خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو بابازرد پتّوں کی اوٹ میں
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمزحیات عبداللہ

زرد پتّوں کی اوٹ میں

از حیات عبد اللہ مئی 31, 2020
از حیات عبد اللہ مئی 31, 2020 0 تبصرے 74 مناظر
75

زرد پتّوں کی اوٹ میں

تلخ موسموں کی کڑواہٹ رگِ جاں میں گھل جائے تو پھر انسان خزاں رسیدہ پتّوں کی مانند بکھرتے چلے جاتے ہیں۔ جان کا عذاب بنے ایسے قہر آلود موسم اور شِکر دوپہریں لوگوں کو چُن چُن کر اپنا نوالہ بنانے لگتی ہیں۔سیکڑوں لوگوں کو اپنے پیٹ کی خوراک بنا لینے کے باوجود ان موسموں کی تندی اور تلخی میں کوئی فرق نہیں پڑ رہا۔یہی وجہ ہے کہ تمام مناظر دکھوں سے لدے دکھائی دے رہے ہیں۔
دل کا موسم زرد ہو تو کچھ بھلا لگتا نہیں
کوئی منظر، کوئی چہرہ خوش نما لگتا نہیں
لیکن آج نہ سہی تو آنے والے ہفتوں میں موسم بدل ہی جائے گا۔ایک ہزار کے بجائے دو ہزار لوگوں کا لہو چوس کر ہی سہی، بالآخر موسم میں تبدیلی آ ہی جائے گی۔المیہ تو یہ ہے کہ موسموں کی خُو بُو اور رنگ ڈھنگ میں جتنی بھی تبدیلی آ جائے ہم اپنے نفس کو کسی طور بدلنے پر آمادہ نہیں۔خونیں رُتیں چاہے ہمارے گھروں کو اجاڑ ڈالیں، قہر آلود ماہ و سال چاہے ہماری بستیوں اور شہروں کی خوب صورتی اور رعنائیوں کو چاٹ جائیں، ہم اپنی سرشت بدلنے پر آمادہ ہی نہیں۔معلوم نہیں ہمارے دل کس پتھریلی مٹی کے بنے ہیں کہ چاہے کوئی ناگہانی آفت ہمارے دل، دماغ اور روحوں تک کو چھید ڈالے، ہم ہیں کہ سُدھر نے پر آمادہ نہیں ہوتے۔زرد موسم کراچی اور لاہور کے درجنوں خاندانوں کی آسودگیوں کو آنسوﺅں میں بدل گیا اور کورونا وبا کے بھیانک رُوپ میں حَبس زدہ رُتیں اپنے دانتوں کو کٹکٹاتی ہوئیں سیکڑوں افراد کو نگلے جا رہی ہیں۔یہ تمام موسم یقیناً بدل ہی جائیں گے۔لمحہ فکریہ تو یہ ہے کہ ہم خود کو بدلنے کے لیے تیار ہیں یا نہیں؟ کتنے ہی سوالیہ نشان ذہنوں میں کلبلاتے ہیں کہ آخر اسباب و وجوہ کیا ہیں کہ ہم اپنے ربّ کی طرف مائل ہونے سے گریزاں ہی رہتے ہیں؟ کوئی بھی سانحہ آ جائے، وبائیں سرکشی پر اتر آئیں یا بلائیں ہمارے بچوں کو نگل جائیں،ہم گناہوں کی جس پاتال میں پہلے دھنسے تھے اب بھی عین اسی جگہ مطمئن اور مسرور ہیں۔ دیکھ لیجیے کتنے ہی عذاب ہماری امیدوں کو بہا لے گئے مگر ہم آج تک لاحاصل سراب سے باہر نہ آئے، کتنے ہی مصائب ہمارے دلوں میں آبلے ڈال چکے، مگر لوگوں کی اکثریت کل بھی اسلام کی حقیقی لذتوں سے کوسوں دُور بھاگتی تھی اور آج بھی اسی خوئے بد پر قائم ہے۔کیسے کیسے حادثوں نے دل دہلا دیے مگر یہ سب کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھ کر بھی لرزیدہ قدم مساجد کی طرف نہیں اٹھتے۔میں نے کتنی ہی بار قبر کھودنے والے نوجوانوں کو قبر کے اندر بیٹھ کر خوش گپیاں کرتے دیکھا ہے۔الٰہی! ہمارے دلوں کو یہ کیا ہو چکا؟ یہ کیوں اس قدر بے حس ہو گئے کہ جس قبر کو دیکھ کر نبیِ مکرّم اور صحابہ کرامؓ کی ہچکیاں بندھ جاتی تھیں، آج ہم آزمایشوں کے جاں سوز سلسلے سے گزر کر ان قبروں میں بیٹھ کر بھی نم دیدہ اور سنجیدہ نہیں ہوتے۔کورونا کے مریضوں کی گلے میں اٹکتی سانسیں دیکھ کر بھی ہماری آنکھوں سے چند قطرے آنسوﺅں کے نہیں گرتے۔
کراچی سانحے میں مرنے والوں کی ذمہ داری جس پر ڈال بھی ڈال دی جائے، اس میں کوئی شک نہیں کہ ایسے خون آشام موسموں میں اجتماعی دعا و استغفار کی ضرورت ہوتی ہے۔موسموں پر تو کسی کا زور نہیں چلتا، یہ حقیقت اپنی جگہ درست سہی مگر ذرا اپنی سوچ اور فکر کو یہ رنگ اور آہنگ دے کر تو سوچیے کہ آخر ان آلام اور مصائب کا اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کرنے کے بعد ہم نے اپنے قول و عمل میں کتنی تبدیلیاں پیدا کیں۔کوئی بھی حکومتی اہل کار ہمیں اپنے ربّ کی طرف رجوع کرنے سے تو نہیں روک رہا۔کوئی بھی وزیر ہمارے اور اللہ کے درمیان تعلقات میں تو رخنے نہیں ڈال رہا۔کوئی بھی بیوروکریٹ اور اعلیٰ افسر ہمیں اللہ کے حضور رو رو کر حروف اعتذار ادا کرنے کی راہیں تو مسدود کرنے پر آمادہ نہیں۔حکمران جیسے بھی ہوں، ان کو دوش دینے سے پہلے ذرا ایک لمحے کے لیے توقف کر کے یہ جائزہ تو لے لیجیے کہ اتنے عذابوں کو دیکھ کر کتنی بار ہماری آنکھیں چھلکیں؟ ہم نے اپنے پالنہار سے کتنی دعائیں مانگیں؟ ہمارا یہ رویّہ بھی پختہ تر ہو چکا کہ اوّل تو ہم ان آزمایشوں کو دیکھ کر بھی اپنے خالق کی طرف مائل ہوتے ہی نہیں، اور بالفرض اگر کچھ لوگ اپنے اللہ سے استغفار کرتے بھی ہیں تو ان ہی گناہوں کی راہوں پر کھڑے کھڑے استغفراللہ کا ورد کرتے رہتے ہیں، ہم ان ہی مضمحل راستوں پر براجمان ہی معافیاں مانگتے رہتے ہیں۔ مدّعا اور مقصود یہی ہوتا ہے کہ ہم اپنے گناہوں سے بھی باز نہ آئیں اور پروردگار کی رحمتوں کی برکھا بھی ہم پر چھم چھم برستی رہے۔ایسا تو مت کیجیے۔کیا ایسا کرنا توبہ اور استغفار کے ساتھ مذاق نہیں؟
یہ غضبناک دوپہریں، یہ حَبس آلود شامیں اور روحوں کو جھلسا دینے والی یہ گرم راتیں دراصل ہمیں من حیث المجموع اپنے اللہ کی طرف بلانے کا بہت بڑا پیغام ہیں۔بے حیائی اور بدکاری سے لے کر سودخوری تک، فرائض کے ترک سے لے کر غیبت، بہتان اور چغلی تک، کرپشن اور بدعنوانی سے لے کر لوٹ کھسوٹ تک وہ تمام گناہ جو ہمارے ایمان و ایقان کو برباد کر چکے ان کو مکمل اخلاص کے ساتھ ترک کر کے اپنے اللہ کے سامنے سرافگندہ و شرمندہ کھڑے ہو کر دعائیں مانگنا اور معافیاں طلب کرنا ہی ان سرکش موسموں کی اذیتوں سے نجات دلا سکتا ہے اس لیے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” اس میں کوئی شک نہیں کہ ایسی آفات جو نازل ہو چکی ہیں اور ایسی کہ جو ابھی تک نازل نہیں ہوئیں، دعا سب کے لیے فائدہ مند ہے، اس لیے اے اللہ کے بندو! دعا کو لازم پکڑو۔(ترمذی 3548)
سو اپنی آنکھوں میں خوف خدا کے آنسو سجا کر اور اپنے من میں احساسِ ندامت کے پھول مہکا کر اللہ کے سامنے دعاﺅں اور مناجاتوں کے سلسلے کو مستقل بنیادوں پر اپنی زیست کا حصّہ بنا لیجیے اور ایسے تمام امور کو ترک کر دیجیے جو اللہ کی ناراضی کا باعث ہوں اگر ہم سمجھیں اور غور کریں تو ان تلخ موسموں اور زرد پتّوں کی اوٹ میں یہی پیغام دکھائی دے رہا ہے۔
موسمِ زرد میں اک دل کو بچاؤں کیسے؟
ایسی رُت میں تو گھنے پیڑ بھی جھڑ جاتے ہیں

حیات عبداللہ

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • اِک دن نیزے پر ہوتا ہے
  • حضرت خواجہ معین الدین چشتیؒ
  • گھریلو تشدد کا قانون
  • کبھی سوچا نہ ہی سمجھا نہ سمجھداری کی
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
حیات عبد اللہ

اگلی پوسٹ
ﻣﯿﺎﻥ_ ﻻﻟﮧ ﻭ ﮔﻞ ﺳﺮﺥ ﺭﻭ ﻋﻼﺣﺪﮦ ہے
پچھلی پوسٹ
کچی خلقت اور دھگڑ باز عاشق

متعلقہ پوسٹس

کربِ تنہائی میں سمٹی ہوئی چادر کی طرح

اپریل 15, 2020

وجود ایک وہم ہے

مارچ 8, 2025

بام و در پہ جڑی اداسی ہے

جون 27, 2020

رسم کے مت اسیر ہو جاؤ

دسمبر 31, 2021

یوں ہی نہیں ہے

مارچ 22, 2025

مہینہ دسمبر کا

نومبر 19, 2025

بھارتی توپیں

اکتوبر 28, 2023

اس سے ہی چلتی ہے

دسمبر 20, 2022

کچھ چیزیں مجھ سے باتیں کرتی ہیں

دسمبر 10, 2019

اخروٹ قوتوں کا خزانہ

اکتوبر 10, 2021

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • نہیں خزاں ہی نشان قاتل

    اگست 30, 2026
  • ہر گھڑی بس سوال کرتے ہیں

    اگست 30, 2026
  • عجب سے عجب تیرا اسلوب دنیا

    اگست 30, 2026
  • وہم ہے یا کہ گماں دیکھنا ہے

    اگست 30, 2026
  • ترش لہجے میں سخت بو لتا ہے

    اگست 30, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ایم اے دوشی on دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Meesam Ali Agha on دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ
  • مسعود فیروزی on شعر شور انگیز

اسلامی گوشہ

مدح خیر الوری کے پیار میں آجاتے ہیں

اگست 30, 2026

آزاد نعتیہ نظم – حل

اگست 28, 2026

12 ربیع الاول : آمدِ مصطفیٰ ﷺ

اگست 26, 2026

آقا کریم ﷺ کا احسان

اگست 23, 2026

لباس کی شرعی حیثیت

اگست 4, 2026

اردو شاعری

نہیں خزاں ہی نشان قاتل

اگست 30, 2026

ہر گھڑی بس سوال کرتے ہیں

اگست 30, 2026

عجب سے عجب تیرا اسلوب دنیا

اگست 30, 2026

وہم ہے یا کہ گماں دیکھنا ہے

اگست 30, 2026

ترش لہجے میں سخت بو لتا ہے

اگست 30, 2026

اردو افسانے

سرخ پینسلیں اور خستہ حال خیمہ

اگست 9, 2026

وہ درخت جو اپنے سائے سے رُوٹھ گیا

اگست 3, 2026

ماں کی خاموش دُعا

جولائی 24, 2026

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

واپسی

جون 2, 2026

اردو کالمز

ایک نئے استعمار کا خاموش سفر

اگست 28, 2026

12 ربیع الاول : آمدِ مصطفیٰ ﷺ

اگست 26, 2026

"شہر نامہ سوم” ایک عمدہ ادبی اور تاریخی...

اگست 26, 2026

تیسری ہندکو کانفرنس

اگست 24, 2026

آقا کریم ﷺ کا احسان

اگست 23, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • نہیں خزاں ہی نشان قاتل

    اگست 30, 2026
  • ہر گھڑی بس سوال کرتے ہیں

    اگست 30, 2026
  • عجب سے عجب تیرا اسلوب دنیا

    اگست 30, 2026
  • وہم ہے یا کہ گماں دیکھنا ہے

    اگست 30, 2026
  • ترش لہجے میں سخت بو لتا ہے

    اگست 30, 2026
  • نہ بھٹکے ہیں نہ راستہ ہوا غلط

    اگست 30, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

کوئی منصب کوئی دستار نہیں چاہئے...

مئی 23, 2020

شاہد ذکی کی شاعری

جنوری 23, 2020

حوا کی بیٹی

فروری 27, 2021
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں