پاکستان کی سیاسی تاریخ میں کچھ دن ایسے ہوتے ہیں جو صرف ماضی کا حصہ نہیں رہتے بلکہ ملک کی سمت اور موجودہ حالات پر بھی اثر ڈال دیتے ہیں۔ بارہ اکتوبر ان میں سے ایک ہے۔ اس دن، جنرل پرویز مشرف نے منتخب وزیرِ اعظم نواز شریف کی حکومت کا تختہ الٹا اور اقتدار پر قبضہ کر لیا۔ یہ اقدام پاکستان کے سیاسی منظرنامے میں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے اور اس کے اثرات آج بھی محسوس ہو رہے ہیں۔
مشرف کے اقتدار میں آنے کے فوراً بعد آئین معطل کر دیا گیا، پارلیمان تحلیل کی گئی اور وہ خود چیف ایگزیکٹو کے طور پر اقتدار سنبھال گئے۔ ان کے اقدامات کو بعض حلقوں نے سیاسی استحکام اور نظام کی اصلاح کے لیے ضروری سمجھا، جبکہ دیگر اسے جمہوریت پر شب خون اور آئینی بغاوت قرار دیتے ہیں۔ اس دور میں نیشنل سیکیورٹی کونسل قائم کی گئی تاکہ فوج اور سول قیادت کے درمیان اہم قومی فیصلوں میں تعاون کو یقینی بنایا جا سکے۔
معاشی اصلاحات اور ملک کی ترقی مشرف کے دور کے اہم پہلو تھے۔ انہوں نے نجکاری کی پالیسی اپنائی، غیر ملکی سرمایہ کاری کو فروغ دیا، اور معیشت کو آزاد کرنے کی کوشش کی۔ اس کے نتیجے میں ملک کی سالانہ جی ڈی پی میں اوسطاً سات فیصد اضافہ ہوا اور غربت کی شرح میں کمی واقع ہوئی۔ میڈیا کی آزادی میں بھی اضافہ ہوا اور نجی ٹی وی چینلز کی اجازت دی گئی، مگر ۲۰۰۷ء میں چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی برطرفی کے بعد میڈیا پر دباؤ بڑھا اور کئی صحافیوں کو حکومت کے خلاف رپورٹنگ کرنے پر ہراساں کیا گیا۔
مشرف نے سیاسی جماعتوں پر پابندیاں نرم کیں اور عام انتخابات کرانے کا اعلان کیا۔ ۲۰۰۲ء کے انتخابات میں کچھ جماعتیں کامیاب ہوئیں، تاہم شفافیت کے حوالے سے سوالات اٹھائے گئے۔ مشرف نے صدر منتخب ہونے کے بعد خود کو صدر اور آرمی چیف دونوں عہدوں پر برقرار رکھا۔ ۲۰۰۷ء میں چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی برطرفی کے بعد عدلیہ اور فوج کے درمیان کشیدگی بڑھی اور تین نومبر کو مشرف نے ایمرجنسی نافذ کی، آئین معطل کیا اور عدلیہ کو بھی معطل کر دیا، جس سے جمہوریت کے لیے ایک بڑا دھچکا لگا۔
بین الاقوامی تعلقات کے حوالے سے مشرف کے دور میں پاکستان نے امریکہ کے ساتھ دہشت گردی کے خلاف تعاون کیا، جس سے عالمی سطح پر اہمیت حاصل ہوئی، لیکن ملک میں شدت پسندی اور دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ ہوا۔ ۲۰۰۵ء کے آزاد کشمیر اور خیبر پختونخواہ کے زلزلے نے حکومت کی انتظامی کمزوریوں کو بے نقاب کیا، مگر فوج اور سول سوسائٹی کے تعاون سے امدادی کاموں میں بہتری آئی۔
۲۰۰۸ء کے عام انتخابات میں مشرف کے حمایتی گروپس کو شکست ہوئی اور بڑھتے ہوئے سیاسی دباؤ اور احتجاج کے نتیجے میں اٹھارہ اگست ۲۰۰۸ء کو مشرف نے صدر کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا، جس کے بعد ملک میں جمہوریت کی بحالی کے امکانات پیدا ہوئے۔ مشرف کے دور کو مختلف زاویوں سے دیکھا جاتا ہے۔ بعض لوگ ان کی معاشی اصلاحات، میڈیا کی آزادی اور دہشت گردی کے خلاف اقدامات کی تعریف کرتے ہیں جبکہ دیگر آئین کی معطلی، عدلیہ کے ساتھ تصادم اور ایمرجنسی نافذ کرنے کو جمہوریت کے لیے نقصان دہ سمجھتے ہیں۔
بارہ اکتوبر کا دن پاکستان کے لیے ایک یاد دہانی ہے کہ طاقت کے استعمال سے وقتی سکون تو مل سکتا ہے۔ مگر پائیدار استحکام اور ترقی کے لیے جمہوریت، قانون کی حکمرانی اور اداروں کی مضبوطی ضروری ہیں۔ یہ دن ایک سوال بھی چھوڑتا ہے: کیا ہم نے اپنے ماضی سے سبق سیکھا یا بس اسے دہراتے رہیں گے؟ پاکستان کی سیاسی تاریخ بتاتی ہے کہ قومی ترقی صرف انہی راستوں سے ممکن ہے جو آئین اور عوامی فیصلوں کی بالادستی کو برقرار رکھیں۔
یوسف صدیقی
