خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو بابا8اکتوبر: جب زمین لرز اٹھی!
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمزعابد ضمیر ہاشمی

8اکتوبر: جب زمین لرز اٹھی!

از سائیٹ ایڈمن اکتوبر 9, 2020
از سائیٹ ایڈمن اکتوبر 9, 2020 0 تبصرے 94 مناظر
95

8اکتوبر: جب زمین لرز اٹھی!

آج 08اکتوبر کا دن ان ماؤں ٗبہنوں ٗ بیٹیوں ٗ والدین ٗ اولادکے لیے ان ہولناکیوں کی یاد تازہ کرتا ہے جو کچھ ہی لمحے پہلے ساتھ تھے ٗ اور پھر لمبی جدائی کے مصداق سینے چھلنی ہو کر رہ گے۔قدرتی آفات میں زلزلہ ایسی آفت ہے جوکرہ ارض پر جہاں بھی آتا ہے وہاں تبا ہی وبربادی لاتا ہے۔ دُنیا میں ابھی تک کوئی ایسانظام ایجاد نہیں ہو ا جس سے زلزلہ کا پیشگی پتہ چل سکے۔ بیسویں اوراکیسویں صدی میں کئی تباہ کن زلزلے آئے جولاکھوں جانوں کو لقمہ اجل بنا گئے۔زلزلوں کا مختصراًاحوال یوں ہے: 1920ء میں چین میں زلزلہ میں دولاکھ پینتیس ہزارافرادہلاک ہو ئے،1921ء میں چین میں دولاکھ افرادجان سے گئے،1923ء میں جاپان کے شہر کالا ہاما میں ایک لاکھ چالیس ہزار القمہ اجل بنے، 1935 میں پاکستان کے شہرکوئٹہ میں ساٹھ ہزار افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے،1980ء میں اٹلی کے زلزلہ میں تریاسی ہزارافراد شہیدہوئے تھے،2001میں ہندوستان کے شہر گجرات میں چالیس ہزار افرادہلاک ہوئے، 2004 میں سونامی سے ہندوستان،انڈونیشیا ء،سری لنکا تھائی لینڈمیں دولاکھ افراد لقمہ اجل بنے تھے۔2005 میں آزاد کشمیر میں قیامت خیز زلزلہ میں کشمیر اور صوبہ خیبر پختونخوا میں 70ہزار افراد شہید ہوئے تھے۔ ابھی وہ زخم ہرے ہی تھے کہ میرپور آزاد کشمیر زلزلہ سے لرز اٹھا جس سے26افراد جان سے گئے کئی افراد زخمی ٗ شاہرائیں کھنڈرات بن گئی ٗ کئی گھر ویران ٗ رہی سہی کسر آفٹر شاکس نے نکلا دی۔
8اکتوبر2005کو کوہ ہمالیہ اور ہندوکش کی ان پہاڑوں سے اٹھنے والے لہروں نے تباہ کن شکل اختیار کی جس میں زلزلے کی شدت 8.3رہی اس زلزلے میں اگلے کچھ منٹوں کے اندر سب کچھ لتاڑ کر کے رکھ دیا کسی کو کیا خبر تھی کہ صرف تین منٹ تک چلنے والی یہ لہریں (اور اسکے 1500 after shocks)مشرق سے مغر ب تک کی دنیا کو مسما ر کر دے گی انسان،حیوان،بلند عما رتیں،دیدہ ور شکلیں خاک و خساک میں مل جائے گی اس زلزلے کی وجہ سے کہیں پر انسان کے مایہ ناز بدن کئے دن تک عمارتوں کے ملبے کے اندر پڑے رہے تو کہیں پر انسان کو سریا و سیمنٹ،اینٹوں،پتھروں اور درختوں نے گھیر لیا تھا آبادیاں سیکنڈوں کے اندر سنسان ہوئی سڑکیں کھنڈرات میں بدل گئی تمام رسد کے راستے بند ہوئے رمضان کی وجہ سے دور دراز کے علاقوں (remote)تک نہ پہنچنے کی وجہ سے بہت سارے لوگ لقمہ اجل بنے زلزلہ زدہ علاقوں پر آج بھی موت کے سائے منڈلا رہے ہیں دہشت،وحشت،خوف اور تباہی و بربادی کی وجہ سے آج بھی یہ علاقے کھنڈرات کا نقشہ پیش کر رہے ہیں اس زلزلے کو کسی نے قیامت کا نام دیا تو کسی نے حشر کا،زلزلے سے ڈرے ہوئے لوگ آج بھی اس قیامت خیز لمحات کو یاد کرکے اپنے رشتہ دار لخت جگر پیارے یاد کرتے ہیں تو خون کے انسوں روتے ہیں اس قیامت خیز زلزلے میں زیر زمین ملبے کے اندر پڑے ہوئے لاشوں کا نکا لنا ایک دشوار مرحلہ تھا تو چیختے چلاتے ہوئے انسانوں کے کٹے ہوئے اعضاء کو ٹٹو لنا اس سے بھی بڑھ کر امتحان تھا۔
زلزلوں میں مالی نقصانات کا تخمین کھربوں ڈالرز میں تھا 26 اکتوبر 2015میں پاکستان میں 8.1شدت کا زلزلہ آیا تھا جس سے خیبر پختون خوا کے ملاکنڈ ڈویژن اور قبائلی علاقہ اور باجوڑ ایجنسی میں 270تک لوگ شد ید اور 1000کے قریب زخمی ہونے کے ساتھ ہی اربوں کی مالیت املاک کو نقصان پہنچایا تھا۔

اس وقت دُنیا بھر میں روائتی جنگوں کا تصور بدل رہاہے، اب معاشی واقتصادی جنگیں لڑی جارہی ہیں، خلا میں بالادستی قائم کرنے والی قوم ہی اقوام عالم میں ممتاز مقام حاصل کرسکتی ہے۔ سیٹلائٹ ٹیکنالوجی نے ایک نئی جہت پیدا کی ہے۔ ابھی تو سیٹلائٹ ٹیکنالوجی کا آغاز ہے، یہ ٹیکنالوجی کہاں تک پہنچے گی اندازہ نہیں لگایا جا سکتا۔ کائنات کا سارا نظام ہی لہروں سے چل رہا ہے، ہر ستارے اور سیارے کی حرکت سے جوارتعاش پیدا ہورہا ہے اسکے اثرات ہماری زمین اور دوسرے سیاروں پر بھی پڑتے ہیں اب سائنس ان بنیادوں پر کام کر رہی ہے کہ جس کا قرآن پاک میں بھی ذکر ہے۔
سائنس و ٹیکنالوجی اور جدید ریسرچ میں عبور حاصل کر نا غیر مسلموں کا اثاثہ نہیں بلکہ یہ مسلمانوں کی میراث بھی ہے اور فرض بھی، اسلام کے وہ بنیادی تصورات اور تعلیم جس سے تقریباً ہر مسلمان واقف ہے، جدید ریسرچ پر ہی زور دیتے ہیں۔
ہماری کہکشاں گلیکسی وے میں سورج جیسے اربوں ستارے ہیں ان کے اپنے نظام شمسی ہیں۔سورج سے ہزاروں گُنا بڑے ستارے بھی ہماری کہکشاں میں موجود ہیں۔ہماری کہکشاں سے سینکڑوں بلکہ ہزاروں گُنا بڑی کئی کہکشائیں دریافت ہوچکی ہیں۔ کائنات میں کھربوں میل کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔
سب سے پہلے انسان نے اپنی بنیادی ضروریات پر توجہ دی۔ دھاتوں کو اپنے استعمال میں لایا پھر آہستہ آہستہ سائنسی ایجادات کی دُنیا میں داخل ہوا اب ہر لمحہ نِت نئی ایجادات ہو رہی ہیں، مگر یہ سارا علِم وہ ہے کہ جو آدم کو اللہ کا نائب ڈکلیئر کرنے سے پہلے ہی عطا کر دیا گیا تھا۔
اسلام کے اولین دور میں ہی علِم جفراور دوسرے علوم کے ساتھ مسلمان سائنسدانوں نے سائنس پر ریسرچ کرنی شروع کی۔ مسلمان سائنسدانوں کی اس سائنسی ریسرچ کا تعلق روحانیت کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔ جب تک مسلمانوں نے سائنس کو دین اور روحانیت کا حصہ سمجھا وہ علِمی اور سائنسی ترقی میں دوسری اقوام سے بہت آگے نِکل گئے۔
نیل آراسٹرانگ نے چاند پر پہلا قدم رکھا تو اسے شِرک قرار دیا اور کہا کہ سورج چاند اللہ تعالیٰ کے پوشیدہ راز ہیں بھلا کوئی وہاں تک کیسے پہنچ سکتا ہے مگر اب سائنس اس قدر ترقی کر چکی ہے کہ کائنات کی وسعت کا اندازہ لگایا جارہا ہے۔ کہکشائیں دریافت ہوچکی ہیں۔ کائنات میں کھربوں میل کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔
جوہری سائنسدانوں نے انتہائی خوفناک اور شدت کے ساتھ زلزلے کے خدشے کا اظہار کیا ہے۔ یہ اس قدر خطرناک ہوگا کہ براعظموں کو جدا کردیگا اور اس سے کروڑوں لوگ ہلاک ہوجائینگے۔ شمالی اور جنوبی امریکہ کے براعظم ٹوٹ کے الگ ہوجائینگے۔ میگا سونامی کے ٹکرانے سے امریکہ اور ایشیاء میں تقریبا 4کروڑ افرادہلاک ہوسکتے ہیں۔ یونیورسٹی آف لندن میں جوہری انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کرنے والے ایک ڈاکٹر نے دعویٰ بھی کیا کہ یہ سونامی اور زلزلہ اس قدر شدید ہوگا کہ صرف امریکہ کے مغربی ساحل پر 2 کروڑ افرادہلاک ہو سکتے ہیں۔
انہی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے سائنس دانوں نے Svalbardنامی جزیرے میں تمام جینز کو محفوظ کرنے کا پروگرام بنایا تھا۔ ”سوالبارڈ“ نارتھ پول اور ناروے کے بیچ میں واقع ایک ٹھنڈا جزیرہ ہے۔ یہ دُنیا کا سب سے سرد علاقہ ہے۔ اس کا درجہ حرارت ہمیشہ منفی ڈگری سینٹی گریڈ رہتا ہے۔ اس میں ”حفاظتی تہہ خانہ“ بنایا گیا ہے۔

یہ سمندر کی سطح سے 130 میٹر بلند ہے۔ جو کسی بھی سمندری آفت یا سطح سمندر کے بڑھنے کے خطرات سے محفوظ رہے گا۔ اس میں تین والٹس بنائے گئے ہیں جن میں 15 لاکھ بیجوں کے سیمپلز فی والٹ رکھے جاسکتے ہیں۔ مجموعی طورپر 45 لاکھ نمونے رکھے جاسکتے ہیں۔ یہاں کا درجہ حرارت منفی 18 ڈگری رکھا جائے گا جوکہ ان بیجوں اور جینز کی عرصہ دراز تک حفاظت کیلئے ضروری ہے۔
19 جون 2006ء کو اس گلوبل سیڈ والٹ کا سنگِ بنیاد ناروے، سویڈن، فن لینڈ، ڈنمارک اور آئی لینڈ کے وزرائے اعظم نے رکھا تھا اور 26 فروری 2008ء کو اسے مکمل کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق اس وقت دُنیا میں 60 لاکھ مختلف اقسام کے بیج مختلف ملکوں کے جینز بینکوں میں محفوظ ہیں لیکن یہ تمام بینک قدرتی آفات اور نیوکلیئر جیسے خطرات محفوظ نہیں جس کے باعث ان کی بقا یقینی نہیں۔
ان خطرات کے پیش نظر سائنس دانوں کی ایک کمیٹی اس بات پر متفق ہوئی ہے کہ ہمیں اس بنیادی ضرورت کی حفاظت اور بقا کیلئے ”کرہ ارض پر بدترین صورتِ حال“ کو ذہن میں رکھتے ہوئے جس میں کوئی بہت بڑی قدرتی آفت کی وجہ سے یا نیوکلیئر وار کی وجہ سے کسی ملک یا خطے کی زمینی پیداواری صلاحیت کا یکسر ختم ہوجانا کوئی خاص بیج کی نسل کا دُنیا سے یکسر ختم ہوجانا جیسے خطرات کو سامنے رکھتے ہوئے کوئی انتہائی جدید اور محفوظ انتظام کرنا ہوگا۔
فضا میں اس قدر آلودگی ہے کہ سائنسدانوں اور ماہرین فلکیات وارضیات کے مطابق آئندہ سالوں میں شدید گرمی، حبس اور سردی ہوگی۔ دُنیا تیزی سے اپنے منطقی انجام کی طرف جارہی ہے۔ سبھی متفق ہیں اگر اب تیسری عالمی جنگ ٗجو کہ ایٹمی جنگ ہوگی ٗچھڑگئی تو اتنی تباہی آئے گی کہ شاید حضرت نوحؑ کے دور کی طرح پوری دنیُا ختم ہوکر رہ جائے۔ ماہرین کی مختلف رپورٹوں کے مطابق آنے والے وقتوں میں خوفناک زلزلے، سیلاب، آندھی طوفان اور تباہی بھی آسکتی ہے۔
ا امریکہ، یورپ، ایشیا ء ٗ پاکستان ٗ کشمیر سمیت پوری دُنیا میں ہولناک طوفان اور زلزلے آبھی چکے ہیں۔ایک سائنسی نقطہ نظر تو دوسری حقیقت یہ ہے کہ:قرآن میں اللہ فرماتے ہیں: ”زمین اور آسمان میں جو فساد ظاہر ہوتا ہے اس کا سبب انسانوں کے اپنے اعمال ہی ہیں۔“ انسان جیسے اعمال کرتا ہے ویسے ہی اس کے اثرات ظاہر ہوتے ہیں۔ ایسے حوادث کے ذریعے اللہ تنبیہ کرتے ہیں کہ توبہ اور رجوع کریں۔ آپ ﷺکے زمانے میں زمین ہلنے لگی تو آپ نے زمین پر ہاتھ رکھ کر فرمایا:”ٹھہر جا! ابھی قیامت کا وقت نہیں آیا۔“ اور پھر آپ نے لوگوں سے مخاطب ہوکر فرمایا: ”اپنے گناہوں سے توبہ کرو اور معافی مانگو۔“
اللہ تعالیٰ شہدا زلزلہ زدگان کو بلندی درجات عطا فرمائیں، لواحقین کو یہ عظیم صدمہ برداشت کرنے کی توفیق اور اجراء عظیم عطا فرمائیں۔۔۔اس کے ساتھ یہ دن اس بات کا بھی متقاضی ہے کہ ہم نے اس سے کیا سیکھا؟

عابد ضمیر ہاشمی

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • اک حسیں دشت میں پر نور نظارہ دیکھا
  • مس چڑیا کی کہانی
  • میجر سبطین حیدر
  • چوہے دان
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
کاش ہم استاد بن جائیں
پچھلی پوسٹ
منافقت سے بھری محبت

متعلقہ پوسٹس

محبت کی دیوی پروفیسر ڈاکٹر روبینہ شاہین

جولائی 4, 2026

ترے دئیے کی تھی باتی

مارچ 21, 2025

کھوٹے سِکوں کا پاکستان

نومبر 19, 2019

پیارا بکرا

مئی 30, 2025

کہیں مل جائے وہ خوشبو تو کہنا

جون 12, 2020

لالہ امام بخش

فروری 14, 2022

راضی

اکتوبر 30, 2020

اردو اشعار

مئی 9, 2025

نیند کی شان بڑھائے تو مزہ آ جائے

مئی 9, 2020

شامت اعمال ہیں

جون 19, 2023

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • زمیں کی بات کرتے ہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

    اکتوبر 11, 2026
  • مرد کے حصے کا ہجر

    اکتوبر 11, 2026
  • تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

    اکتوبر 11, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • Ayesha khan on میری خوش فہمی تھی
  • Ayesha khan on جن کو دیدار میسر ہو ہر شام تیرا
  • سعیدہ on جن کو دیدار میسر ہو ہر شام تیرا
  • سعیدہ on میری خوش فہمی تھی
  • صنم گل on مسدس نعتیہ نظم "مانگتا ہوں”

اسلامی گوشہ

زمیں کی بات کرتے ہیں

اکتوبر 11, 2026

شوقِ عبادت

اکتوبر 4, 2026

ذکر محمد ﷺ

ستمبر 30, 2026

شہر مکہ سے مدینے کا سفر ہو

ستمبر 26, 2026

مسدس نعت "معراجِ ثنا”

ستمبر 23, 2026

اردو شاعری

ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ...

اکتوبر 11, 2026

تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

اکتوبر 11, 2026

میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

اکتوبر 11, 2026

یوں آسماں کے ستارے نہ دیکھ

اکتوبر 11, 2026

لوگ نکمّے ہم سے سروکار نہیں رکھتے

اکتوبر 11, 2026

اردو افسانے

طاقت کا امتحان

ستمبر 27, 2026

سرخ پینسلیں اور خستہ حال خیمہ

اگست 9, 2026

وہ درخت جو اپنے سائے سے رُوٹھ گیا

اگست 3, 2026

ماں کی خاموش دُعا

جولائی 24, 2026

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

اردو کالمز

مرد کے حصے کا ہجر

اکتوبر 11, 2026

مجھے وہاں جانا ہے

اکتوبر 10, 2026

شوقِ عبادت

اکتوبر 4, 2026

تاریخ کشی

اکتوبر 1, 2026

یہ اعزاز ہے ہماری مٹی کا

ستمبر 28, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا موبائل ایپ

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • زمیں کی بات کرتے ہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

    اکتوبر 11, 2026
  • مرد کے حصے کا ہجر

    اکتوبر 11, 2026
  • تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

    اکتوبر 11, 2026
  • یوں آسماں کے ستارے نہ دیکھ

    اکتوبر 11, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

تماشہ

جنوری 17, 2025

ستاروں کا جگ پر اُبھرنا فنا...

جولائی 10, 2020

دنیا کا سب سے انمول رتن

مارچ 13, 2020
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں