خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو بابامقبوضہ علاقوں کے باسیوں کی زندگی
آپکا اردو بابااردو افسانےاردو تحاریرسید محمد زاہد

مقبوضہ علاقوں کے باسیوں کی زندگی

از سائیٹ ایڈمن جون 6, 2025
از سائیٹ ایڈمن جون 6, 2025 0 تبصرے 66 مناظر
67

جہلم ندی کی موجیں انہیں جھولے جھلا رہی تھیں۔ لائف جیکٹس سے کبھی ہوا نکال کر گہرے پانی میں غوطہ زن ہو جاتے اور کبھی منہ سے پھلا کر ندی کے اندر دور تک چلے جاتے۔ کنارے پر آتے تو توپوں کی گھن گرج اور بندوقیں چلنے کا شور سن کر پہاڑی تودوں کے پیچھے چھپ جاتے۔

ان کی نگاہیں افق کے پار اس مقام تک پہنچنا چاہتی تھیں جہاں توپیں چلنے کے دھماکے ہو رہے تھے۔
”ہاشم بھائی! مجھے بھوک لگی ہے۔ “ سکندر جو عمر میں کم دکھتا تھا بولا۔

”میری بھی یہی حالت ہے۔“ ہاشم نے جواب دیا۔ ”جہلم ندی میری دوست ہے۔ بچپن اس کے سنگ گزرا، جوانی کا بہاؤ اس کے ساتھ چلا ہے۔ یہ ہمیں بھوکا نہیں مرنے دے گی۔ اس نے مجھ سے کبھی پہلو تہی نہیں کی۔“

وہ اسے لے کر ندی کنارے درختوں کے ایک جھنڈ میں آ گیا۔ خوبانی ابھی کچی تھی اور بادام کی ڈالیاں ہری بھری۔ کچھ دور انہیں آڑو بھی مل گئے۔

”شام ڈھل رہی ہے اس وقت ادھر رکنا بہتر ہو گا۔“ دونوں اسی جھنڈ میں چھپ گئے۔

مکانات کے اندر سے جہاں گھر کی بیویاں اپنے شوہروں کے لیے کھانے پکانے میں مصروف تھیں۔ دھواں بلند ہو کر فضا میں پھیل رہا تھا۔ مویشی چراگاہوں سے آہستہ آہستہ گھروں کی طرف پلٹ رہے تھے جن کے کھروں سے اڑی ہوئی خاک کا غبار نور شفق سے رنگین نظر آ رہا تھا۔ یہ نور شفق تھا یا انسانوں کے خون کا رنگ جو بندوق کی گولیوں سے اڑ کر آسمان کو رنگین کر گیا تھا۔وہ وہاں کچھ دیر سستانے کو لیٹ گئے۔

آنکھ لگی ہی تھی کہ گولیوں کی تڑ تڑ سے جاگ گئے۔ بچے عورتیں بھاگ اٹھے۔ جو مرد نظر آتا اسے گرفتار کر لیا جاتا یا گولیوں سے بھون دیا جاتا۔ وہ اپنی کچھار میں چھپ کر سب دیکھ رہے تھے۔ دو تین گھنٹے کی تلاش کے بعد فوجی واپس چل پڑے۔ بم دھماکے ہوئے اور کئی گھر ملبے کا ڈھیر بن گئے۔

وہ افسردگی کے عالم میں ندی کنارے واپس آ گئے۔ ساری رات چلتے رہے۔ بھوک ستانے لگی تھی۔ کچے پھلوں سے گزارا نہیں ہوتا۔ سکندر کا گاؤں اب قریب تھا۔ وہ جانتا تھا کہ ادھر سخت پہرہ ہو گا۔

وہ متواتر دو دن اور تین راتوں سے اسی ندی کے کنارے چلتے آرہے تھے۔ پورا کشمیر شورش زدہ ہو چکا تھا لیکن انہیں یقین تھا کہ ڈھونڈنے والے ابھی اننت ناگ کے اردگرد ہی دھیان دے رہے ہوں گے۔ کچھ دور ایک بستی نظر آئی۔ بستی سے دھواں اٹھ رہا تھا اسے روند دیا گیا تھا۔ وہ بستی پہنچے تو ان کے روبرو وہی خوفناک منظر تھا جس کے وہ عادی ہو چکے تھے۔ ہاشم نے سکندر سے کہا، ”تم باہر ٹھہرو میں اندر جا کر کسی گھر سے کھانا ڈھونڈتا ہوں۔“

گلیاں شکستہ مکانوں کے ملبے سے اٹی پڑی تھیں۔ کوئی متنفس دکھائی نہیں دیتا تھا۔ لوگ گھروں کو چھوڑ کر بھاگ گئے تھے۔ دیواروں کے ٹوٹے پھوٹے حصے شرابیوں کی طرح جھک رہے تھے جیسے گرا ہی چاہتے ہوں۔

وہ ایک دو گھروں میں گھسا وہاں اسے کھانے کا کچھ سامان مل گیا۔ کھانا لے کر باہر آ رہا تھا کہ ایک فوجی گاڑی آتی نظر آئی۔ وہ بھاگ نکلا کوئی راستہ دکھائی نہیں دے رہا تھا۔ ایک گھاٹی میں کچھ لاشیں پڑی تھیں وہ ان کے درمیان لیٹ گیا۔ اس کی بد قسمتی تھی کہ گاڑی بھی ادھر آ کر رکی۔ وہ اس امر کی انتہائی کوشش کرنے لگا کہ اس کے جسم میں مُردوں جیسی بے حسی اور سختی پیدا ہو جائے۔

سپاہیوں نے اِدھر اُدھر ٹہلنا شروع کر دیا۔ کچھ گھروں کی تلاشی بھی لی۔ وہ چپ لاشوں کے درمیان لیٹا رہا۔ ہاشم کے پہلو میں ایک خوبصورت بالوں والی نوجوان لڑکی کی لاش پڑی ہوئی تھی۔ اس کا بازو ہوا میں بلند تھا اور اسی حالت میں بے جان ہو کر رہ گیا تھا جیسے مرنے کے بعد بھی ظلم و ستم کے خلاف احتجاج کر رہی ہو۔

سپاہی گاڑی کے پاس لوٹ آئے۔ اس میں سے دو لاشیں نکال کر اسی کھڈے میں پھنک دیں۔
”صاحب، ان پر مٹی ڈال دیں۔“ ایک سپاہی کی آواز سنائی دی۔

”نہیں۔ پڑوسی گاؤں سے ابھی ایک دو آتنک وادی لانے ہیں اس کے بعد اسے بھر دیں گے۔ “ جواب بڑا کٹھور تھا۔

گاڑی چلی گئی لیکن ہاشم میں اتنی ہمت نہیں تھی کہ لاشوں کے درمیان سے نکل کر بھاگ سکے۔ دونوں لاشیں نوجوان لڑکوں کی تھیں۔ ایک اتنا پر سکون تھا جیسے سو رہا ہو اور دوسرے کے سر کو کچل دیا گیا تھا۔ سر سے بہتا ہوا خون اس کے جسم کے ساتھ چپک گیا۔

وہ کافی دیر ادھر پڑا رہا۔

ہوا میں کافی خنکی تھی اور سورج بھی طلوع ہونے والا تھا۔ یہاں سے نکلنا چاہیے تھا۔ اوپر گری ہوئی لاشیں ہٹا کر وہ اٹھا تو اس کی نظر لڑکی پر پڑی۔ لڑکی کا جسم اتنا بھر پور اور نرم و نازک تھا کہ اسے مردہ تصور کرتے ہوئے دل لرزتا تھا۔ ہاتھوں پر مہندی رچی ہوئی تھی۔ کالے سیاہ بالوں کو بہت محنت سے بنایا گیا تھا۔ سانولی رنگت اور کپڑے نئے نویلے۔ شکل سے پنجابن لگتی تھی۔ شاید نئی نئی دلہن تھی۔ اس کی گردن کے نزدیک چار چھوٹے چھوٹے سرخ نشان تھے جو غالباً اس کے خاوند کے بوسوں کی گرم جوشی کی یاد گار تھے۔ ہاشم کے جذبات میں تلاطم برپا ہو گیا۔ ایک لمحے کے لیے وہ خطرہ، تھکن، لاشوں کی بدبو، سب بھول گیا۔ اسے اپنی بیوی یاد آ رہی تھی۔ پلوامہ کے حملہ والی رات اس کی شادی تھی۔ اگلے دن وہ اس کے لیے شہر سے تحفہ خریدنے گیا تھا جب فوج نے گاؤں پر دھاوا بولا۔ ظالموں نے اس کی بیوی کو روندا بعد میں گھر کو بم سے اڑا دیا۔ حجلہ عروسی، اس کی دلہن اور ارمانوں کی قبر بن گیا۔

وہ نئے جوش کے ساتھ ندی کی طرف بھاگ اٹھا۔
سکندر اس کا انتظار کر رہا تھا۔

”یہاں ٹھہرنا خطرناک ہے۔“ وہ سکندر کو ساتھ لے کر چل پڑا۔ ندی کا پاٹ کافی چوڑا تھا۔ سارا دن کبھی ندی کے اندر اور کبھی اس کے کناروں پر موجود درختو ں کی اوٹ میں چلتے رہے۔

”ہم کتنے دنوں میں پار اتریں گے۔“ سکندر کے چہرے سے تھکاوٹ واضح نظر آ رہی تھی۔

”دو ہفتے یا شاید اس سے بھی زیادہ۔ ہم پانچ چھ کلومیٹر روزانہ سے زیادہ نہیں تیر سکیں گے۔ ٹھہرتے ہوئے، چھپتے ہوئے چلنا ہے۔“

شام ڈھلنے لگی تو وہ کچھ دیر سستانے کے لیے رک گئے۔ شفق کی زر نگاریاں بتدریج تاریکی سے بدل گئیں تو وہ اٹھ گئے۔

ہاشم آج بہت دکھی تھا۔ سکندر کے پاس لیٹا اپنے گاؤں کو یاد کر رہا تھا جو ندی کنارے اسی علاقے میں تھا۔ وہ ایک مرتبہ گاؤں جانا چاہتا تھا۔ کمزوری سے ان کے اعصاب دکھ رہے تھے۔ دونوں کی آواز یکساں طور پر بھدی اور بھاری ہو چکی تھی۔ آنکھیں خوفناک انداز میں اندر کو دھنسی ہوئی تھیں۔ ان کے ہونٹوں پر یکساں پپڑیاں تھیں۔ چہرے حجامت نہ بننے کے سبب یکساں طور پر مہیب تھے۔

سکندر خاموش اور رونی صورت بنائے بیٹھا تھا۔ چہرے پر انتہائی غم کے آثار نظر آ رہے تھے۔ ہاشم نے دوستانہ لہجے میں بات شروع کر دی تاکہ اس کا غم غلط کر سکے۔ آج وہ سوالوں کا جواب بے دلی سے دے رہا تھا جیسے گفتگو کرنا اس کے لیے ایک تکلیف دہ عمل ہو۔ دور اس کے گاؤں سے بھی دھواں اٹھ رہا تھا۔ ہاشم نے سکندر کی طرف دیکھا اور پوچھا، ”قابض فوج ایسا کیوں کرتی ہے۔ کیا کشمیری اس ملک کے شہری نہیں؟“

اس کی آواز یک دم تیز ہو گئی۔ وہ خود بخود باتیں کرنے لگا تھا،
”میں اپنا علاقہ چھوڑ کر نہیں جانا چاہتا۔“
”وہ تمہیں زندہ نہیں چھوڑیں گے۔“

”ان کا غصہ کچھ دنوں میں کم ہو جائے گا۔ میں نے کون سا جرم کیا ہے۔ وہ میرا دوست بھی نہیں تھا۔ بس کچھ ملاقاتیں ہوئی تھیں۔ میں گرفتاری دے دوں گا۔ عدالت مجھے چھوڑ دے گی، میرے ماں باپ ہیں، بہن بھائی ہیں، بیوی ہے۔

میری بیوی بہت اچھی ہے۔ بہت پیاری، بہت حسین، الہڑ مٹیار۔ ”

وہ کچھ کہنا چاہتا تھا لیکن خاموش ہو گیا۔ وہ اسے یاد آ رہی تھی۔ کچھ دن پہلے جب وہ ایک دوسرے کی بانہوں میں تھے۔ محبت کی تھی، اکٹھے ہنسے تھے، زور سے ایک دوسرے کو بھینچا تھا۔ وہ پنجابن جس میں مست ہاتھی جتنا زور تھا، جو متشدد محبت کی قائل تھی۔ وہ ناگن جو کاٹ کھاتی، سر نہیں جھکاتی تھی۔ کھلے کھلے انگ، مضبوط ہڈ پاؤں، موٹی کالی آنکھیں : کالے سیاہ بال اور سانولی رنگت والی۔

ہاشم کو وہ خوبصورت لڑکی یاد آ گئی جس کی لاش اس کے پہلو میں پڑی تھی، جس کا ہاتھ مرنے کے بعد بھی علم آزادی کی طرح بلند تھا۔ جس کی موت وہ بیان بھی نہیں کر سکتا تھا۔ وہ ضرور اس کی بیوی ہوگی۔

ندی کی سطح پر اندھیرا نہ تھا۔ اس کے چہرے پر ایک نور تھا جو نہ جانے کہاں سے آ رہا تھا۔ کشمیر کی زمین کہکشاں معلوم ہو رہی تھی۔ اس میں بعض کیمیائی اجزاء کی آمیزش تھی یا انسانوں کے خون کی جو ستاروں کے انعکاس سے اس کے اندر ایک انوکھی دھندلی سرخی پیدا ہو گئی تھی۔ یہ دھندلی رونق ایک پراسرار راستہ معلوم ہوتا تھا، آزادی کا ؛ پراسرار مقام کا، پراسرار راستہ۔ وہ راستہ جس پر ہزاروں جوانیاں اور لاکھوں عزتیں قربان ہو چکی تھیں۔

”میں پار نہیں جانا چاہتا۔“ سکندر بولا
اس کی آنکھوں میں خیالات کا نم تھا۔

” ہم کشمیر میں ہی رہیں گے۔ وہ کشمیر بھی ہمارا ہے۔ جب حالات ٹھیک ہو جائیں گے تو لوٹ آئیں گے۔“ ہاشم اسے سمجھا رہا تھا۔

وہ بڑھتے گئے۔
کئی دن اور کئی راتیں گزر گئیں۔

بالآخر وہ نالائی پہنچ گئے۔ سائیں سہیلی سرکار اور معصوم شاہ غازی کی سرزمین جسے چھوڑنا اور اس پار اترنا سب سے مشکل مرحلہ تھا۔ ندی کی دھاریں تیز اور خطرناک، دونوں طرف فوجوں کا سخت پہرہ۔

وہ اماوس کی رات تھی۔

توپوں کی گھن گرج کے ساتھ اب جنگی جہازوں کا شور بھی شامل ہو گیا تھا۔ میزائل داغے جا رہے تھے اور ڈرونز زاغوں کی طرح مردار کی تلاش میں تھے۔ دونوں طرف مکمل بلیک آؤٹ تھا۔ پہاڑیاں بھی ردائے شب میں روپوش ہو گئیں تھیں اور جنگل غائب۔

وہ ایک بہترین رات جس میں وہ اس پار اتر سکتے تھے۔ ندی بل کھاتی دور تک بہتی نظر آ رہی تھی اور یوں معلوم ہوتا تھا کہ وہ ٹھیک خانہ خاور میں جا کر گر رہی ہے۔ ایک سونے کی سڑک تھی جو انہیں شان و تجمل کے مسکن میں لیے جا رہی تھی، ایک پُر امن مسکن کی طرف۔

دونوں نے اپنی لائف جیکٹس میں ہوا بھری اور پانی میں چھلانگ لگا دی۔ ہوا اور پانی کا دھارا انہیں دوسری طرف لے چلا، اس زمین کی طرف جہاں کے باشندے رات کو بے کھٹک سوتے تھے، جہاں امن کی ارزانی، محبت کی فراوانی تھی۔ جہاں عاشق اور معشوق ایک دوسرے سے لپٹ کر سو سکتے تھے۔

سید محمد زاہد

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • آئے گی نور کی بارات سفر کرتی ہوئی
  • دل میں یوں بے خودی تمھاری ہے
  • ہیں کہ دل میں کوئی آرزو نہیں مرے دوست
  • مکروہات میں عبودیت کی ادائیگی
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
بھوری مٹیالی آنکھیں
پچھلی پوسٹ
مریم نواز ہیلتھ کلینک

متعلقہ پوسٹس

سبھی کو بندشِ گُفتار ہونا چاہیے تھا

مئی 14, 2020

امت کی تقسیم اور دارفور کا خون

اکتوبر 30, 2025

اردو شاعری کے آغاز کا پس منظر

دسمبر 4, 2019

قدموں تلے میں سارا سمندر لئے ہوئے

نومبر 4, 2020

ایران کے حالات

جنوری 14, 2026

کسک

نومبر 7, 2021

ٹیکنالوجی کا زمانہ اور ہمارا جمود

اکتوبر 28, 2025

کب کسی کے ہاتھ پر جاتا ہوں میں

فروری 5, 2020

راج نگرا کا قصاب

نومبر 23, 2019

پاکستانی عدالتوں کا نظامِ استحصال

مئی 8, 2026

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • سحر بونیرے on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • سید مسعود فیروزی on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • Meesam Ali Agha on خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل

اسلامی گوشہ

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

سلام اُن حیدرِ کرار کے

جون 21, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

باطل نصیریوں کا عقیدہ ذرا نہ ہو

جون 18, 2026

محرم الحرام کی پہلی تاریخ

جون 17, 2026

اردو شاعری

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے...

جون 29, 2026

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جون 29, 2026

جو اپنے یار سے درخواست کرنا

جون 29, 2026

حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

جون 29, 2026

جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

جون 29, 2026

اردو افسانے

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

دادا جان کی ٹھنڈی چھاؤں

مئی 26, 2026

چائے کی پیالی

مئی 24, 2026

اردو کالمز

کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

جون 29, 2026

مرغوں کا عالمی ڈربا اور استعماریت کا دانہ

جون 26, 2026

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

محرم الحرام

جون 18, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

    جون 29, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

خیر اندیشی کرتے کرتے بے ایمانی...

جون 13, 2021

شاخوں میں کوئی اُس کی پرنده...

مئی 20, 2020

جیسا خُدا کا حُکم ہے ویسا...

جنوری 28, 2020
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں