خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپ کا سلاممحسن خالد محسن کی نظم”میں غلام نہیں ہوں”
آپ کا سلاماردو تحاریرتحقیق و تنقیدمقالات و مضامین

محسن خالد محسن کی نظم”میں غلام نہیں ہوں”

از ڈاکٹر عظمیٰ نورین اپریل 18, 2026
از ڈاکٹر عظمیٰ نورین اپریل 18, 2026 0 تبصرے 51 مناظر
52

پاکستانی معاشرہ تاریخی، ثقافتی اور مذہبی حوالوں سے ایک پیچیدہ بیانیہ رکھتا ہے جس میں عورت کی حیثیت ہمیشہ ایک بحث طلب موضوع رہی ہے۔ عورت کو ماں، بہن، بیٹی اور بیوی کے مقدس رشتوں میں عزت دی جاتی ہے مگر عملی سطح پر اس کے حقوق اکثر محدود اور مشروط نظر آتے ہیں۔ اسی تضاد کو جدید اُردو نظم میں نہایت شدت اور شعور کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔
محسن خالد محسنؔ کی نظم "میں غلام نہیں ہوں” اسی نسائی شعور کی ایک توانا آواز ہے جو عورت کو محض ایک تابع وجود ماننے کے تصور کو رَد کرتی ہے۔یہ نظم ان کے مجموعے”محبت معاہدہ نہیں "سے انتخاب کی گئی ہے۔
یہ نظم عورت کے داخلی کرب، اس کے شعوری ارتقا اور اس کی آزادی کی خواہش کا اظہاریہ ہے۔ شاعر نے ایک نسائی کردار کی آواز میں وہ تمام سوالات اُٹھائے ہیں جو صدیوں سے دبائے جاتے رہے۔ نظم کا آغاز ہی ایک واضح انکار سے ہوتا ہے۔

"تمہاری ہر بات
مان لینا کوئی فریضہ نہیں”

یہ مصرعہ پدر سری نظام کے بنیادی اُصول یعنی عورت کی غیر مشروط اطاعت کو چیلنج کرتا ہے۔ ہمارے معاشرے میں عورت سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ مرد کے ہر حکم کو بلا چون و چرا تسلیم کرے۔ یہاں شاعر اس روایت کو مسترد کرتے ہوئے عورت کو ایک خودمختار وجود کے طور پر پیش کرتا ہے۔
اسی طرح اس نظم میں آزادی کے تصور کو نہایت خوبصورتی سے بیان کیا گیا ہے

"میں آزاد پیدا ہوئی تھی
اور آزادی
کوئی زیور نہیں
جسے موقع دیکھ کر پہنا اور اُتار دیا جائے”

یہاں آزادی کو کسی عارضی شے کی بجائے ایک بنیادی انسانی حق کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ عورت کی آزادی کو معاشرتی حالات کے پیشِ نظر محدود یا وسیع کیا جاتا ہے جبکہ شاعر اس تصور کو رد کرتے ہوئے اسے سانس سے تشبیہ دیتا ہے۔

"یہ تو سانس کی طرح ہے
روکی جائے
تو روح نیلی پڑنے لگتی ہے”

یہ استعارہ نہایت گہرا ہے۔ جس طرح سانس کے بغیر زندگی ممکن نہیں اسی طرح آزادی کے بغیر انسانی وجود گھٹن کا شکار ہو جاتا ہے۔ یہ مصرعے اس حقیقت کو واضح کرتے ہیں کہ عورت کی آزادی کوئی رعایت نہیں بلکہ اس کی بنیادی ضرورت ہے۔
مذکورہ نظم میں روایت اور اختیار کے تصادم کو بھی بڑی شدت سے بیان کیا گیا ہے۔

"تم کہتے ہو روایت
میں پوچھتی ہوں
کیا ہر وراثت قابل فخر ہوتی ہے”

یہ سوال محض ایک ادبی اظہار نہیں بلکہ ایک فکری بغاوت ہے۔ پاکستانی معاشرے میں بہت سی روایات کو محض اس لیے برقرار رکھا جاتا ہے کہ وہ وراثت ہیں چاہے وہ انسانی حقوق کے خلاف ہی کیوں نہ ہوں۔ شاعر ان روایات کو چیلنج کرتے ہوئے یہ باور کراتا ہے کہ ہر روایت قابل قبول نہیں ہوتی؛ خاص طور پر وہ روایت جو عورت کو غلامی کی زنجیروں میں جکڑتی ہے۔
اسی تناظر میں نظم کا ایک اور اہم حصہ ملاحظہ کیجئے ۔

"انسانوں کو غلام بنانے کا ہنر
کسی عظیم الشان تہذیب کا کمال نہیں
یہ صرف
بیمار ذہن کی ایجاد ہے”

یہاں شاعر نہایت جرات مندی سے اس سوچ کو بے نقاب کرتا ہے جو غلامی کو تہذیب کا حصہ سمجھتی ہے۔ اصل میں یہ ایک ذہنی بیماری ہے جو خوف اور طاقت کے ذریعے اپنی بقا قائم رکھتی ہے۔ یہی وہ سوچ ہے جو عورت کو کمتر اور تابع بنائے رکھتی ہے۔
نظم میں مرد کے ورثے میں ملنے والے اقتدار کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔

"تم نے جو کچھ پایا
اپنے بڑوں کی الماریوں سے
میں جانتی ہوں
وہ تمہاری کمائی نہیں تھا”

یہاں شاعر اس حقیقت کو بیان کرتا ہے کہ مرد کو حاصل اختیار اس کی ذاتی قابلیت کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک سماجی وراثت ہے۔ یہ وراثت پدر سری نظام کی پیداوار ہے جس میں مرد کو پیدائشی برتری حاصل ہوتی ہے۔
نظم کا سب سے طاقتور پہلو عورت کی خود شناسی ہے۔

"میں
اپنی پیشانی پر
کسی اور کا لکھا ہوا نام
قبول نہیں کرتی”

یہ مصرعہ عورت کی شناخت کے مسئلے کو اُجاگر کرتا ہے۔ ہمارے معاشرے میں عورت کی پہچان اکثر کسی مرد کے ساتھ وابستہ ہوتی ہے۔ یہاں شاعر عورت کو اپنی شناخت خود تخلیق کرنے کا حق دیتا ہے۔
اسی طرح شعور کی اہمیت کو بھی اس نظم میں بخوبی واضح کیا گیا ہے۔

"نسب اگر تقدیر ہے بھی
تو شعور
اس کی ترمیم کر سکتا ہے”

یہ ایک انقلابی خیال ہے۔ شاعر یہ باور کراتا ہے کہ اگرچہ انسان کا پس منظر اس کی تقدیر کا حصہ ہو سکتا ہے اور اس کا شعور اسے بدلنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہی شعور عورت کو غلامی کے دائرے سے باہر نکال سکتا ہے۔
نظم میں عورت کے اندرونی کرب کو بھی نہایت مؤثر انداز میں بیان کیا گیا ہے۔

"زخم وقت کی دُھوپ میں سوکھ جائیں گے
وہ اندر ہی اندر
گلتے رہے
لفظوں کے نیچے پیپ بنتے رہے”

یہ اشعار اس اذیت کی عکاسی کرتے ہیں جو عورت خاموشی سے سہتی رہتی ہے۔ اس کے دُکھ اکثر بیان نہیں ہوتے بلکہ اندر ہی اندر ناسور بن جاتے ہیں۔
محبت کے تصور کو بھی شاعر نے نئے زاویے سے پیش کیا ہے۔

"محبت
گھٹن میں نہیں پلتی
وہ کھلی فضا مانگتی ہے
برابر کی آنکھ
برابر کی آواز”

یہاں محبت کو برابری کے اُصول پر قائم کیا گیا ہے۔ پدر سری معاشرے میں محبت بھی اکثر طاقت کے توازن سے متاثر ہوتی ہے جبکہ شاعر اس تصور کو رد کرتے ہوئے برابری کو محبت کی بنیاد قرار دیتا ہے۔
نظم کے اختتام پر عورت کا اعلانِ آزادی نہایت پُراثر ہے۔

"میں یہاں
اپنی زمین پر کھڑی ہوں
اپنے نام کی مالک
اپنی سانس کی وارث
غلاموں کو
اطاعت ہی زیب دیتی ہوگی
مگر میں
غلام نہیں ہوں”

یہ اعلان محض ایک فرد کا نہیں بلکہ ہر اس عورت کی آواز ہے جو اپنی شناخت اور آزادی کے لیے جدوجہد کر رہی ہے۔
اکیسویں صدی میں عورت کا کردار محض گھریلو دائرے تک محدود نہیں رہا۔ وہ تعلیم، سیاست، معیشت اور سماج کے ہر شعبے میں فعال کردار ادا کر رہی ہے۔ پاکستان میں بھی خواتین نے مختلف میدانوں میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں؛ اس کے باوجود پدر سری سوچ اب بھی ایک بڑی رکاوٹ ہے۔
اس نظم کے تناظر میں دیکھا جائے تو عورت کی اصل اہمیت اس کی خودمختاری، شعور اور شناخت میں پوشیدہ ہے۔ جب تک عورت کو برابر کا انسان تسلیم نہیں کیا جائے گا؛ معاشرہ حقیقی ترقی حاصل نہیں کر سکتا۔
محسن خالد محسنؔ کی نظم "میں غلام نہیں ہوں” ایک نسائی مزاحمت کی علامت ہے جو عورت کو غلامی کے استعارے سے آزاد کر کے ایک خودمختار اور باشعور وجود کے طور پر پیش کرتی ہے۔ یہ نظم نہ صرف پاکستانی معاشرے کی پدر سری ساخت پر تنقید کرتی ہے بلکہ عورت کو اپنی شناخت اور آزادی کے لیے آواز بلند کرنے کا حوصلہ بھی دیتی ہے۔
یہ کہنا درست ہے کہ عورت غلامی کا استعارہ نہیں بلکہ ایک مکمل انسان ہے اور اس کی آزادی ہی ایک مہذب معاشرے کی اصل پہچان ہے۔

ڈاکٹر عظمیٰ نورین

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • صبغے اینڈ سنز
  • خالد میاں
  • خلیفہ اول
  • بیمار
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
ڈاکٹر عظمیٰ نورین

اگلی پوسٹ
اسکرین کے پیچھے چھپا ہوا انسان
پچھلی پوسٹ
شہاب نامہ ۔ قدرت اللہ شہاب

متعلقہ پوسٹس

جان لیوا وبائیں اور مسلمان سائنسدان!

اپریل 11, 2021

ہرنام کور

جنوری 16, 2013

پچھتاوا

دسمبر 10, 2021

شب زفاف جب داغدار ہو جائے(حصہ اول)

نومبر 29, 2019

روشنی

دسمبر 10, 2019

ایک گھریلو سا خراج ِ عقیدت

اکتوبر 27, 2020

اس شہر میں محبت

جنوری 22, 2026

کوئی نہیں ہے

مئی 18, 2024

نئے دور کی چالبازیاں

جنوری 13, 2020

حضرت خواجہ قمر الدین سیالویؒ

اگست 26, 2025

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • امتیاز الحق امتیاز کا شعری مجموعہ

    اگست 7, 2026
  • پیر نصیر الدین نصیر کی نعتیہ شاعری

    اگست 7, 2026
  • درد کی سرحد سے دل بھی

    اگست 7, 2026
  • ماٹی قدم کریندی یار

    اگست 7, 2026
  • دل لگی یاد آئے گی

    اگست 7, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Meesam Ali Agha on دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ
  • مسعود فیروزی on شعر شور انگیز
  • سحر بونیرے on اردو افسانہ نقشِ تنقید

اسلامی گوشہ

لباس کی شرعی حیثیت

اگست 4, 2026

صفر کا مہینہ اعلی حضرت کا مہینہ

جولائی 23, 2026

احادیث سے زندگی آسان بنائیں

جولائی 19, 2026

ماہ صفر المظفر اور اس کی اہمیت

جولائی 19, 2026

سیکھتے رہنے کی جستجو

جولائی 11, 2026

اردو شاعری

درد کی سرحد سے دل بھی

اگست 7, 2026

دل لگی یاد آئے گی

اگست 7, 2026

دیے تھے ہم تو ماند سے

اگست 7, 2026

دل حویلی میں سدا بیٹھی رہیں چمگادڑیں

اگست 7, 2026

سب جانتا ہوں راز مگر کھولتا نہیں

اگست 1, 2026

اردو افسانے

وہ درخت جو اپنے سائے سے رُوٹھ گیا

اگست 3, 2026

ماں کی خاموش دُعا

جولائی 24, 2026

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

اردو کالمز

ماٹی قدم کریندی یار

اگست 7, 2026

لباس کی شرعی حیثیت

اگست 4, 2026

دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ

اگست 3, 2026

مخلوق خدا سے محبت

جولائی 29, 2026

متن کے تعاقب میں

جولائی 28, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • امتیاز الحق امتیاز کا شعری مجموعہ

    اگست 7, 2026
  • پیر نصیر الدین نصیر کی نعتیہ شاعری

    اگست 7, 2026
  • درد کی سرحد سے دل بھی

    اگست 7, 2026
  • ماٹی قدم کریندی یار

    اگست 7, 2026
  • دل لگی یاد آئے گی

    اگست 7, 2026
  • دیے تھے ہم تو ماند سے

    اگست 7, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

سعادت حسن منٹو

جنوری 9, 2026

پشاور سے لاہور تک

دسمبر 7, 2019

کیا جنگ ہی حل ہے؟

مارچ 2, 2026
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں