سونے کی بالیاں (کسان کی محنت اور نظام کی بے حسی)
رات کا پچھلا پہر تھا اور بادلوں کی اوٹ سے جھانکتی چاندنی پگڈنڈیوں پر ہیبت ناک سائے بنا رہی تھی۔ کسان رحیم داد اپنے کھیتوں کو آخری پانی لگا کر واپس لوٹ رہا تھا۔ بدن تھکن سے چور تھا، کندھے پر رکھی کدال کا وزن بھی اب بھاری لگ رہا تھا، لیکن اس کے تپے ہوئے چہرے پر ایک عجیب سی چمک تھی۔ آج گندم نے جی بھر کر پانی پی لیا تھا اور وہ اب "سونے کی بالیاں” بننے کے لیے انگڑائیاں لے رہی تھی۔
رحیم داد کے ذہن میں صرف ایک ہی تصویر گردش کر رہی تھی؛ اس کی بیٹی ساجدہ کا معصوم چہرہ۔ اس نے خود سے عہد کر رکھا تھا کہ اس بار فصل اٹھتے ہی سب سے پہلا کام ساجدہ کے لیے سونے کی بالیاں خریدنا ہے۔ بیٹی کی شادی سر پر تھی اور باپ کی غیرت و محبت کا تقاضا تھا کہ وہ اسے خالی ہاتھ رخصت نہ کرے۔ وہ کسان جو سارا سال آسمان کی سختیوں، تپتی دھوپ اور یخ بستہ راتوں سے لڑتا ہے، وہ آج اپنی فصل کو اپنی بقا کی جنگ سمجھ رہا تھا۔
اچانک، پگڈنڈی کے ایک تنگ موڑ پر اسے کسی چیز کے سرسراہٹ سنائی دی۔ اس نے ٹارچ جلائی تو سامنے کا منظر دیکھ کر اس کے پاؤں تلے سے زمین نکل گئی۔ ایک قد آدم کالا ناگ، اپنا زہریلا پھن پھیلائے راستے کے عین بیچ و بیچ کھڑا موت کا رقص کر رہا تھا۔ کسان کے ہاتھ پاؤں ٹھنڈے پڑ گئے، موت سامنے کھڑی پھنکار رہی تھی۔ خوف کے ایک لمحے نے اسے جکڑ لیا، لیکن پھر اسے ساجدہ کی وہ خالی کانوں والی لویں یاد آئیں جو اس کی فصل کی "سونے کی بالیوں” کی منتظر تھیں۔
"میری بیٹی کی خوشیوں کے آگے تیرا زہر کچھ بھی نہیں!” رحیم داد کے اندر کا باپ جاگ اٹھا۔ اس نے اپنی لاٹھی پوری قوت سے اس کالے ناگ کے پھن پر دے ماری۔ ناگ تڑپ کر لہرایا، لیکن رحیم داد نے اسے سنبھلنے کا موقع نہ دیا۔ ایک، دو، تین… درپے در پے وار ہوتے رہے یہاں تک کہ وہ خوفناک منظر ایک بے جان لکیر میں بدل گیا۔ رحیم داد کا سانس پھولا ہوا تھا، مگر اس کی آنکھوں میں ایک فاتحانہ چمک تھی۔ اس نے اس زہریلی رکاوٹ کو کچل دیا تھا جو اس کی بیٹی کے خوابوں کے راستے میں آئی تھی۔
لیکن اصل "کالا ناگ” تو ابھی آگے اس کا منتظر تھا۔
اگلے چند روز میں جب وہ منڈی پہنچا تو اسے معلوم ہوا کہ اس سال حکومت نے گندم کی خریداری سے ہاتھ کھینچ لیے ہیں۔ سرکاری گوداموں کے دروازے کسان کے لیے بند تھے، مگر وپاریوں اور مڈل مین کے لیے کھلے تھے۔ وہ وپاری جو کسان کی مجبوری کا فائدہ اٹھانے کے لیے گدھوں کی طرح منڈلا رہے تھے، انہوں نے گندم کا ریٹ اتنا کم کر دیا کہ رحیم داد کے پیروں تلے سے زمین نکل گئی۔
"حکومت نہیں خرید رہی بابا، ہم تو اسی ریٹ پر لیں گے، مرضی ہے تو بیچ دو،” وپاری کے ان الفاظ نے رحیم داد کے دل پر اس کالے ناگ سے بھی گہرا زخم لگایا جسے اس نے پگڈنڈی پر کچلا تھا۔
وہ کسان جو موت سے لڑ کر، خون پسینہ ایک کر کے فصل تیار کرتا ہے، اسے اپنے ہی ملک کے حکمرانوں کی بے حسی نے ہرا دیا تھا۔ وہ حکمران جو ٹھنڈے کمروں میں بیٹھ کر پالیسیاں بناتے ہیں، انہیں کیا خبر کہ ایک ایک دانے میں کسان کی کتنی آہیں چھپی ہوتی ہیں۔ رحیم داد نے اپنی لہلہاتی فصل کی طرف دیکھا، جو کل تک اسے "سونے کی بالیاں” لگ رہی تھی، اب وہ اسے "مٹی” دکھائی دے رہی تھی۔
اس نے آسمان کی طرف دیکھا اور پھٹی ہوئی آواز میں بڑبڑایا: "میں نے تو اس زہریلے ناگ کو کچل دیا تھا جو پگڈنڈی پر تھا، لیکن ان وردی والے اور کرسی والے ناگوں کا کیا کروں جو میرا رزق اور میری بیٹی کی بالیاں نگل گئے؟”
رحیم داد گھر کی طرف مڑا، لیکن اس کے قدم اب پہلے جیسے مضبوط نہیں تھے۔ اسے محسوس ہو رہا تھا کہ اس سال ساجدہ کے کانوں میں سونے کی بالیاں نہیں، بلکہ کسان کی بے بسی کا نوحہ سنائی دے گا۔ سونے کی بالیاں واقعی مٹی ہو چکی تھیں۔
پیر انتظار حسین مصور
