خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپ کا سلاممحسن خالد محسن کی نظم”میں غلام نہیں ہوں”
آپ کا سلاماردو تحاریرتحقیق و تنقیدمقالات و مضامین

محسن خالد محسن کی نظم”میں غلام نہیں ہوں”

از ڈاکٹر عظمیٰ نورین اپریل 18, 2026
از ڈاکٹر عظمیٰ نورین اپریل 18, 2026 0 تبصرے 0 مناظر
1

پاکستانی معاشرہ تاریخی، ثقافتی اور مذہبی حوالوں سے ایک پیچیدہ بیانیہ رکھتا ہے جس میں عورت کی حیثیت ہمیشہ ایک بحث طلب موضوع رہی ہے۔ عورت کو ماں، بہن، بیٹی اور بیوی کے مقدس رشتوں میں عزت دی جاتی ہے مگر عملی سطح پر اس کے حقوق اکثر محدود اور مشروط نظر آتے ہیں۔ اسی تضاد کو جدید اُردو نظم میں نہایت شدت اور شعور کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔
محسن خالد محسنؔ کی نظم "میں غلام نہیں ہوں” اسی نسائی شعور کی ایک توانا آواز ہے جو عورت کو محض ایک تابع وجود ماننے کے تصور کو رَد کرتی ہے۔یہ نظم ان کے مجموعے”محبت معاہدہ نہیں "سے انتخاب کی گئی ہے۔
یہ نظم عورت کے داخلی کرب، اس کے شعوری ارتقا اور اس کی آزادی کی خواہش کا اظہاریہ ہے۔ شاعر نے ایک نسائی کردار کی آواز میں وہ تمام سوالات اُٹھائے ہیں جو صدیوں سے دبائے جاتے رہے۔ نظم کا آغاز ہی ایک واضح انکار سے ہوتا ہے۔

"تمہاری ہر بات
مان لینا کوئی فریضہ نہیں”

یہ مصرعہ پدر سری نظام کے بنیادی اُصول یعنی عورت کی غیر مشروط اطاعت کو چیلنج کرتا ہے۔ ہمارے معاشرے میں عورت سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ مرد کے ہر حکم کو بلا چون و چرا تسلیم کرے۔ یہاں شاعر اس روایت کو مسترد کرتے ہوئے عورت کو ایک خودمختار وجود کے طور پر پیش کرتا ہے۔
اسی طرح اس نظم میں آزادی کے تصور کو نہایت خوبصورتی سے بیان کیا گیا ہے

"میں آزاد پیدا ہوئی تھی
اور آزادی
کوئی زیور نہیں
جسے موقع دیکھ کر پہنا اور اُتار دیا جائے”

یہاں آزادی کو کسی عارضی شے کی بجائے ایک بنیادی انسانی حق کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ عورت کی آزادی کو معاشرتی حالات کے پیشِ نظر محدود یا وسیع کیا جاتا ہے جبکہ شاعر اس تصور کو رد کرتے ہوئے اسے سانس سے تشبیہ دیتا ہے۔

"یہ تو سانس کی طرح ہے
روکی جائے
تو روح نیلی پڑنے لگتی ہے”

یہ استعارہ نہایت گہرا ہے۔ جس طرح سانس کے بغیر زندگی ممکن نہیں اسی طرح آزادی کے بغیر انسانی وجود گھٹن کا شکار ہو جاتا ہے۔ یہ مصرعے اس حقیقت کو واضح کرتے ہیں کہ عورت کی آزادی کوئی رعایت نہیں بلکہ اس کی بنیادی ضرورت ہے۔
مذکورہ نظم میں روایت اور اختیار کے تصادم کو بھی بڑی شدت سے بیان کیا گیا ہے۔

"تم کہتے ہو روایت
میں پوچھتی ہوں
کیا ہر وراثت قابل فخر ہوتی ہے”

یہ سوال محض ایک ادبی اظہار نہیں بلکہ ایک فکری بغاوت ہے۔ پاکستانی معاشرے میں بہت سی روایات کو محض اس لیے برقرار رکھا جاتا ہے کہ وہ وراثت ہیں چاہے وہ انسانی حقوق کے خلاف ہی کیوں نہ ہوں۔ شاعر ان روایات کو چیلنج کرتے ہوئے یہ باور کراتا ہے کہ ہر روایت قابل قبول نہیں ہوتی؛ خاص طور پر وہ روایت جو عورت کو غلامی کی زنجیروں میں جکڑتی ہے۔
اسی تناظر میں نظم کا ایک اور اہم حصہ ملاحظہ کیجئے ۔

"انسانوں کو غلام بنانے کا ہنر
کسی عظیم الشان تہذیب کا کمال نہیں
یہ صرف
بیمار ذہن کی ایجاد ہے”

یہاں شاعر نہایت جرات مندی سے اس سوچ کو بے نقاب کرتا ہے جو غلامی کو تہذیب کا حصہ سمجھتی ہے۔ اصل میں یہ ایک ذہنی بیماری ہے جو خوف اور طاقت کے ذریعے اپنی بقا قائم رکھتی ہے۔ یہی وہ سوچ ہے جو عورت کو کمتر اور تابع بنائے رکھتی ہے۔
نظم میں مرد کے ورثے میں ملنے والے اقتدار کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔

"تم نے جو کچھ پایا
اپنے بڑوں کی الماریوں سے
میں جانتی ہوں
وہ تمہاری کمائی نہیں تھا”

یہاں شاعر اس حقیقت کو بیان کرتا ہے کہ مرد کو حاصل اختیار اس کی ذاتی قابلیت کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک سماجی وراثت ہے۔ یہ وراثت پدر سری نظام کی پیداوار ہے جس میں مرد کو پیدائشی برتری حاصل ہوتی ہے۔
نظم کا سب سے طاقتور پہلو عورت کی خود شناسی ہے۔

"میں
اپنی پیشانی پر
کسی اور کا لکھا ہوا نام
قبول نہیں کرتی”

یہ مصرعہ عورت کی شناخت کے مسئلے کو اُجاگر کرتا ہے۔ ہمارے معاشرے میں عورت کی پہچان اکثر کسی مرد کے ساتھ وابستہ ہوتی ہے۔ یہاں شاعر عورت کو اپنی شناخت خود تخلیق کرنے کا حق دیتا ہے۔
اسی طرح شعور کی اہمیت کو بھی اس نظم میں بخوبی واضح کیا گیا ہے۔

"نسب اگر تقدیر ہے بھی
تو شعور
اس کی ترمیم کر سکتا ہے”

یہ ایک انقلابی خیال ہے۔ شاعر یہ باور کراتا ہے کہ اگرچہ انسان کا پس منظر اس کی تقدیر کا حصہ ہو سکتا ہے اور اس کا شعور اسے بدلنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہی شعور عورت کو غلامی کے دائرے سے باہر نکال سکتا ہے۔
نظم میں عورت کے اندرونی کرب کو بھی نہایت مؤثر انداز میں بیان کیا گیا ہے۔

"زخم وقت کی دُھوپ میں سوکھ جائیں گے
وہ اندر ہی اندر
گلتے رہے
لفظوں کے نیچے پیپ بنتے رہے”

یہ اشعار اس اذیت کی عکاسی کرتے ہیں جو عورت خاموشی سے سہتی رہتی ہے۔ اس کے دُکھ اکثر بیان نہیں ہوتے بلکہ اندر ہی اندر ناسور بن جاتے ہیں۔
محبت کے تصور کو بھی شاعر نے نئے زاویے سے پیش کیا ہے۔

"محبت
گھٹن میں نہیں پلتی
وہ کھلی فضا مانگتی ہے
برابر کی آنکھ
برابر کی آواز”

یہاں محبت کو برابری کے اُصول پر قائم کیا گیا ہے۔ پدر سری معاشرے میں محبت بھی اکثر طاقت کے توازن سے متاثر ہوتی ہے جبکہ شاعر اس تصور کو رد کرتے ہوئے برابری کو محبت کی بنیاد قرار دیتا ہے۔
نظم کے اختتام پر عورت کا اعلانِ آزادی نہایت پُراثر ہے۔

"میں یہاں
اپنی زمین پر کھڑی ہوں
اپنے نام کی مالک
اپنی سانس کی وارث
غلاموں کو
اطاعت ہی زیب دیتی ہوگی
مگر میں
غلام نہیں ہوں”

یہ اعلان محض ایک فرد کا نہیں بلکہ ہر اس عورت کی آواز ہے جو اپنی شناخت اور آزادی کے لیے جدوجہد کر رہی ہے۔
اکیسویں صدی میں عورت کا کردار محض گھریلو دائرے تک محدود نہیں رہا۔ وہ تعلیم، سیاست، معیشت اور سماج کے ہر شعبے میں فعال کردار ادا کر رہی ہے۔ پاکستان میں بھی خواتین نے مختلف میدانوں میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں؛ اس کے باوجود پدر سری سوچ اب بھی ایک بڑی رکاوٹ ہے۔
اس نظم کے تناظر میں دیکھا جائے تو عورت کی اصل اہمیت اس کی خودمختاری، شعور اور شناخت میں پوشیدہ ہے۔ جب تک عورت کو برابر کا انسان تسلیم نہیں کیا جائے گا؛ معاشرہ حقیقی ترقی حاصل نہیں کر سکتا۔
محسن خالد محسنؔ کی نظم "میں غلام نہیں ہوں” ایک نسائی مزاحمت کی علامت ہے جو عورت کو غلامی کے استعارے سے آزاد کر کے ایک خودمختار اور باشعور وجود کے طور پر پیش کرتی ہے۔ یہ نظم نہ صرف پاکستانی معاشرے کی پدر سری ساخت پر تنقید کرتی ہے بلکہ عورت کو اپنی شناخت اور آزادی کے لیے آواز بلند کرنے کا حوصلہ بھی دیتی ہے۔
یہ کہنا درست ہے کہ عورت غلامی کا استعارہ نہیں بلکہ ایک مکمل انسان ہے اور اس کی آزادی ہی ایک مہذب معاشرے کی اصل پہچان ہے۔

ڈاکٹر عظمیٰ نورین

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • غربت میں جکڑا بچپن
  • موسموں کی بہار – انشا پردازی پر اثر
  • سٹیٹ بینک : شرحِ سود
  • سوت پر سوت اور جلاپا
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
ڈاکٹر عظمیٰ نورین

اگلی پوسٹ
اسکرین کے پیچھے چھپا ہوا انسان
پچھلی پوسٹ
شہاب نامہ ۔ قدرت اللہ شہاب

متعلقہ پوسٹس

نوحهِٔ زمین

دسمبر 15, 2024

ماورا ہے سوچوں سے

مارچ 17, 2026

اے بھگوائی

فروری 6, 2026

برف کا پانی

جنوری 12, 2020

میں کون ہوں؟ مسلمان ہوں یا کیا ہوں؟

مارچ 23, 2026

سرسراتی ہوا

دسمبر 11, 2024

علامہ اقبال — ایک روشن ستارہ

نومبر 11, 2025

ممکن ہی نہیں میرا مسلماں ہونا!

نومبر 4, 2020

مس چڑیا کی کہانی

دسمبر 29, 2019

ایسے تیرے ہجر میں آہ و زاری کی

فروری 21, 2026

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

    مئی 18, 2026
  • کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

    مئی 17, 2026
  • کیا ہم بے وقوف ہیں؟

    مئی 16, 2026
  • موبائل سے بڑھ کر کون

    مئی 16, 2026
  • پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

    مئی 15, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے
  • سردار حمادؔ منیر on یا رسولِ خدا اشرفِ انبیاء

اسلامی گوشہ

رب تعالیٰ پر بھروسہ

مئی 11, 2026

احتساب اور چھٹائی کا قدرتی عمل

مئی 3, 2026

چشمِ کرم سے مجھ کو بھی سرکارﷺ دیکھیے

مئی 1, 2026

اللہ کی محبت کے رنگ

اپریل 21, 2026

مرا سخن سخنِ شاہکار ہو جائے

اپریل 6, 2026

اردو شاعری

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی...

مئی 15, 2026

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

مئی 11, 2026

میں نے دیکھا جگ میں ایسا

مئی 11, 2026

ماں : رحمتوں کا سائباں

مئی 9, 2026

ہنسایا گر نہیں جاتا ، رلایا بھی نہیں...

مئی 8, 2026

اردو افسانے

کیوں کہ

مئی 3, 2026

عورت کی تعلیم کی اہمیت

اپریل 7, 2026

اب بس کرو ماں

اپریل 4, 2026

باغ علی باغی (قسط اول)

اپریل 3, 2026

سونے کی بالیاں

مارچ 29, 2026

اردو کالمز

انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

مئی 18, 2026

کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

مئی 17, 2026

کیا ہم بے وقوف ہیں؟

مئی 16, 2026

پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

مئی 15, 2026

پاکستان میں انگریزی کا تسلط کیوں برقرار ہے؟

مئی 14, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

    مئی 18, 2026
  • کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

    مئی 17, 2026
  • کیا ہم بے وقوف ہیں؟

    مئی 16, 2026
  • موبائل سے بڑھ کر کون

    مئی 16, 2026
  • پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

    مئی 15, 2026
  • بیگمات کی پراسرار علالتیں اور ریسٹورنٹ سینڈروم

    مئی 15, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

اشعار کی صحت کے متعلق تیسرا...

جولائی 15, 2020

کودک و برگِ فرو افتاده

فروری 3, 2025

ایں دفتر بے معنی

جنوری 3, 2020
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں