خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو باباکھوٹے سِکوں کا پاکستان
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمزعلی عبد اللہ ہاشمی

کھوٹے سِکوں کا پاکستان

ایک کالم از علی عبد اللہ ہاشمی

از سائیٹ ایڈمن نومبر 19, 2019
از سائیٹ ایڈمن نومبر 19, 2019 0 تبصرے 568 مناظر
569

"کھوٹے سِکوں کا پاکستان” قائدِ اعظم کے کھوٹے سِکے مشہور ضرور ہوئے لیکن حقیقت یہ ھے کہ روزِ اول سے آجدن تک انہی کھوٹے سِکوں یا نہلوں نے اس ملک پر حکومت کی ھے۔ آجتک کوئی بڑا لیڈر ان کھوٹے سِکوں کا علاج نہیں کر پایا ان سے ہماری نسلوں کی جان نہیں چھُڑوا پایا۔ قائد کے بعد ذوالفقار علی بھُٹو، انکے بعد بینظیر بھُٹو اور کسی حد تک موجودہ نواز شریف، جو جو شخص عوامی توجہ اور ووٹ کا مستحق ٹھہرا ان کھوٹے سِکوں نے اُسکے تلوے چاٹنے شروع کر دیئے۔

نظام میں انکی جگہ گو پہلے سے موجود تھی لیکن مستحکم صرف تلوے چاٹنے کی مہارت کے سبب رہی۔ یہ ایسے گھاگ اور کایاں ہیں کہ اپنے بچوں کو گھُٹی میں چاپلُوسی کا ہُنر دیتے ہیں اور کیونکہ یہی لوگ پچھلے بہتر سالوں سے حُکمران ہیں لہذا یہ ہماری قومی اخلاقیات پر اثر انداز ہیں۔ انہوں نے اس قوم کو یہ یقین دلا دیا ھے کہ الیکشن صرف پیسے سے جیتا جا سکتا ھے اور کیونکہ وہ پیسہ نسل در نسل انہی کی تجوریوں میں اکٹھا ہوتا رہا ھے تو اول تو عام کارکن پارٹی ٹکٹ کے حصول کو فضول جانتا ھے کیونکہ وہ پیسے کی سیاست سے مرعوب ہو چکا ھے دوسرا نظریاتی پارٹیوں کی لیڈرشِپ بھی الیکٹیبلز کو اقتدار کی کُنجی سمجھنا شروع ہو گئی ہے اور یہی وہ وجہ ھے کہ ہمارے ملک میں "نظریاتی سیاسی کارکن” کی موت ہو گئی ھے۔

وہ قیادت جو محنت سے اوپر آتی ھے وہ نیچے درپیش عوامی مسائل سے نہ صرف آگاہ ہوتی ھے بلکہ وہ لیڈرشپ اور عوام میں کنٹرول سمیت آگاہی کا سبب بنتی ھے جو اس مُلک میں ناپید ھے۔ اسی گندے کھیل نے ایماندار نظریاتی کارکن کو یا تو دیہاڑی دار بنا دیا ھے یا پھر وہ میری طرح بدتمیز ہو گیا ھے اور معاشرے میں مایوسی پھیلا رہا ھے اور اس سارے گندے کھیل کی آبیاری تیسری قوت نے کی ھے۔ بھُٹو صاحب نے جو حرارت، جُرآت اور جذبہ نِچلے طبقات میں پیدا کیا حقیقت میں وہی انکے قتل کا باعث بنا۔ انگریز دور سے قائم دائم کمپنی سرکار اور کھوٹے سکوں کے گٹھ جوڑ پر غریب آدمی کا جُوتا رکھنے والے بھُٹو صاب شائید جانتے تھے کہ انکے پاس وقت تھوڑا ھے اسی لیئے انھوں نے ایک ایک گرہ لگانے کی بجائے سرمایہ داروں، جاگیرداروں اور افسر شاھی کو سیدھا گردن سے پکڑا اور غریبوں کو اس ملک کے مالکانہ حقوق دیدیئے۔ انہیں شائید یہ گُمان تھا کہ چھ سال آزادی میں سانس لینے کے بعد یہ طبقات خود آمدہ آزادی کی حفاظت کریں گے۔ یہ نہیں کہ یہ لوگ اس نظام کو بچانے یا بھُٹو صاحب کیلئے اُٹھے نہیں۔ اصل میں یہی لوگ تو اُٹھے اور بھرپور مزاحمت کی۔ انہی لوگوں نے جیلیں بھریں، کال کوٹھریاں دیکھیں، پھانسیاں چُوم کر اپنے گلے میں ڈالیں اور ہنستے گاتے انقلاب کے احیاء کا خواب لیئے پرلوک سِدھار گئے۔ لیکن وہ شائید یہ بھولے بیٹھے تھے کہ جب بھوک لگتی ھے تو سب سے پہلے نظریات تیل لینے چلے جاتے ہیں۔ 1988 تک بھُٹو صاحب کا لاڈلا غریب ایک تھکا ہوا نظریاتی کارکن ضرور تھا لیکن حکومت آنے پر وہ اپنے بچے پالنے میں رُجھ گیا۔ اسکی جگہ کھوٹے سکوں نے فوراً بھر دی لیکن یہ بھی تلخ حقیقت ھے کہ بی بی صاحبہ بھی بھُٹو کے لاڈلے غریب کو یکجا نہ رکھ پائیں۔ کیسے رکھ پاتیں؟ کراچی ممبئی کے قریب ایک شہر ھے اور وہاں کا کرایہ ہر دور میں زیادہ رہا ھے۔

جیلوں کا ایندھن بننے والے اب عمر کے اُس حِصے میں پہنچ گئے تھے کہ اپنے اردگرد ابن الوقتوں کو پنپتا دیکھ کر بجائے یہ کہ لڑتے مرتے انہوں نے کنارا کر لیا۔ ووٹ دیتے رہے لیکن آہستہ آہستہ تھانے کچہری کے کلچر کا شکار ہو گئے۔ لیکن آج پھر کارکن بلاول کو دیکھ کر متحرک ہو رہا ھے۔ وہ کسی ضلعی ڈویژنل یا صوبائی عہدے پر نہیں لیکن وہ بات کر رہا ھے۔ بھٹو صاحب کا تعارف اس بھُلکڑ سماج کو کرا رہا ھے اور آج ہی یہ محسوس
ہونا شروع ہو گیا ھے کہ بُوٹ چاٹ کھوٹے سِکے بھی ہوا کا رُخ تول رھے ہیں۔ جونہی بلاول بھٹو اپنے کارکنوں کو لیکر میدان میں اترے گا، پہلی دوسری سیاسی فتح کیساتھ ہی کھوٹے سکوں کی ٹرانسفر کا عمل خاموشی سے جاری ہو جائے گا۔ یہ پھر اپنی گاڑیوں میں لاڑکانے کا تیل بھروا لیں گے اور پھر کارکن دیکھتا رہ جائے گا۔ اور کیوں نہ ہو یہ ملک ھے ہی قائدِ اعظم کے کھوٹے سکوں کا۔ انہی کی اولادوں نے آئیندہ اس ملک کی باگ دوڑ سنبھالنی ھے.

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • پانی کے آئینے میں قید دیوی
  • خیبر پختو نخواہ کا افسانہ
  • ٹرانجٹ کی زندگی
  • پہاڑی کھیت میں!
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
میں ریگ زار تھا چمک اٹھا درِ حضورِﷺ سے
پچھلی پوسٹ
ہنوذ دِلّی دُور است

متعلقہ پوسٹس

مرے وجود کو موجودگی دکھاتی تھی

جون 8, 2020

سو روپے 

اکتوبر 26, 2019

نقظہ نواز

جنوری 1, 2026

لمحوں کے پیچھے چلتا یہ لمحہ لگا ہوا

جنوری 30, 2022

آخری ہدایت

جنوری 4, 2022

شہری سہولیات پر حملے

ستمبر 23, 2025

بہت ہی سرد ہے موسم

جنوری 20, 2021

تاریخ کے وارث – چوتھی قسط

جنوری 17, 2025

دل تو اجڑی ہوئی ریاست ہے

دسمبر 31, 2019

بدگمانی سے بچو 

جولائی 21, 2020

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • نہیں خزاں ہی نشان قاتل

    اگست 30, 2026
  • ہر گھڑی بس سوال کرتے ہیں

    اگست 30, 2026
  • عجب سے عجب تیرا اسلوب دنیا

    اگست 30, 2026
  • وہم ہے یا کہ گماں دیکھنا ہے

    اگست 30, 2026
  • ترش لہجے میں سخت بو لتا ہے

    اگست 30, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ایم اے دوشی on دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Meesam Ali Agha on دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ
  • مسعود فیروزی on شعر شور انگیز

اسلامی گوشہ

مدح خیر الوری کے پیار میں آجاتے ہیں

اگست 30, 2026

آزاد نعتیہ نظم – حل

اگست 28, 2026

12 ربیع الاول : آمدِ مصطفیٰ ﷺ

اگست 26, 2026

آقا کریم ﷺ کا احسان

اگست 23, 2026

لباس کی شرعی حیثیت

اگست 4, 2026

اردو شاعری

نہیں خزاں ہی نشان قاتل

اگست 30, 2026

ہر گھڑی بس سوال کرتے ہیں

اگست 30, 2026

عجب سے عجب تیرا اسلوب دنیا

اگست 30, 2026

وہم ہے یا کہ گماں دیکھنا ہے

اگست 30, 2026

ترش لہجے میں سخت بو لتا ہے

اگست 30, 2026

اردو افسانے

سرخ پینسلیں اور خستہ حال خیمہ

اگست 9, 2026

وہ درخت جو اپنے سائے سے رُوٹھ گیا

اگست 3, 2026

ماں کی خاموش دُعا

جولائی 24, 2026

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

واپسی

جون 2, 2026

اردو کالمز

ایک نئے استعمار کا خاموش سفر

اگست 28, 2026

12 ربیع الاول : آمدِ مصطفیٰ ﷺ

اگست 26, 2026

"شہر نامہ سوم” ایک عمدہ ادبی اور تاریخی...

اگست 26, 2026

تیسری ہندکو کانفرنس

اگست 24, 2026

آقا کریم ﷺ کا احسان

اگست 23, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • نہیں خزاں ہی نشان قاتل

    اگست 30, 2026
  • ہر گھڑی بس سوال کرتے ہیں

    اگست 30, 2026
  • عجب سے عجب تیرا اسلوب دنیا

    اگست 30, 2026
  • وہم ہے یا کہ گماں دیکھنا ہے

    اگست 30, 2026
  • ترش لہجے میں سخت بو لتا ہے

    اگست 30, 2026
  • نہ بھٹکے ہیں نہ راستہ ہوا غلط

    اگست 30, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

چغد

فروری 11, 2020

کہاں پہ بولنا ہے

جولائی 3, 2025

اخلاق, اقدار اور معاش!

فروری 27, 2021
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں