اور ادبی سیر چشمی کی جتنی تعریف کی جائے، کم ہے۔ تعجب اس پر ہواکہ جیسا تاج پیرو مرشد کوعقید تمندوں نے پہنایا، ویسا تاج امریکہ میں حسینئہ عالم کو اور پنجاب میں صرف دلہن کو پہنایا جاتا ہے۔ دولہا کے سر پر تو سہ غزلے کی لمبائی کے برابر اونچی طرّے دار کُلاہ ہوتی ہے۔ پنجاب میں اگر دولہا ایسا زنانہ تاج پہن کرآجائے تو قاضی نکاح پڑھانے سے انکار کر دے گا۔اور اگر نکاح ایک دن قبل ہو چکا ہے تو دلہن والے نکاح ٹوٹنے کا اعلان کر دیں گے۔ دلہن اپنے بائیں دستِ حنائی سے دائیں ہاتھ کی ہری ہری چوڑیاں توڑ دے گی اور دائیں ہاتھ سے بائیں کی۔ پھر اُن ہی سونٹا سے ہاتھوں سے دھکّے دے کر ہریالے بنڑے کو عقد گاہ سے یہ کہہ کر باہر نکال دے گی کہ

عقد عقد سمجھ مشغلئہ دل نہ بنا

برات کو رات کے ساڑھے گیارہ بجے، کوکا کولا کی بوتل پلائے بغیر کھڑے کھڑے واپس کر دیا جائے گا۔ تاج اور ادھورے ویڈیو سمیت!

تاج پوشی کی تصویریں کلِک کلِک کر کھنچنے لگیں تو مجھے یہ فکر لاحق ہوئی کہ اگرخدا نخواستہ یہ پنجاب کے اخباروں میں چھپ گئی تو لوگ کہیں گےکہ کراچی کےاہل زبان حضرات بزرگوں کے ساتھ دلہنوں کا سلوک کرتے ہیں اورعَرُوسی زیورات کےاستعمال میں تزکیروتانیث کاذراخیال نہیں رکھتے!جب کےالفاظ کےنرومادہ نہ پہچاننے پراب بھی لے دے ہوتی ہے۔

ہم نے دیکھاکہ حضرت جاذب براتِ دلداگاں میں گھِرے، تصویریں کھچوا رہےتھےتو ہمارے دوست پروفیسر قاضی عبدالقدوس ایم۔اے۔ بی۔ ٹی کے سینے پر سانپ لوٹنے لگے وہ گھر میں ہوتے ہیں تو اسی حصّہ جسم پر معصوم بچے لوٹتے ہیں۔ مرزا نے ہمارے کان کو ہاتھ سے اپنے منہ کے قریب کھینچ کراُن شعراء کے نام گنوائے جو حسد سے جلے مررہے تھے۔کہنے لگےکہ حاسدین کی فہرست میں ایک نثر نگار کا نام بھی ہے۔ پوچھا بھلا کون؟ بولے مشتاق احمد یوسفی۔پھراکبرالہٰ آبادی کےاشعار اپنی تحریف وہ سکتے کے ساتھ سنائے:

اوجِ بختِ مُلاقی اُن کا

چرخ ہفت طباقی ان کا

محفل وتاج طِلائی اُن کا

آنکھیں میری باقی اُن کا

یہ معروضات ازراہِ تففّن نہیں ہیں۔اگر سِن وسال کا بیّن تفاوت راہِ حسنِ عقیدت وارادت مندی میں حائل نہ ہوتا تومیں محترم المقام جناب جاذب قریشی اور ان کے استاد مکّرم، بلکہ استاذالاساتذہ حضرت فرمان فتح پوری کواپنا پیرومرشد کہنے میں فخرمحسوس کرتا۔ اورواقعہ یہ ہےکہ اُسی رشتہ ارادت ونیازمندی کے باعث رسم تاج پوشی کچھ عجیب سی لگی۔ یادش بخیر، تیس پینتیس برس اُدھرکی بات ہے۔ایسی ہی تاج پوشی ایک شاعرہ مس بلبل کی ہوئی تھی جو اپنے والد کے ہم راہ اندرون سندھ سے تشریف لائی تھیں۔ ان کے سرپرابنِ انشا نے دستِ خاص سے تاج رکھا اورملِکہ تغّزل کے لقب سے نوازا۔ اپنے تیکھے انداز میں ایک مضمون بھی پڑھا جسے مدحیہ ہجویاہجویہ قصیدہ کہا جائے تو دونوں تعریفیں درست ہوں گی۔ بعد کو ابن انشا نے مِس بُلبُل پر چار پانچ مز یدار کالم بھی لکھے۔ اس زمانے میں مس بلبل اور ہیرڈریسرز انجمن کے صدرسلمان، ان کے کالموں کے دل پسند موضوع تھے۔ ہال کا کرایہ، باسی سموسوں اور خالص ٹین کے تاج کی قیمت خود ملکۂ عالیہ نے جیبِ خالص سے ادا کی۔ رہی ان کی شاعری تو اتنا اشارہ کافی ہے ملکئہ اِقلیم سخن کی طبعِ آزاد، عروض کی غلام نہ تھی۔ غزل میں دورنگی نہیں پائی جاتی تھی۔ مطلب یہ کہ مطلع سے مقطع تک ہرشعروزن اوربحرسے یکساں خارج ہوتا تھا۔ پڑھتے وقت ہاتھ،آنکھ اوردیگراعضاء سےایسےاشارےکرتیں کہ شعرتہذیب سے بھی خارج ہو جاتا! ان اشاروں سے شعرکا مطلب تو خاک سمجھ میں نہیں آتا، شاعرہ کا مطلب ہم جیسے کُند ذہنوں کی سمجھ میں بھی آ جاتا تھا۔ بے پناہ داد ملتی جسے وہ حُسنِ سماعت سمجھ کرآداب بجا لاتی تھیں۔ وہ دراصل ان کے حسن وجمال پرواہ واہ ہوجاتی تھی۔ بقول مرزاعبدالودود بیگ، سامعینِ بےتمکین کےمردانہ جذبات کے فی البدیہہ اخراج کو خفیفہ خراجِ عقیدت سمجھتی تھی!لوگ انہیں مصرع طرح کی طرح اٹھائے اٹھائے پھرتے تھے۔

تقریب اجرا کا ماجرا قدرے تفصیل سے بیان کرنے کی دو وجہیں ہیں۔اوّل،یہ کہ میرے خشگوار فرائض رسمِ اجرا ہی سے متعلق ہیں۔دوم، قوی اندیشہ ہےکہ اگرتاجِ شہی کے وصول کُنندگان اور تاج دہند گان کی بر وقت حوصلہ شکنی نہ کی گئی تو یہ بدعتِ فاخرہ یعنی رسم تاج پوشی اب ہرتقریب رونمائی و اجراکالازمی حصّہ بن جائے گی، جس سے صرف ہر دو قسم کے ان کا ریگرانِ باکمال کو فائدہ ہوگا جو چاندی پر سونے کا ایسا ملمّع کرتے ہیں کہ

نسیمِ صبح جو چھو جائے، رنگ ہو میلا

(دستِ نقّاد جو چھو جائے، رنگ ہو میلا)؟

جواہلِ قلم اب تک کمالِ فن،تمغہ حسن کارکردگی،ہلالِ امتیازاوراکیڈمی آف لیٹرس کے انعامات کے لئے تگ ودَو کرتے اورآپس میں لڑتے بھِڑتے رہتے ہیں وہ اب تاج اورمنصبِ تاجوری کے لیے ایک دوسرے سے برسرِ پیکارپیزارہوں گے۔ ایک دوسرے کے کام اورکلام الملوک ملوک الکلام میں پورے مصرعے کے برابر لمبے کیڑے نکالیں گے۔مجھ جیسا ہرگیا گزارادیب اورشاعرخود کوRY Aکے ۲۲ کیریٹ گولڈ کے تاج کا اکلوتا حق دار قراردے گا۔

انوکھا لاڈلا کھیلن کو مانگے تاج!

کیسی یہ انوکھی بات!

مرزاعبدالودود بیگ کہتے ہیں کہ چھوٹے بڑے اوراچھے بُرے کی قید نہیں، اصلی شاعر کی پہچان ہی یہ ہےکہ وہ اپنے علاوہ صرف میراورغالب کواوپری دل سے شاعر تسلیم کر لیتا ہے۔ وہ بھی محض اس لیےکہ وہ بروقت وفات پا چکےہیں۔بروقت سےمراد اِن کی پیدائش سے پہلے۔

صاحبو، غزل کی زمین کی ہمیشہ یہ خاصیت رہی ہے

ذرا نم ہو تو یہ مِٹّی بہت زرخیز ہے ساقی

خدشہ ہےکہ تاج پوشی کی رسم اس زردوز زمین میں جڑ پکڑ گئی تو صرف کراچی میں ہی اِقلیم سُخن کے پانچ چھ سو تاجدار نظر آئیں گے۔ بے تخت وسلطنت! جھوٹ کیوں بولیں۔ ہم خود بھی 22 کیرٹ گولڈ سے الرجک نہیں ہیں۔تاج کو پگھلا کر روٹھی ملِکہ کےلیے پازیب بھی تو بنوائی جا سکتی ہے۔

جہاں اتنے تاج داروں کی گھمسان کی ریل پیل ہو، وہاں خون خرابا لازمی ہے۔ بادشاہ لوگ نیشنل اسٹیڈیم میں ایک دوسرے کے تاج سے فٹبال کھیلیں گے۔اورایک دوسرے کے دیوان اور ناول ان کے سرچشمے یعنی متعلقہ سرپہ دے ماریں گے۔ طوائف الملوکی کا یہ عالم ہو گاکہ وہ مخلوق بھی جس کا نام اس بدنام محاورے میں آتا ہے، اپنے کانوں پہ ہاتھ رکھے گی۔دلہنیں تاج پہننا چھوڑ دیں گیں۔ محض اس ڈر سےکہ تاج دیکھتے ہی لوگ ان سے تازہ غزل یا نیا مزاحیہ مضمون سنانے کی فرمایش کر دیں گے۔

ناں، بابا ناں، ہمیں تاج سے زیادہ اپنا سرعزیز ہے۔

صاحبو،اصل بات یہ ہےکہ ہمارے بادشاہ اورشہنشاہ تو مدتیں ہوئیں ایک بغل میں تاج شہی اور دوسری میں نعلّین دبائے رخصت ہوئے مگر ہماراجذبہ اطاعت وبیعت سلطانِ وقت اورمٹی کے پیروالوں کی قدم بوسی کی صدیوں پرانی عادت برقرار ہے۔ رعب اوردبدبہ شاہی دل کی پاتال گہرائیوں میں جاگُزیں ہے۔ تجربہ کار سائنس اورسلوتری کہتے ہیں کہ بعض گھوڑے سواری دینے کے اتنے عادی ہو جاتے ہیں کہ اگران پر کوئی سوار نہ ہو تو دو قدم نہیں چل سکتے۔ اپنی چال بھول جاتے ہیں۔وِراثت میں ملا جذبہ محکومیت اتنا راسخ ہےکہ بادشا ہی ہمارے نزدیک انسانی کمال وفضیلت اوربرتری کی معراج ہے۔ اوراس کا اطلاق عالموں، کاملوں اور فن کاروں پر بھی ہوتا ہے۔چنانچہ جب تک ہم اپنے محبوب فن کارکوشہنشاہِ غزل، ملکۂ ترنم، اور ملکۂ غزل کے لقب سے نہ نوازیں اورتاج شہی ان کے سر پر نہ رکھیں،ہماری تسکین نہیں ہوتی۔اگلے وقتوں میں عورتیں اگرشوہروں کو خط میں سرتاجِ من سلامت کہہ کرمخاطب کرتی تھیں تو بالکل بجا تھا۔ اس لیےکہ تاج خاص خاص موقعوں پرپہننے کے بعد اتارکررکھ دیا جاتا ہے۔ بد بخت ہوتا بھی اسی لائق ہے۔

ہمارے سنتری بادشاہ سے لےکررئیس المتغزلین،بادشاہِ حسن، شاہِ خوباں اور شاہِ شمشاد قداں تک اسی کمپلیکس کی کار فرمائی بلکہ شاہ فرمائی نظر آتی ہے۔ اور تو ایک صاحب شہنشاہ ظرافت کہلاتے ہیں۔میرا اشارہ اپنی طرف نہیں ہے۔ ظریف آدمی court jester اور فالسٹاف تو ہو سکتا ہے، تخت پر نہیں بیٹھ سکتا۔ ہاں تاج وتخت یا ہماری طرح ملازمت چھننے، چھوٹنے یا چھوڑنے کے بعد ظرافت پر اتر آئے تو بات نہ صرف سمجھ میں آتی ہے بلکہ دل کو بھی لگتی ہے۔

بات پرانی ہوئی، اس لیےکہ آتش اُس زمانے میں بھی جوان نہیں تھا۔ ایک ناظرین کے دل سے اور سِن سے اُتری ایکٹریس ملکہ جذبات کہلاتی تھیں وہ اس مرحلے سے گزر رہیں تھیں جب،مرد ہو یا عورت،صرف جذبات پر ہی گزارہ کرنا پڑتا ہے۔ میں یہ تو نہیں بتا سکتاکہ کسی خاتون کو عمر کے کس مرحلے میں ملکہ جذبات کہا جا سکتا ہے۔ اتنا ضرور عرض کر سکتا ہوں کہ کم وبیش 70 برس کے بعد ننانوے فی صد مرد غالبؔ کی طرح اُس عمرِ یاس کو پہنچ جاتے ہیں جس کی طرف اس نے اپنے شعر میں (ہماری تحریف کے ساتھ) اشارہ کیا ہے۔

منفعل ہوگئے قوی غالبؔ

اب عناصر میں ابتزال کہاں

جب آخرِ شب کے ہم سفراس منزل نامقصود پرپہنچتے ہیں تو ہر مرد نراشہنشاہِ جزبات ہوکےرہ جاتا ہے۔ نگہ بلند، سخن دل نواز،جاں پُرسوزاورجذبات گھوڑے کے سے اور یہ جو ننانوے فی صد کی قید ہم نے لگائی ہے تو دانستہ ہے۔ ایک فی صد کی گنجائش داستشنابپاس خاطرِنازک خیالاں رکھا ہے۔ آخر اپنا بھی تو خیال رکھنا پڑتا ہے۔

“اک تارہ ہے سر ہانے میرے” سے “یہاں کچھ پھول رکھے ہیں” میں سات برس کا وقفہ اور سات ہزار میل کا فاصلہ ہے۔سفراورہجرت اس کا خاص موضوع بھی ہے جس کےاطراف وہ رہ رہ کر لوٹتی ہیں۔شعرکے موضوع کی حیثیت سےسفراورہجرت میں کوئی مضائقہ نہیں،مگر شرط یہ ہےکہ مسافت طے کرتے وقت قدم قدم پراحساس مُسافرت ڈنک نہ مارے۔ بعد کہیں ایسا نہ ہوکہ اس طرح ہجرت باعث‘صد’خیر وبرکت ہے بشرط یکہ ہجرت کے بعد احساس وعزابِ مہاجرت میں اس حد تک نہ مبتلا ہو جائےکہ حاضروموجود سےآنکھیں پھیر لے۔ شاہدہ کا سفر کیسا گزرا،انہیں سے سنیئے:

اگرچہ زعم مجھے بھی بہت سفر کا ہے

کمال سارا مگر اس کی رہ گزر کا ہے

ہاتھ آنکھوں پہ دھرے چلنا تھا

راستہ دیکھتی جاتی کیسے

‘‘سات سمندر کی دوری سے ایک نظم” اداس کر دینے والی نظم ہے “دور افتادہ زمینوں میں انہیں اپنے شہر کی یاد” ستاتی ہے۔

اشکوں کی روانی میں ڈوبا ابھرا وہ شہر

چہرہ چہرہ مجھ میں تصویر ہوا وہ شہر

کراچی شہربڑاالبیلا،انوکھا اوراوکھا شہرہے۔بہت ظالم شہرہے۔انسان جب تک اس شہرمیں رہتا ہےشاکی ونالاں ہی رہتا ہے۔ جب وہ اسے چھوڑدیتا ہے تواُس پرکُھلتا ہےکہ اب وہ کسی اورشہرمیں رہنے کے لائق نہیں رہا۔پھریہ شہرکوہِ نداکی ماننداُسےبلاتا ہےیااخی، یا اخی یااخی!اوروہ کھنچا چلا جاتا ہے۔

جب بیسویں صدی کا بھولااکیسویں صدی میں گھرلوٹتا ہےتوایک سال میں پوری ایک صدی اپنا ورق بدل چکی ہوتی ہے۔

میں جب گھرآئی ایک سال کےبعد

سانسیں لیں کمروں نے،بستر جاگ گئے

یہ کتاب زیادہ آٹوبایوگرافیکل اُن معنوں میں بھی ہےکہ شاہدہ کی maturity اوراختیاری جلا وطنی کی روداد ہے۔

مغرب میں فیمی نزم درحقیقت ایک سماجی، سیاسی اور معاشی تحریک تھی جس کی بانی ومحرک وہر ادل اہل قلم خواتین بہنیں تھیں۔میرےنزدیک feminism نسائیت کامتبادل نہیں۔نسائیت اور نسوانیت feminity کا مترادف متبادل ہو سکتی ہے،feminism کا ہرگزنہیں۔female feminine شاعری اورادب کااپنا مقام ہے۔ feminist بالکل علاحدہ صنف ہے لیکن ایک دوسرے پربرتری وفوقیت کا سوال پیدا ہی نہیں ہوتا۔ فیمی نزم کے ساتھ عام طور سے strident aggressive/ abrasive یعنی متشدد اور جارحانہ اورمردآزارکی صفات استعمال کی جاتی ہے۔ہمارے شاعرات ادا جعفری، زہرا نگاہ، پروین شاکر، شاہدہ اورفاطمہ حسن کی شاعری کو feminist poetry نہیں کہا جا سکتا۔ ان کی ثقافتی روایت یا پرم پرا مہذب وشائستہ لہجہ اُنہیں وہ اسلوب ڈکشن اور انداز بیان اختیار کرنے میں مانع ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر جو فیمی نزم کی سب سے نامورادیبہ مصنفہ Germen Greer مصنفہ The Female Eunuch کی چھاپ بن چکا ہے زہرا نگاہ عورت کے دکھ درد کا پورا احساس وادراک اور اس کے مصائب ومسائل سے ماہرانہ واقفیت رکھتی ہیں، لیکن ساتھ ہی وہ سمجھوتے کی چادر بُننا اوراسے سلیقے سے بچھانا، اوڑھنا اور استعمال کرنا جانتی ہیں:

اسی سے میں بھی تن ڈھک لوں گی اپنا

اسی کو طان کر بن جائے گا گھر

بچھا لیں گے تو کِھل اٹھے گا آنگن

اٹھا لیں گے تو گر جائے گی چلمن

یہ فیمی نزم نہیں،اس سے بہت آگے کی چیز ہے۔اس کے تانے بانے میں صدیوں کی سہار، قرنوں کی بصیرتوں اورایک با وقار شیوہ تسلیم ورِضا کے تار جھلملاتے ہیں۔

شاہدہ کے ہاں وہ وصف تو ہے جسے اب نسائی حسیّت سے تعبیر کیا جاتا ہے لیکن جارحانہ feminism کا شائبہ نہیں۔ نسائی حسیّت اور feminism کو اس منزل تک آنے میں کئی صبر ومردآزما مرحلوں سےگزرنا پڑا۔اداجعفری کی دل آویزحسرت دیکھئے۔

ہونٹوں پہ کبھی ان کے مرا نام ہی آئے

آئے توسہی بر سرِالزام ہی آئے

پھراس کا موازنہ فہمیدہ ریاض کے بوسے سے کیجیے جس کے دوران یوں محسوس ہوتا ہے جیسے “تم۔۔۔۔ پاتال سے میری جان کھینچتے ہو۔” ہونٹوں پر نام آئے سے پیار کی پاتال گہرائیوں تک اترنے میں دو نسلوں اور نہ جانے کتنی ذہنی صدیوں اورموروثی inhabitations کا فاصلہ ہے۔یہ جوگ بیراگ اور جنم جنم کی پیاس سے بھوگ بِلاس تک کا سفر ہے۔اسی سفرِپُرخطرمیں ایک اورجرأت مند شاعرہ محوِ خرام نظر آتی ہے جو سب کچھ چھپا کر سب کچھ دکھا دینے کا ہنر سیکھ رہی ہے۔

میں یہ بھی چاہتی ہوں تراگھربسا رہے

اور یہ بھی چاہتی ہوں کہ تو اپنے گھر نہ جائے

مرزا کب چُوکتے ہیں۔کہتے ہیں کہ یہ خواہش توتمہارے رومینٹک vegetarianism کی مانند ہے۔ تم دراصل یہ چاہتے ہوکہ جس مرغے کو روسٹ تم شام کو کھاؤ، وہی مرغا صبح اٹھ کراذان بھی دے! مطلب یہ کہ ذبح کیے بغیراس کا گوشت کھانا چاہتے ہو۔

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • ذہنی سکون
  • ہر مشکل میں مضبوط
  • گرہن
  • تیاری کیا ھے؟
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
میں کبھی دامِ محبت میں نہیں آیا ہوں
پچھلی پوسٹ
خامہ بگوش کے قلم سے

متعلقہ پوسٹس

چچا چھکن نے ایک بات سنی

اگست 22, 2022

پیر فتح شیر دیوان اور خدمتِ خلق

مارچ 10, 2026

پاکستان کیسے ترقی کر سکتا ہے

مارچ 25, 2022

پہلے انڈا آیا ۔ یا مرغی

جنوری 13, 2020

جدید اردو ڈرامے کے خالق امتیاز علی تاجؔ

نومبر 29, 2019

مستقبل کا موسم

ستمبر 12, 2025

برساتی مینڈک

مارچ 11, 2025

ماں کی خاموشی اور بیٹی کی عزت

نومبر 27, 2024

کالی کلی

فروری 6, 2020

کرونا بوسٹر

ستمبر 26, 2021

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

    اپریل 15, 2026
  • لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

    اپریل 14, 2026
  • کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی

    اپریل 14, 2026
  • خیبر پختو نخواہ کا افسانہ

    اپریل 12, 2026
  • انجمن پنجاب

    اپریل 11, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے
  • سردار حمادؔ منیر on یا رسولِ خدا اشرفِ انبیاء

اسلامی گوشہ

مرا سخن سخنِ شاہکار ہو جائے

اپریل 6, 2026

سرکارؐ رازِ حق سے مجھے آشنا کریں

اپریل 6, 2026

قرآنِ کریم میں تدبر کیسے کریں؟

اپریل 4, 2026

ایک تھپڑ اور کئی سوال

مارچ 26, 2026

کلام نبویؐ کی کرنیں

مارچ 23, 2026

اردو شاعری

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

اپریل 15, 2026

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

اپریل 14, 2026

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی

اپریل 14, 2026

دکھی ہے دل مرا لیکن غموں سے

اپریل 7, 2026

تمہیں میری محبت کا جو اندازہ نہیں ہوتا

اپریل 6, 2026

اردو افسانے

عورت کی تعلیم کی اہمیت

اپریل 7, 2026

اب بس کرو ماں

اپریل 4, 2026

باغ علی باغی (قسط اول)

اپریل 3, 2026

سونے کی بالیاں

مارچ 29, 2026

گل مصلوب

مارچ 25, 2026

اردو کالمز

مودی کا ہندو خطرے میں ہے

اپریل 11, 2026

طاقت کا توازن اور پائیدار امن!

اپریل 10, 2026

ماں بننے کا سفر اور جوائنٹ فیملی کا...

اپریل 8, 2026

سوچ کا انقلاب

اپریل 7, 2026

جنگ کے شعلے اور سسکتی انسانیت

اپریل 5, 2026

باورچی خانہ

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

سادہ مٹن ہانڈی

جولائی 5, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

    اپریل 15, 2026
  • لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

    اپریل 14, 2026
  • کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی

    اپریل 14, 2026
  • خیبر پختو نخواہ کا افسانہ

    اپریل 12, 2026
  • انجمن پنجاب

    اپریل 11, 2026
  • تنقید کیا ہے

    اپریل 11, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

حضرت یسع علیہ السلام

مئی 21, 2024

طاؤس چمن کی مینا

جون 15, 2020

زمین اور انسان

اگست 8, 2025
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں