خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ اردو تحاریرلیڈی ڈیانا ،بے نظیر اور حامد میر
اردو تحاریراردو کالمزروبینہ فیصل

لیڈی ڈیانا ،بے نظیر اور حامد میر

ایک اردو کالم از روبینہ فیصل

از سائیٹ ایڈمن اپریل 23, 2014
از سائیٹ ایڈمن اپریل 23, 2014 0 تبصرے 621 مناظر
622

لیڈی ڈیانا ،بے نظیر اور حامد میر

جب تمام لوگ ایک واقعہ یا شخص یا بیان کو لے کر مکھی پر مکھی مار رہے ہوں تو میں عام طور پر ایسی چیزوں پر لکھنے سے اجتناب کرتی ہوں کیونکہ اس وقت دو قوتیں سرگرم ہوتی ہیں ایک وہ جو پروپیگنڈہ کرنا چاہ رہی ہوتی ہیں دوسری وہ جو اسے جھٹلانا چاہ رہی ہوتی ہیں جیسے ہم نے ملالہ کیس میں دیکھا ۔ ہمارے جیسے غریب مسکین بیٹھ کر گردبیٹھنے کا انتظار کرتے ہیں کیونکہ ہم تو یہ بھی نہیں سننا چاہتے کہ:
عمر بھر ہم یونہی غلطی کرتے رہے غالب
دھول چہرے پر تھی ہم آئینہ صاف کرتے رہے
آج بحرِ ظلمات میں ہم بھی اپنا گھوڑا دوڑائیں گے ۔ اس گھوڑے کو انصار عباسی کے ISIکے چیف کے استعفی کے مطالبے نے چونکایا اور پھر جگایا ۔حامد میر پر کراچی میں ہونے والے حملے کے بعد ہر دوسرے تیسر ے واقعے کی طرح یہاں بھی لوگ اپنی اپنی رائے کے ساتھ تقسیم ہونے لگے ۔ اچھے وقتوں میں کبھی پاکستان میں صرف دائیں بازو اور بائیں بازو کی جنگ ہوتی تھی ۔اب تو ہر واقعے کے اوپر دو رائے ایسی زور آوری سے بنتی ہیں کہ ہر وقت دو گروپ تیار ملتے ہیں اور لازمی نہیں کہ آج کی تاریخ میں رائے پر جو ایک گروپ بنا ہے وہ کل کسی اور ناگہانی کے بعد اُسی گرو پ میں ہی ہوگا جیسے طالبان اینٹی طالبان ،آرمی ،اینٹی آرمی ، جمہوری اینٹی جمہوری ، سیکولرزم بہ مقابلہ شریعت، ملالہ اینٹی ملالہ ، شاہد آفریدی اینٹی شاہد آفریدی وغیرہ وغیرہ ۔مٹ گیا ہے تو ایک ہی گروپ اور وہ ہے غریب کے لئے آواز اٹھانے والا بغیر کسی ایجنڈے کے بمقابلہ کسی امیر کے ۔ اس گروپ کا کوئی ممبر نہیں۔
جیسے پرویز مشرف کو ہم پوری فوج نہیں کہہ سکتے اسی طرح حامد میر کو ہم پوری صحافت نہیں کہہ سکتے ۔ جس طرح مشرف کے بارے میں دلیل ہے کہ اس کی کمیوں کجیوں اور گناہوں کی سزا دینا ، فوج کو سزا دینے کے مترداف نہیں ہے ۔ اسی طرح اگر صحافت کے نام پر مافیا بنا دیا جائے تو وہ ایک خاص گروہ کی نمائندگی تو کرے گا لیکن پوری صحافت کی نہیں۔
پرویز مشرف پوری فوج نہیں حامد میر پوری صحافت نہیں ۔ ہر انسان کسی ادارے کے ساتھ منسلک ہونے کے ساتھ ساتھ اپنی انفرادی حیثیت بھی رکھتا ہے جس کے تحت وہ گناہ اور ثواب کرتا ہے ۔ اگر PEMRAکے قواعد و ضوابط میں یہ لکھا ہے کہ پاک فوج کے بارے میں کوئی بات نہیں ہوگی تو اس پرنہ عمل کرنے والے کو کیا کہیں گے ؟مظلوم کے لئے آواز ضرور اٹھائیں مگر مظلوم یا ضرورت مند وہی نہیں جو آپ کے ایجنڈا میں فٹ آتا ہو ،ایجنڈا کے باہر بھی مظلومیت اور غربت بکھری پڑی ہے ۔
میں یہ سوچ رہی تھی اگر کوئی انڈین صحافی اٹھ کر یہ کہہ دے کہ مجھے” را “سے خطرہ ہے اور یہ خبر مرچ مصالحہ لگا کر انڈیا کے سب چینلز چلائیں تو ہم پاکستانیوں کو کتنی خوشی محسوس ہوگی ۔مگر افسوس انڈیا نے ہمیں کبھی ایسی خوشی کو موقعہ نہیں دیا باوجود اس کے کہ ہم انہیں ہر دوسرے دن خوش کرتے ہیں ۔ ہم نہ صرف فوج اور عوامی حکومتوں (اگرچہ وہ عوام جو قبروں سے اٹھ کر اور گھروں سے نکلے بغیر بھی ووٹ کاسٹ کر آتی ہے ) کے ڈسے ہوئے ہیں بلکہ ہم نوکر شاہی ، اعلی عدلیہ ، اور اعلی صحافیوں کے بھی ڈسے ہوئے ہیں ۔ مگر وہ عام آدمی ،عام پولیس والا ، عام سرکاری افسر ،عام وکیل ،عام فوجی اور عام صحافی جو تاریک راہوں میں مارے جاتے ہیں وہ سب مشترکہ نصیب کے مالک ہیں ، ایک ہیں ، ان کا ایک گروپ ہے “عام گروپ” اور اگر کسی کو اس کے دشمن گروپ کو پہچانا ہے تو وہ ہے اشرفیہ کا گروپ ۔
حامد میر کی گاڑی کو گولی اور شائد پیٹ میں بھی لگی ہو مگر کئی ایسے صحافی ۔۔عام غریب صحافی جنہیں کبھی تنخواہ بھی وقت پر نہیں ملتی ہوگی ،وہ کئی مارے گئے ۔ ہم نے آج ایک اعلی امیر لاکھوں میں تنخواہ پانے والے صحافی پرحملے کے بدلے جب ملک کی سیکورٹی ایجنسی کے چیف کو لائن حاضر کر دیا اور استعفی مانگ لیا تو ہم نے ان غریب صحافیوں کی روح کو، جن کی جان صحافت کے کار زار میں گئی ،شرمندگی میں مبتلا کر دیا ،ان کو احساس دلایا کہ تمھاری زندگی بھی محروم اور تمھاری موت بھی بے نام ۔یہ پڑھ کر لوگ کہیں گے ہر کوئی بڑا اور خاص نہیں ہوتا ۔ کیا کرؤں میرے نزدیک سب انسان برابر ہیں، گوشت پوست کے سانس لیتے انسان ۔میں سمجھتی ہوں اس دنیا پر ،یہاں کے پانی ، ہوا اور مٹی پر سب انسانوں کا برابر کا حق ہے ۔ مجھے اونچے اور نیچے انسانوں کی سمجھ ہی نہیں آتی ۔
چلیں دنیا کے حساب سے بڑے لوگوں کی بات کر لیتے ہیں ۔ 31اگست 1997 کو برطانیہ کی شہزادی ڈیانااور مصر کے کروڑ پتی محمد الفائد کے بیٹے دودی الفائد سرنگ میں کار ٹکرانے سے دنیاسے کوچ کر گئے ۔ برطانوی حکومت اور شاہی خاندان نے اسے حادثہ قرار دیا ۔مگر دودوی کے باپ نے شک کا ظہار کیا کہ شاہی خاندان نے یہ قتل کروایا ہے ۔ اس کے بعد باپ نے lord stevenپولیس چیف جس کی سرپرستی میں تحقیق اور تفتیش ہوئی اسے شاہی حکومت کا toolاور اسکی جاری کردہ 900صفحات کی رپورٹ کو “garbage”قرار دے دیا ۔نہ شاہی خاندان نے محل چھوڑا اور نہ استعفی دیا ۔ لاکھوں کروڑوں دلوں کی شہزاد ی صرف زخمی نہیں ہوئی تھی دنیا سے ہی چلی گئی تھی مگر جن پر شک کیا گیا انہوں نے کیا کیا ؟ایک تفتیشی رپورٹ اور بس ۔انصار عباسی کے فارمولے کے حساب سے استعفی دینا چاہیئے تھا ۔ اور اپنے آپ کو بے قصور ثابت کرنے کے لئے غیر جانبدار تفتیش کروانی چاہیئے تھی ۔ دنیا کے مہذب ملک میں بھی یہ نہ ہوا ۔ اتنے مقبول اور بااثر لوگ مر گئے مگر اسرار اسرار ہی رہا ۔
Eric Margolisامریکی اور کینڈا کے اخبار ٹورٹنو سن کا قابلِ اعتماد معروف صحافی نے اپنے ایک کالم میں جو اس نے بے نظیر کے سر عام وحشیانہ قتل پر تھا ،لکھا ، بے نظیر جب پاکستان گئی تو مجھے اس کی سکیورٹی کی فکر تھی ، ای میل میں اسے ہدایت کی کہ باہر ذیادہ نہ نکلنا ، اس نے جواب میں لکھا کہ ہمارے ملک میں لوگوں کے درمیان جائے بغیر سیاست نہیں ہوسکتی ۔ پھر لکھتا ہے” اس نے مجھے فون پر کہا اگر مجھے قتل کر دیا گیا تو اس کے ذمہ دار چوہدری برداران ہونگے جو کہ صدر مشرف کے قریبی اور بااثر ساتھی ہیں ۔” بے نظیرزخمی نہیں بلکہ لاکھوں پاکستانیوں کے دلوں پر راج کرنے والی بھٹو کی بیٹی مار دی گئی ۔ اس نے بھی شک کا اظہار کیا تھا، کیا ہوا ؟ مشرف سے اس بنا پر کسی نے استعفی مانگا ؟ بے نظیر کے شوہر نامدار نے مشرف صاحب کو پروٹوکول کے ساتھ رخصت کیا ۔
دسمبر2007میں بی بی کو قتل کر دیا گیا اور فروری 2008کے الیکشن کے نتیجے میں ان کے شوہر صدر بن کر پانچ سال حکومت میں رہتے ہیں ۔ کیا ان پانچ سالوں میں ان چوہدری برداران کے رہن سہن میں کوئی فرق آیا ؟ایک بھی دن پولیس نے انہیں شاملِ تفتیش کیا ؟ جب تک مشرف کی کا بینہ رہی وہ اسی طرح چہکتے رہے ۔ بے نظیر کا خون سڑکوں سے دھو دیا گیا ۔ Ericہی لکھتا ہے جب میں نے بے نظیر سے ایک دفعہ ملاقات کے دوران پوچھا ضیا الحق کو کس نے مارا ہوگا ۔اس نے نخوت سے جواب دیا ” who cares he is gone “۔لکھتا ہے آج بے نظیر کو پتہ چلے کہ اس کی موت بھی ایک اسرار بن کر رہ گئی ہے ۔ اگر بے نظیر ذاتی رنجش کوبا لائے طاق رکھ کر قاتلوں کا سراغ لگاتی ، اپنے بھائی کے قاتل پکڑواتی جس کا شک بھی اس کے خاندان والوں نے زردار ی پر کیا تھا ،جس نے پھر اس شک کی موجودگی میں پانچ سال صدارت کی ۔استعفے دینے تو دور کی بات۔
صحافی پر حملہ ہوا ،قابلِ مذمت ۔ مگر تفتیش کے بغیر پہلے آدھے گھنٹے میں مجرم defineکر دینا اس سے بھی ذیادہ قابلِ مذمت ۔ اگر گھائل یا مرنے والوں کے شک کے الفاظ پر جایا جائے اور اس بنیاد پر استعفی طلب ہونے شروع ہوجائیں تو بس ہوگیا کام عدالتوں کا اور تحقیقی اداروں کا ۔ اگر حامد میر لیڈی ڈیانا اور بے نظیر سے بھی ذیادہ بااثر اور مقبول شخصیت ہے تو دوسری بات ہے ورنہ تو ایک سیدھا سا فارمولہ ہے اگر الف کو ب سے خطرہ ہے اور وہ اس شک کا اظہار بھی کھلم کھلا کر چکا ہے تو ب جس کے دشمن لام اور میم ہیں ، اس موقعے سے فائدہ اٹھائیں گے۔تو کنفرم کیا ہے ؟

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • دلچسپی کا رجحان کامیابی کی ضمانت
  • سرسوں دوا بھی شفا بھی
  • ایک بار الکشن میں
  • بچے بذریعہ جراحت
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
طے شدہ موسم
پچھلی پوسٹ
مشورہ

متعلقہ پوسٹس

کورونا کے بعد مزیدعالمی وباؤں کا خطرہ!

جولائی 8, 2020

مودی ناکام بیانیہ؛ بھارت کرپٹ ترین ملک قرار!

دسمبر 16, 2020

طاقت کا توازن اور پائیدار امن!

اپریل 10, 2026

خدا پرستی کا نسخہ

دسمبر 29, 2019

آزمائش یا سزا ( دوسرا اور آخری حصہ)

جون 17, 2025

باتیں کریں 

دسمبر 24, 2019

توبۃ النصوح – فصل اوّل

اکتوبر 28, 2020

پاک – امریکہ تعلقات

ستمبر 24, 2025

ہم نا ماننے والے لوگ!

اگست 5, 2021

ہر چٹھی ایک ہی پتے پر

جنوری 7, 2026

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

    اپریل 15, 2026
  • لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

    اپریل 14, 2026
  • کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی

    اپریل 14, 2026
  • خیبر پختو نخواہ کا افسانہ

    اپریل 12, 2026
  • انجمن پنجاب

    اپریل 11, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے
  • سردار حمادؔ منیر on یا رسولِ خدا اشرفِ انبیاء

اسلامی گوشہ

مرا سخن سخنِ شاہکار ہو جائے

اپریل 6, 2026

سرکارؐ رازِ حق سے مجھے آشنا کریں

اپریل 6, 2026

قرآنِ کریم میں تدبر کیسے کریں؟

اپریل 4, 2026

ایک تھپڑ اور کئی سوال

مارچ 26, 2026

کلام نبویؐ کی کرنیں

مارچ 23, 2026

اردو شاعری

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

اپریل 15, 2026

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

اپریل 14, 2026

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی

اپریل 14, 2026

دکھی ہے دل مرا لیکن غموں سے

اپریل 7, 2026

تمہیں میری محبت کا جو اندازہ نہیں ہوتا

اپریل 6, 2026

اردو افسانے

عورت کی تعلیم کی اہمیت

اپریل 7, 2026

اب بس کرو ماں

اپریل 4, 2026

باغ علی باغی (قسط اول)

اپریل 3, 2026

سونے کی بالیاں

مارچ 29, 2026

گل مصلوب

مارچ 25, 2026

اردو کالمز

مودی کا ہندو خطرے میں ہے

اپریل 11, 2026

طاقت کا توازن اور پائیدار امن!

اپریل 10, 2026

ماں بننے کا سفر اور جوائنٹ فیملی کا...

اپریل 8, 2026

سوچ کا انقلاب

اپریل 7, 2026

جنگ کے شعلے اور سسکتی انسانیت

اپریل 5, 2026

باورچی خانہ

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

سادہ مٹن ہانڈی

جولائی 5, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

    اپریل 15, 2026
  • لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

    اپریل 14, 2026
  • کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی

    اپریل 14, 2026
  • خیبر پختو نخواہ کا افسانہ

    اپریل 12, 2026
  • انجمن پنجاب

    اپریل 11, 2026
  • تنقید کیا ہے

    اپریل 11, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

سوچتے رہو، جیتے رہو

مارچ 18, 2026

شوہر کی ایکسپائیری عمر کیا ہے؟

اگست 28, 2022

ایک طوائف کا خط

اکتوبر 29, 2019
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں