فصیل اندر فصیل قطار در قطار بند گلیوں کا شہر ہے۔ جہاں بلند و بالا دیواریں اور خار دار باڑیں ہیں۔ جگہ جگہ آہنی سلاخیں ہیں جو زمین کے دل میں گاڑ دی گئی ہیں اور وہی چاند جو بارش کے بعد ایک ننھے گھڑے کے پانی میں اپنی چھب دکھاتا مجھے کہانیاں سناتا تھا، اب بھی موجود ہے مدھم اور پھیکا سا۔ مشرق سے مغرب تک پھیلے دھوئیں نے اسکی نیلگوں روشنی دھندلا دی ہے۔ فلک کے دوسرے کنارے پر دب اکبر کے ستارے اپنے چمچ سے آسمان کے شمالی صحن کی ضیافت کرتے زمین کی طرف گھوم چکے ہیں۔ دھندلا سا قطبی تارہ جسے تلاش کرنے کی سعی میں، میں چمچ کے سرے پر نظریں ٹکائے گرد سے اٹے آسمان پر اسے تلاش کرتی ہوں۔ وہ زمین کے پانیوں میں فلک کا عکس دیکھ کر مسکراتا ہے۔
یہ میرے بچپن کا ساتھی ہے تب میں اسے اپنی چھت کے کنارے پر اٹکا دیکھ کر بنا دُبِ اکبر کی سمت کھوجے پہچان لیا کرتی تھی۔ اب دیکھتی ہوں گھڑی کی سوئیوں کی مانند تاروں سے بھری گزرگاہ رات بھر میں اس کے گرد چکر لگا لیتی ہے۔ سٹار ٹریل قطبی تارے کا ورٹائیگو تو نہیں۔؟ یا پھر رقص یہی درویش ہے۔
سمندر کے پانیوں میں تلاطم تھم چکا۔ میں خشک دھول اڑاتی مٹی کو نل کے پانی سے سیراب کرتی سمندر کی تلاطم خیز موجوں کو یاد کرتی ہوں۔ سمندر کی جدائی اس فنکار کے لیے بڑی کربناک ہوتی ہے جسے موجوں نے وسعت سکھائی ہو، لہروں نے رنگ بھرنے اور نمکین پانیوں تلے سرسراتی ریت نے قدم جمانے کی ہمت کو سرخوشی میں بدلا ہو۔
دریا کی تہہ سے بھر کر لائی گئی زرخیز مٹی میں پھوٹتی کونپلوں کو میں سمندر کی باتیں سناتی ہوں۔
وہ پوچھتے ہیں سمندر کیسا ہوتا ہے؟ آخر کتنا وسیع ہے؟
میں کہتی ہوں ہزاروں دریاؤں جتنا۔۔۔
وہ ہوا کے سنگ لہلہاتے اور مجھ پر ہنستے ہیں۔
میں کہتی ہوں اچھا یونہی سہی!
ملاح جانتے ہیں جب ان کے سفینے نمکین پانیوں کا سینہ چیرتے آگے بڑھتے ہیں تو ہچکولے کھاتی موجوں میں سورج کا عکس کیسے سر چکرا دیتا ہے۔ زمین کا کنارہ دیکھنے کی چاہت ہر بے آباد جزیرے کو بھی کتنا مقناطیسی بنا دیتی ہے۔اور کہیں کہیں یہ سمندر اتنا ساکت، غیر مرتعش اور شفاف ہو جاتا ہے کہ نیلے آسمان کا پورا چہرہ اپنے نیلگوں پانیوں میں اتار لیتا ہے جہاں نظر ورطہئ حیرت میں مبتلا زمین اور آسمان میں تفریق سے قاصر ہو جاتی ہے۔ لا محدودیت ہر التباس کو حقیقت اور حقیقت کو التباس کے آئینے میں دکھاتی ہے تو بصیرت کو سرابوں کی حقیقت سمجھنے کا کوئی جٔز ہاتھ آتا ہے۔ کسی ریف کو عبور کرنا ذات کے لا محدود صحرا کو عبور کرنے جیسا لگتا ہے۔
وہ میری باتیں محویت سے سنتے ہیں مگر یک گونہ بے اعتباری سے۔
اتنے میں بادل گِھر گِھر آتے ہیں۔ ہواؤں سے لدے بادل دور پرے کے ساحلوں سے سندیسے لاتے ہیں۔ سورج ڈوبتا ہے اور درختوں کی ٹہنیوں میں ہوا سرسراتی سیٹیاں بجاتی میرے گرد چکر لگاتی ہے۔
اچھا تو گویا آج کی مجلس خشک ٹہنیوں اور باد شمال کے ساتھ ہوگی۔چھوٹے سے گڑھے میں پام کی چھال کو لگائی آگ دھیرے دھیرے دھواں سلگا رہی ہے۔شوق کے طویل قامت پودوں کے سرے جھومتے ہیں۔ ہوا میں کوئی سرسراہٹ سی بات کرتی ہے۔
کارساز میں بارود اور لہو کی بساند پھیلی تھی۔ کئی دنوں سے چلو چلو کراچی چلو کے نعرے دیواروں پر نقش تھے۔ اس نے تین بسیں بھرنے کو کارکن جمع کیے تھے۔
دو بہنوں کی شادی کی عمر نکل رہی ہے۔ایک نامرد شوہر کے ساتھ پانچ برس نباہ کی کوشش کے بعد لوٹ آئی۔ شوہر الٹ پلٹ کر ہانپ جاتا اور لاچاری میں تشدد پر اتر آتا تھا۔ چھوٹا بھائی روزگار کے لیے در در کی ٹھوکریں کھا رہا ہے۔ ماں بوڑھی اور بیمار ہے۔
وہاں ہر کارکن کی کہانی تقریباً ایک جیسی ہی تھی۔ دکھ، درد،رنج،محرومیاں سب ایک ہی جیسے۔ گویا ایک ہی کاتب نے اپنے قلم سے ایک جیسے کئی نسخے قرطاس پر اتارے ہوں۔
کارساز میں کوئی پٹاخا سا پھٹا تھا اور تمام کائنات اس ایک لمحے کے لیے گویا ساکن ہو گئی تھی۔ بڑا کارکن کتنے ٹکڑوں میں بٹا کتنے چیتھڑوں میں تقسیم ہوا کسی کو علم نہیں۔بسوں سمیت کراچی سے فیصل آباد کچھ بھی واپس نہ آیا۔ بوڑھی ماں چیخیں مار مار کر رونا چاہتی تھی۔ مگر اہل محلہ سے یہ بات پوشیدہ رکھی گئی تھی کہ کارکن اجرت پر جلسوں کے لیے افراد فراہم کرتا تھا۔
ہش ش ش۔ کچھ دن اس دکھ کو صبر سے پوشیدہ رکھو۔
کسی کو کانوں کان خبر نہ ہو کہ کارکن کارساز میں جاں بحق ہوا۔ لوگ باتیں کریں گے، طعنے دیں گے۔ بعد میں کسی حادثے کا کہہ کر آخری رسومات ادا کر دیں گے۔ کسی کو کیا منہ دکھائیں گے؟ جب جوان بیٹے کا فقط ڈی این اے ہی ملا۔
بیٹے کی ماں چیخ چیخ کر رونا چاہتی تھی مگر اسکی آواز دبا دی جاتی۔
کب تلک آواز دبتی۔ بالآخر ایک رات اسکے فلک شگاف بین سب گلی والوں نے سن لیے۔ سفید پوشی کا بھرم ٹوٹ گیا۔مائی تب تک ذہنی توازن کھو چکی تھی۔ خود کو کاٹتی نوچتی رہتی۔ اس کے ہاتھ پاؤں باندھ دیے جاتے۔ ایک دن گھر میں کسی نے غور کیا کہ ایسا دورہ اس وقت پڑتا ہے جب سیاست میں ماں کی جگہ لینے والا جوان خون میڈیا کے سامنے پیش کیا جاتا ہے۔ وہاں سے ٹیلی ویژن ہٹا دیا گیا۔
سکرین اکثر تاریک ہو جاتی ہے۔ آئے دن ایسے ہی بلاسٹ، بریکنگ نیوز کی سرخی کے ساتھ نمودار ہوتے اور غائب ہوتے رہتے ہیں مگر کارکنوں کی مائیں ہر شہر ہر علاقے کے گھروں میں چھتوں کو ویران آنکھوں سے تکتی ہیں۔
ہوا سرسراتی کہانی سناتی خشک پتے دور دور تک بکھیر دیتی ہے۔ اس کے چلن میں شدت بڑھتی جا رہی ہے۔ درخت دوہرے ہوتے ہیں کچے پھل زمین پر گرنے لگتے ہیں۔
سائبر دور ہے۔ ہر ہاتھ میں ہر کھڑکی تک رسائی ہے۔ تلاوت،بھجن،ہائم،موسیقی، جنسی تلذذ کشید کرتے عریاں مناظر۔ لذت کی نئی سے نئی پرت کھوجنے کی چاہ کے سامنے ساری اقدار،سارے صحیفے اور سارے آئین ہوا میں پھڑپھڑاتے کاغذ ہیں۔ہوا دوسری کہانی کے پنے کھول لیتی ہے۔
جوان ہوتے بچوں کی ماں ڈری سہمی کہ شوہر کی مکمل تسکین کا سامان کیسے مہیا کر پائے گی۔ کھونٹے سے باندھنے کی ترکیبیں تو نانی دادی کے دور کے ساتھ ہی لد گئی تھیں۔ گھر سے باہر کی دوستیاں، تعلقات، ڈرنک، ڈنر سب چلتا تھا۔ نئی سے نئی لڑکیاں جب کھا پی کر ٹھینگا دکھا دیتیں تو گھر کی مرغی کھانے کو لوٹتا۔ زیادہ لذت، زیادہ سے زیادہ لذت ذرا الگ طریقے سے سہی۔ بیوی دن بدن کمزور ہوتی گئی۔ معالج اینٹی ڈائریل دوائیاں آزما آزما کر تھک گئے اور بیوی ڈری سہمی کسی طبیب کو مکمل علامات نہ بتاتی۔ انہیں دنوں بڑی بیٹی کا رشتہ جو دیکھنا تھا۔ اور انکار کرنا تو کفر تھا فرشتوں کی لعنت تھا۔
تیز ہوا میں پتے شور مچاتے ہیں درخت دہرے ہوئے کچے پھل زمین پر گرانے لگتے ہیں۔
فون کے ٹوٹوں میں مدرسے کے میٹریس پر دبکے بچے کمسن ماس کے ذائقے کو اجاگر کرتے ہیں۔ بہیمہ کا گوشت تو یوں بھی مدرس کا مرغوب ہوتا ہے۔۔ درد سے کراہتے لڑکے ہاتھوں پر انگاروں جیسی چھڑیاں کھا کر مقدس صحیفے پر حلف دیتے ہیں کہ ان دیواروں سے پار کوئی خبر، کوئی پکار تک نہ جائے گی۔مگر لذت کی جہتیں مکمل نہیں ہوتیں۔ نو خیز لڑکیاں،بیمار بیویاں،ایوان، عدالتیں، کچہریاں، درسگاہیں ہوا ہر دریچے سے تنکے اڑاتی گزر جاتی ہے۔
یہ کیا؟ ان تنکوں میں تو بیٹیاں بھی ہیں۔ ہاں ڈھیر ساری بیٹیاں بہت سی سوتیلی اور سگی بھی۔ ہوا کا طنز ہویدا ہوتا ہے۔ چاند اور بھی مدھم اور پھیکا پڑ جاتا ہے۔
شجر حیران کھڑے دریافت کرتے ہیں؛ کیا سمندر خاموش ہے؟ کیا موجوں میں تلاطم نہیں بھرا کہ تنکوں کے ساتھ مغرور سفینے بھی ڈوب جائیں۔
ہوا کسی بے نیاز قصہ گو کی مانند اپنی بات جاری رکھتی ہے۔
بچے گم ہونے لگے۔ڈارک ویب پر بولیاں ہوتیں۔ کٹی پھٹی مسلی ہوئی لاشیں ملتی۔ جنس میں لہو کی آمیزش ہو چکی تھی۔ کم سن جھلیوں کے لہو کا رنگ اشتہائ بڑھا دیتا۔ بوڑھے، ضعیف اور ناکارہ گردانے گئے بلیک ویب پر یہ مناظر دیکھ کر تسکین کا سامان کرتے اور افرادی قوت سے دنیا بھر کے بازو بننے والا ملک کمسن افرادی قوت مہیا کرنے میں بھی نمایاں ہو چکا تھا۔ کبھی کبھار بہت شور مچتا تو چھوٹے چھوٹے مہرے پٹ جاتے۔
ہوا میں کاربن کے ساتھ ساتھ ماس جلنے کی بدبو شامل ہونے لگی۔
کہیں باربی کیو ہو رہا ہوگا۔ ننھے پودے کہتے ہیں۔
مگر یہ بساند تو گوشت جلنے کی ہے۔ میں اختلاف کرتی ہوں۔
کئی دن بیت گئے رات کو ہوا اسی طرح تنکوں کی کہانیاں لے کر آن موجود ہوتی ہے تو میں ہوا سے کہتی ہوں!
ایسی کڑواہٹ قرطاس پر کیونکر اتار پاؤں گی؟ منافق دنوں کے سفید چہرے پر رات کی تاریکی سے حرف بھیجتے وقت بھی ایسی بساند رقم نہ کی تھی۔
تو اب کرو۔۔۔ ہوا سرگوشی کرتی ہے۔
میں ہار سنگھار کے پیڑ کے نیچے کرسی کھینچ کر نڈھال سی بیٹھ جاتی ہوں۔
پانی کا نل بند پڑا ہے، پودے خشک اور کیاریاں سوکھی پڑی ہیں۔
سانس لینا مشکل ہو جاتا ہے کھانس کھانس کر بے حال ہوئی میں کھرپے سے مٹی کریدتی بلغم دبا دیتی ہوں کہ ہوا میں جرثومے نہ گھلیں۔
تنکوں کی کہانیاں ابھی تک میرے اردگرد بکھری پڑی ہیں۔
کعبہ اللہ بند ہے۔ صحن حرم اور مطوف بند ہیں، چرچ پر تالے پڑے ہیں، مندر میں گھنٹیاں بجانے والا کوئی نہیں۔ گوردوارے،سٹوپا،پگوڈا سب مقفل پڑے ہیں۔ یہاں تک بتاتی ہوں تو پیڑ بڑی آس دلاتے پوچھتے ہیں،
اے ہماری قصہ گو سمندر کی بات کرو۔ وہ کتنا وسیع ہوتا ہے۔ مون سون کی ہوا سمندر کے سینے سے تڑپ کر اٹھتی مطوف کے قریب سے گزرتی ہوئی، مندروں کی گھنٹیاں ہلاتی، چرچ میں فائر وڈ ٹری کی مقدس صلیب کو چھیڑ کر گزرتی ہار سنگھار کے پیڑ کے نیچے حبس کی صورت آن موجود ہوتی ہے۔ میں نقاہت سے آسمان کی جانب دیکھتی ہوں سمندر جیسا لامحدود فلک ہوا کو اپنے صحن میں گردش کرتے دکھاتا ہے۔ دب اکبر کے ستارے قطبی تارے کے گرد گھومتے زمین طرف منہ کر چکے ہیں۔
اختیار اور طاقت کی پٹی آنکھوں پر باندھے لذت و ہوس کے لبادوں میں ملبوس، زبانوں پر مصلحت کے قفل لٹکائے لوگوں کا قافلہ دیکھتی ہوں کہ ہوا انہیں ہانکتی ہوئی بکھیر رہی ہے۔ دور دور ہو جاؤ۔ زمین پر ہر طرف بندش ہی بندش ہے۔
حسرت ان عبادات پر جو پہلے آسمان سے ہی پٹخ دی جاتی ہیں۔
تو اسے ابن آدم کی عبادات تسبیحات اور نوافل کی ضرورت نہیں تھی۔۔۔
ہرگز نہیں۔۔۔
ہوا بگولے کی صورت گھومتی ہے اور میں اشجار کے ورق سمیٹتی قلم میں شب کی تیرگی بھرنے لگتی ہوں۔
سمندر کتنا وسیع ہے یہ پیڑ جان چکے ہیں۔
سبین علی
