خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو باباوجود ایک وہم ہے
آپکا اردو بابااردو افسانےاردو تحاریرسید محمد زاہد

وجود ایک وہم ہے

از سائیٹ ایڈمن مارچ 8, 2025
از سائیٹ ایڈمن مارچ 8, 2025 0 تبصرے 65 مناظر
66

گڈ مارننگ!

اس نئی کلاس میں آپ کو خوش آمدید کہتا ہوں۔ میرے پڑھانے کا طریقہ روایتی ہے اور نہ ہی آپ سکول کے بچے کہ آپ کو قلم پکڑنا سکھایا جائے یا رٹے لگوائے جائیں۔ یونیورسٹی کی تعلیم سکول سے مختلف ہوتی ہے۔ ماشا اللہ آپ جوان اور سمجھدار ہیں۔ آج ہم صرف ایک دوسرے کا تعارف حاصل کریں گے۔ کچھ فلسفے کے مضمون پر بات ہوگی اور کل آپ کا پہلا امتحان لیا جائے گا۔ امتحان میں بیٹھنے کی شرائط یہ ہوں گی۔ تمام طالب علم صرف کاغذ اور پنسل لے کر آئیں گے۔ امتحان کا دورانیہ نوے منٹ ہو گا اور صرف ایک سوال پوچھا جائے گا۔ جو طالب علم کسی بھی وجہ سے کل کا امتحان نہیں دے گا وہ دو سال کی بہترین کارکردگی کے باوجود زیادہ سے زیادہ سی گریڈ کا حق دار ہو گا۔ تعارف کے بعد پروفیسر صاحب نے کلاس برخواست کر دی۔

ہر طالب علم کچھ نہ کچھ پوچھنا چاہتا تھا۔ پروفیسر صاحب مسکراتے ہوئے سب کو سن رہے تھے۔ خاموشی ہوئی تو سب سوالات کو تشنہ چھوڑ کر باہر چلے گئے۔
***
امتحان کے آغاز پر ہی پروفیسر صاحب نے حکم دیا،
”جس کے پاس کوئی بھی مددگار میٹیریل ہے وہ کلاس سے باہر چلا جائے۔“

سب خاموش بیٹھے رہے۔ پروفیسر صاحب ہر طالب علم کے پاس گئے۔ ایک کے ہاتھ پر رسٹ واچ تھی۔ دو کے پاس سگریٹ اور کچھ کے پاس ہائی لائٹر اور لائنیں لگانے کے لیے سٹین لیس سٹیل کے سکیل۔ سب کو باہر کا راستہ دیکھا دیا گیا۔

ہم حیران پریشان چُپ بیٹھے رہے۔ یہ فلسفے کی کلاس تھی یا کوئی سسپنس بھری فلم!

پروفیسر صاحب سٹیج پر واپس چلے گئے۔ اپنی کرسی اٹھائی اور سامنے لا کر رکھ دی۔ اس کے گرد دو چکر لگائے۔ کسی جادوگر کی طرح دونوں ہاتھ اس کے گرد گھماتے رہے۔ ہمیں یوں لگ رہا تھا کہ ابھی کوئی کبوتر اس میں سے پھڑپھڑاتا ہوا نکل کر کسی طالب علم کے سر پر بیٹھ جائے گا یا پھر کرسی ہماری نظروں سے اوجھل ہو جائے گی۔

وائٹ بورڈ کی طرف مڑے اور اس پر سوال لکھا،
”اس کے وجود کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟“

”کوئی طالب علم جوابی کاپی پر اپنا نام، رولنمبر یا کسی قسم کی کوئی شناخت نہیں لکھے گا۔ اوور رائٹنگ اور کاٹ چھانٹ والا پیپر کینسل کر دیا جائے گا۔ آپ کے پاس نوے منٹ ہیں۔ ایک دوسرے سے مشورہ کر سکتے ہیں۔ جوابی مضمون کی کاپی کسی بھی ٹیبل پر رکھ کر آپ چلے جائیں، میں اٹھا لوں گا۔“

پروفیسر صاحب نظریں جھکائے کمرے سے باہر چلے گئے۔
***

ساری کلاس ہونق ہو کر ایک دوسرے کو گھور رہی تھی۔ کوئی کسی سے کیا پوچھتا؟ میں قلم ہاتھ میں پکڑے جانے کب تک سوچتا رہا۔ سگریٹ کی شدید طلب ہو رہی تھی۔ فیض صاحب اور صوفی تبسم یاد آ گئے۔ کاش پطرس بخاری ادھر ہوتے اور کہتے، ”پینے دو۔“ اور میں دھوئیں دار کش لگاتا ہوا لکھتا چلا جاتا۔

وقت پورا ہونے والا تھا اور سارا پیپر بلینک۔
میں نے صرف ایک جملہ لکھا، ”وجود؟ سب وہم ہے۔“
اور پیپر وہیں چھوڑ کر چلا آیا۔
***

سال ہا سال گزر گئے ہیں۔ شاید اب بھی پروفیسر صاحب کو میرا جواب یاد ہو۔ کبھی ان کے سامنے چلا جاؤں تو شاید پہچان بھی لیں۔ ممکن ہے کہ وہ خود ہی موجود نہ رہے ہوں۔ اگلے دن صرف میرا پیپر لہرا کر کہا تھا، ”اس طالب علم کو اے گریڈ دے رہا ہوں۔ کون ہے یہ؟“
***

دو سال میں بہت کچھ سیکھا۔ یونیورسٹی سے نکل کر عملی زندگی اور دنیا داری۔ کامیابیاں ناکامیوں پر حاوی رہیں۔ دولت ہی دولت اکٹھی کی۔ اس دن سے ایک عادت پکی ہو گئی: ہمیشہ ایک قلم اپنی جیب میں رکھا۔ دوات اور قلم کا رواج ختم ہوا تو اس کی جگہ کوپک مارکر نے لے لی۔

دنیا میں گھومتے ہوئے جہاں بھی کوئی اہم چیز دیکھتا وہیں بیٹھ کر سوچنا شروع کر دیتا اور مارکر نکال کر ایک دو جملے لکھ دیتا۔ پتھروں اور دیواروں پر لکھنا شروع کر دیا۔ داخلی کیف تکنیکی ہَیئَت اور صورت پکڑ لیتا تو کوئی چھوٹا سا کارٹون بنا دیتا یا کبھی تصویر لکیر دیتا۔

ہوٹل میں بیٹھا چائے آنے کا انتظار کرتے ہوئے میز پر سامنے بیٹھی لڑکی کا سکیچ بنا دیا۔ ویٹر نے مینو کی کاپی پکڑائی تو اس کے کارنر پر سامنے پڑے گلدستے کی کی تصویر بنا دی۔ ریلوے سٹیشن کے بنچ پر کارٹون بنا کر جملہ لکھ دیا۔ کوئی بلی اچھی لگی، اس کی تصویر بنا دی; کوئی کتا بھلا لگا تو اس کو بھی کاغذ پر منتقل کر دیا۔

ہر تصویر کے نیچے ہمیشہ اپنا نام لکھتا۔

سوشل میڈیا پر بھی ان سب کو ڈال دیتا۔ بہت سے کمنٹس آتے۔ سب کو فالو کرتا۔ حوصلہ بڑھتا گیا۔ لائبریری میں جاکر کسی کتاب کو پڑھتا تو اس پر ایک دو سطر کا تبصرہ ضرور لکھتا۔ کوشش کرتا کہ اپنے خیال کو کسی تصویر میں ڈھال کر اسی کتاب کے اندر رکھ دوں۔ ایک ایسی تصویر جو ساز دل کو چھیڑ کر نغمہ سرا کر دے۔ عجائب گھروں میں تو نئے سے نئے خیالات کا اظہار کرنے کا موقع ملتا۔ وہاں بہت سی مورتیں ایسی دکھائی دیتیں جو رباب دل پر ضرب لگا کر تخیل کو آگ لگا دیتیں۔ لاہور میوزیم میں فاسٹنگ بدھا کے سامنے بیٹھ کر اس کی تصویر بنائی، نیچے لکھا

شعور کیا ہے؟ اک التزامِ وجود ہے، اور وجود کا التزام دکھ ہے۔

اہرام مصر کے سامنے بیٹھ کر ان کی تصویر بنائی، نیچے لکھا، ”کیا عجب دعویٰ ہے! ساٹھ برس میں بنی عمارت کو کھودنا چاہو تو چھ سو سال بھی کم ہوں گے۔“

اسی وقت ریت کا ایک طوفان اٹھا اور سب کچھ آنکھوں سے اوجھل ہو گیا۔

پوری دنیا گھوما۔ ہر جگہ، ہر شے حواس و حسیات و اعصاب میں کوئی نہ کوئی ردعمل ابھار دیتی جو کاغذ قلم کے سہارے عیاں ہو جاتا۔ اسے ادھر ہی چھوڑ آتا کہ دیکھ کر کوئی نہ کوئی مجھ سے رابطہ کرے گا۔ سوشل میڈیا پر میری بنائی ہوئی تصویر لگا کر میرے بارے میں پوچھے گا کہ اتنا اچھا فنکار دنیا کی کس نکڑ پر بستا ہے؟ میں چاہتا تھا دنیا مجھے جانے۔ اس دنیا میں میری بھی پہچان ہو۔

یہ ارمان، حسرت و آرزو عالم خیال کا وہ خواب ہے جو نہ جانے کب مراد کو پہنچے؟

میں واپس اپنے ملک چلا آیا۔ اپنے گھر بوڑھے والدین کے پاس۔ چودہ گھنٹے لمبی فلائٹ تھی۔ جہاز میں بیٹھا ان کے بارے میں سوچتا رہا۔ اپنی زنبیل سے سفید کارڈ پیپر اور کو پک مارکر نکال کر اپنی ماں کی تصویر بنانا شروع کردی۔ کئی سال بیت گئے تھے، اسے دیکھے۔ تقدس کے پھول بستر پر بیٹھی ماں کیسی ہوگی؟ اپنے اکلوتے بیٹے کو دیکھ کر کتنی خوش ہو گی؟ مجھے بچپن یاد آ رہا تھا جب سانپ نے ڈس لیا اور میرا وجود جگہ جگہ سے گل سڑ گیا۔ ماں مجھے گود میں اٹھا کر شہر تک چلی آتی تھی۔ میرے زخموں سے اس کا بازو، بغل اور پہلو بھی گل گیا۔ میں ٹھیک ہو گیا تو بھی پیدل نہیں چلنے دیتی تھی۔ ایک بار میں نے ضد کی کہ آپ بیمار ہیں اور میرا وزن بھی زیادہ ہو گیا ہے اتنا بوجھ کیسے اٹھائیں گی؟ تو کہنے لگی، ”بیٹے کا وجود بوجھ نہیں ہوتا۔“

میں اس کی تصویر لکیر رہا تھا، ایک ایسی تصویر جس میں جوانی اور بڑھاپا، پیار اور جدائی، خوشی اور غم سب شامل ہوں۔ کالے مارکر سے ماں کے سفید بال کیسے بنا سکتا تھا؟ اس کاغذ پر اس کی بھیگی آنکھوں کا نور کیسے بکھیر سکتا تھا؟ ہاں! اس کے ماتھے پر، آنکھوں کے کناروں پر، رخساروں پر، ہونٹوں پر پڑنے والے باریک خطوط سے اس کی مسکراہٹ دیکھا سکتا تھا۔ اپنی ماں کا چہرہ، اس پر بکھرتی خوشی، اس کی آنکھوں کی چمک، اس کا پیار سب خود دیکھ سکتا تھا، بنا سکتا تھا کیونکہ یہ سب کچھ میرے ہونے سے تھا اور مجھے دیکھ کر اور بھی فروزاں ہو جاتا تھا۔

والد صاحب ائرپورٹ پر موجود تھے میرے ہاتھ کا کارڈ پکڑ کر دیکھا، ”بالکل ایسی ہی ہے۔
مجھے بہت افسوس ہے کہ وہ دکھائی تو بالکل ایسی ہی دیتی ہے، لیکن۔ ”
”کیا وہ خوش ہیں؟“
”ہاں! تم خود جا کر دیکھ لینا۔ ان کی حالت کچھ اچھی نہیں۔“
یہ کہہ کر منہ دوسری طرف پھیر لیا۔
گھر آتے ہی میں تیزی سے چلتا ہوا ان کے کمرے میں پہنچ گیا۔

ماں کارٹون مووی دیکھ رہی تھی۔ میں نے تصویر سامنے کردی۔ ابو میرے ساتھ چپ چاپ کھڑے تھے۔ ماں نے ایک اچٹتی نگاہ سے مجھے دیکھا پھر اپنی تصویر پہچاننے لگی۔

”یہ تو بالکل میں ہی ہوں۔
یہ تصویر تم نے بنائی ہے؟ ”
”جی!“

”تو تم ایک مصور ہو؟ پھر میرے بیٹے کو بھی جانتے ہو گے۔ وہ بھی ایک مصور ہے۔ ساری دنیا اسے جانتی ہے۔ کیا تم نے اس کا بنایا ہوا کوئی شاہکار دیکھا ہے؟“

ماں پھر تصویر کو گھورنے لگی۔

”بہت اچھی بنائی ہے۔ جب وہ آئے تو تم ادھر آ کر اسے ملنا۔ یہ تصویر دیکھ کر بہت خوش ہو گا۔ وہ مزاحیہ طبیعت کا مالک ہے، ہمیشہ مذاق کرتا رہتا ہے۔“

”میں آپ کے بیٹے کو جانتا ہوں وہ واقعی ہی ایک اچھا آرٹسٹ ہے۔“
”ہاں! وہ میری تصویر بنائے تو اس سے بہتر بنائے گا۔“
میں کمرے سے باہر آ گیا۔
رات بیڈ پر لیٹے سوچ رہا تھا،

”میری ماں مجھے بھول گئی۔ وہ ماں جس نے مجھے جنم دیا، عدم کو وجود میں لائی، نیست کو ہیست بنایا، پالا پوسا؛ جس کا خون میری رگوں میں دوڑ رہا ہے، جس کے دودھ نے میری ہڈیوں کو مضبوط کیا، وہ مجھے نہیں جانتی تو کیا میں اس دنیا میں موجود بھی ہوں یا نہیں؟

کیا عدم وجود بنا بھی تھا یا سب وہم ہے؟

سید زاہد

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • منتظر ہے شام
  • ایک نوحہ بر وزنِ حکایت
  • گہرے پانیوں والی آنکھیں !
  • شجر شاخوں کو جب سے کھا رہے ہیں
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
کیا کرے شمع ِ نوخیز
پچھلی پوسٹ
جنت کے پتے

متعلقہ پوسٹس

سمجھ میں آتے جو دل کے معاملات اُسے

نومبر 14, 2021

رستم و سہراب یا عشق و فرض

جون 6, 2026

کوئی بھی کام کاج ٹھیک نہیں

جنوری 12, 2025

ٹیسٹ کرکٹ سے لیگ کرکٹ کا سفر!

جنوری 20, 2021

پشیمان

مئی 20, 2020

بام و در پہ جڑی اداسی ہے

جون 27, 2020

خدا کا حُسن ِ انتخاب

نومبر 26, 2021

تمام شہر کو جو سچ ہوا بتاؤں گا

دسمبر 3, 2020

گلگت خان

جنوری 18, 2013

ٹرانجٹ کی زندگی

جنوری 24, 2020

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • سحر بونیرے on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • سید مسعود فیروزی on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • Meesam Ali Agha on خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل

اسلامی گوشہ

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

سلام اُن حیدرِ کرار کے

جون 21, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

باطل نصیریوں کا عقیدہ ذرا نہ ہو

جون 18, 2026

محرم الحرام کی پہلی تاریخ

جون 17, 2026

اردو شاعری

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے...

جون 29, 2026

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جون 29, 2026

جو اپنے یار سے درخواست کرنا

جون 29, 2026

حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

جون 29, 2026

جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

جون 29, 2026

اردو افسانے

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

دادا جان کی ٹھنڈی چھاؤں

مئی 26, 2026

چائے کی پیالی

مئی 24, 2026

اردو کالمز

کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

جون 29, 2026

مرغوں کا عالمی ڈربا اور استعماریت کا دانہ

جون 26, 2026

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

محرم الحرام

جون 18, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

    جون 29, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

بس ایک بار تو اپنا بنا...

مئی 15, 2020

فرشتہ بھی نہیں آیا

نومبر 29, 2017

سیب، طاقت اور قوت کا خزانہ

اکتوبر 10, 2021
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں