106
چھوڑ آیا ہوں خود خوشی گھر کی
اب مسافت ہے زندگی بھر کی
جو لکیریں ہمارے ہاتھ کی ہیں
بات ساری ہے یہ مقدر کی
وہ محبت خرید لائے گی
وہ تو بیٹی ہے ایک تاجر کی
میں حقیقت بیان کرتا ہوں
میں اڑاتا نہیں ہوں بے پر کی
وہ تو بس بات کرتا جاتا ہے
سیر کرتا ہوں میں سمندر کی
میں اکیلا لڑوں گا دشمن سے
میں قیادت کروں گا لشکر کی
میری چڑیوں سے دوستی ہے کلیم
ایک رونق ہے میرے اندر کی
کلیم احسان بٹ
