499
چہل پہل ہے نہ تابندگی ہے گلیوں میں
میں ڈھونڈتا ہوں کہاں زندگی ہے گلیوں میں
کہ بام و در سے یہاں وحشتیں ٹپکتی ہیں
عجب طرح کی سراسیمگی ہے گلیوں میں
سمٹ گئی ہے گھروں تک ہی رونقِ دنیا
خزاں مزاج سی پژمردگی ہے گلیوں میں
بہت دنوں سے مرا اس سے دوستانہ ہے
یہ میرے ساتھ جو دیوانگی ہے گلیوں میں
ابھی ابھی تو یہاں زندگی مہکتی تھی
اور اب تو موت سی افسردگی ہے گلیوں میں
دلشاد احمد
