136
رات کے پچھلے پہر
میرا بستر
کسی سنسان بنچ میں بدل جاتا ہے
اور میں اس کے کونے پر سر جھکائے
رات کی تاریکی سے ہمکلام ہوتا ہوں
تب بند سٹریٹ لائٹ سے
روشنی نکل کر
میرے قریب تر آتی ہے
اور میرے کندھے پر ہاتھ رکھ کر
مجھ سے ناراض ہوتے ہوئے کہتی ہے
جب توں تاریکی سے باتیں کرتا ہے
تو وہ تیرے گرد لپٹ جاتی ہے
توں جانتا ہے کہ
کسی فی میل سے تیرا بات کرنا
مجھے ناگوار گزرتا ہے
توں اندھیرے سے محو گفتگو ہوا کر
وہ بہت اچھا ہے
سمیع اللہ خان
