خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ اردو تحاریرمکینوں کے دْکھ
اردو تحاریراردو کالمزنصرت جاوید

مکینوں کے دْکھ

از سائیٹ ایڈمن دسمبر 12, 2025
از سائیٹ ایڈمن دسمبر 12, 2025 0 تبصرے 101 مناظر
102

مسمار کی گئی کچی بستیوں کے مکینوں کے دْکھ

اسلام آباد کے ہر تیسرے یا چوتھے گھر اور تقریباََ ہردفتر میں ان دنوں ’’اوپر کے کام کرنے والے‘‘ ملازمین کے دْکھ اور پریشانیاں ناقابل بیان ہیں۔ رواں برس کے آغاز میں اس شہر کے مالک ادارے سی ڈی اے نے فیصلہ کیا کہ یہاں کی قیمتی زمینیں کچی بستیوں کی نذر ہورہی ہیں۔وہ ہر لحاظ سے غیر قانونی ہیں۔ خود روبوٹیوں کی طرح گزشتہ کئی دہائیوں سے نمودار ہوتی اور پھیلتی ان بستیوں کو مسمار کرکے شہر کو صاف ستھربنانا ہوگا۔ کچی بستیوں کی مسماری کے بعد بازیاب ہوئی زمینوں پر پارک بنائے جائیں گے تاکہ صاب لوگ بلڈپریشر اور دل کے عارضوں سے محفوظ رہنے کے لئے وہاں واک کیا کریں۔ نئے پارک بنانے کی ضرورت محسوس نہ ہوتو یازیاب ہوئی زمینوں کو نئے انڈر پاس کے علاوہ اوورہیڈشاہراہوں کی تعمیر کے لئے بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔ ان کی بدولت ’’صاب لوگوں‘‘ کی گاڑیاں ٹریفک سگنلوں پر رکنے کے بجائے بلارکاوٹ تیز رفتاری سے سفر کرنے کے قابل ہوسکیں گی۔
کچی بستیاں دنیا کے کسی بھی بڑے شہر کے نواحی علاقوں کا فطری حصہ شمار ہوتی ہیں۔ ان بستیوں میں عموماََ دور دراز دیہات  سے رزق کی تلاش کے لئے آئے لوگ ایک یا دوکمروں پر مشتمل گھروں میں رہتے ہیں۔ کسی زمانے میں وہ بجلی کے حصول کیلئے ’’کنڈوں‘‘ کا استعمال کرتے تھے۔ وقت گزرنے کے ساتھ مگر ان کی بدولت بجلی کا حصول ناممکن ہوگیا۔ کچی بستیوں کے مکین سرکاری اداروں کے دئیے میٹر لگانے کو مجبور ہوئے۔ کچی بستیوں کو میٹر فراہم کرتے ہوئے حکومت نے بالواسطہ انداز میں کچی بستیوں میں واقع زمین پر بنائے ایک دو کمروں پر مشتمل مکانات کو ’’باقاعدہ‘‘ تسلیم کرلیا۔ یہ باقاعدگی مگر اسلام آباد میں بھلادی گئی ہے۔
کچی بستیوں میں جو گھرانے آباد تھے ان کے مرد وخواتین اسلام آباد کے قیمتی رہائشی سیکٹروں میں واقع گھروں میں کھانا پکانے،صفائی ستھرائی یا بطور ڈرائیور کام کرتے تھے۔پوش ایریا کے سیکڑوں میں بنائے مکانوں میں ملازمین کے لئے سرونٹ کوارٹر بھی تعمیر کئے جاتے ہیں۔ ملازمین کی رہائش کے لئے بنائے یہ کوارٹر ایک یا دو چھوٹے کمروں پر مشتمل ہوتے ہیں۔ عموماََ یہ فرض کرلیا جاتا ہے کہ گھر کا ڈرائیور یا خانساماں بیوی بچوں کے بغیر وہاں قیام پذیر ہوگا اور سال میں کبھی کبھاررخصت لے کر اپنے گائوں جایا کرے گا۔
خانساموں اور ڈرائیوروں کے لئے مگر عمر کے چند مخصوص برسوں میں تنہا رہنا ممکن نہیں۔ وہ گائوں سے اپنی بیوی شہرلانے کو مجبور ہوجاتا ہے۔ شہر آنے کے بعد مرد ملازمین کی بیویاں صاب لوگوں کی بیگمات اور بچیوں کے کپڑے دھونے اور استری کا کام کرتے ہوئے اضافی رقوم کمانا شروع ہوجاتی ہیں۔ چند برس گزرنے کے بعد ان کے ہاں بچے پیدا ہوکر بڑے ہونا شروع ہوجاتے ہیں۔ ملازمین کے لئے بنائے کوارٹر انہیں کھپانہیں سکتے۔ ملازمین لہٰذا اپنے دلوں میں ’’خودمختاری‘‘ کا احساس اجاگر کرنے کے لئے شہر کے نواح میں قائم کچی بستیوں میں ایک یا دوکمروں پر مشتمل ’’مکان‘‘ کرایے پر لے کر وہاں منتقل ہوجاتے ہیں۔ اپنے گھروں سے علی الصبح پیدل چل کر سوزکیوں میں گھسے ’’کام‘‘ پر پہنچتے ہیں اور شام تک صاب لوگوں کے کام نبٹانے کے بعد ’’گھر‘‘ واپس چلے جاتے ہیں۔
جس رحجان کا میں ذکر کررہا ہوں وہ گزشتہ 20سال سے اسلام آباد کا معمول بن چکا تھا۔ رواں برس شروع ہوتے ہی لیکن سرکار کو اسلام آباد کوکچی بستیوں سے پاک کرنے کا جنون لاحق ہوگیا۔ قانون کے کامل نفاذ کے نام پر دل ودماغ پر چھائی ’’نیک نیتی‘‘ نہایت سفاکی سے یہ حقیقت نظرانداز کرتی رہی کہ جن بستیوں کو گرایا جارہا ہے وہاں کے مکین ایک حوالے سے اسلام آباد کے پوش گھرانوں کی روزمرہّ زندگی آسان بنانے کے لئے آکسیجن کی طرح ناگزیر ہوچکے ہیں۔ صاب لوگ وسیع تر تناظر میں بلکہ کچی بستیوں کے مکینوں کے محتاج ہیں۔ ان کے بغیر ’’بیگمات‘‘کو کھانا پکانا،کمروں کو صاف رکھنا اور کپڑے دھونا اور استری کرنا پڑتے ہیں۔ ایمان داری کی بات یہ بھی ہے کہ سفید پوشی کا بھرم رکھنے کے لئے نظربظاہر ’’پوش علاقوں‘‘ میں قائم گھروں کی خواتین بھی اضافی آمدنی کے حصول کے لئے گھروں سے نکل کر دفاترمیں کام کرنے کی عادی ہوچکی ہیں۔ اضافی آمدنی یقینی بنانے کے لئے ضروری ہے کہ ان کی عدم موجودگی میں گھروں کی دیکھ بھال کے لئے ملازمین گھروں میں موجود ہوں۔
ملازمین کی بے پناہ تعداد مگر اب ’’بے گھر‘‘ ہوچکی ہے۔ وہ جن بستیوں میں مقیم تھے انہیں نہایت وحشت سے مسمار کردیا گیا ہے۔ بے گھر ہونے کے بعد انہیں اسلام آباد کے مرکزی علاقوں سے کہیں دور واقع بستیوں میں بنائے کمروں میں نسبتاََ مہنگا کرایہ ادا کرنے کے بعد رہنا پڑرہا ہے۔ مکان کے کرائے کے علاوہ جن گھروں یا دفاتر کے لئے یہ ملازم کام کرتے ہیں وہاں پہنچنے کے لئے کمر توڑ کرایہ ادا کر کے پہنچا جاتا ہے۔ ٹرانسپورٹ کے حصول کے لئے لمبا سفر پیدل ہی طے کرنا ہوتا ہے۔ میٹروبس کے حصول کے بعد جائے ملازمت تک پہنچنے کے لئے بھی پیدل ہی چلنا ضروری ہے۔
اپنی آمدنی کا تقریباََ75فیصد حصہ مکان اور ٹرانسپورٹ کے کرائے میں صرف کرنے اور جائے ملازمت تک پہنچنے کی مشقت سے گزرتے ہوئے گھریلو ملازمین اپنے ہوش وحواس کھونا شروع ہوچکے ہیں۔ ان کے چہروں پر کامل اداسی چھائی ہوئی ہے۔ دل ودماغ میں اْبلتی پریشانیوں کے بوجھ سے کئی گھریلو ملازم طبی بیماریوں کا شکار ہوئے۔ میڈیا سے وابستہ ہونے کی وجہ سے مجھے تقریباََ ہر دوسرے روز دیگر گھروں میں کام کرنے والے کسی ملازم کے مرض کی تشخیص کے لئے اپنے کسی نوجوان ساتھی سے سفارش کرنا پڑتی ہے۔ بیماری کی شدت دریافت ہوجانے کے بعد مہنگی دوائوں کی خریداری کے لئے اپنی توفیق کے مطابق حصہ بھی ڈالنا پڑتا ہے۔
اسلام آباد میں کچی بستیوں کی مسماری سے ہزاروں گھریلو ملازمین جس عذاب سے دوچار ہیں اس سے ہمارے حکمران قطعاََ غافل دکھائی دے رہے ہیں۔ کوئی سوچ ہی نہیں رہا کہ ’’سرکاری زمینوں‘‘ پر کئی دہائیوں سے ابھری اور مسلسل پھیلتی کچی بستیوں کو وہاں کے مکینوں کے لئے متبادل انتظامات کی فراہم کے بغیر چلائے بل ڈوزر اسلام آباد کی روزمرہّ زندگی کو ہولناک انداز میں بدل رہے ہیں۔ حالات یوں ہی رہے تو دیہاتوں سے رزق کے حصول کے لئے اسلام آباد آئے لوگوں کی اکثریت اپنے آبائی علاقوں میں لوٹنے کو مجبور ہوجائے گی۔ ان کی اکثریت بے زمین کسانوں پر مشتمل ہے۔ رزق کے امکانات ان کے آبائی علاقوں میں میسر ہوتے تو وہ اسلام آباد آنے کی ضرورت ہی محسوس نہ کرتے۔
دوررس حوالوں سے ہمارے حکمرانوں کو یہ بھی سوچنا ہوگا کہ جن گھریلو ملازمین کے لئے اب اسلام آباد کی زمین تنگ ہورہی ہے ان میں سے بے تحاشہ افراد کے بچے اسلام آباد ہی میں پیدا ہوکر یہاں کے سکولوں میں پڑھنے کے بعد اب کالجوں یا کسی بھی طریقے سے مزید تعلیم کے حصول کے لئے بے تاب ہیں۔ اسلام آباد کی زمین ان کے لئے تنگ کردی گئی تو ان نوجوانوں کے دلوں میں ابلتا غصہ اور معاشرے کی جانب سے نظرانداز کئے جانے کا احساس انہیں جرائم یا انتہا پسندی کی جانب راغب کرنے کا کلیدی سبب ہوگا۔
اسلامی ’’جمہوریہ‘‘ پاکستان کے دارالحکومت میں تاہم بااختیار منتخب مقامی حکومت ہی موجود نہیں۔ اس کے ہوتے ہوئے شاید ہی کوئی افسر کچی بستیوں کو جنونی انداز میں مسمار کرنے کی جرأت دکھاسکتا ہے۔

بشکریہ نواےَ وقت

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • میں کون ہوں؟ مسلمان ہوں یا کیا ہوں؟
  • پانی میں ستی
  • پت جھڑ کی آواز
  • جامن کا پیڑ
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
چھوڑ آیا ہوں خود خوشی گھر کی
پچھلی پوسٹ
ٹکراؤ کی سیاست کے نقصانات

متعلقہ پوسٹس

طاقت کا توازن اور پائیدار امن!

اپریل 10, 2026

قلم کی طاقت اور ذمہ داری

مارچ 12, 2026

چکوترا ۔ بیماریوں کے خلاف موثر غذا

نومبر 14, 2021

جنون لطیفہ

جنوری 2, 2020

چاند روتا سورج

ستمبر 6, 2026

بیشک دشواری کے ساتھ آسانی ہے

جنوری 26, 2025

افشائے راز

نومبر 15, 2019

گلزارِ دل

مئی 27, 2025

ٹین کے آدمی

نومبر 28, 2020

خاص بندوں پر خاص کرم

ستمبر 29, 2025

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • زمیں کی بات کرتے ہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

    اکتوبر 11, 2026
  • مرد کے حصے کا ہجر

    اکتوبر 11, 2026
  • تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

    اکتوبر 11, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • Ayesha khan on میری خوش فہمی تھی
  • Ayesha khan on جن کو دیدار میسر ہو ہر شام تیرا
  • سعیدہ on جن کو دیدار میسر ہو ہر شام تیرا
  • سعیدہ on میری خوش فہمی تھی
  • صنم گل on مسدس نعتیہ نظم "مانگتا ہوں”

اسلامی گوشہ

زمیں کی بات کرتے ہیں

اکتوبر 11, 2026

شوقِ عبادت

اکتوبر 4, 2026

ذکر محمد ﷺ

ستمبر 30, 2026

شہر مکہ سے مدینے کا سفر ہو

ستمبر 26, 2026

مسدس نعت "معراجِ ثنا”

ستمبر 23, 2026

اردو شاعری

ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ...

اکتوبر 11, 2026

تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

اکتوبر 11, 2026

میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

اکتوبر 11, 2026

یوں آسماں کے ستارے نہ دیکھ

اکتوبر 11, 2026

لوگ نکمّے ہم سے سروکار نہیں رکھتے

اکتوبر 11, 2026

اردو افسانے

طاقت کا امتحان

ستمبر 27, 2026

سرخ پینسلیں اور خستہ حال خیمہ

اگست 9, 2026

وہ درخت جو اپنے سائے سے رُوٹھ گیا

اگست 3, 2026

ماں کی خاموش دُعا

جولائی 24, 2026

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

اردو کالمز

مرد کے حصے کا ہجر

اکتوبر 11, 2026

مجھے وہاں جانا ہے

اکتوبر 10, 2026

شوقِ عبادت

اکتوبر 4, 2026

تاریخ کشی

اکتوبر 1, 2026

یہ اعزاز ہے ہماری مٹی کا

ستمبر 28, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا موبائل ایپ

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • زمیں کی بات کرتے ہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

    اکتوبر 11, 2026
  • مرد کے حصے کا ہجر

    اکتوبر 11, 2026
  • تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

    اکتوبر 11, 2026
  • یوں آسماں کے ستارے نہ دیکھ

    اکتوبر 11, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

ریاست کا دیواں

دسمبر 10, 2019

انشاء کا اعظمی کو دوسرا خط

نومبر 28, 2019

رازکی بات ہے کسی کو بتایئے...

ستمبر 1, 2024
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں