109
اپنے آنسوئوں کو بھی سب سے جو چھپا لیتا ہے
اپنوں کی خاطر اپنا آپ بھی جو بھلا دیتا ہے
چند امیدوں پر ساری عمر اپنی جو بتا دیتا ہے
یہ باپ ہے اپنے اندر سب کچھ جو دبا لیتا ہے
تپتی دھوپ میں خود کو ہی جو جلا دیتا ہے
خواہشوں کو اپنے دل سے ہی جو مٹا دیتا ہے
فکر اولاد میں یاروں فکر اپنی جو بھلا دیتا ہے
یہ باپ ہے اپنے اندر سب کچھ جو دبا لیتا ہے
سایئہ شجر کی طرح احساس ٹھنڈک کا دیتا ہے
جس طرح اپنوں میں وہ خوشیاں پھیلا دیتا ہے
نہ جانے سارے دکھ وہ اپنے کہاں چھپا لیتا ہے
یہ باپ ہے اپنے اندر سب کچھ جو دبا لیتا ہے
روکتا ہے ٹوکتا ہے کبھی ہاتھ بھی اٹھا لیتا ہے
کوئی روکے یا کوئی ٹوکے اسے بھی بتا دیتا ہے
کسی کی ہمت نہیں یوسف یہ سمجھا دیتا ہے
یہ باپ ہے اپنے اندر سب کچھ جو دبا لیتا ہے
محمد یوسف میاں برکاتی
