خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپ کا سلاممحسن خالد محسن کی نظم”میں غلام نہیں ہوں”
آپ کا سلاماردو تحاریرتحقیق و تنقیدمقالات و مضامین

محسن خالد محسن کی نظم”میں غلام نہیں ہوں”

از ڈاکٹر عظمیٰ نورین اپریل 18, 2026
از ڈاکٹر عظمیٰ نورین اپریل 18, 2026 0 تبصرے 78 مناظر
79

پاکستانی معاشرہ تاریخی، ثقافتی اور مذہبی حوالوں سے ایک پیچیدہ بیانیہ رکھتا ہے جس میں عورت کی حیثیت ہمیشہ ایک بحث طلب موضوع رہی ہے۔ عورت کو ماں، بہن، بیٹی اور بیوی کے مقدس رشتوں میں عزت دی جاتی ہے مگر عملی سطح پر اس کے حقوق اکثر محدود اور مشروط نظر آتے ہیں۔ اسی تضاد کو جدید اُردو نظم میں نہایت شدت اور شعور کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔
محسن خالد محسنؔ کی نظم "میں غلام نہیں ہوں” اسی نسائی شعور کی ایک توانا آواز ہے جو عورت کو محض ایک تابع وجود ماننے کے تصور کو رَد کرتی ہے۔یہ نظم ان کے مجموعے”محبت معاہدہ نہیں "سے انتخاب کی گئی ہے۔
یہ نظم عورت کے داخلی کرب، اس کے شعوری ارتقا اور اس کی آزادی کی خواہش کا اظہاریہ ہے۔ شاعر نے ایک نسائی کردار کی آواز میں وہ تمام سوالات اُٹھائے ہیں جو صدیوں سے دبائے جاتے رہے۔ نظم کا آغاز ہی ایک واضح انکار سے ہوتا ہے۔

"تمہاری ہر بات
مان لینا کوئی فریضہ نہیں”

یہ مصرعہ پدر سری نظام کے بنیادی اُصول یعنی عورت کی غیر مشروط اطاعت کو چیلنج کرتا ہے۔ ہمارے معاشرے میں عورت سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ مرد کے ہر حکم کو بلا چون و چرا تسلیم کرے۔ یہاں شاعر اس روایت کو مسترد کرتے ہوئے عورت کو ایک خودمختار وجود کے طور پر پیش کرتا ہے۔
اسی طرح اس نظم میں آزادی کے تصور کو نہایت خوبصورتی سے بیان کیا گیا ہے

"میں آزاد پیدا ہوئی تھی
اور آزادی
کوئی زیور نہیں
جسے موقع دیکھ کر پہنا اور اُتار دیا جائے”

یہاں آزادی کو کسی عارضی شے کی بجائے ایک بنیادی انسانی حق کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ عورت کی آزادی کو معاشرتی حالات کے پیشِ نظر محدود یا وسیع کیا جاتا ہے جبکہ شاعر اس تصور کو رد کرتے ہوئے اسے سانس سے تشبیہ دیتا ہے۔

"یہ تو سانس کی طرح ہے
روکی جائے
تو روح نیلی پڑنے لگتی ہے”

یہ استعارہ نہایت گہرا ہے۔ جس طرح سانس کے بغیر زندگی ممکن نہیں اسی طرح آزادی کے بغیر انسانی وجود گھٹن کا شکار ہو جاتا ہے۔ یہ مصرعے اس حقیقت کو واضح کرتے ہیں کہ عورت کی آزادی کوئی رعایت نہیں بلکہ اس کی بنیادی ضرورت ہے۔
مذکورہ نظم میں روایت اور اختیار کے تصادم کو بھی بڑی شدت سے بیان کیا گیا ہے۔

"تم کہتے ہو روایت
میں پوچھتی ہوں
کیا ہر وراثت قابل فخر ہوتی ہے”

یہ سوال محض ایک ادبی اظہار نہیں بلکہ ایک فکری بغاوت ہے۔ پاکستانی معاشرے میں بہت سی روایات کو محض اس لیے برقرار رکھا جاتا ہے کہ وہ وراثت ہیں چاہے وہ انسانی حقوق کے خلاف ہی کیوں نہ ہوں۔ شاعر ان روایات کو چیلنج کرتے ہوئے یہ باور کراتا ہے کہ ہر روایت قابل قبول نہیں ہوتی؛ خاص طور پر وہ روایت جو عورت کو غلامی کی زنجیروں میں جکڑتی ہے۔
اسی تناظر میں نظم کا ایک اور اہم حصہ ملاحظہ کیجئے ۔

"انسانوں کو غلام بنانے کا ہنر
کسی عظیم الشان تہذیب کا کمال نہیں
یہ صرف
بیمار ذہن کی ایجاد ہے”

یہاں شاعر نہایت جرات مندی سے اس سوچ کو بے نقاب کرتا ہے جو غلامی کو تہذیب کا حصہ سمجھتی ہے۔ اصل میں یہ ایک ذہنی بیماری ہے جو خوف اور طاقت کے ذریعے اپنی بقا قائم رکھتی ہے۔ یہی وہ سوچ ہے جو عورت کو کمتر اور تابع بنائے رکھتی ہے۔
نظم میں مرد کے ورثے میں ملنے والے اقتدار کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔

"تم نے جو کچھ پایا
اپنے بڑوں کی الماریوں سے
میں جانتی ہوں
وہ تمہاری کمائی نہیں تھا”

یہاں شاعر اس حقیقت کو بیان کرتا ہے کہ مرد کو حاصل اختیار اس کی ذاتی قابلیت کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک سماجی وراثت ہے۔ یہ وراثت پدر سری نظام کی پیداوار ہے جس میں مرد کو پیدائشی برتری حاصل ہوتی ہے۔
نظم کا سب سے طاقتور پہلو عورت کی خود شناسی ہے۔

"میں
اپنی پیشانی پر
کسی اور کا لکھا ہوا نام
قبول نہیں کرتی”

یہ مصرعہ عورت کی شناخت کے مسئلے کو اُجاگر کرتا ہے۔ ہمارے معاشرے میں عورت کی پہچان اکثر کسی مرد کے ساتھ وابستہ ہوتی ہے۔ یہاں شاعر عورت کو اپنی شناخت خود تخلیق کرنے کا حق دیتا ہے۔
اسی طرح شعور کی اہمیت کو بھی اس نظم میں بخوبی واضح کیا گیا ہے۔

"نسب اگر تقدیر ہے بھی
تو شعور
اس کی ترمیم کر سکتا ہے”

یہ ایک انقلابی خیال ہے۔ شاعر یہ باور کراتا ہے کہ اگرچہ انسان کا پس منظر اس کی تقدیر کا حصہ ہو سکتا ہے اور اس کا شعور اسے بدلنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہی شعور عورت کو غلامی کے دائرے سے باہر نکال سکتا ہے۔
نظم میں عورت کے اندرونی کرب کو بھی نہایت مؤثر انداز میں بیان کیا گیا ہے۔

"زخم وقت کی دُھوپ میں سوکھ جائیں گے
وہ اندر ہی اندر
گلتے رہے
لفظوں کے نیچے پیپ بنتے رہے”

یہ اشعار اس اذیت کی عکاسی کرتے ہیں جو عورت خاموشی سے سہتی رہتی ہے۔ اس کے دُکھ اکثر بیان نہیں ہوتے بلکہ اندر ہی اندر ناسور بن جاتے ہیں۔
محبت کے تصور کو بھی شاعر نے نئے زاویے سے پیش کیا ہے۔

"محبت
گھٹن میں نہیں پلتی
وہ کھلی فضا مانگتی ہے
برابر کی آنکھ
برابر کی آواز”

یہاں محبت کو برابری کے اُصول پر قائم کیا گیا ہے۔ پدر سری معاشرے میں محبت بھی اکثر طاقت کے توازن سے متاثر ہوتی ہے جبکہ شاعر اس تصور کو رد کرتے ہوئے برابری کو محبت کی بنیاد قرار دیتا ہے۔
نظم کے اختتام پر عورت کا اعلانِ آزادی نہایت پُراثر ہے۔

"میں یہاں
اپنی زمین پر کھڑی ہوں
اپنے نام کی مالک
اپنی سانس کی وارث
غلاموں کو
اطاعت ہی زیب دیتی ہوگی
مگر میں
غلام نہیں ہوں”

یہ اعلان محض ایک فرد کا نہیں بلکہ ہر اس عورت کی آواز ہے جو اپنی شناخت اور آزادی کے لیے جدوجہد کر رہی ہے۔
اکیسویں صدی میں عورت کا کردار محض گھریلو دائرے تک محدود نہیں رہا۔ وہ تعلیم، سیاست، معیشت اور سماج کے ہر شعبے میں فعال کردار ادا کر رہی ہے۔ پاکستان میں بھی خواتین نے مختلف میدانوں میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں؛ اس کے باوجود پدر سری سوچ اب بھی ایک بڑی رکاوٹ ہے۔
اس نظم کے تناظر میں دیکھا جائے تو عورت کی اصل اہمیت اس کی خودمختاری، شعور اور شناخت میں پوشیدہ ہے۔ جب تک عورت کو برابر کا انسان تسلیم نہیں کیا جائے گا؛ معاشرہ حقیقی ترقی حاصل نہیں کر سکتا۔
محسن خالد محسنؔ کی نظم "میں غلام نہیں ہوں” ایک نسائی مزاحمت کی علامت ہے جو عورت کو غلامی کے استعارے سے آزاد کر کے ایک خودمختار اور باشعور وجود کے طور پر پیش کرتی ہے۔ یہ نظم نہ صرف پاکستانی معاشرے کی پدر سری ساخت پر تنقید کرتی ہے بلکہ عورت کو اپنی شناخت اور آزادی کے لیے آواز بلند کرنے کا حوصلہ بھی دیتی ہے۔
یہ کہنا درست ہے کہ عورت غلامی کا استعارہ نہیں بلکہ ایک مکمل انسان ہے اور اس کی آزادی ہی ایک مہذب معاشرے کی اصل پہچان ہے۔

ڈاکٹر عظمیٰ نورین

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • ایک ٹانگ پر کھڑے ہونے کی ورزش
  • مشین گردی
  • کورونا وائرس اور پاکستان
  • نقظہ نواز
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
ڈاکٹر عظمیٰ نورین

اگلی پوسٹ
اسکرین کے پیچھے چھپا ہوا انسان
پچھلی پوسٹ
شہاب نامہ ۔ قدرت اللہ شہاب

متعلقہ پوسٹس

بدلتا ہوا شاہی محلہ اور بدلتے کردار

اپریل 16, 2020

تعلیمی سال، تعطیلات اور خطرے میں گھرا مستقبل

جنوری 15, 2026

خاموش انسان اور پہلی دعا

جنوری 3, 2026

سیلاب، سیاست اور بے بس انسان

ستمبر 9, 2025

افشائے راز

نومبر 15, 2019

رہبرِ اختران

دسمبر 29, 2024

مستقل کرب میں رہا دل ھے

جولائی 21, 2026

محبت، روح اور بنکاک کا سفر

دسمبر 31, 2024

اگر

اپریل 4, 2026

آبِ حیات (محمد حسین آزاد)

مارچ 23, 2026

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • زمیں کی بات کرتے ہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

    اکتوبر 11, 2026
  • مرد کے حصے کا ہجر

    اکتوبر 11, 2026
  • تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

    اکتوبر 11, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • Ayesha khan on میری خوش فہمی تھی
  • Ayesha khan on جن کو دیدار میسر ہو ہر شام تیرا
  • سعیدہ on جن کو دیدار میسر ہو ہر شام تیرا
  • سعیدہ on میری خوش فہمی تھی
  • صنم گل on مسدس نعتیہ نظم "مانگتا ہوں”

اسلامی گوشہ

زمیں کی بات کرتے ہیں

اکتوبر 11, 2026

شوقِ عبادت

اکتوبر 4, 2026

ذکر محمد ﷺ

ستمبر 30, 2026

شہر مکہ سے مدینے کا سفر ہو

ستمبر 26, 2026

مسدس نعت "معراجِ ثنا”

ستمبر 23, 2026

اردو شاعری

ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ...

اکتوبر 11, 2026

تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

اکتوبر 11, 2026

میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

اکتوبر 11, 2026

یوں آسماں کے ستارے نہ دیکھ

اکتوبر 11, 2026

لوگ نکمّے ہم سے سروکار نہیں رکھتے

اکتوبر 11, 2026

اردو افسانے

طاقت کا امتحان

ستمبر 27, 2026

سرخ پینسلیں اور خستہ حال خیمہ

اگست 9, 2026

وہ درخت جو اپنے سائے سے رُوٹھ گیا

اگست 3, 2026

ماں کی خاموش دُعا

جولائی 24, 2026

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

اردو کالمز

مرد کے حصے کا ہجر

اکتوبر 11, 2026

مجھے وہاں جانا ہے

اکتوبر 10, 2026

شوقِ عبادت

اکتوبر 4, 2026

تاریخ کشی

اکتوبر 1, 2026

یہ اعزاز ہے ہماری مٹی کا

ستمبر 28, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا موبائل ایپ

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • زمیں کی بات کرتے ہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

    اکتوبر 11, 2026
  • مرد کے حصے کا ہجر

    اکتوبر 11, 2026
  • تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

    اکتوبر 11, 2026
  • یوں آسماں کے ستارے نہ دیکھ

    اکتوبر 11, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

اخلاص کے ساتھ انفاق

جنوری 4, 2026

نہ میں درویش ٹھہرا ہوں

اگست 17, 2026

تنہا ہی چلنا ہے زندگی تجھے...

مئی 3, 2026
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں