خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ اردو تحاریرمکینوں کے دْکھ
اردو تحاریراردو کالمزنصرت جاوید

مکینوں کے دْکھ

از سائیٹ ایڈمن دسمبر 12, 2025
از سائیٹ ایڈمن دسمبر 12, 2025 0 تبصرے 48 مناظر
49

مسمار کی گئی کچی بستیوں کے مکینوں کے دْکھ

اسلام آباد کے ہر تیسرے یا چوتھے گھر اور تقریباََ ہردفتر میں ان دنوں ’’اوپر کے کام کرنے والے‘‘ ملازمین کے دْکھ اور پریشانیاں ناقابل بیان ہیں۔ رواں برس کے آغاز میں اس شہر کے مالک ادارے سی ڈی اے نے فیصلہ کیا کہ یہاں کی قیمتی زمینیں کچی بستیوں کی نذر ہورہی ہیں۔وہ ہر لحاظ سے غیر قانونی ہیں۔ خود روبوٹیوں کی طرح گزشتہ کئی دہائیوں سے نمودار ہوتی اور پھیلتی ان بستیوں کو مسمار کرکے شہر کو صاف ستھربنانا ہوگا۔ کچی بستیوں کی مسماری کے بعد بازیاب ہوئی زمینوں پر پارک بنائے جائیں گے تاکہ صاب لوگ بلڈپریشر اور دل کے عارضوں سے محفوظ رہنے کے لئے وہاں واک کیا کریں۔ نئے پارک بنانے کی ضرورت محسوس نہ ہوتو یازیاب ہوئی زمینوں کو نئے انڈر پاس کے علاوہ اوورہیڈشاہراہوں کی تعمیر کے لئے بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔ ان کی بدولت ’’صاب لوگوں‘‘ کی گاڑیاں ٹریفک سگنلوں پر رکنے کے بجائے بلارکاوٹ تیز رفتاری سے سفر کرنے کے قابل ہوسکیں گی۔
کچی بستیاں دنیا کے کسی بھی بڑے شہر کے نواحی علاقوں کا فطری حصہ شمار ہوتی ہیں۔ ان بستیوں میں عموماََ دور دراز دیہات  سے رزق کی تلاش کے لئے آئے لوگ ایک یا دوکمروں پر مشتمل گھروں میں رہتے ہیں۔ کسی زمانے میں وہ بجلی کے حصول کیلئے ’’کنڈوں‘‘ کا استعمال کرتے تھے۔ وقت گزرنے کے ساتھ مگر ان کی بدولت بجلی کا حصول ناممکن ہوگیا۔ کچی بستیوں کے مکین سرکاری اداروں کے دئیے میٹر لگانے کو مجبور ہوئے۔ کچی بستیوں کو میٹر فراہم کرتے ہوئے حکومت نے بالواسطہ انداز میں کچی بستیوں میں واقع زمین پر بنائے ایک دو کمروں پر مشتمل مکانات کو ’’باقاعدہ‘‘ تسلیم کرلیا۔ یہ باقاعدگی مگر اسلام آباد میں بھلادی گئی ہے۔
کچی بستیوں میں جو گھرانے آباد تھے ان کے مرد وخواتین اسلام آباد کے قیمتی رہائشی سیکٹروں میں واقع گھروں میں کھانا پکانے،صفائی ستھرائی یا بطور ڈرائیور کام کرتے تھے۔پوش ایریا کے سیکڑوں میں بنائے مکانوں میں ملازمین کے لئے سرونٹ کوارٹر بھی تعمیر کئے جاتے ہیں۔ ملازمین کی رہائش کے لئے بنائے یہ کوارٹر ایک یا دو چھوٹے کمروں پر مشتمل ہوتے ہیں۔ عموماََ یہ فرض کرلیا جاتا ہے کہ گھر کا ڈرائیور یا خانساماں بیوی بچوں کے بغیر وہاں قیام پذیر ہوگا اور سال میں کبھی کبھاررخصت لے کر اپنے گائوں جایا کرے گا۔
خانساموں اور ڈرائیوروں کے لئے مگر عمر کے چند مخصوص برسوں میں تنہا رہنا ممکن نہیں۔ وہ گائوں سے اپنی بیوی شہرلانے کو مجبور ہوجاتا ہے۔ شہر آنے کے بعد مرد ملازمین کی بیویاں صاب لوگوں کی بیگمات اور بچیوں کے کپڑے دھونے اور استری کا کام کرتے ہوئے اضافی رقوم کمانا شروع ہوجاتی ہیں۔ چند برس گزرنے کے بعد ان کے ہاں بچے پیدا ہوکر بڑے ہونا شروع ہوجاتے ہیں۔ ملازمین کے لئے بنائے کوارٹر انہیں کھپانہیں سکتے۔ ملازمین لہٰذا اپنے دلوں میں ’’خودمختاری‘‘ کا احساس اجاگر کرنے کے لئے شہر کے نواح میں قائم کچی بستیوں میں ایک یا دوکمروں پر مشتمل ’’مکان‘‘ کرایے پر لے کر وہاں منتقل ہوجاتے ہیں۔ اپنے گھروں سے علی الصبح پیدل چل کر سوزکیوں میں گھسے ’’کام‘‘ پر پہنچتے ہیں اور شام تک صاب لوگوں کے کام نبٹانے کے بعد ’’گھر‘‘ واپس چلے جاتے ہیں۔
جس رحجان کا میں ذکر کررہا ہوں وہ گزشتہ 20سال سے اسلام آباد کا معمول بن چکا تھا۔ رواں برس شروع ہوتے ہی لیکن سرکار کو اسلام آباد کوکچی بستیوں سے پاک کرنے کا جنون لاحق ہوگیا۔ قانون کے کامل نفاذ کے نام پر دل ودماغ پر چھائی ’’نیک نیتی‘‘ نہایت سفاکی سے یہ حقیقت نظرانداز کرتی رہی کہ جن بستیوں کو گرایا جارہا ہے وہاں کے مکین ایک حوالے سے اسلام آباد کے پوش گھرانوں کی روزمرہّ زندگی آسان بنانے کے لئے آکسیجن کی طرح ناگزیر ہوچکے ہیں۔ صاب لوگ وسیع تر تناظر میں بلکہ کچی بستیوں کے مکینوں کے محتاج ہیں۔ ان کے بغیر ’’بیگمات‘‘کو کھانا پکانا،کمروں کو صاف رکھنا اور کپڑے دھونا اور استری کرنا پڑتے ہیں۔ ایمان داری کی بات یہ بھی ہے کہ سفید پوشی کا بھرم رکھنے کے لئے نظربظاہر ’’پوش علاقوں‘‘ میں قائم گھروں کی خواتین بھی اضافی آمدنی کے حصول کے لئے گھروں سے نکل کر دفاترمیں کام کرنے کی عادی ہوچکی ہیں۔ اضافی آمدنی یقینی بنانے کے لئے ضروری ہے کہ ان کی عدم موجودگی میں گھروں کی دیکھ بھال کے لئے ملازمین گھروں میں موجود ہوں۔
ملازمین کی بے پناہ تعداد مگر اب ’’بے گھر‘‘ ہوچکی ہے۔ وہ جن بستیوں میں مقیم تھے انہیں نہایت وحشت سے مسمار کردیا گیا ہے۔ بے گھر ہونے کے بعد انہیں اسلام آباد کے مرکزی علاقوں سے کہیں دور واقع بستیوں میں بنائے کمروں میں نسبتاََ مہنگا کرایہ ادا کرنے کے بعد رہنا پڑرہا ہے۔ مکان کے کرائے کے علاوہ جن گھروں یا دفاتر کے لئے یہ ملازم کام کرتے ہیں وہاں پہنچنے کے لئے کمر توڑ کرایہ ادا کر کے پہنچا جاتا ہے۔ ٹرانسپورٹ کے حصول کے لئے لمبا سفر پیدل ہی طے کرنا ہوتا ہے۔ میٹروبس کے حصول کے بعد جائے ملازمت تک پہنچنے کے لئے بھی پیدل ہی چلنا ضروری ہے۔
اپنی آمدنی کا تقریباََ75فیصد حصہ مکان اور ٹرانسپورٹ کے کرائے میں صرف کرنے اور جائے ملازمت تک پہنچنے کی مشقت سے گزرتے ہوئے گھریلو ملازمین اپنے ہوش وحواس کھونا شروع ہوچکے ہیں۔ ان کے چہروں پر کامل اداسی چھائی ہوئی ہے۔ دل ودماغ میں اْبلتی پریشانیوں کے بوجھ سے کئی گھریلو ملازم طبی بیماریوں کا شکار ہوئے۔ میڈیا سے وابستہ ہونے کی وجہ سے مجھے تقریباََ ہر دوسرے روز دیگر گھروں میں کام کرنے والے کسی ملازم کے مرض کی تشخیص کے لئے اپنے کسی نوجوان ساتھی سے سفارش کرنا پڑتی ہے۔ بیماری کی شدت دریافت ہوجانے کے بعد مہنگی دوائوں کی خریداری کے لئے اپنی توفیق کے مطابق حصہ بھی ڈالنا پڑتا ہے۔
اسلام آباد میں کچی بستیوں کی مسماری سے ہزاروں گھریلو ملازمین جس عذاب سے دوچار ہیں اس سے ہمارے حکمران قطعاََ غافل دکھائی دے رہے ہیں۔ کوئی سوچ ہی نہیں رہا کہ ’’سرکاری زمینوں‘‘ پر کئی دہائیوں سے ابھری اور مسلسل پھیلتی کچی بستیوں کو وہاں کے مکینوں کے لئے متبادل انتظامات کی فراہم کے بغیر چلائے بل ڈوزر اسلام آباد کی روزمرہّ زندگی کو ہولناک انداز میں بدل رہے ہیں۔ حالات یوں ہی رہے تو دیہاتوں سے رزق کے حصول کے لئے اسلام آباد آئے لوگوں کی اکثریت اپنے آبائی علاقوں میں لوٹنے کو مجبور ہوجائے گی۔ ان کی اکثریت بے زمین کسانوں پر مشتمل ہے۔ رزق کے امکانات ان کے آبائی علاقوں میں میسر ہوتے تو وہ اسلام آباد آنے کی ضرورت ہی محسوس نہ کرتے۔
دوررس حوالوں سے ہمارے حکمرانوں کو یہ بھی سوچنا ہوگا کہ جن گھریلو ملازمین کے لئے اب اسلام آباد کی زمین تنگ ہورہی ہے ان میں سے بے تحاشہ افراد کے بچے اسلام آباد ہی میں پیدا ہوکر یہاں کے سکولوں میں پڑھنے کے بعد اب کالجوں یا کسی بھی طریقے سے مزید تعلیم کے حصول کے لئے بے تاب ہیں۔ اسلام آباد کی زمین ان کے لئے تنگ کردی گئی تو ان نوجوانوں کے دلوں میں ابلتا غصہ اور معاشرے کی جانب سے نظرانداز کئے جانے کا احساس انہیں جرائم یا انتہا پسندی کی جانب راغب کرنے کا کلیدی سبب ہوگا۔
اسلامی ’’جمہوریہ‘‘ پاکستان کے دارالحکومت میں تاہم بااختیار منتخب مقامی حکومت ہی موجود نہیں۔ اس کے ہوتے ہوئے شاید ہی کوئی افسر کچی بستیوں کو جنونی انداز میں مسمار کرنے کی جرأت دکھاسکتا ہے۔

بشکریہ نواےَ وقت

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • دوسرا بوسہ
  • اتنا ظرف ھو ابن آدم میں
  • پوئنا
  • پوس کی رات
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
چھوڑ آیا ہوں خود خوشی گھر کی
پچھلی پوسٹ
ٹکراؤ کی سیاست کے نقصانات

متعلقہ پوسٹس

چلو چلتے ہیں، اپنی بقا کیلئے نکلتےہیں

مئی 22, 2021

یادگار رات

دسمبر 22, 2024

اینٹونینا کی جرات گناہ

مئی 27, 2023

منہ پھیکا کرا دیں گے

جون 3, 2020

پرانی حویلی

جنوری 5, 2022

نظام عدل

جولائی 19, 2020

مسٹر چیری

اکتوبر 12, 2025

مندر والی گلی

جون 14, 2020

لذتِ وصال کا راز

جنوری 8, 2025

انٹرنیٹ کی سست رفتار

اگست 31, 2024

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

    مئی 18, 2026
  • کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

    مئی 17, 2026
  • کیا ہم بے وقوف ہیں؟

    مئی 16, 2026
  • موبائل سے بڑھ کر کون

    مئی 16, 2026
  • پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

    مئی 15, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے
  • سردار حمادؔ منیر on یا رسولِ خدا اشرفِ انبیاء

اسلامی گوشہ

رب تعالیٰ پر بھروسہ

مئی 11, 2026

احتساب اور چھٹائی کا قدرتی عمل

مئی 3, 2026

چشمِ کرم سے مجھ کو بھی سرکارﷺ دیکھیے

مئی 1, 2026

اللہ کی محبت کے رنگ

اپریل 21, 2026

مرا سخن سخنِ شاہکار ہو جائے

اپریل 6, 2026

اردو شاعری

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی...

مئی 15, 2026

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

مئی 11, 2026

میں نے دیکھا جگ میں ایسا

مئی 11, 2026

ماں : رحمتوں کا سائباں

مئی 9, 2026

ہنسایا گر نہیں جاتا ، رلایا بھی نہیں...

مئی 8, 2026

اردو افسانے

کیوں کہ

مئی 3, 2026

عورت کی تعلیم کی اہمیت

اپریل 7, 2026

اب بس کرو ماں

اپریل 4, 2026

باغ علی باغی (قسط اول)

اپریل 3, 2026

سونے کی بالیاں

مارچ 29, 2026

اردو کالمز

انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

مئی 18, 2026

کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

مئی 17, 2026

کیا ہم بے وقوف ہیں؟

مئی 16, 2026

پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

مئی 15, 2026

پاکستان میں انگریزی کا تسلط کیوں برقرار ہے؟

مئی 14, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

    مئی 18, 2026
  • کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

    مئی 17, 2026
  • کیا ہم بے وقوف ہیں؟

    مئی 16, 2026
  • موبائل سے بڑھ کر کون

    مئی 16, 2026
  • پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

    مئی 15, 2026
  • بیگمات کی پراسرار علالتیں اور ریسٹورنٹ سینڈروم

    مئی 15, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

گاجر کا رس

جنوری 7, 2020

بے حیائی پھیلانے میں میڈیاکا کردار

دسمبر 28, 2021

ڈوبتا پاکستان 

اگست 31, 2025
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں