6
اپنے آنسوئوں کو بھی سب سے جو چھپا لیتا ہے
اپنوں کی خاطر اپنا آپ بھی جو بھلا دیتا ہے
چند امیدوں پر ساری عمر اپنی جو بتا دیتا ہے
یہ باپ ہے اپنے اندر سب کچھ جو دبا لیتا ہے
تپتی دھوپ میں خود کو ہی جو جلا دیتا ہے
خواہشوں کو اپنے دل سے ہی جو مٹا دیتا ہے
فکر اولاد میں یاروں فکر اپنی جو بھلا دیتا ہے
یہ باپ ہے اپنے اندر سب کچھ جو دبا لیتا ہے
سایئہ شجر کی طرح احساس ٹھنڈک کا دیتا ہے
جس طرح اپنوں میں وہ خوشیاں پھیلا دیتا ہے
نہ جانے سارے دکھ وہ اپنے کہاں چھپا لیتا ہے
یہ باپ ہے اپنے اندر سب کچھ جو دبا لیتا ہے
روکتا ہے ٹوکتا ہے کبھی ہاتھ بھی اٹھا لیتا ہے
کوئی روکے یا کوئی ٹوکے اسے بھی بتا دیتا ہے
کسی کی ہمت نہیں یوسف یہ سمجھا دیتا ہے
یہ باپ ہے اپنے اندر سب کچھ جو دبا لیتا ہے
محمد یوسف میاں برکاتی
