خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو باباکھوٹے سِکوں کا پاکستان
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمزعلی عبد اللہ ہاشمی

کھوٹے سِکوں کا پاکستان

ایک کالم از علی عبد اللہ ہاشمی

از سائیٹ ایڈمن نومبر 19, 2019
از سائیٹ ایڈمن نومبر 19, 2019 0 تبصرے 587 مناظر
588

"کھوٹے سِکوں کا پاکستان” قائدِ اعظم کے کھوٹے سِکے مشہور ضرور ہوئے لیکن حقیقت یہ ھے کہ روزِ اول سے آجدن تک انہی کھوٹے سِکوں یا نہلوں نے اس ملک پر حکومت کی ھے۔ آجتک کوئی بڑا لیڈر ان کھوٹے سِکوں کا علاج نہیں کر پایا ان سے ہماری نسلوں کی جان نہیں چھُڑوا پایا۔ قائد کے بعد ذوالفقار علی بھُٹو، انکے بعد بینظیر بھُٹو اور کسی حد تک موجودہ نواز شریف، جو جو شخص عوامی توجہ اور ووٹ کا مستحق ٹھہرا ان کھوٹے سِکوں نے اُسکے تلوے چاٹنے شروع کر دیئے۔

نظام میں انکی جگہ گو پہلے سے موجود تھی لیکن مستحکم صرف تلوے چاٹنے کی مہارت کے سبب رہی۔ یہ ایسے گھاگ اور کایاں ہیں کہ اپنے بچوں کو گھُٹی میں چاپلُوسی کا ہُنر دیتے ہیں اور کیونکہ یہی لوگ پچھلے بہتر سالوں سے حُکمران ہیں لہذا یہ ہماری قومی اخلاقیات پر اثر انداز ہیں۔ انہوں نے اس قوم کو یہ یقین دلا دیا ھے کہ الیکشن صرف پیسے سے جیتا جا سکتا ھے اور کیونکہ وہ پیسہ نسل در نسل انہی کی تجوریوں میں اکٹھا ہوتا رہا ھے تو اول تو عام کارکن پارٹی ٹکٹ کے حصول کو فضول جانتا ھے کیونکہ وہ پیسے کی سیاست سے مرعوب ہو چکا ھے دوسرا نظریاتی پارٹیوں کی لیڈرشِپ بھی الیکٹیبلز کو اقتدار کی کُنجی سمجھنا شروع ہو گئی ہے اور یہی وہ وجہ ھے کہ ہمارے ملک میں "نظریاتی سیاسی کارکن” کی موت ہو گئی ھے۔

وہ قیادت جو محنت سے اوپر آتی ھے وہ نیچے درپیش عوامی مسائل سے نہ صرف آگاہ ہوتی ھے بلکہ وہ لیڈرشپ اور عوام میں کنٹرول سمیت آگاہی کا سبب بنتی ھے جو اس مُلک میں ناپید ھے۔ اسی گندے کھیل نے ایماندار نظریاتی کارکن کو یا تو دیہاڑی دار بنا دیا ھے یا پھر وہ میری طرح بدتمیز ہو گیا ھے اور معاشرے میں مایوسی پھیلا رہا ھے اور اس سارے گندے کھیل کی آبیاری تیسری قوت نے کی ھے۔ بھُٹو صاحب نے جو حرارت، جُرآت اور جذبہ نِچلے طبقات میں پیدا کیا حقیقت میں وہی انکے قتل کا باعث بنا۔ انگریز دور سے قائم دائم کمپنی سرکار اور کھوٹے سکوں کے گٹھ جوڑ پر غریب آدمی کا جُوتا رکھنے والے بھُٹو صاب شائید جانتے تھے کہ انکے پاس وقت تھوڑا ھے اسی لیئے انھوں نے ایک ایک گرہ لگانے کی بجائے سرمایہ داروں، جاگیرداروں اور افسر شاھی کو سیدھا گردن سے پکڑا اور غریبوں کو اس ملک کے مالکانہ حقوق دیدیئے۔ انہیں شائید یہ گُمان تھا کہ چھ سال آزادی میں سانس لینے کے بعد یہ طبقات خود آمدہ آزادی کی حفاظت کریں گے۔ یہ نہیں کہ یہ لوگ اس نظام کو بچانے یا بھُٹو صاحب کیلئے اُٹھے نہیں۔ اصل میں یہی لوگ تو اُٹھے اور بھرپور مزاحمت کی۔ انہی لوگوں نے جیلیں بھریں، کال کوٹھریاں دیکھیں، پھانسیاں چُوم کر اپنے گلے میں ڈالیں اور ہنستے گاتے انقلاب کے احیاء کا خواب لیئے پرلوک سِدھار گئے۔ لیکن وہ شائید یہ بھولے بیٹھے تھے کہ جب بھوک لگتی ھے تو سب سے پہلے نظریات تیل لینے چلے جاتے ہیں۔ 1988 تک بھُٹو صاحب کا لاڈلا غریب ایک تھکا ہوا نظریاتی کارکن ضرور تھا لیکن حکومت آنے پر وہ اپنے بچے پالنے میں رُجھ گیا۔ اسکی جگہ کھوٹے سکوں نے فوراً بھر دی لیکن یہ بھی تلخ حقیقت ھے کہ بی بی صاحبہ بھی بھُٹو کے لاڈلے غریب کو یکجا نہ رکھ پائیں۔ کیسے رکھ پاتیں؟ کراچی ممبئی کے قریب ایک شہر ھے اور وہاں کا کرایہ ہر دور میں زیادہ رہا ھے۔

جیلوں کا ایندھن بننے والے اب عمر کے اُس حِصے میں پہنچ گئے تھے کہ اپنے اردگرد ابن الوقتوں کو پنپتا دیکھ کر بجائے یہ کہ لڑتے مرتے انہوں نے کنارا کر لیا۔ ووٹ دیتے رہے لیکن آہستہ آہستہ تھانے کچہری کے کلچر کا شکار ہو گئے۔ لیکن آج پھر کارکن بلاول کو دیکھ کر متحرک ہو رہا ھے۔ وہ کسی ضلعی ڈویژنل یا صوبائی عہدے پر نہیں لیکن وہ بات کر رہا ھے۔ بھٹو صاحب کا تعارف اس بھُلکڑ سماج کو کرا رہا ھے اور آج ہی یہ محسوس
ہونا شروع ہو گیا ھے کہ بُوٹ چاٹ کھوٹے سِکے بھی ہوا کا رُخ تول رھے ہیں۔ جونہی بلاول بھٹو اپنے کارکنوں کو لیکر میدان میں اترے گا، پہلی دوسری سیاسی فتح کیساتھ ہی کھوٹے سکوں کی ٹرانسفر کا عمل خاموشی سے جاری ہو جائے گا۔ یہ پھر اپنی گاڑیوں میں لاڑکانے کا تیل بھروا لیں گے اور پھر کارکن دیکھتا رہ جائے گا۔ اور کیوں نہ ہو یہ ملک ھے ہی قائدِ اعظم کے کھوٹے سکوں کا۔ انہی کی اولادوں نے آئیندہ اس ملک کی باگ دوڑ سنبھالنی ھے.

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • تجھ کو لگتا ہے عارضی دکھ ہے
  • اس نے جب ڈوبتے سورج کا اشارا دیا تھا
  • کچھ کو صبح روشنی کچھ کو خدا دے گا چراغ
  • جانوس
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
میں ریگ زار تھا چمک اٹھا درِ حضورِﷺ سے
پچھلی پوسٹ
ہنوذ دِلّی دُور است

متعلقہ پوسٹس

شامت اعمال ہیں

جون 19, 2023

سجدے کی حالت میں

دسمبر 6, 2025

شریفن

اکتوبر 20, 2019

گھر کی اصل طاقت

جون 5, 2026

اشعار کی صحت کے متعلق چوتھا کالم

اگست 20, 2020

اللہ تعالیٰ کے احسانات کا شکر

جنوری 5, 2022

نالہِ ہجر نہیں وصل بھی درکار نہیں

اکتوبر 25, 2025

اولاد کی پیدائش اور کہنی کی چوٹ

فروری 12, 2019

رجو

جنوری 3, 2022

شہرت کیلئے ملک اور قوم کی عزت

ستمبر 7, 2021

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • زمیں کی بات کرتے ہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

    اکتوبر 11, 2026
  • مرد کے حصے کا ہجر

    اکتوبر 11, 2026
  • تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

    اکتوبر 11, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • Ayesha khan on میری خوش فہمی تھی
  • Ayesha khan on جن کو دیدار میسر ہو ہر شام تیرا
  • سعیدہ on جن کو دیدار میسر ہو ہر شام تیرا
  • سعیدہ on میری خوش فہمی تھی
  • صنم گل on مسدس نعتیہ نظم "مانگتا ہوں”

اسلامی گوشہ

زمیں کی بات کرتے ہیں

اکتوبر 11, 2026

شوقِ عبادت

اکتوبر 4, 2026

ذکر محمد ﷺ

ستمبر 30, 2026

شہر مکہ سے مدینے کا سفر ہو

ستمبر 26, 2026

مسدس نعت "معراجِ ثنا”

ستمبر 23, 2026

اردو شاعری

ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ...

اکتوبر 11, 2026

تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

اکتوبر 11, 2026

میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

اکتوبر 11, 2026

یوں آسماں کے ستارے نہ دیکھ

اکتوبر 11, 2026

لوگ نکمّے ہم سے سروکار نہیں رکھتے

اکتوبر 11, 2026

اردو افسانے

طاقت کا امتحان

ستمبر 27, 2026

سرخ پینسلیں اور خستہ حال خیمہ

اگست 9, 2026

وہ درخت جو اپنے سائے سے رُوٹھ گیا

اگست 3, 2026

ماں کی خاموش دُعا

جولائی 24, 2026

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

اردو کالمز

مرد کے حصے کا ہجر

اکتوبر 11, 2026

مجھے وہاں جانا ہے

اکتوبر 10, 2026

شوقِ عبادت

اکتوبر 4, 2026

تاریخ کشی

اکتوبر 1, 2026

یہ اعزاز ہے ہماری مٹی کا

ستمبر 28, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا موبائل ایپ

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • زمیں کی بات کرتے ہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

    اکتوبر 11, 2026
  • مرد کے حصے کا ہجر

    اکتوبر 11, 2026
  • تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

    اکتوبر 11, 2026
  • یوں آسماں کے ستارے نہ دیکھ

    اکتوبر 11, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

زندگی ایک ماجرا تو ہے

مارچ 3, 2020

وہی تو اوجِ خِرَد پر براجمان...

مئی 28, 2024

تاج ہاؤس

جنوری 6, 2026
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں