خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپ کا سلامایک تھپڑ اور کئی سوال
آپ کا سلاماردو تحاریراسلامی گوشہاسلامی مضامینطاہرہ فاطمہ

ایک تھپڑ اور کئی سوال

از سائیٹ ایڈمن مارچ 26, 2026
از سائیٹ ایڈمن مارچ 26, 2026 0 تبصرے 0 مناظر
1

آج ایک معمولی سا واقعہ پیش آیا۔
لیکن میرے دل میں ایسا محسوس ہوا جیسے کسی نے کند چھری سے اسے کاٹ کر ہزاروں ٹکڑوں میں تقسیم کر دیا ہو۔
بات اتنی بڑی بھی نہیں تھی۔۔۔ کم از کم بظاہر تو نہیں۔
آج میری بہن کو ایک خاتون کی کال آئی۔ وہ ہمارے والد صاحب کے ایک قریبی جاننے والے کی اہلیہ ہیں۔ وہ صاحب خود بہت مہذب، باصلاحیت اور باذوق شخصیت کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ ان کا انداز گفتگو، ان کی سوشل موجودگی، ان کی شخصیت۔۔۔ سب کچھ ایک refined انسان کا تاثر دیتا ہے۔
لیکن آج ان کی اہلیہ کی آواز میں refinement نہیں۔۔۔ شکستگی تھی۔
انہوں نے بتایا:
"آج وہ بات بے بات غصہ کر رہے ہیں۔۔۔ مجھے تھپڑ مار رہے ہیں۔۔۔ اور کہہ رہے ہیں گھر سے نکل جاؤ۔”
میں خاموش ہو گئی۔
17 سال کی رفاقت۔۔۔
کتنے موسم دیکھے ہوں گے انہوں نے ساتھ۔
کتنی خوشیاں، کتنی آزمائشیں۔
لیکن میرا ذہن ایک ہی لفظ پر اٹک گیا:
تھپڑ؟
اختلاف سمجھ آتا ہے۔
غصہ بھی سمجھ آتا ہے۔
انسان کامل نہیں ہوتے۔
لیکن ایک انسان دوسرے انسان پر ہاتھ اٹھانے کا فیصلہ کس لمحے میں کرتا ہے؟
وہ کون سا اندرونی دروازہ ہوتا ہے جو اس لمحے کھل جاتا ہے؟
اور میرے اندر ایک سوال اٹھا:
اس کی اجازت کس نے دے دی؟شوہر کو کون سی سند مل گئی؟
اور میں جانتی ہوں، اکثر لوگ فوراً کہیں گے:
"قرآن بھی تو سورۃ نساء میں کہتا ہے کہ اگر بیوی نافرمانی کرے تو مارنے کی اجازت ہے۔”
لیکن میں ہمیشہ یہاں رک جاتی ہوں۔
کیونکہ قرآن نے نافرمانی کا لفظ استعمال ہی نہیں کیا۔
نافرمانی کیلئے عربی میں لفظ عصیان آتا ہے۔
قرآن نے وہ لفظ استعمال نہیں کیا۔
قرآن نے کہا:
نشوز
اور یہی وہ لفظ ہے جسے ہم سمجھے بغیر فیصلے سنا دیتے ہیں۔
نشوز۔۔۔
یہ لفظ عربی میں ن ش ز سے ہے۔
اصل میں یہ زمین کے اس ابھار کو کہتے ہیں جو ہموار سطح سے اوپر اٹھ جائے۔
یعنی جہاں نرمی ہونی چاہیے تھی وہاں سختی آ جائے۔
جہاں توازن ہونا چاہیے تھا وہاں کھنچاؤ آ جائے۔
رشتوں میں نشوز کا مطلب کیا ہوا؟
یہ کہ جب تعلق کی زمین، جو سکون اور ہمواری کیلئے تھی، ego، سرد مہری، emotional distance یا طاقت کے اظہار کی وجہ سے uneven ہو جائے۔
یعنی نشوز صرف نافرمانی نہیں۔
نشوز دراصل relationship imbalance ہے۔
دل کا اکڑ جانا۔
لہجے کا سخت ہو جانا۔
احساس کا پیچھے ہٹ جانا۔
یا کبھی احترام کا کم ہو جانا۔
اور یہاں ایک اور باریک فرق سمجھ آتا ہے:
عصیان کیا ہے؟
عصیان کھلی نافرمانی ہے۔
جان بوجھ کر حکم توڑنا۔
بغاوت کا رویہ۔
لیکن نشوز کیا ہے؟
یہ ہمیشہ چیخ کر ظاہر نہیں ہوتا۔
یہ آہستہ آہستہ پیدا ہوتا ہے۔
یہ کبھی tone میں آتا ہے۔
کبھی distance میں۔
کبھی care کے کم ہو جانے میں۔
یعنی:
ہر عصیان نشوز ہو سکتا ہے۔۔۔ لیکن ہر نشوز عصیان نہیں ہوتا۔
اسی لیے قرآن نے نشوز کہا۔۔۔
کیونکہ وہ relationship کے psychological decay کی بات کر رہا ہے، صرف قانونی نافرمانی کی نہیں۔
پھر ایک اور سوال:
نشوز کی حد کیا ہے؟
کیا ہر نوک جھونک نشوز ہے؟
نہیں۔
اگر ایسا ہوتا تو دنیا کا کوئی رشتہ سلامت نہ رہتا۔
کیونکہ کون سا تعلق ہے جہاں کبھی اختلاف نہیں ہوتا؟
کون سا گھر ہے جہاں کبھی آواز اونچی نہیں ہوتی؟
کون سی رفاقت ہے جہاں کبھی misunderstanding نہیں ہوتی؟
نشوز کی اصل حد کیا ہے؟
وہ حد جہاں رشتہ ٹوٹنے کی طرف چل پڑے۔
یعنی:
جب اختلاف عادت بن جائے۔
جب احترام کم ہونے لگے۔
جب دل میں دوری مستقل ہو جائے۔
جب اصلاح کی کوشش ختم ہو جائے۔
جب ego محبت پر غالب آ جائے۔
یہ وہ stage ہے جہاں قرآن conflict management protocol دیتا ہے۔
یعنی قرآن casual arguments کیلئے نہیں۔۔۔ relationship breakdown کیلئے بات کر رہا ہے۔
اور یہی وہ جگہ ہے جہاں ہم سب سے بڑی غلطی کرتے ہیں:
ہم روزمرہ کی ناراضگیوں کو بھی اسی category میں ڈال دیتے ہیں۔
حالانکہ قرآن کا موضوع: marital emergency ہے۔ daily disagreement نہیں۔
بحر حال میں عام طور پر ایسی باتوں سے دور رہتی ہوں۔ کیونکہ ان کا اثر میرے دل پر بہت دیر تک رہتا ہے۔ کچھ لوگ خبریں سنتے ہیں۔ میں خبریں محسوس کرتی ہوں۔ اور کبھی کبھی یہ صلاحیت نعمت کے بجائے بوجھ محسوس ہونے لگتی ہے۔
پھر میں نے امی سے پوچھا:
"کیا اس نے ٹھیک کیا؟”
امی نے بڑی سادگی سے کہا:
"ایسا تو نارمل ہوتا ہے۔ ابھی ٹھیک ہو جائیں گے۔”
نارمل؟
یہ لفظ میرے اندر کہیں گونجتا رہا۔
میں نے ایک اور سوال کیا:
"چلیں فرض کریں میرا شوہر مجھے مارے۔۔۔ تو وہ مجھے کتنا مارے کہ میں کسی کو بتاؤں کہ مجھے مدد کی ضرورت ہے؟”
امی خاموش ہو گئیں۔
لیکن اس خاموشی نے ایک جواب دے دیا۔
شاید ہماری بیٹیوں کو یہ سکھایا جاتا ہے:
برداشت کرو۔
خاموش رہو۔
کیونکہ یہ تمہارے والدین کی عزت کا سوال ہے۔
یا شاید اصل جملہ یہ ہوتا ہے:
تا عمر برداشت کر لینا۔
اسی لمحے میرے ذہن میں قرآن کی ایک آیت آئی:
إِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلَيْكُمْ رَقِيبًا
اور میں لفظ رقیب پر رک گئی۔
رقیب۔۔۔
وہ جو صرف دیکھتا نہیں۔۔۔
وہ جو قریب سے دیکھتا ہے۔
وہ جو نظر بھی رکھتا ہے اور نظر میں بھی رکھتا ہے۔
اور میں نے خود سے پوچھا:
اگر اللہ واقعی رقیب ہے۔۔۔
تو کیا کسی ہاتھ کو اٹھنے سے پہلے نہیں رک جانا چاہیے؟
پھر ایک اور خیال آیا:
شاید ہمیں رقیب سے ڈر اس لیے نہیں لگتا کیونکہ ہم اسے ایک عقیدہ سمجھتے ہیں۔۔۔
ایک زندہ حقیقت نہیں۔
اگر واقعی یقین ہو جائے کہ ہر سخت لفظ، ہر ذلت، ہر آنسو record ہو رہا ہے۔۔۔
تو شاید بہت سے گھروں کی فضا بدل جائے۔
پھر ایک اوراہم بات:
رقیب صرف ظالم کیلئے warning نہیں ہوتا۔
رقیب مظلوم کیلئے consolation بھی ہوتا ہے۔
یعنی اگر کوئی عورت خاموشی سے روتی ہے۔۔۔
اور دنیا کہتی ہے:
یہ تو نارمل ہے۔۔۔
تو اللہ بھی quietly کہتا ہے:
یہ سب میری نظر میں ہے۔
اور شاید رقیب کا سب سے خوبصورت مطلب یہی ہے:
تمہاری تکلیف کبھی بھی unseen نہیں ہوتی۔
میں نے اس سارے واقعہ کے بعد ایک اور بات سمجھی:
ہمیں صبر کا مطلب غلط سکھایا گیا ہے۔
صبر کا مطلب ظلم برداشت کرنا نہیں ہوتا۔
صبر کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ ظلم کو ظلم سمجھتے ہوئے بھی اپنے دل کو اندھا نہ ہونے دیا جائے۔
قرآن نے کبھی یہ نہیں کہا کہ ظلم کو نارمل سمجھ لو۔
قرآن نے صرف یہ کہا:
نہ ظلم کرو۔۔۔ نہ ظلم برداشت کرو۔
اور شاید اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہمارا معاشرہ رشتے بچانے کی فکر میں انسان توڑ دیتا ہے۔
حالانکہ اللہ نے رشتے سکون کیلئے بنائے تھے۔۔۔
آزمائش کیلئے نہیں۔
اس سارے واقعہ کے بعد میری بس یہی دعا ہے:
یا اللہ۔۔۔
سب کے گھروں میں محبت رکھ دے۔
مردوں کے دلوں میں نرمی رکھ دے۔
اور عورتوں کے دلوں میں اپنی قدر کا احساس زندہ رکھ دے۔
اور اگر کبھی کسی گھر میں خاموشی سے کوئی آنسو گرے۔۔۔
تو اسے یہ یقین ضرور دے دے:
کہ ایک رقیب ہے۔۔۔ جو صرف دیکھ نہیں رہا۔۔۔ انصاف بھی کرے گا۔

طاہرہ فاطمہ 

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • یہ باپ ہے
  • بڑھتی ہوئی ویڈیو گرافی
  • 25دسمبر: یومِ قائد ِاعظم
  • تلاطموں کے درمیاں بھنور
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
پاکستان کی قوت اور عالمی وقار کا سفر
پچھلی پوسٹ
شادیوں پر فضول خرچی — روایت یا مصیبت؟

متعلقہ پوسٹس

کرونا وائرس: کیسے اور کہاں تک پھیل سکتا ہے؟

مارچ 19, 2020

آرامشِ سپید

نومبر 30, 2024

تنہائی کا خالی سینہ اور باشک ناگ کا دل

فروری 25, 2022

خیبرپختونخوا حکومت اور خون کا سودا

ستمبر 13, 2025

حمدِ باری تعالیٰ

جولائی 5, 2025

قرآن کے نغماتی اعجاز

نومبر 18, 2025

آخری جلسہ

نومبر 28, 2019

بڑے میاں

جنوری 30, 2021

نمود و بود کو عاقل

مارچ 20, 2025

خط اور اُس کا جواب

فروری 1, 2020

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

    اپریل 15, 2026
  • لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

    اپریل 14, 2026
  • کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی

    اپریل 14, 2026
  • خیبر پختو نخواہ کا افسانہ

    اپریل 12, 2026
  • انجمن پنجاب

    اپریل 11, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے
  • سردار حمادؔ منیر on یا رسولِ خدا اشرفِ انبیاء

اسلامی گوشہ

مرا سخن سخنِ شاہکار ہو جائے

اپریل 6, 2026

سرکارؐ رازِ حق سے مجھے آشنا کریں

اپریل 6, 2026

قرآنِ کریم میں تدبر کیسے کریں؟

اپریل 4, 2026

ایک تھپڑ اور کئی سوال

مارچ 26, 2026

کلام نبویؐ کی کرنیں

مارچ 23, 2026

اردو شاعری

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

اپریل 15, 2026

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

اپریل 14, 2026

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی

اپریل 14, 2026

دکھی ہے دل مرا لیکن غموں سے

اپریل 7, 2026

تمہیں میری محبت کا جو اندازہ نہیں ہوتا

اپریل 6, 2026

اردو افسانے

عورت کی تعلیم کی اہمیت

اپریل 7, 2026

اب بس کرو ماں

اپریل 4, 2026

باغ علی باغی (قسط اول)

اپریل 3, 2026

سونے کی بالیاں

مارچ 29, 2026

گل مصلوب

مارچ 25, 2026

اردو کالمز

مودی کا ہندو خطرے میں ہے

اپریل 11, 2026

طاقت کا توازن اور پائیدار امن!

اپریل 10, 2026

ماں بننے کا سفر اور جوائنٹ فیملی کا...

اپریل 8, 2026

سوچ کا انقلاب

اپریل 7, 2026

جنگ کے شعلے اور سسکتی انسانیت

اپریل 5, 2026

باورچی خانہ

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

سادہ مٹن ہانڈی

جولائی 5, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

    اپریل 15, 2026
  • لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

    اپریل 14, 2026
  • کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی

    اپریل 14, 2026
  • خیبر پختو نخواہ کا افسانہ

    اپریل 12, 2026
  • انجمن پنجاب

    اپریل 11, 2026
  • تنقید کیا ہے

    اپریل 11, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

گلچیں

دسمبر 1, 2019

رہبرِ اختران

دسمبر 29, 2024

عمیرہ احمد

مارچ 22, 2025
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں