خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو باباکھوٹے سِکوں کا پاکستان
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمزعلی عبد اللہ ہاشمی

کھوٹے سِکوں کا پاکستان

ایک کالم از علی عبد اللہ ہاشمی

از سائیٹ ایڈمن نومبر 19, 2019
از سائیٹ ایڈمن نومبر 19, 2019 0 تبصرے 509 مناظر
510

"کھوٹے سِکوں کا پاکستان” قائدِ اعظم کے کھوٹے سِکے مشہور ضرور ہوئے لیکن حقیقت یہ ھے کہ روزِ اول سے آجدن تک انہی کھوٹے سِکوں یا نہلوں نے اس ملک پر حکومت کی ھے۔ آجتک کوئی بڑا لیڈر ان کھوٹے سِکوں کا علاج نہیں کر پایا ان سے ہماری نسلوں کی جان نہیں چھُڑوا پایا۔ قائد کے بعد ذوالفقار علی بھُٹو، انکے بعد بینظیر بھُٹو اور کسی حد تک موجودہ نواز شریف، جو جو شخص عوامی توجہ اور ووٹ کا مستحق ٹھہرا ان کھوٹے سِکوں نے اُسکے تلوے چاٹنے شروع کر دیئے۔

نظام میں انکی جگہ گو پہلے سے موجود تھی لیکن مستحکم صرف تلوے چاٹنے کی مہارت کے سبب رہی۔ یہ ایسے گھاگ اور کایاں ہیں کہ اپنے بچوں کو گھُٹی میں چاپلُوسی کا ہُنر دیتے ہیں اور کیونکہ یہی لوگ پچھلے بہتر سالوں سے حُکمران ہیں لہذا یہ ہماری قومی اخلاقیات پر اثر انداز ہیں۔ انہوں نے اس قوم کو یہ یقین دلا دیا ھے کہ الیکشن صرف پیسے سے جیتا جا سکتا ھے اور کیونکہ وہ پیسہ نسل در نسل انہی کی تجوریوں میں اکٹھا ہوتا رہا ھے تو اول تو عام کارکن پارٹی ٹکٹ کے حصول کو فضول جانتا ھے کیونکہ وہ پیسے کی سیاست سے مرعوب ہو چکا ھے دوسرا نظریاتی پارٹیوں کی لیڈرشِپ بھی الیکٹیبلز کو اقتدار کی کُنجی سمجھنا شروع ہو گئی ہے اور یہی وہ وجہ ھے کہ ہمارے ملک میں "نظریاتی سیاسی کارکن” کی موت ہو گئی ھے۔

وہ قیادت جو محنت سے اوپر آتی ھے وہ نیچے درپیش عوامی مسائل سے نہ صرف آگاہ ہوتی ھے بلکہ وہ لیڈرشپ اور عوام میں کنٹرول سمیت آگاہی کا سبب بنتی ھے جو اس مُلک میں ناپید ھے۔ اسی گندے کھیل نے ایماندار نظریاتی کارکن کو یا تو دیہاڑی دار بنا دیا ھے یا پھر وہ میری طرح بدتمیز ہو گیا ھے اور معاشرے میں مایوسی پھیلا رہا ھے اور اس سارے گندے کھیل کی آبیاری تیسری قوت نے کی ھے۔ بھُٹو صاحب نے جو حرارت، جُرآت اور جذبہ نِچلے طبقات میں پیدا کیا حقیقت میں وہی انکے قتل کا باعث بنا۔ انگریز دور سے قائم دائم کمپنی سرکار اور کھوٹے سکوں کے گٹھ جوڑ پر غریب آدمی کا جُوتا رکھنے والے بھُٹو صاب شائید جانتے تھے کہ انکے پاس وقت تھوڑا ھے اسی لیئے انھوں نے ایک ایک گرہ لگانے کی بجائے سرمایہ داروں، جاگیرداروں اور افسر شاھی کو سیدھا گردن سے پکڑا اور غریبوں کو اس ملک کے مالکانہ حقوق دیدیئے۔ انہیں شائید یہ گُمان تھا کہ چھ سال آزادی میں سانس لینے کے بعد یہ طبقات خود آمدہ آزادی کی حفاظت کریں گے۔ یہ نہیں کہ یہ لوگ اس نظام کو بچانے یا بھُٹو صاحب کیلئے اُٹھے نہیں۔ اصل میں یہی لوگ تو اُٹھے اور بھرپور مزاحمت کی۔ انہی لوگوں نے جیلیں بھریں، کال کوٹھریاں دیکھیں، پھانسیاں چُوم کر اپنے گلے میں ڈالیں اور ہنستے گاتے انقلاب کے احیاء کا خواب لیئے پرلوک سِدھار گئے۔ لیکن وہ شائید یہ بھولے بیٹھے تھے کہ جب بھوک لگتی ھے تو سب سے پہلے نظریات تیل لینے چلے جاتے ہیں۔ 1988 تک بھُٹو صاحب کا لاڈلا غریب ایک تھکا ہوا نظریاتی کارکن ضرور تھا لیکن حکومت آنے پر وہ اپنے بچے پالنے میں رُجھ گیا۔ اسکی جگہ کھوٹے سکوں نے فوراً بھر دی لیکن یہ بھی تلخ حقیقت ھے کہ بی بی صاحبہ بھی بھُٹو کے لاڈلے غریب کو یکجا نہ رکھ پائیں۔ کیسے رکھ پاتیں؟ کراچی ممبئی کے قریب ایک شہر ھے اور وہاں کا کرایہ ہر دور میں زیادہ رہا ھے۔

جیلوں کا ایندھن بننے والے اب عمر کے اُس حِصے میں پہنچ گئے تھے کہ اپنے اردگرد ابن الوقتوں کو پنپتا دیکھ کر بجائے یہ کہ لڑتے مرتے انہوں نے کنارا کر لیا۔ ووٹ دیتے رہے لیکن آہستہ آہستہ تھانے کچہری کے کلچر کا شکار ہو گئے۔ لیکن آج پھر کارکن بلاول کو دیکھ کر متحرک ہو رہا ھے۔ وہ کسی ضلعی ڈویژنل یا صوبائی عہدے پر نہیں لیکن وہ بات کر رہا ھے۔ بھٹو صاحب کا تعارف اس بھُلکڑ سماج کو کرا رہا ھے اور آج ہی یہ محسوس
ہونا شروع ہو گیا ھے کہ بُوٹ چاٹ کھوٹے سِکے بھی ہوا کا رُخ تول رھے ہیں۔ جونہی بلاول بھٹو اپنے کارکنوں کو لیکر میدان میں اترے گا، پہلی دوسری سیاسی فتح کیساتھ ہی کھوٹے سکوں کی ٹرانسفر کا عمل خاموشی سے جاری ہو جائے گا۔ یہ پھر اپنی گاڑیوں میں لاڑکانے کا تیل بھروا لیں گے اور پھر کارکن دیکھتا رہ جائے گا۔ اور کیوں نہ ہو یہ ملک ھے ہی قائدِ اعظم کے کھوٹے سکوں کا۔ انہی کی اولادوں نے آئیندہ اس ملک کی باگ دوڑ سنبھالنی ھے.

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • آئیں!کرسٹیانو رونالڈو سے ملیں!
  • پھر وہی رات
  • وادیِ سوات کا تفصیلی اور جامع منظر نامہ
  • لیڈی ڈیانا ،بے نظیر اور حامد میر
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
میں ریگ زار تھا چمک اٹھا درِ حضورِﷺ سے
پچھلی پوسٹ
ہنوذ دِلّی دُور است

متعلقہ پوسٹس

شلجم

جنوری 12, 2020

توکل کیا ھے؟

نومبر 5, 2025

جگرکےخوں سے ہی لےکے

فروری 20, 2020

سیاسی بونگا

نومبر 19, 2019

استاد دامن

دسمبر 3, 2025

ایک دیرینہ دوست کےلئے نظم

فروری 13, 2020

آبادی کی دوڑ، شعور کا جنازہ

اگست 15, 2025

احادیث سے ہمیں کیا سبق ملتا ہے

ستمبر 15, 2023

فائو جی کیمرا

مارچ 26, 2023

مٹا کے نقش سبھی دل سے

اکتوبر 16, 2025

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • سوچتے رہو، جیتے رہو

    مارچ 18, 2026
  • بات کرتے ہو کیا دسمبر کی

    مارچ 17, 2026
  • اُردو شعرا پر سوشل انزائٹی کے اثرات

    مارچ 17, 2026
  • ماورا ہے سوچوں سے

    مارچ 17, 2026
  • گریہ و نالہ کناں ہیں دل _ برباد اور میں

    مارچ 17, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے
  • سردار حمادؔ منیر on یا رسولِ خدا اشرفِ انبیاء

اسلامی گوشہ

استخارہ

مارچ 15, 2026

مختصر سیرتِ رسولﷺ

مارچ 10, 2026

لیلۃ القدر – ایک رات اور پوری زندگی

مارچ 9, 2026

صدقۂ فطر کی حکمت و اہمیت

مارچ 9, 2026

اعتکاف احکام اور آداب

مارچ 9, 2026

اردو شاعری

بات کرتے ہو کیا دسمبر کی

مارچ 17, 2026

ماورا ہے سوچوں سے

مارچ 17, 2026

گریہ و نالہ کناں ہیں دل _ برباد...

مارچ 17, 2026

نشے میں ہم ہیں مگر

مارچ 17, 2026

یہ مرے گھر کے تین چار درخت

مارچ 17, 2026

اردو افسانے

عید کا ادھورا وعدہ اور لفظوں کا مصور

مارچ 17, 2026

دہلیز کا آخری وعدہ

مارچ 9, 2026

آدھی عورت آدھا خواب

جنوری 14, 2026

طوائف کون؟

جنوری 14, 2026

لمس

جنوری 12, 2026

اردو کالمز

سوچتے رہو، جیتے رہو

مارچ 18, 2026

اُردو شعرا پر سوشل انزائٹی کے اثرات

مارچ 17, 2026

میڈیا کا اثر اور ہماری سوچ تحریر

مارچ 17, 2026

کردار، کردار نگاری اور تخلیقیت

مارچ 16, 2026

امن بورڈ یا امن سے اکتاہٹ؟

مارچ 16, 2026

باورچی خانہ

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

سادہ مٹن ہانڈی

جولائی 5, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • سوچتے رہو، جیتے رہو

    مارچ 18, 2026
  • بات کرتے ہو کیا دسمبر کی

    مارچ 17, 2026
  • اُردو شعرا پر سوشل انزائٹی کے اثرات

    مارچ 17, 2026
  • ماورا ہے سوچوں سے

    مارچ 17, 2026
  • گریہ و نالہ کناں ہیں دل _ برباد اور میں

    مارچ 17, 2026
  • نشے میں ہم ہیں مگر

    مارچ 17, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

خواب زدہ ویرانوں تک

مئی 9, 2020

ترے در پہ یہ سر جھُکا...

جنوری 6, 2023

صدام حسین

مارچ 8, 2026
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں