489
احساس کی خوشبو یہ لگن تیرے لیے ہے
چاہت سے بھرا دل کا چمن تیرے لیے ہے
ہر شعر میں تیرے ہی خدوخال ڈھلے ہیں
جو کچھ بھی ہے سرمایہَِ فن تیرے لیے ہے
سونے نہیں دیتی تری یادوں کی مشقّت
مخمور ہوں جس سے وہ تھکن تیرے لیے ہے
دے دوں میں خوشی سے تُو اگر جان بھی مانگے
یہ روح کی دنیا، یہ بدن تیرے لیے ہے
چوکھٹ پہ مہکتے ہیں ترے پیار کے گلشن
آنگن میں محبت کی پَون تیرے لیے ہے
محسوس کوئی دُکھ میرا ہوتا نہیں مجھ کو
احساس میں ہر لمحہ دُکھن تیرے لیے ہے
ہر سَمت نظر آتا ہے بس تیرا ہی جلوہ
بے تاب نگاہوں میں جلن تیرے لیے ہے
ساحل سلہری
