خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپ کا سلامکیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟
آپ کا سلاماردو تحاریراردو کالمزمحسن خالد محسن

کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

از سائیٹ ایڈمن مئی 17, 2026
از سائیٹ ایڈمن مئی 17, 2026 0 تبصرے 59 مناظر
60

پاکستان میں آج یہ سوال صرف ایک جملہ نہیں بلکہ کروڑوں نوجوانوں کی چیخ بن چکا ہے۔ ایک ایسا نوجوان جو برسوں کتابوں کے ساتھ جاگتا رہا، جس نے والدین کی اُمیدوں کو اپنے کندھوں پر اُٹھایا، جس نے غربت میں فیسیں ادا کیں، جس نے یونیورسٹی کی ڈگری کو مستقبل کی ضمانت سمجھا، آج وہی نوجوان ہاتھ میں ڈگری لیے در بدر پھر رہا ہے۔ ایسے میں اگر کوئی طالب علم یہ کہتا ہے کہ پڑھنے کا کیا فائدہ ہے تو اس کے پیچھے صرف مایوسی نہیں بلکہ ایک تلخ سماجی حقیقت موجود ہے۔
پاکستان میں تعلیم کو حقیقی معنوں میں قومی ترجیح نہیں بنایا گیا۔ حکومتی جماعتوں نے تعلیم کے نام پر نعرے تو لگائے لیکن عملی طور پر تعلیم کو عام آدمی سے دور کیا گیا۔ آج صورتحال یہ ہے کہ سرکاری تعلیمی اداروں کی نجکاری کی جا رہی ہے۔ سرکاری سکول اور کالج جو کبھی غریب طبقے کی آخری اُمید تھے انہیں بتدریج ختم کیا جا رہا ہے یا ان کی حالت اتنی خراب کر دی گئی ہے کہ والدین مجبوراً مہنگے نجی اداروں کا رخ کر رہے ہیں۔ موجود حکومت تعلیم کو خدمت نہیں بلکہ کاروبار بنا چکی ہیں۔
تعلیمی اداروں کی نجکاری کے پیچھے صرف تعلیمی اصلاحات نہیں بلکہ معاشی اور سیاسی مفادات بھی کار فرما ہیں۔ جب تعلیم پر ریاست خرچ کم کرتی ہے تو بجٹ کا بوجھ کم ہوتا ہے۔ حکومتیں عالمی مالیاتی اداروں کے سامنے اپنے اخراجات کم دکھاتی ہیں۔ دوسری طرف نجی تعلیمی مافیا اربوں روپے کماتا ہے۔ مہنگی یونیورسٹیاں اور نجی سکولز صرف امیر طبقے کے لیے آسانی پیدا کرتے ہیں جبکہ غریب آدمی کا بچہ تعلیم کے دروازے سے باہر کھڑا رہ جاتا ہے۔ یوں معاشرہ دو طبقوں میں تقسیم ہو جاتا ہے۔ ایک حکمران اور اشرافیہ کا طبقہ جو مہنگی تعلیم حاصل کر کے اقتدار اور نوکریوں پر قابض رہتا ہے اور دوسرا عام آدمی جو صرف زندہ رہنے کی جنگ لڑتا ہے۔
تعلیم کو مہنگا کرنے کا ایک مقصد یہ بھی ہے کہ نوجوان سوال نہ کرے۔اس میں کوئی برائی نہیں کہ ایک باشعور تعلیم یافتہ نوجوان اپنے حقوق مانگتا ہے، ظلم کے خلاف آواز اُٹھاتا ہے اور حکمرانوں سے جواب طلب کرتا ہے ۔یہی وجہ ہے کہ طاقتور طبقات ہمیشہ ایسی تعلیم چاہتے ہیں جو ڈگری دے شعور نہ دے۔ جب یونیورسٹیوں میں فیسیں لاکھوں تک پہنچ جائیں گی تو غریب نوجوان تعلیم چھوڑ دے گا یا ساری زندگی قرض ادا کرتا رہے گا۔
موجودہ تعلیمی انحطاط کا افسوسناک پہلو یہ ہے کہ تعلیم مکمل کرنے کے بعد بھی روزگار کی کوئی ضمانت موجود نہیں ہے۔ پاکستان میں لاکھوں نوجوان ڈگریاں لے کر بے روزگار بیٹھے ہیں۔ انجینئر، ڈاکٹر، اساتذہ اور گریجویٹ نوجوان رکشے چلانے پر مجبور ہیں۔ حکومت نے سرکاری اداروں میں نئی بھرتیاں کئی برسوں سے نہیں کیں۔ کئی محکموں میں سیٹیں ختم کی جا رہی ہیں۔ تجدید اور اصلاحات کے نام پر سرکاری ملازمین کو فارغ کیا جا رہا ہے۔ کنٹریکٹ سسٹم نے نوجوانوں کے مستقبل کو غیر یقینی بنا دیا ہے۔پاکستان ہی وہ شاندار ملک ہے جہاں نوجوان پوری زندگی محنت کر کے بھی مستقل روزگار حاصل نہیں کر پاتا۔
ملازمت کے مواقع تو ناپید ہوچکے ،یونیورسٹیوں کی صورتحال بھی خطرناک ہوتی جا رہی ہے۔ سیکڑوں شعبے بند کیے جا رہے ہیں۔ ریسرچ کے فنڈز کم ہو رہے ہیں۔ ہاسٹل فیسیں بڑھ رہی ہیں۔ طلبا یونینز پہلے ہی ختم کی جا چکی ہیں تاکہ نوجوان اجتماعی طاقت نہ بنا سکیں۔ حکومتیں تعلیم یافتہ نوجوان سے خوفزدہ رہتی ہیں کیونکہ باشعور نوجوان ہر ظلم کے خلاف سب سے پہلے کھڑا ہوتا ہے۔
جب نوجوان مسلسل ناکامی اور بے یقینی دیکھتا ہے تو اس کے اندر مایوسی جنم لیتی ہے۔ یہی مایوسی آج پاکستان کے نوجوان کو نفسیاتی بیماریوں کی طرف لے جا رہی ہے۔ خود کشیوں میں اضافہ ہو رہا ہے، جرائم بڑھ رہے ہیں اور منشیات عام ہو رہی ہیں۔آج کل صورتحال اتنی خراب ہے کہ بہت سے نوجوان یہ سمجھنے لگے ہیں کہ محنت اور تعلیم کا کوئی فائدہ نہیں کیونکہ کامیابی صرف سفارش، پیسے اور تعلقات والوں کے لیے مخصوص ہے۔ یہ سوچ کسی بھی معاشرے کے لیے انتہائی خطرناک ہوتی ہے۔
سوال یہ ہے کہ کیا واقعی پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟ مسئلہ تعلیم نہیں بلکہ وہ نظام ہے جو تعلیم یافتہ انسان کو عزت اور مواقع دینے میں ناکام ہو چکا ہے۔ علم آج بھی انسان کو شعور دیتا ہے۔ کتاب آج بھی ذہن کو آزاد کرتی ہے۔ تعلیم انسان کو اپنے حق اور باطل کی پہچان دیتی ہے۔ اگر معاشرہ تعلیم یافتہ نوجوان کو روزگار نہیں دیتا تو قصور علم کا نہیں بلکہ اس ظالمانہ معاشی اور سیاسی ڈھانچے کا ہے جس نے انسان کو صرف منافع کمانے کا ذریعہ بنا دیا ہے۔
نوجوانوں کو اس صورتحال میں مایوس نہیں ہونا چاہیے۔ انہیں یہ سمجھنا ہوگا کہ سوشل میڈیا کے ہنگام پرور دور میں صرف ڈگری کافی نہیں رہی۔اب دُنیا بدل چکی ہے، نئی مہارتیں سیکھنا ضروری ہیں۔ آن لائن کام، فری لانسنگ، ٹیکنالوجی کی نئی زبانیں اور ہنُر سیکھنا موجودہ وقت کی ضرورت ہے۔ نوجوانوں کو اب صرف سرکاری نوکری تک خود کو محدود نہیں کرنا چاہیے۔ نوجوانوں کو یہ سمجھ جانا چاہیے کہ اگر حکومت دروازے بند کر رہی ہے تو نئے راستے تلاش کریں۔ گلوبل ولیج کی اس تیز رفتار ڈیجیٹل دُنیا آج نئے مواقع پیدا کر رہی ہے جس سے فائدہ نہ اٹھانا خود پر ظلم کرنے کے مترادف ہے۔
جب تک نوجوان باہمی منافرت ،پھوٹ اور تقسیم کا شکار رہیں گے تب تک ان کے حقوق سلب ہوتے رہیں گے۔ تعلیم صحت اور روزگار بنیادی انسانی حقوق کے لیے آواز اُٹھانا جُرم نہیں بلکہ جمہوری حق ہے۔ نوجوانوں کو کتاب سے تعلق ختم نہیں کرنا چاہیے کیونکہ جو قوم کتاب چھوڑ دیتی ہے وہ ہمیشہ دوسروں کی غلام رہتی ہے۔
پاکستان کی اصل طاقت اس کے نوجوان ہیں۔مزے کی بات یہ کہ آج یہی نوجوان سب سے زیادہ غیر محفوظ ہیں۔ اگر ریاست نے تعلیم اور روزگار کو سنجیدگی سے نہ لیا تو آنے والے برسوں میں صورتحال مزید خطرناک ہو سکتی ہے۔ بھوکا اور مایوس نوجوان کسی بھی معاشرے کے لیے بڑا خطرہ ہوتا ہے۔ اس لیے موجودہ حکومت کو چاہیے کہ تعلیم کو کاروبار نہیں بلکہ قومی سرمایہ سمجھے۔میرا مطالبہ ہے کہ سرکاری تعلیمی اداروں کو مضبوط کیا جائے،فیسیں کم کی جائیں، میرٹ پر نوکریاں دی جائیں اور نوجوان کو جینے کی اُمید دی جائے۔ جب قوم کے نوجوان یہ سوال پوچھنا شروع کر دیں کہ پڑھنے کا فائدہ کیا ہے تو سمجھ لیں کہ مسئلہ صرف تعلیم کا نہیں بلکہ پورے نظام کے زوال کا ہے۔

محسن خالد محسنؔ

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • میری شادی کرادو
  • دل لگی یاد آئے گی
  • پوئنا
  • نئے سال کے تقاضے اور کامیابی کی حکمت عملی
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
کیا ہم بے وقوف ہیں؟
پچھلی پوسٹ
انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

متعلقہ پوسٹس

میری کہانی

جون 5, 2024

دفتر سے محبت تک

جنوری 8, 2025

ٹکراؤ کی سیاست کے نقصانات

دسمبر 12, 2025

آہ ! اے دوست

جنوری 3, 2020

اشفاق احمد اور اُردو ادب

اکتوبر 15, 2025

غزنوی میزائل

جنوری 27, 2026

آخری مورچہ، اولین عزم

اکتوبر 11, 2025

مذہب کی اصل روح

مارچ 18, 2025

آئینۂ جمال

دسمبر 31, 2024

موتیے دے پھلاں جیہا کھڑیا اے روپ

فروری 18, 2026

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • امتیاز الحق امتیاز کا شعری مجموعہ

    اگست 7, 2026
  • پیر نصیر الدین نصیر کی نعتیہ شاعری

    اگست 7, 2026
  • درد کی سرحد سے دل بھی

    اگست 7, 2026
  • ماٹی قدم کریندی یار

    اگست 7, 2026
  • دل لگی یاد آئے گی

    اگست 7, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Meesam Ali Agha on دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ
  • مسعود فیروزی on شعر شور انگیز
  • سحر بونیرے on اردو افسانہ نقشِ تنقید

اسلامی گوشہ

لباس کی شرعی حیثیت

اگست 4, 2026

صفر کا مہینہ اعلی حضرت کا مہینہ

جولائی 23, 2026

احادیث سے زندگی آسان بنائیں

جولائی 19, 2026

ماہ صفر المظفر اور اس کی اہمیت

جولائی 19, 2026

سیکھتے رہنے کی جستجو

جولائی 11, 2026

اردو شاعری

درد کی سرحد سے دل بھی

اگست 7, 2026

دل لگی یاد آئے گی

اگست 7, 2026

دیے تھے ہم تو ماند سے

اگست 7, 2026

دل حویلی میں سدا بیٹھی رہیں چمگادڑیں

اگست 7, 2026

سب جانتا ہوں راز مگر کھولتا نہیں

اگست 1, 2026

اردو افسانے

وہ درخت جو اپنے سائے سے رُوٹھ گیا

اگست 3, 2026

ماں کی خاموش دُعا

جولائی 24, 2026

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

اردو کالمز

ماٹی قدم کریندی یار

اگست 7, 2026

لباس کی شرعی حیثیت

اگست 4, 2026

دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ

اگست 3, 2026

مخلوق خدا سے محبت

جولائی 29, 2026

متن کے تعاقب میں

جولائی 28, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • امتیاز الحق امتیاز کا شعری مجموعہ

    اگست 7, 2026
  • پیر نصیر الدین نصیر کی نعتیہ شاعری

    اگست 7, 2026
  • درد کی سرحد سے دل بھی

    اگست 7, 2026
  • ماٹی قدم کریندی یار

    اگست 7, 2026
  • دل لگی یاد آئے گی

    اگست 7, 2026
  • دیے تھے ہم تو ماند سے

    اگست 7, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

سعادت حسن منٹو

جنوری 9, 2026

شادی کرنے سے پہلے

جولائی 5, 2026

زندگی کی بقاء کیلئے!

اکتوبر 31, 2021
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں