خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپ کا سلامدو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ
آپ کا سلاماردو تحاریراردو کالمزایم اے دوشی

دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ

از سائیٹ ایڈمن اگست 3, 2026
از سائیٹ ایڈمن اگست 3, 2026 2 تبصرے 77 مناظر
78

m a doshi

میں نہ ماہرِ نفسیات ہوں اور نہ ازدواجی تعلقات کا کوئی پیشہ ور معالج۔ ایک شاعر صحافی لکھاری اور رشتوں کا مشاہدہ کرنے والے شخص کی حیثیت سے مجھے برسوں سے بہت سے لوگوں کو قریب سے دیکھنے ان کی باتیں سننے اور ان کے جذبات کو سمجھنے کا موقع ملا ہے۔ انہی مشاہدات کے دوران ایک بات بار بار میرے سامنے آئی کہ اکثر رشتے محبت کی کمی سے نہیں بلکہ گفتگو کی کمی سے کمزور ہوتے ہیں۔ یہ کوئی حتمی فیصلہ نہیں صرف ایک مشاہدہ ہے اور ہر مشاہدے کی طرح اس سے اختلاف بھی کیا جا سکتا ہے۔

ہم عموماً یہ سمجھتے ہیں کہ رشتے کسی ایک بڑے واقعے یا حادثے سے ختم ہوتے ہیں لیکن حقیقت اکثر اس کے برعکس ہوتی ہے۔ زیادہ تر تعلقات اچانک نہیں ٹوٹتے بلکہ آہستہ آہستہ اپنی مضبوطی کھونے لگتے ہیں۔ پہلے بات چیت کم ہوتی ہے پھر احساسات دل میں دبنے لگتے ہیں پھر شکایتیں جگہ بنا لیتی ہیں اور ایک وقت ایسا آتا ہے جب دو لوگ ایک ہی چھت کے نیچے رہتے ہوئے بھی ایک دوسرے سے دور ہو جاتے ہیں۔ دو دلوں کے درمیان سب سے خطرناک فاصلہ خاموشی کا ہوتا ہے۔ جب بات کرنے کے دروازے بند ہو جائیں تو غلط فہمیاں خود بخود راستہ بنا لیتی ہیں۔

میرا مشاہدہ یہ بھی ہے کہ مرد اور عورت تعلقات کو ہمیشہ ایک ہی زاویے سے نہیں دیکھتے۔ دونوں کے احساسات ترجیحات اور ردِعمل ایک دوسرے سے مختلف ہو سکتے ہیں۔ مرد کے لیے عزتِ نفس بڑی اہمیت رکھتی ہے۔ وہ بہت سی باتیں برداشت کر لیتا ہے بہت سی کمزوریاں نظر انداز کر دیتا ہے مگر بعض رویے اس کے دل میں ایسی دراڑ پیدا کر دیتے ہیں جو وقت کے ساتھ گہری ہوتی چلی جاتی ہے۔ اکثر لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ اگر مرد کسی تعلق سے دور ہو رہا ہے تو یقیناً اس کی زندگی میں کوئی دوسرا شخص آ گیا ہوگا حالانکہ ایسا ہمیشہ نہیں ہوتا۔ بعض اوقات انسان صرف مسلسل تھکن ناقدری یا دل آزاری کے باعث بھی پیچھے ہٹ جاتا ہے۔ وہ فیصلہ ایک دن میں نہیں کرتا بلکہ خاموشی سے اپنے اندر یہ سفر طے کرتا ہے۔ اور جب وہ واقعی الگ ہونے کا فیصلہ کر لے تو پھر اکثر واپس پلٹنا اس کے لیے آسان نہیں رہتا۔

عورت کے معاملے میں بھی صورتِ حال ہمیشہ ایک جیسی نہیں ہوتی۔ کچھ خواتین واقعی ایسے حالات کا سامنا کر رہی ہوتی ہیں جہاں علیحدگی ان کی ضرورت بن جاتی ہے۔ کہیں ظلم ہوتا ہے کہیں مسلسل ذہنی اذیت کہیں اعتماد کی مکمل شکست اور کہیں ایسا ماحول جس میں جینا دشوار ہو جاتا ہے۔ ایسے مواقع پر علیحدگی ایک حق بھی ہے اور بعض اوقات ناگزیر ضرورت بھی۔

اکثر وبیشتر یہ بھی دیکھنے میں آتا ہے کہ جب کسی تعلق میں اعتماد کمزور پڑ جائے اور دلوں کے درمیان فاصلے بڑھ جائیں تو انسان نئے سہاروں اور نئی امیدوں کی طرف دیکھنے لگتا ہے۔ یہ صرف عورتوں کے ساتھ نہیں بلکہ مردوں کے ساتھ بھی ہو سکتا ہے۔ انسان چونکہ ذہنی اور قلبی سکون کے علاوہ جسمانی خواہش کی تکمیل اور اپنی قبولیت کی تلاش کرتا ہی رہتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب کسی رشتے کی بنیادیں ہلنے لگتی ہیں تو بہت سے فیصلے جذبات کے بجائے عدم اطمینان اور بے یقینی کے زیرِ اثر ہونے لگتے ہیں۔

میں نے حلقۂ احباب میں ایسے لوگوں کو بھی دیکھا ہے جن کی شادی کئی سال قائم رہی مگر ان برسوں کا بڑا حصہ اختلافات اور خاموشیوں کی نذر ہو گیا۔ وہ ایک ہی گھر میں رہتے تھے مگر ان کے درمیان گفتگو صرف ضرورت تک محدود ہو کر رہ گئی تھی۔ بظاہر رشتہ موجود تھا لیکن دلوں کا تعلق بہت پہلے کمزور ہو چکا تھا۔ پھر ایک وقت ایسا آیا کہ ان کے درمیان براہِ راست گفتگو تقریباً ختم ہو گئی۔ بعض پیغامات گھر کے دوسرے افراد کے ذریعے پہنچتے تھے اور بعض باتیں کسی تیسرے شخص کے ذریعے ایک دوسرے تک پہنچائی جاتی تھیں۔ کچھ عرصہ یہ سلسلہ چلتا رہا مگر بالآخر وہی ہوا جو ایسے رشتوں کے ساتھ اکثر ہو جاتا ہے۔ ایک دن دونوں نے اپنی اپنی راہیں الگ کر لیں۔

یہیں سے تعلقات کے زوال کی ابتدا ہوتی ہے۔ جس طرح شعر دو مصرعوں میں مکمل ہوتا ہے اسی طرح ایک رشتہ بھی دو افراد کی باہمی وابستگی سے قائم رہتا ہے۔ جب اس میں کسی تیسرے کی مداخلت جگہ بنانے لگے تو اعتماد متاثر ہوتا ہے اور رشتے کی خوبصورتی کم ہونے لگتی ہے۔ تعلقات کی اصل طاقت محبت سے زیادہ اعتماد اور باہمی احترام میں پوشیدہ ہوتی ہے۔

وقت گزرنے کے ساتھ انسان ایک اور حقیقت کو سمجھنے لگتا ہے۔ جب وہ اپنی وضاحتیں دیتے دیتے تھک جاتا ہے تو ایک دن خاموش ہو جاتا ہے۔ یہ خاموشی ہمیشہ شکست نہیں ہوتی بلکہ ایک اندرونی تھکن کا اظہار ہوتی ہے۔ وہ مرحلہ جب انسان دوسروں کو سمجھانے کے بجائے خود کو سمجھنے کی کوشش شروع کر دیتا ہے۔ وہ اپنی توقعات کم کرتا ہے اور اپنی ذات کی طرف لوٹ آتا ہے۔

پھر ایک وقت ایسا بھی آتا ہے جب انسان یہ سمجھ لیتا ہے کہ ہر خاموشی نقصان نہیں ہوتی۔ کچھ خاموشیاں انسان کو اپنے اندر جھانکنے کا موقع دیتی ہیں۔ وہ لوگوں کی ناراضی شکایتوں اور توقعات سے چند قدم پیچھے ہٹ کر خود سے بات کرنا شروع کر دیتا ہے۔ شاید اسی مرحلے پر اسے احساس ہوتا ہے کہ وہ برسوں دوسروں کو منانے سمجھانے اور اپنے حق میں دلائل دینے میں مصروف رہا مگر خود کو سننے کے لیے کبھی نہیں رکا۔

زندگی نے مجھے کم از کم یہ ضرور سکھایا ہے کہ ہر ساتھ ہمیشہ کے لیے نہیں ہوتا۔ کچھ لوگ ہماری زندگی میں رہنے کے لیے آتے ہیں اور کچھ ہمیں کوئی سبق دے کر آگے بڑھ جاتے ہیں۔ اس لیے رشتوں کو نبھانے کی کوشش ضرور کرنی چاہیے مگر اس حد تک نہیں کہ انسان اپنی ذات ہی کھو بیٹھے۔ اگر کوئی ساتھ چلتا رہے تو یہ خوش نصیبی ہے اور اگر کوئی راستہ بدل لے تو اسے زندگی کا ایک فیصلہ سمجھ کر قبول کر لینا چاہیے۔ آخرکار رشتے محبت سے پہلے گفتگو اعتماد اور احترام سے زندہ رہتے ہیں۔ جب یہ چیزیں باقی رہیں تو فاصلے بھی کم ہو جاتے ہیں اور جب یہ ختم ہونے لگیں تو بعض اوقات ایک ہی چھت کے نیچے رہنے والے لوگ بھی ایک دوسرے سے بہت دور چلے جاتے ہیں۔

ایم اے دوشی

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • معاشرے میں نصیبو کا کردار
  • نالۂ شب گیر: ایک ضروری مکالمہ عورتوں کے تعلق سے
  • بے کاری
  • رشتوں کامعیارکیساہوناچاہیے
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
وہ درخت جو اپنے سائے سے رُوٹھ گیا
پچھلی پوسٹ
لباس کی شرعی حیثیت

متعلقہ پوسٹس

علمائے دیوبند کا فکری منہج

دسمبر 6, 2025

سرِ کریک

اکتوبر 5, 2025

تاریخ کے وارث – دوسری قسط

جنوری 17, 2025

اظہارِ تشکر

مارچ 8, 2026

زبان کے زخم

ستمبر 6, 2020

ویرا

جنوری 3, 2020

کیوں پوچھتے ہو کِس کا زمانا ہے

دسمبر 10, 2025

دشت غربت میں ترا چھوڑ کے جانا

مئی 1, 2026

اسلامی اِنقلاب اور ادب

دسمبر 15, 2019

آدمی مجبور ہے اور کس قدر مجبور ہے

مئی 3, 2020

2 تبصرے

Meesam Ali Agha اگست 3, 2026 - 10:40 صبح

کیا کہنے
دوشی بھائی بہت خوب صورت اور بہت ہی اعلی
بہت دعائیں یار جانی جیو بہت جیو

جواب دیں

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • ​کب سے ہم نے تیرے غموں کو

    ستمبر 15, 2026
  • مسدس نعتیہ نظم "مانگتا ہوں”

    ستمبر 13, 2026
  • تقوی کی اعلی مثال

    ستمبر 10, 2026
  • آیت نور اور ڈارک ویب

    ستمبر 10, 2026
  • حاصلِ عشق کا ہر روز تماشا نہ کریں

    ستمبر 10, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • صنم گل on مسدس نعتیہ نظم "مانگتا ہوں”
  • Visal abbasi on نہ بھٹکے ہیں نہ راستہ ہوا غلط
  • ایم اے دوشی on دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار

اسلامی گوشہ

مسدس نعتیہ نظم "مانگتا ہوں”

ستمبر 13, 2026

تقوی کی اعلی مثال

ستمبر 10, 2026

سلام بحضور امام حسین (ع)

ستمبر 10, 2026

آمد

ستمبر 4, 2026

چلو چلیں

ستمبر 2, 2026

اردو شاعری

​کب سے ہم نے تیرے غموں کو

ستمبر 15, 2026

حاصلِ عشق کا ہر روز تماشا نہ کریں

ستمبر 10, 2026

اپنی نیّت دیکھ لینا، پھر ہماری دیکھنا

ستمبر 10, 2026

قصّہِ پارینہ

ستمبر 5, 2026

وصل کا شوق نچائے تو خوشی ہوتی ہے

ستمبر 4, 2026

اردو افسانے

سرخ پینسلیں اور خستہ حال خیمہ

اگست 9, 2026

وہ درخت جو اپنے سائے سے رُوٹھ گیا

اگست 3, 2026

ماں کی خاموش دُعا

جولائی 24, 2026

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

واپسی

جون 2, 2026

اردو کالمز

تقوی کی اعلی مثال

ستمبر 10, 2026

آیت نور اور ڈارک ویب

ستمبر 10, 2026

جھکے گا ظلم کا پرچم

ستمبر 6, 2026

6 ستمبر 1965

ستمبر 5, 2026

نماز حضور ﷺ کے آنکھوں کی ٹھنڈک

اگست 31, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • ​کب سے ہم نے تیرے غموں کو

    ستمبر 15, 2026
  • مسدس نعتیہ نظم "مانگتا ہوں”

    ستمبر 13, 2026
  • تقوی کی اعلی مثال

    ستمبر 10, 2026
  • آیت نور اور ڈارک ویب

    ستمبر 10, 2026
  • حاصلِ عشق کا ہر روز تماشا نہ کریں

    ستمبر 10, 2026
  • سلام بحضور امام حسین (ع)

    ستمبر 10, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

دو سیاح

جنوری 11, 2020

ذرا ہور اوپر

دسمبر 30, 2019

بروٹس سے میر جعفر تک

اکتوبر 2, 2020
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں