خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپ کا سلامکیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟
آپ کا سلاماردو تحاریراردو کالمزمحسن خالد محسن

کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

از سائیٹ ایڈمن مئی 17, 2026
از سائیٹ ایڈمن مئی 17, 2026 0 تبصرے 93 مناظر
94

پاکستان میں آج یہ سوال صرف ایک جملہ نہیں بلکہ کروڑوں نوجوانوں کی چیخ بن چکا ہے۔ ایک ایسا نوجوان جو برسوں کتابوں کے ساتھ جاگتا رہا، جس نے والدین کی اُمیدوں کو اپنے کندھوں پر اُٹھایا، جس نے غربت میں فیسیں ادا کیں، جس نے یونیورسٹی کی ڈگری کو مستقبل کی ضمانت سمجھا، آج وہی نوجوان ہاتھ میں ڈگری لیے در بدر پھر رہا ہے۔ ایسے میں اگر کوئی طالب علم یہ کہتا ہے کہ پڑھنے کا کیا فائدہ ہے تو اس کے پیچھے صرف مایوسی نہیں بلکہ ایک تلخ سماجی حقیقت موجود ہے۔
پاکستان میں تعلیم کو حقیقی معنوں میں قومی ترجیح نہیں بنایا گیا۔ حکومتی جماعتوں نے تعلیم کے نام پر نعرے تو لگائے لیکن عملی طور پر تعلیم کو عام آدمی سے دور کیا گیا۔ آج صورتحال یہ ہے کہ سرکاری تعلیمی اداروں کی نجکاری کی جا رہی ہے۔ سرکاری سکول اور کالج جو کبھی غریب طبقے کی آخری اُمید تھے انہیں بتدریج ختم کیا جا رہا ہے یا ان کی حالت اتنی خراب کر دی گئی ہے کہ والدین مجبوراً مہنگے نجی اداروں کا رخ کر رہے ہیں۔ موجود حکومت تعلیم کو خدمت نہیں بلکہ کاروبار بنا چکی ہیں۔
تعلیمی اداروں کی نجکاری کے پیچھے صرف تعلیمی اصلاحات نہیں بلکہ معاشی اور سیاسی مفادات بھی کار فرما ہیں۔ جب تعلیم پر ریاست خرچ کم کرتی ہے تو بجٹ کا بوجھ کم ہوتا ہے۔ حکومتیں عالمی مالیاتی اداروں کے سامنے اپنے اخراجات کم دکھاتی ہیں۔ دوسری طرف نجی تعلیمی مافیا اربوں روپے کماتا ہے۔ مہنگی یونیورسٹیاں اور نجی سکولز صرف امیر طبقے کے لیے آسانی پیدا کرتے ہیں جبکہ غریب آدمی کا بچہ تعلیم کے دروازے سے باہر کھڑا رہ جاتا ہے۔ یوں معاشرہ دو طبقوں میں تقسیم ہو جاتا ہے۔ ایک حکمران اور اشرافیہ کا طبقہ جو مہنگی تعلیم حاصل کر کے اقتدار اور نوکریوں پر قابض رہتا ہے اور دوسرا عام آدمی جو صرف زندہ رہنے کی جنگ لڑتا ہے۔
تعلیم کو مہنگا کرنے کا ایک مقصد یہ بھی ہے کہ نوجوان سوال نہ کرے۔اس میں کوئی برائی نہیں کہ ایک باشعور تعلیم یافتہ نوجوان اپنے حقوق مانگتا ہے، ظلم کے خلاف آواز اُٹھاتا ہے اور حکمرانوں سے جواب طلب کرتا ہے ۔یہی وجہ ہے کہ طاقتور طبقات ہمیشہ ایسی تعلیم چاہتے ہیں جو ڈگری دے شعور نہ دے۔ جب یونیورسٹیوں میں فیسیں لاکھوں تک پہنچ جائیں گی تو غریب نوجوان تعلیم چھوڑ دے گا یا ساری زندگی قرض ادا کرتا رہے گا۔
موجودہ تعلیمی انحطاط کا افسوسناک پہلو یہ ہے کہ تعلیم مکمل کرنے کے بعد بھی روزگار کی کوئی ضمانت موجود نہیں ہے۔ پاکستان میں لاکھوں نوجوان ڈگریاں لے کر بے روزگار بیٹھے ہیں۔ انجینئر، ڈاکٹر، اساتذہ اور گریجویٹ نوجوان رکشے چلانے پر مجبور ہیں۔ حکومت نے سرکاری اداروں میں نئی بھرتیاں کئی برسوں سے نہیں کیں۔ کئی محکموں میں سیٹیں ختم کی جا رہی ہیں۔ تجدید اور اصلاحات کے نام پر سرکاری ملازمین کو فارغ کیا جا رہا ہے۔ کنٹریکٹ سسٹم نے نوجوانوں کے مستقبل کو غیر یقینی بنا دیا ہے۔پاکستان ہی وہ شاندار ملک ہے جہاں نوجوان پوری زندگی محنت کر کے بھی مستقل روزگار حاصل نہیں کر پاتا۔
ملازمت کے مواقع تو ناپید ہوچکے ،یونیورسٹیوں کی صورتحال بھی خطرناک ہوتی جا رہی ہے۔ سیکڑوں شعبے بند کیے جا رہے ہیں۔ ریسرچ کے فنڈز کم ہو رہے ہیں۔ ہاسٹل فیسیں بڑھ رہی ہیں۔ طلبا یونینز پہلے ہی ختم کی جا چکی ہیں تاکہ نوجوان اجتماعی طاقت نہ بنا سکیں۔ حکومتیں تعلیم یافتہ نوجوان سے خوفزدہ رہتی ہیں کیونکہ باشعور نوجوان ہر ظلم کے خلاف سب سے پہلے کھڑا ہوتا ہے۔
جب نوجوان مسلسل ناکامی اور بے یقینی دیکھتا ہے تو اس کے اندر مایوسی جنم لیتی ہے۔ یہی مایوسی آج پاکستان کے نوجوان کو نفسیاتی بیماریوں کی طرف لے جا رہی ہے۔ خود کشیوں میں اضافہ ہو رہا ہے، جرائم بڑھ رہے ہیں اور منشیات عام ہو رہی ہیں۔آج کل صورتحال اتنی خراب ہے کہ بہت سے نوجوان یہ سمجھنے لگے ہیں کہ محنت اور تعلیم کا کوئی فائدہ نہیں کیونکہ کامیابی صرف سفارش، پیسے اور تعلقات والوں کے لیے مخصوص ہے۔ یہ سوچ کسی بھی معاشرے کے لیے انتہائی خطرناک ہوتی ہے۔
سوال یہ ہے کہ کیا واقعی پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟ مسئلہ تعلیم نہیں بلکہ وہ نظام ہے جو تعلیم یافتہ انسان کو عزت اور مواقع دینے میں ناکام ہو چکا ہے۔ علم آج بھی انسان کو شعور دیتا ہے۔ کتاب آج بھی ذہن کو آزاد کرتی ہے۔ تعلیم انسان کو اپنے حق اور باطل کی پہچان دیتی ہے۔ اگر معاشرہ تعلیم یافتہ نوجوان کو روزگار نہیں دیتا تو قصور علم کا نہیں بلکہ اس ظالمانہ معاشی اور سیاسی ڈھانچے کا ہے جس نے انسان کو صرف منافع کمانے کا ذریعہ بنا دیا ہے۔
نوجوانوں کو اس صورتحال میں مایوس نہیں ہونا چاہیے۔ انہیں یہ سمجھنا ہوگا کہ سوشل میڈیا کے ہنگام پرور دور میں صرف ڈگری کافی نہیں رہی۔اب دُنیا بدل چکی ہے، نئی مہارتیں سیکھنا ضروری ہیں۔ آن لائن کام، فری لانسنگ، ٹیکنالوجی کی نئی زبانیں اور ہنُر سیکھنا موجودہ وقت کی ضرورت ہے۔ نوجوانوں کو اب صرف سرکاری نوکری تک خود کو محدود نہیں کرنا چاہیے۔ نوجوانوں کو یہ سمجھ جانا چاہیے کہ اگر حکومت دروازے بند کر رہی ہے تو نئے راستے تلاش کریں۔ گلوبل ولیج کی اس تیز رفتار ڈیجیٹل دُنیا آج نئے مواقع پیدا کر رہی ہے جس سے فائدہ نہ اٹھانا خود پر ظلم کرنے کے مترادف ہے۔
جب تک نوجوان باہمی منافرت ،پھوٹ اور تقسیم کا شکار رہیں گے تب تک ان کے حقوق سلب ہوتے رہیں گے۔ تعلیم صحت اور روزگار بنیادی انسانی حقوق کے لیے آواز اُٹھانا جُرم نہیں بلکہ جمہوری حق ہے۔ نوجوانوں کو کتاب سے تعلق ختم نہیں کرنا چاہیے کیونکہ جو قوم کتاب چھوڑ دیتی ہے وہ ہمیشہ دوسروں کی غلام رہتی ہے۔
پاکستان کی اصل طاقت اس کے نوجوان ہیں۔مزے کی بات یہ کہ آج یہی نوجوان سب سے زیادہ غیر محفوظ ہیں۔ اگر ریاست نے تعلیم اور روزگار کو سنجیدگی سے نہ لیا تو آنے والے برسوں میں صورتحال مزید خطرناک ہو سکتی ہے۔ بھوکا اور مایوس نوجوان کسی بھی معاشرے کے لیے بڑا خطرہ ہوتا ہے۔ اس لیے موجودہ حکومت کو چاہیے کہ تعلیم کو کاروبار نہیں بلکہ قومی سرمایہ سمجھے۔میرا مطالبہ ہے کہ سرکاری تعلیمی اداروں کو مضبوط کیا جائے،فیسیں کم کی جائیں، میرٹ پر نوکریاں دی جائیں اور نوجوان کو جینے کی اُمید دی جائے۔ جب قوم کے نوجوان یہ سوال پوچھنا شروع کر دیں کہ پڑھنے کا فائدہ کیا ہے تو سمجھ لیں کہ مسئلہ صرف تعلیم کا نہیں بلکہ پورے نظام کے زوال کا ہے۔

محسن خالد محسنؔ

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • دو بَیل
  • کسی کو ڈھونڈتے پھرنا محبت
  • صحت سب کے لیے
  • اسلامی اِنقلاب اور ادب
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
کیا ہم بے وقوف ہیں؟
پچھلی پوسٹ
انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

متعلقہ پوسٹس

آنکھیں

فروری 13, 2022

ایک دن میں قید۔۔۔حضرت اقبالؒ

نومبر 12, 2021

علامہ حسن رضابریلوی کی نعتیہ شاعری​

دسمبر 4, 2019

ہمالیہ کی چوٹی

فروری 8, 2025

بھرپور پیداوار حاصل کرنے کے رہنما اصول

مئی 21, 2024

دکھی دلوں کا سہارا جہاں میں کوئی نہیں

مارچ 18, 2026

سفید خون

مئی 2, 2019

جو دکھتا ہے وہ ہوتا نہیں

نومبر 30, 2024

ہلکی دھڑکنیں

دسمبر 3, 2024

تفسیری مناہج

جنوری 17, 2026

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • زمیں کی بات کرتے ہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

    اکتوبر 11, 2026
  • مرد کے حصے کا ہجر

    اکتوبر 11, 2026
  • تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

    اکتوبر 11, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • Ayesha khan on میری خوش فہمی تھی
  • Ayesha khan on جن کو دیدار میسر ہو ہر شام تیرا
  • سعیدہ on جن کو دیدار میسر ہو ہر شام تیرا
  • سعیدہ on میری خوش فہمی تھی
  • صنم گل on مسدس نعتیہ نظم "مانگتا ہوں”

اسلامی گوشہ

زمیں کی بات کرتے ہیں

اکتوبر 11, 2026

شوقِ عبادت

اکتوبر 4, 2026

ذکر محمد ﷺ

ستمبر 30, 2026

شہر مکہ سے مدینے کا سفر ہو

ستمبر 26, 2026

مسدس نعت "معراجِ ثنا”

ستمبر 23, 2026

اردو شاعری

ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ...

اکتوبر 11, 2026

تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

اکتوبر 11, 2026

میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

اکتوبر 11, 2026

یوں آسماں کے ستارے نہ دیکھ

اکتوبر 11, 2026

لوگ نکمّے ہم سے سروکار نہیں رکھتے

اکتوبر 11, 2026

اردو افسانے

طاقت کا امتحان

ستمبر 27, 2026

سرخ پینسلیں اور خستہ حال خیمہ

اگست 9, 2026

وہ درخت جو اپنے سائے سے رُوٹھ گیا

اگست 3, 2026

ماں کی خاموش دُعا

جولائی 24, 2026

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

اردو کالمز

مرد کے حصے کا ہجر

اکتوبر 11, 2026

مجھے وہاں جانا ہے

اکتوبر 10, 2026

شوقِ عبادت

اکتوبر 4, 2026

تاریخ کشی

اکتوبر 1, 2026

یہ اعزاز ہے ہماری مٹی کا

ستمبر 28, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا موبائل ایپ

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • زمیں کی بات کرتے ہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

    اکتوبر 11, 2026
  • مرد کے حصے کا ہجر

    اکتوبر 11, 2026
  • تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

    اکتوبر 11, 2026
  • یوں آسماں کے ستارے نہ دیکھ

    اکتوبر 11, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

خواب ہے خواب ہی ہو

دسمبر 18, 2025

نقاب رخ پہ لیئے آپ مسکراتے...

دسمبر 8, 2025

سیرت مصطفی ﷺ: دنیا کے لیے...

اگست 30, 2025
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں