خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو باباکاش ہم استاد بن جائیں
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمزاویس خالد

کاش ہم استاد بن جائیں

از سائیٹ ایڈمن اکتوبر 9, 2020
از سائیٹ ایڈمن اکتوبر 9, 2020 0 تبصرے 64 مناظر
65

کاش ہم استاد بن جائیں

5 اکتوبر کو ٹیچرز ڈے گذرا۔سوچا تھا کہ اس دن استاد کے حوالے سے کچھ لکھوں مگر خیال آیا بہت کچھ لکھا جا چکا ہے اور لکھا جائے گا۔کچھ اہل رائے کی باتوں سے ہی لطف اٹھا لیں گے،ہاں جو کچھ اس دن محسوس کروں گا وہ بعد میں آپ کے ذوق کی نذر ضرور کروں گا۔یہ منظر گذر جائے تو ذرا دور سے اس منظر کی حقیقت کو دیکھ کر کسی نتیجے پر پہنچنے کی کوشش کروں گا۔میری طبیعت اور مزاج کبھی بھی ان ہستیوں کو ایک دن میں قید کرنے پر آمادہ نہیں ہوئے۔مصروف زندگی میں ان ہستیوں کے ذکر کے لیے ایک دن متعین کرکے خراج تحسین پیش کرنے میں کوئی برائی نہیں۔بس یہ سمجھنا چاہیے کہ والدین ہوں یا اساتذہ ہر دن ہر لمحہ ہر گھڑی ان کے احترام کا دن ہے۔آج کل جہاں دیکھیں نئی نسل کا رونا سنائی دیتا ہے کہ یہ بگڑ چکی ہے۔ان میں بڑوں کا احترام بالکل نہیں رہا۔انھیں وقت کی قدر نہیں ہے۔ان کے اندر احساس ذمہ داری کا فقدان ہے۔لیکن یہ شور کرنے والے نہ توان سب مسائل کی وجوہات کے بارے میں سوچتے ہیں اور نہ ہی اپنی غلطیوں کا احساس کرتے ہیں جو ان بچوں کی تربیت کے دوران خود انھوں نے کی ہیں۔میں 5 اکتوبر والے دن کچھ ضروری کاموں میں الجھا رہا۔اور سچ بتاؤں تو مجھے کچھ خاص علم بھی نہیں تھا اور نہ ہی کچھ احساس تھا کہ یہ دن ٹیچرز ڈے کے طور پر منایا جا رہا ہے۔بوجہ مصروفیت میں سوشل میڈیا پر اور اپنے فون نمبر پر موصول ہونے والے میسجز نہیں دیکھ سکا۔شام کو کچھ فرصت ہوئی تو میں معمول کے مطابق سارے پیغامات کو دیکھتا رہا اور ان پیغامات اور تصاویرکی حقانیت کو سمجھنے اور بھیجنے والوں کے ذوق کا جائزہ لیتا رہا تو دیکھا کہ ایک دو نہیں،آٹھ دس نہیں بلکہ سینکڑوں کی تعداد میں میرے نام ٹیچرز ڈے پرپیغامات بھجوائے گئے تھے۔فیس بک پر مجھے ٹیگ کیا گیا تھا۔نیک خواہشات کا اظہار کرنے والوں میں بڑی تعداد ان طلبا کی بھی تھی جو کسی دور میں پڑھ کر جا چکے تھے اور جن کے بارے میں عام تاثر یہ قائم ہے کہ یہ بھول جاتے ہیں۔ان پیغامات میں سے کچھ تو انٹرنیٹ کی پیداوار تھے یعنی بنے بنائے تھے لیکن ذیادہ تر پیغامات ان بچوں کی اپنی ذاتی رائے تھی جس کا اب انھوں نے کھل کر اظہار کیا تھا۔ایسی ایسی دعائیں لکھیں تھیں کہ جو میں خود بھی کبھی اپنے لیے شاید نہیں مانگ سکا تھا یا میری توجہ اس طرف نہیں گئی تھی۔ ایک بیٹے نے لکھا جس کے ایک حصے کاکچھ متن یوں تھا کہ سرمجھے آپ سے ایسی عقیدت ہے کہ میری دعا ہے کہ زندگی بھر آپ کا کوئی کام بھی خلاف شریعت نہ ہو۔ ایک نے لکھا جو اب ڈاکٹر ہے کہ جیسے آپ نے میرے اندر کی چھپی مخفی صلاحیتوں کو اجاگر کیا ہے،دعا ہے اسی طرح آپ کے اندر کے چھپے خزانے سے دنیا مستفیدہوتی رہے اور آپ کو اس کا اجر عظیم ملتا رہے۔

میں اپنی تحریر کے اس پہلو کو انھی مثالوں پر اکتفا کرتے ہوئے یہیں مختم کرتا ہوں کیونکہ اپنی توصیف کا عنصر کہیں غالب نہ آ جائے۔لیکن مجھے اپنے طلبا میں کہیں کوئی محقق نظر آیا،کہیں کوئی فلاسفر نظر آیا،کہیں کوئی اچھا مقرر نظر آیا،بات استاد کے نبض شناس ہونے کی ہے۔ایک واقعہ بھی بیان کرتا چلوں۔چند سال پہلے ایک کلاس ایسی بھی گذری کہ وہ بچے میرے انتظار میں دروازے کے پیچھے چھپ جاتے تھے اور جونہی میں کلاس کادروازہ کھولنے کے لیے ہاتھ آگے بڑھاتا تو وہ بچے فورا دروازہ کھول دیتے تھے اور مجھے اتنی بھی زحمت نہ کرنے دیتے،یہی حال کلاس سے جاتے وقت بھی ہوتا۔پورا سال ان کے ہوتے ہوئے مجھے خود دروازہ نہیں کھولنا پڑا۔اکثر وہ آپس میں دروازہ کھولنے پر اسرار کرتے بھی پائے جاتے۔میرے پاس پانی کی بوتل موجود رہتی ہے،ایک دن میں بوتل بھول گیا۔حسب عادت کچھ ہی دیر بعد مجھے حلق تر کرنے کی حاجت ہوئی تو میں نے سامنے بیٹھے ایک بچے سے کہا بیٹا کیا آپ کے پاس پانی ہے کیا آپ مجھے پانی پلائیں گے؟اس نے مجھے فورا پانی کی بوتل تھما دی۔آپ سوچیں گے کہ اس میں بھلا کیا خاص ہے۔خاص بات یہ ہے کہ پھر میرے بار بار اسرار کرنے کے باوجود پورا سیشن اس بچے نے میرے لیے پانی لانا نہیں چھوڑا۔میرے پاس پانی موجود ہوتا تھا لیکن مجھے اس کا دل رکھنے کے لیے اس سے ایک دو گھونٹ پینا پڑتا تھا۔یہ کالم یقینا وہ تمام بچے بھی پڑھیں گے۔میں اس کالم کی وساطت سے انھیں کہتا ہوں کہ آپ کی یہ محبت اور احترام میں بھی کبھی بھول نہیں پاؤں گا اور یہ کہ ہمیشہ میری دعائیں آپ کے ساتھ ہیں۔ان حیرت انگیز واقعات کے ذکر کرنے کا مقصد یہ ہے کہ ہمارے بچے آج بھی ہمارا بڑا احترام کرتے ہیں،بس وہ ہم سے شفقت،پیار،خلوص اور اخلاقی وروحانی تربیت کے متقاضی ہوتے ہیں۔وہ اپنی پروان چڑھتی سوچ میں طوفانوں کی طرح اٹھنے والے سوالات کے اطمینان بخش جوابات چاہتے ہیں جو ان کے ذوق تسخیر کی تسکین کر سکیں۔وہ اپنے استاد سے اپنے ہر مسئلے کے حل کی امید رکھتے ہیں۔

وہ اپنے استاد کو اپنا آئیڈیل بنانا چاہتے ہیں لیکن ہماری طرف سے ان کو نہ سمجھنے والا دماغ ان کو مایوس کر دیتا ہے۔آن لائن کلاسز کے دوران کسی آؤٹ سائیڈر بچے نے ایک کلاس کے طالب علم کی (جو یقینا اس کا دوست ہو گا) آئی ڈی ہیک کر لی اور دوران کلاس وہ طرح طرح کی آوازیں نکالنے لگا جس سے مجھے اپنی بات کرنے میں خاصی دقت ہوئی،میں نے ایک دو بار عام سے لفظوں میں تنبیہہ کی،ایک دو بار اسے ریموو کیالیکن وہ تو مکمل شرارت کے موڈ میں تھا۔پھر میرا بھی موڈ بدلا اور میں نے اسے دو منٹ میں ایسے پیار سے سمجھایا۔قرآن کی ایک آیت کے زریعے خوف خدا دلایا۔اور کہا کہ میں آپ کو ریموو نہیں کروں گا،آپ یقینا بہت اچھے ہیں لیکن اس وقت شیطان کے نرغے میں ہیں ورنہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ایک اچھے گھرانے سے تعلق رکھنے والا ایک طالب علم ہو اور ایسی اخلاق سے گری ہوئی حرکت کرے۔سو اب آپ کا دل کرے تو آپ کلاس میں موجود رہیں اور مجھے سنیں یقینا آپ آج کے لیکچر سے لطف اندوز ہوں گے۔بلکہ آپ یہ حسرت کریں گے کہ کاش آپ نے بھی ہمارے اس ادارے میں داخلہ لیا ہوتا۔ اس نے فورا انتہائی عاجزی سے مجھ سے معذرت کی اور اس کے بعد کبھی تنگ نہیں کیا۔میں آج بھی سوچتا ہوں کہ اگر میں اسے ضد پر مائل کرتا تو نجانے وہ اور کتنا تنگ کرتا۔جب بچے ہماری عزت نہیں کرتے تو اس میں سارا قصور بچوں کا نہیں ہوتا۔اس میں اکثر ہم قصور وار ہوتے ہیں لیکن چونکہ ہم بڑے ہوتے ہیں تو اپنے بڑے پن کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے سارے الزامات بچوں کے سر دھر دیتے ہیں۔ہمارے بچے بد تہذیب نہیں بس کاش ہم استاد بن جائیں تو پھر دیکھیں کہ بچے کیسے ہمارے آگے اپنی پلکیں بچھاتے ہیں۔

اویس خالد

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • منہ پھیکا کرا دیں گے
  • اب بس کرو ماں
  • خیالی زخم نہ مرہم سے
  • جب ہم پاکستانی بن کرسوچیں گے
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
دیوتاؤں کے دیوتا
پچھلی پوسٹ
8اکتوبر: جب زمین لرز اٹھی!

متعلقہ پوسٹس

جُگنُو

جولائی 6, 2025

ساگر

اکتوبر 14, 2025

میں اس زمیں سے نہیں اور آسماں سے نہیں

مئی 15, 2020

علامہ اقبال پر ایک اردو مضمون

دسمبر 15, 2016

پاس رہ کر بھی حال دل

جون 8, 2024

خزاں کی مسکراہٹ

دسمبر 10, 2024

ننگی آوازیں

جنوری 12, 2020

حد درجہ تیرا معاملہ

مارچ 4, 2025

زہریلی بارش

دسمبر 10, 2018

مشکل وقت میں کیا کریں؟

مئی 11, 2026

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • سحر بونیرے on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • سید مسعود فیروزی on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • Meesam Ali Agha on خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل

اسلامی گوشہ

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

سلام اُن حیدرِ کرار کے

جون 21, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

باطل نصیریوں کا عقیدہ ذرا نہ ہو

جون 18, 2026

محرم الحرام کی پہلی تاریخ

جون 17, 2026

اردو شاعری

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے...

جون 29, 2026

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جون 29, 2026

جو اپنے یار سے درخواست کرنا

جون 29, 2026

حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

جون 29, 2026

جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

جون 29, 2026

اردو افسانے

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

دادا جان کی ٹھنڈی چھاؤں

مئی 26, 2026

چائے کی پیالی

مئی 24, 2026

اردو کالمز

کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

جون 29, 2026

مرغوں کا عالمی ڈربا اور استعماریت کا دانہ

جون 26, 2026

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

محرم الحرام

جون 18, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

    جون 29, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

انسانیت کا جنازہ ذرا دھوم سے...

اگست 25, 2025

لحاف

نومبر 2, 2019

تیرے چہرے کی تلاوت کی ہے

اگست 23, 2020
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں