خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپ کا سلام” توکل ” کیا ہے
آپ کا سلاماردو تحاریراردو کالمزاسلامی گوشہمحمد یوسف برکاتی

” توکل ” کیا ہے

از سائیٹ ایڈمن جون 2, 2026
از سائیٹ ایڈمن جون 2, 2026 0 تبصرے 32 مناظر
33

میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں کو میرا آداب

میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں قادری سلسلے کے روحانی پیشوا حضور غوث پاک شیخ عبد القادر جیلانی علیہ الرحمہ کی معروف تصنیف ” غنیتہ الطالبین ” سے مدد کے ساتھ اس تحریر کو آپ تک پہنچانے کی سعادت حاصل کروں گا انشاء اللہ اس تحریر کو پڑھ کر ہم سب کو بہت کچھ سیکھنے کو ملے گا اور زندگی میں اپنے رب کے قریب ہونے کا بھی موقع نصیب ہوگا ۔سب سے پہلے ہم ” توکل ” کا مطلب اور اس کی تشریح سمجھ لیتے ہیں دراصل توکل کا مطلب ہے ہر معاملے میں اللہ تعالیٰ پر کامل بھروسہ، یقین اور اعتماد کرنا کہ وہی نفع و نقصان کا مالک ہے۔ یہ صرف ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہنے کا نام نہیں، بلکہ جائز اسباب و تدابیر اختیار کرنے کے بعد نتیجہ اللہ پر چھوڑ دینے اور اس کی رضا پر راضی رہنے کا نام توکل ہے۔ اور اگر ہم اس کی تشریح کریں تو وہ یہ ہوگی کہ
اپنی کوشش و محنت پر اعتماد کرنے کے بجائے اسباب کو پیدا کرنے والی ذات (مسبب الاسباب) یعنی رب العزت پر بھروسہ کرنا توکل کہلاتا ہے ۔
حضرت سیدنا امام غزالی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْوَالِی نے توکل کی تفصیلی تعریف بھی بیان فرمائی ہے جس کا خلاصہ کچھ یوں ہے:توکل دراصل علم، کیفیت اور عمل تین چیزوں کے مجموعے کا نام ہے۔یعنی جب بندہ اس بات کو جان لے کہ فاعل حقیقی صرف اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہے، تمام مخلوق، موت وزندگی، تنگدستی ومالداری، ہرشے کو وہ اکیلا ہی پیدا فرمانے والا ہے، بندوں کے کام سنوارنے پر اسے مکمل علم وقدرت ہے، اس کا لطف وکرم اور رحم تمام بندوں پر اجتماعی اعتبار سےاور ہربندے پر انفرادی اعتبارسے ہے، اس کی قدرت سے بڑھ کر کوئی قدرت نہیں، اس کے علم سے زیادہ کسی کا علم نہیں ، اس کا لطف وکرم اور مہربانی بے حساب ہے، اس علم کے نتیجے میں بندے پر یقین کی ایسی کیفیت طاری ہوگی کہ وہ ایک اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہی پر بھروسہ کرے گا، کسی دوسرے کی جانب متوجہ نہ ہوگا، اپنی طاقت وقوت اور ذات کی جانب توجہ نہ کرے گا کیونکہ گناہ سے بچنے کی طاقت اور نیکی کرنے کی قوت فقط اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہی کی طرف سے ہے، تو اس علم ویقین،اس سے پیدا ہونے والی کیفیت اور اس نتیجے میں حاصل ہونے والے بھروسے کی مجموعی کیفیت کا نام ”توکل” ہے۔
( نجات دلانےوالےاعمال کی معلومات،صفحہ ۱۵۷)۔
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں قرآن مجید میں ارشاد باری تعالیٰ ہوا کہ
وَ مَنْ یَّتَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ فَهُوَ حَسْبُهٗؕ- ( پ۲۸، الطلاق:۳ )
ترجمعہ کنزالایمان:
”اور جو اللہ پر بھروسہ کرے تو وہ اسے کافی ہے۔”
اسی طرح قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ
(وَ عَلَى اللّٰهِ فَتَوَكَّلُوْۤا اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ(۲۳)
( پ6 المائدۃ: 23 )
ترجمعہ کنزالایمان:
”اور اللہ ہی پر بھروسہ کرو اگر تمہیں ایمان ہے۔”
( نجات دلانےوالےاعمال کی معلومات،صفحہ ۱۵۸)
اسی طرح حدیث مبارکہ میں بھی ہمیں توکل کی تلقین ملتی ہے جیسے عمر بن خطاب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "اگر تم لوگ اللہ پر توکل (بھروسہ) کرو جیسا کہ اس پر توکل (بھروسہ) کرنے کا حق ہے تو تمہیں اسی طرح رزق ملے گا جیسا کہ پرندوں کو ملتا ہے کہ صبح کو وہ بھوکے نکلتے ہیں اور شام کو آسودہ واپس آتے ہیں”
( ترمذی 2344 )
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ میں نے حج کے موسم میں اپنی امت کو خواب میں دیکھا تو میں نے اپنی امت کو اس حال میں دیکھا کہ ان سے میدان اور پہاڑ بھر گئے مجھے ان کی یہ حالت اور کثرت پسند آئی مجھ سے کہا گیا کہ آپ ﷺ راضی ہیں تو میں نے کہا ” ہاں ” تو کہا گیا کہ ان کے ساتھ ستر ہزار اور بغیر حساب کتاب کے جنت میں داخل ہوں گے کہ یہ لوگ اپنے اوپر داغ نہیں لگواتے منتر نہیں کرواتے بلکہ صرف اپنے رب پر بھروسہ کرتے ہیں تو اس پر حضرت عکاشہ بن محصن رضی اللہ تعالیٰ عنہ کھڑے ہوئے عرض کیا کہ یارسول اللہ دعا فرمائیں کہ اللہ مجھے بھی ان میں شامل کرلے تو آپ ﷺ نے دعا کی کہ اے اللہ انہیں بھی شامل فرمادے تو ایک اور صحابی کھڑے ہوگئے اور عرض کیا کہ یارسول اللہ دعا فرمائیں کہ اللہ مجھے بھی ان میں شامل کرے تو فرمایا کہ عکاشہ تم سے بازی لے گیا ۔
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں توکل کی حقیقت یہ ہے کہ انسان اپنے سارے معاملات اللہ رب العزت کے حوالے کردے اور رب تعالیٰ کے سپرد کردے اختیار و تدبیر کے اندھیروں سے پاک ہو اور صرف تقدیر الٰہی کی طرف قدم بڑھائے اور جب وہ ایسا کرلے تو وہ اپنی تقدیر سے مطمئن ہوجاتا ہے اسے یقین ہو جاتا ہے کہ جو اس کی تقدیر میں لکھ دیا گیا ہے وہ اس سے کوئی چھین نہیں سکتا اور جو کچھ اس کی تقدیر میں نہیں ہے وہ اسے مل نہیں سکتا پھر اسے سکون مل جاتا ہے اس کا دل سکون میں جاتا ہے وہ صرف اپنے مالک کی طرف نظریں جمائیں ہوئے ہوتا ہے اور اپنے مالک یعنی رب تعالیٰ کی مرضی پر خوش ہوتا ہے ۔ہمارے علماء اور فقہاء نے اپنے اپنے علم کے ذریعے توکل کے درجات کا ذکر کیا ہے حضور غوث پاک رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنی اس کتاب ” غنیتہ الطالبین ” میں توکل کے تین درجات تحریر فرمائیں ہیں پہلا درجہ ” توکل ” کہلاتا ہے دوسرا درجہ ” تسلیم ” جبکہ تیسرا درجہ ” تفویض ” کہلاتا ہے پہلا درجہ یعنی اپنے رب پر مکمل بھروسہ کرنا اور رب العزت کے وعدے پر مطمئن ہونا ہے دوسرے یعنی تسلیم یہ ہے کہ رب العالمین کے علم پر اکتفاء کرنا جبکہ تیسرے درجے میں اللہ تعالیٰ کے ہر حکم پر راضی رہنا ہے ایک قول یہ بھی ہے کہ توکل مومنوں کی صفت ہے تسلیم اولیاء کرام کی اور تفویض محدین کی یعنی توکل ابتداء ہے تسلیم درمیانہ اور تفویض انتہا ہے ۔
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں توکل کے درجات کو مختلف اقوال میں تقسیم کردیا گیا ایک قول میں نے پیش کیا جبکہ ایک قول یہ بھی ہے کہ توکل عام کی صفت ہے تسلیم خاص لوگوں کی جبکہ تفویض خاص الخاص لوگوں کی صفت ہے ایک قول یہ بھی ہے کہ توکل انبیاء کرام کی صفت ہے تسلیم حضرت ابراھیم علیہ السلام کی جبکہ تفویض آقا و مولا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صفت ہے حضرت ابراھیم علیہ السلام کو تسلیم کی صفت اس وقت حاصل ہوئی جب نمرود نے کافی اونچائی سے انہیں آگ میں ڈالا کئی فرشتے آئے لیکن حضرت ابراھیم علیہ السلام اللہ کی مرضی پر راضی رہے یہاں تک کہ حضرت جبرائیل علیہ السلام کو بھی مدد کرنے سے انکار کیا کی مجھے تمہاری حاجت نہیں مجھے صرف اللہ تعالیٰ پر بھروسہ ہے اور وہ اگر چاہتا ہے کہ میں آگ میں جلوں تو میں جائوں گا اور اگر وہ مجھے بچانا چاہے گا تو اس سے طاقتور آگ بھی میرا کچھ نہیں بگاڑ سکتی مجھے اپنے رب پر بھروسہ ہے اور میں اس کے حکم پر راضی ہوں ۔
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں ہمارے اسلاف کی نظر میں ” توکل ” کیا ہے آیئے پڑھتے ہیں
حضرت سہل بن عبداللہ علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ توکل کے پہلے مقام پر بندہ کو اس طرح ہونا چاہیئے جیسے ایک غسل دینے والے کے ہاتھ میں مردہ وہ جس طرح چاہے اسے گھمائے اس کی اپنی کوئی تدبیر نہیں ہوتی اپنی کوئی مرضی نہیں ہوتی نہ وہ کچھ سوچتا ہے نہ کوئی ارادہ کرتا ہے بس اپنے آپ کو مکمل طور پر اللہ تعالیٰ کے سپرد کردیتا ہے ۔ حضرت ابراھیم خواص علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ غیر اللہ سے نہ امید رکھے اور نہ اس سے کوئی خوف بلکہ زندگی کو ایک دن کی سمجھ کر گزارے اور دوسرے دن کا کوئی غم نہ ہو اسی طرح حضرت ابو علی روذباری علیہ الرحمہ جو حضرت جنید بغدادی علیہ الرحمہ کے شاگردوں میں سے تھے فرماتے ہیں کہ توکل کے زمرے میں تین باتیں لحاظ طلب ہیں یعنی کچھ ملے تو شکر کرے کچھ نہ ملے تو صبر کرے اور تیسرا یہ کہ اس بات پر شکر کرے کہ اللہ تعالیٰ کو جو پسند تھا اس کے لیئے اس نے وہی کیا ۔حضرت جعفر خلدی علیہ الرحمہ روایت کرتے ہیں کہ ابراھیم خواص علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ میں مکہ مکرمہ کی سفر پر رواں دواں تھا تو راستے میں ایک وحشی شکل دیکھی میں رکا اور پوچھا کہ تم انسان ہو یا جن تو اس نے کہا کہ میں جن ہوں تو میں نے پوچھا بغیر سواری اور زادراہ کے تو کہنے لگا کہ ہم میں بھی کچھ لوگ توکل پر چلنے والے ہیں تو فرمایا کہ تم توکل کو کیا جانے ہو تو کہنے لگا کہ ہمارے نزدیک اللہ سے لینا توکل ہے ۔
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں حضرت جنید بغدادی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ توکل پر چلنے والا شخص صرف اپنے رب تعالیٰ کی طرف متوجہ ہو جائے اور باقی سب کچھ چھوڑ دے حضرت سفیان ثوری علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی تدبیر کر سامنے اپنی تدبیر کو فنا کردے اور اس بات پر راضی رہے کہ اللہ تعالیٰ ہی میرا مددگار حامی و ناصر ہے کہ اللہ تعالیٰ خود فرماتا ہے کہ اللہ کافی کارساز ہے ۔بزرگ فرماتے ہیں کہ ذلیل بندہ جلیل رب پر بھروسہ کرے اکتفاء کرے جیسے حضرت ابراھیم علیہ السلام نے حضرت جبرائیل علیہ السلام کی عنایت کو نہ دیکھتے ہوئے اپنے رب پر مکمل بھروسہ کیا ۔بزرگ فرماتے ہیں کہ اپنے رب پر مکمل بھروسہ کرکے لاحاصل جدوجہد ترک کردے حضرت بہلول دانہ علیہ الرحمہ سے پوچھا گیا کہ بندہ متوکل کب بنتا ہے یعنی توکل کب حاصل کرتا ہے تو فرمایا کہ جب وہ مخلوق کے درمیان اپنے آپ کو اجنبی سمجھے اور دل کی گہرائیوں کے ساتھ اپنے رب کا قرب حاصل کرلے ۔
توکل حاصل کرنے والوں میں ایک بہت بڑا نام حضرت حاتم اصم علیہ الرحمہ سے پوچھا گیا کہ آپ کو توکل کا یہ مقام کیسے حاصل ہوا تو فرمایا کہ جب میں نے چار باتوں پر یقین کرنا سیکھ لیا پہلا یہ کہ مجھے یقین ہوگیا کہ میری تقدیر میں میرے رب تعالیٰ نے جو رزق لکھ دیا ہے اسے کوئی اور نہ کھا سکتا ہے اور نہ مجھ سے چھین سکتا ہے لہذہ میں نے اس میں مشغول ہونا چھوڑ دیا دوسرا یہ کہ میرا کوئی عمل دوسرا انجام نہیں دے گا مجھے ہی دینا پڑے گا لہذہ میں اس میں مشغول رہتا ہوں تیسرا یہ کہ مجھے معلوم ہے کہ موت اچانک آئے گی لہذہ میں ہر وقت اس سے ملنے کے لیئے تیار رہتا ہوں اور چوتھا یہ کہ مجھے معلوم ہے کہ میرا رب میرے سامنے ہے لہذہ میں اس سے حیاء کرتا ہوں ۔
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں اللہ تعالیٰ پر توکل کیا ہے حضرت ابن طاؤس یمانی علیہ الرحمہ اپنے والد طائوس علیہ الرحمہ سے نقل کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ایک اعرابی ایک مسجد کے پاس آیا اور اس نے اپنا بمعئہ سامان وہاں باندھ کر دعا مانگنے لگا کہ اے رب میرا اونٹ اور سامان تیرے حوالے یہاں تک کہ میں واپس نہ آجائوں یہ کہکر وہ وہاں سے اٹھا اور مسجد میں داخل ہوگیا فارغ ہونے کے بعد جب وہ باہر تشریف لایا تو اس کا سارا سامان بمعئہ اونٹ غائب تھا اس نے کہا کہ اے رب میرا تو کچھ بھی نہ گیا یہ سب تو تیرے یہاں سے چوری ہوا حضرت طاؤس علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ ہم اس اعرابی کے ساتھ موجود تھے کہ ہم نے ابو قیس کے پہاڑ سے ایک شخص کو اترتے ہوئے دیکھا کہ وہ ایک اونٹ کے ساتھ سامنے سے آرہا ہے اور اس کا دائیاں ہاتھ کٹا ہوا تھا اور اس کی گردن سے لٹکا ہوا تھا وہ قریب آکر اعرابی سے مخاطب ہوا اور کہا کہ اپنا اونٹ اور سامان لیجیئے میں نے اس کے کٹے ہوئے ہاتھ کو دیکھ کر پوچھا کیا ماجرہ ہے تو اس نے کہا کہ میں قیس پہاڑ پر چڑھا تو مجھے ایک سوار نے روک لیا جو سیاہ و سفید سواری پر تھا مجھے کہا کہ اے چور اپنا ہاتھ آگے کر اس نے ایک پتھر پر میرا ہاتھ رکھا اور دوسرے پتھر سے اسے کاٹ کر میری گردن پر رکھ دیا پھر مجھ سے کہا کہ پہاڑ سے نیچے اترو اور یہ اونٹ بمعئہ سامان اس اعرابی کے حوالے کردو ۔
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں یہ ہے اللہ تعالیٰ پر مکمل بھروسہ مکمل اعتماد اور توکل کی بڑی نشانی اس کا مطلب یہ ہر گز نہیں ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرکے گھر بیٹھ جائے اور اپنے اہل وعیال کے لیئے ذریعہ معاش کا حصول چھوڑ دے بلکہ وہ اپنی رزق کے حصول کی کوشش میں لگا رہے اس امید پر کہ میرا رب مجھے دے گا محنت خود کرے لیکن نتیجہ اپنے رب پر چھوڑ دے جیسے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص سرکار علیہ السلام کی بارگاہ میں حاضر ہوا اور عرض گزار ہوا کہ یارسول اللہ ﷺ میں اپنے اونٹ کو اللہ تعالیٰ کے بھروسے پر چھوڑ دوں یعنی اللہ تعالیٰ پر توکل کروں تو حضور ﷺ نے فرمایا نہیں اس کو باندھو اور پھر اپنے رب پر بھروسہ کرو ۔ ایک طرف کہا گیا کہ توکل کرنے والا اس بچے کی مانند ہوتا ہے جس کے لیئے اس کی ماں کے پستان ہی سب سے بڑی پناہ گاہ ہوتے ہیں بالکل اسی طرح متوکل بھی صرف اللہ تعالیٰ کی طرف ہی دوڑتا ہے کیونکہ اسے معلوم ہے کہ یہ ہی اس کی پہلی اور آخری پناہ گاہ ہے کچھ لوگ کا کہنا ہے کہ اپنے سارے شکوک وشبہات دور کرکے اپنے آپ کو بادشاہوں کے بادشاہ کے سپرد کردینے کا نام توکل ہے کچھ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے پاس جو کچھ ہے اس پر یقین رکھنا اور لوگوں کے پاس ناامید ہونا ہی توکل ہے کچھ کہتے ہیں کہ رزق کی تلاش میں اپنے دل و دماغ کو سوچ و بچار سے فارغ رکھنا ہی توکل ہے ۔
میرے واجب الاحترام پڑھنے والوں ہم اپنی مختصر اور عارضی زندگی میں نہ جانے کس کس پر اور کس کس طرح سے بھروسہ کرلیتے ہیں لوگ ہمارے بھروسے کو توڑ بھی دیتے ہیں لیکن وہ ذات جس پر بھروسہ کرکے نہ صرف ہم اپنی یہ عارضی دنیا سنوار سکتے ہیں بلکہ اپنی آخرت میں بھی کامیابی حاصل کرسکتے ہیں مگر ہماری بدقسمتی ہے کہ ہم اپنے رب تعالیٰ پر بھروسہ نہیں کرتے اس پر توکل نہیں کرتے ورنہ رب العزت پر توکل کرنا اور مکمل بھروسہ کرنے کا اجر تو آپ نے آج کی اس تحریر میں پڑھ لیا ہوگا آج سے عہد کریں کہ اللہ تعالیٰ کے ہر حکم کی پیروی کرتے ہوئے اپنی زندگی گزاریں گے حضور ﷺ کی احادیث مبارکہ پر عمل پیرا ہوکر صرف اپنے رب پر توکل کرتے ہوئے اپنے آپ کو اس کے سپرد کردیں گے اپنا ہر کام محنت دیانت اور شرعی اعتبار سے کرکے نتیجہ اپنے رب پر چھوڑ دیں گے یقیناً وہ رب ہمارے لیئے ہم سے بہتر فیصلہ کرتا ہے آخر میں دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مجھے سچ لکھنے ہمیں پڑھنے سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین آمین بجاہ النبی الکریم ﷺ مجھے دعاؤں میں خاص طور پر یاد رکھیئے گا اگر زندگی کے کسی بھی مسئلہ کا حل درکار ہو تو حضور غوث پاک شیخ عبد القادر جیلانی علیہ الرحمہ کی یہ کتاب یعنی ” غنیتہ الطالبین ” ضرور پڑھیں انشاء اللہ نہ صرف آپ کی معلومات میں اضافہ ہوگا بلکہ اس کتاب کو پڑھ کر زندگی میں آپ کو بڑا لطف آئے گا ۔

محمد یوسف میاں برکاتی

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • زرداری صاحب کیخلاف مقدمہ
  • جذبات
  • کھلا خط
  • تفسیری مناہج
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
تم کیسے جان سکتے ہو ہار کا دکھ
پچھلی پوسٹ
کس درجہ اکیلی ہے یہ یکتائی ہماری

متعلقہ پوسٹس

فاختہ کی چونچ میں دانہ

جون 15, 2020

اردو: قومی زبان اور ہماری ذمہ داری

اگست 17, 2025

بیگمات کی پراسرار علالتیں اور ریسٹورنٹ سینڈروم

مئی 15, 2026

سماج کی خدمت

دسمبر 27, 2025

فلسطین میں امن کو موقع دو

اکتوبر 1, 2025

محسن خالد محسن کی نظم”میں غلام نہیں ہوں”

اپریل 18, 2026

کب کوئی فرق پڑرہا ہے!

جون 7, 2024

انور مقصود کی بے تکی شاعری

دسمبر 4, 2019

لاطینی امریکہ کا ایک سفر

مارچ 23, 2025

شاہد ذکی کی شاعری

جنوری 23, 2020

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • سحر بونیرے on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • سید مسعود فیروزی on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • Meesam Ali Agha on خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل

اسلامی گوشہ

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

سلام اُن حیدرِ کرار کے

جون 21, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

باطل نصیریوں کا عقیدہ ذرا نہ ہو

جون 18, 2026

محرم الحرام کی پہلی تاریخ

جون 17, 2026

اردو شاعری

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے...

جون 29, 2026

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جون 29, 2026

جو اپنے یار سے درخواست کرنا

جون 29, 2026

حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

جون 29, 2026

جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

جون 29, 2026

اردو افسانے

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

دادا جان کی ٹھنڈی چھاؤں

مئی 26, 2026

چائے کی پیالی

مئی 24, 2026

اردو کالمز

کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

جون 29, 2026

مرغوں کا عالمی ڈربا اور استعماریت کا دانہ

جون 26, 2026

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

محرم الحرام

جون 18, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

    جون 29, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

تقی کاتب

جنوری 28, 2020

لیکن گومتی بہتی رہی

جنوری 3, 2020

بھینس

دسمبر 29, 2019
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں