خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو باباپاکستان کا دوٹوک موقف
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمزیوسف صدیقی

پاکستان کا دوٹوک موقف

از سائیٹ ایڈمن اکتوبر 14, 2025
از سائیٹ ایڈمن اکتوبر 14, 2025 0 تبصرے 39 مناظر
40

افغانستان میں غیر قانونی حکومت اور پاکستان کا دوٹوک موقف

افغانستان ایک بار پھر تاریخ کے نازک ترین موڑ پر کھڑا ہے۔ وہاں اقتدار ہے، مگر زبردستی کا ہے۔ حکومت ہے، مگر جواز نہیں۔ یہ وہ ملک ہے جہاں ہر طاقتور آیا، لیکن کوئی امن نہ لا سکا۔ دو ہزار اکیس میں جب طالبان نے بندوق کے زور پر کابل پر قبضہ کیا تو دنیا نے سمجھا شاید جنگ ختم ہو گئی۔ مگر درحقیقت، ایک نئی جنگ شروع ہوئی ۔۔۔ عوام اور اقتدار کے درمیان، اصول اور طاقت کے درمیان، مذہب اور سیاست کے درمیان۔

طالبان کا قبضہ کسی عوامی فیصلے کا نتیجہ نہیں تھا۔ نہ الیکشن ہوئے، نہ مشاورت، نہ آئین باقی رہا۔ پارلیمنٹ تحلیل، عدلیہ تابع، اور اختلاف کی ہر آواز خاموش۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی برادری نے اس حکومت کو تاحال تسلیم نہیں کیا۔ اکیسویں صدی میں دنیا کے کسی بھی ملک کے لیے یہ ممکن نہیں کہ وہ عوامی نمائندگی کے بغیر اقتدار میں رہے اور اسے قانونی حکومت سمجھا جائے۔ طالبان کا اقتدار طاقت سے قائم ہے، عوام کی رضامندی سے نہیں۔ اور طاقت کا دوام ہمیشہ مختصر ہوتا ہے۔

پاکستان نے برسوں افغان مسئلے پر نرمی برتی۔ مگر اب حالات نے رخ بدل دیا ہے۔ دفترِ خارجہ کے حالیہ بیان نے معاملہ بالکل واضح کر دیا۔
دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ
ہمیں امید ہے کہ ایک دن افغان عوام کو حقیقی آزادی نصیب ہوگی اور افغانستان میں ایک حقیقی نمائندہ حکومت حکمرانی کرے گی

یہ بیان صرف سفارتی جملہ نہیں، ایک تاریخی حقیقت کا اعتراف ہے۔ پاکستان نے برسوں طالبان سے تعلقات رکھے، لیکن اب اس نے وہ بات کہہ دی جو سب سوچ رہے تھے مگر کہنے سے ڈرتے تھے۔ پاکستان نے تسلیم کر لیا کہ کابل میں حکومت نہیں، قبضہ ہے۔ اور قابض کو قابض کہنا ہی سچائی کی بنیاد ہے۔

اسلامی جمہوریت کا تقاضا عدل، شورائیت اور عوامی مشاورت ہے۔ طالبان اگر اسلام کا نام لے کر حکومت کر رہے ہیں تو انہیں اسلام کے اصولوں کو سمجھنا ہوگا۔ اسلام میں حکمران وہ نہیں جو طاقت سے مسلط ہو جائے، بلکہ وہ ہے جو عدل سے نظام قائم کرے۔ جہاں مشاورت ختم ہو، وہاں ظلم شروع ہوتا ہے۔ عورتوں سے تعلیم چھیننا، صحافت کو خاموش کروانا، رائے کو دبانا — یہ شریعت نہیں، خوف کی حکمرانی ہے۔ اسلام علم کا علمبردار ہے، جبر کا نہیں۔

افغانستان کے عوام آج تھکے ہوئے ہیں۔ وہ پچھلے پچاس برسوں سے مسلسل جنگ، دربدری اور غیر یقینی کا شکار ہیں۔ کبھی روس، کبھی امریکہ، اب طالبان۔ عام افغان کے لیے ہر نیا حاکم ایک نیا عذاب ہے۔ معیشت تباہ، کرنسی کمزور، بینک خالی، روزگار ختم۔ لاکھوں لوگ بھوک کے دہانے پر ہیں۔ خواتین گھروں میں قید ہیں، بچیاں اسکول نہیں جا سکتیں، اور نوجوان ملک چھوڑنے کے خواب دیکھ رہے ہیں۔ دنیا دیکھ رہی ہے، مگر بول نہیں رہی۔

پاکستان کے لیے یہ صورتحال محض انسانی مسئلہ نہیں بلکہ قومی سلامتی کا چیلنج بھی ہے۔ سرحد پار سے حملے بڑھ رہے ہیں، دہشت گردی کے جال دوبارہ فعال ہو رہے ہیں، اور کابل کی حکومت خاموش تماشائی بنی بیٹھی ہے۔ اگر افغانستان اپنے علاقے سے دہشت گرد گروہوں کو کنٹرول نہیں کرتا تو پاکستان مجبوراً سخت فیصلے کرے گا۔ اب وہ وقت گزر گیا جب طالبان کے وعدوں پر یقین کر لیا جاتا تھا۔ پاکستان اب اپنی سلامتی پر سمجھوتہ نہیں کرے گا۔

عالمی برادری نے بھی افسوس ناک دوہرا معیار اپنایا ہے۔ ایک طرف وہ طالبان کو تسلیم کرنے سے انکار کرتی ہے، دوسری طرف افغان عوام کو منجمد اثاثوں، بند بینکنگ نظام اور امداد کی کٹوتیوں کے ذریعے سزا دے رہی ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ طالبان کے بجائے عام لوگ پس رہے ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیمیں چیخ رہی ہیں، مگر عالمی طاقتوں کے مفادات ان چیخوں سے زیادہ طاقتور ہیں۔ مغرب کو یہ سمجھنا ہوگا کہ ایک بھوکا اور مجبور افغانستان پورے خطے کے لیے خطرہ ہے۔

طالبان حکومت کے اندر بھی تقسیم بڑھ رہی ہے۔ کچھ لوگ دنیا سے تعلق چاہتے ہیں، کچھ مکمل تنہائی میں یقین رکھتے ہیں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ تنہائی کسی ریاست کو نہیں بچا سکتی۔ طالبان اگر واقعی افغانستان کے خیرخواہ ہیں تو انہیں عوام کے ساتھ مکالمہ شروع کرنا ہوگا، ایک آئینی فریم ورک وضع کرنا ہوگا، اور ایسا نظام قائم کرنا ہوگا جس میں ہر قوم، ہر زبان، ہر مذہب اور ہر طبقہ شامل ہو۔ جب تک یہ نہیں ہوگا، طالبان کی حکومت دنیا کے لیے غیر قانونی ہی رہے گی۔

پاکستان کا حالیہ موقف صرف افغانستان کے لیے نہیں بلکہ پورے خطے کے لیے پیغام ہے۔ اب دنیا کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ عوام کے ساتھ کھڑی ہے یا بندوق والوں کے ساتھ۔ پاکستان نے سچ بول دیا ۔۔اب باقی دنیا پر ہے کہ وہ سچ سننے کی ہمت رکھتی ہے یا نہیں۔ اگر عالمی برادری نے حقیقت سے منہ موڑا تو نقصان صرف افغانستان کا نہیں ہوگا، پورے خطے کا ہوگا۔

اکیسویں صدی میں بندوق کی حکومتوں کے لیے کوئی گنجائش نہیں بچی۔ یہ صدی آئین، اداروں اور عوامی شمولیت کی صدی ہے۔ جو ریاست عوام سے الگ کھڑی ہوگی، وہ خود اپنی بنیاد کھو دے گی۔ طالبان اگر سمجھتے ہیں کہ وہ طاقت کے بل پر حکومت چلا لیں گے تو یہ بھول ہے۔ طاقت عارضی ہوتی ہے، مگر عوام کی رضا مستقل قوت ہے۔

افغانستان کو امن چاہیے، انصاف چاہیے، ترقی چاہیے۔ اس کے عوام اب مزید تجربات برداشت نہیں کر سکتے۔ پاکستان نے جو کہا وہ وقت کی آواز ہے ۔۔۔ افغانستان میں حکومت نہیں، قبضہ ہے۔ اور دنیا کا کوئی ملک اس قبضے کو تسلیم نہیں کر رہا۔ تاریخ کی دیوار پر یہ لکھا جا چکا ہے: عوام کے بغیر کوئی حکومت دیرپا نہیں ہوتی۔
طالبان کو اب فیصلہ کرنا ہوگا۔۔یا تو وہ عوام کے ساتھ کھڑے ہوں، یا تاریخ ان کے خلاف لکھ دی جائے گی۔ وقت گزر رہا ہے، اور وقت کبھی معاف نہیں کرتا۔

یوسف صدیقی

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • میں عشق ذات ہوں چہرہ بدل کے آئی ہوں
  • تاریخ کیا کہتی ہے
  • بدین میں رضا اللہ نظامانی کا قتل
  • طلع البدر علینا
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
ادب کی روشنی میں اُردو
پچھلی پوسٹ
زندگی

متعلقہ پوسٹس

حکومت، حکمراں اور طریقۂ حکمرانی

اپریل 4, 2026

شام سے ذرا پہلے

دسمبر 27, 2021

گڈ ڈیڈ،بیڈ ڈیڈ

اگست 25, 2025

حرفِ ندارد

جنوری 7, 2020

رخ دلبر میں، رُوئے یار میں

مارچ 22, 2025

عبدالستار ایدھی

دسمبر 7, 2025

مُجھ کو آیا نہ زمانے کو لُبھانا یارو

اپریل 9, 2023

جو شخص تیرے غم میں بظاہر اداس ہے

اگست 23, 2020

نظروں سے ہو گئی غلطی

مارچ 3, 2020

اُس کے جانے کا اِس دل کو ڈر سا تھا

مئی 20, 2020

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

    اپریل 15, 2026
  • لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

    اپریل 14, 2026
  • کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی

    اپریل 14, 2026
  • خیبر پختو نخواہ کا افسانہ

    اپریل 12, 2026
  • انجمن پنجاب

    اپریل 11, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے
  • سردار حمادؔ منیر on یا رسولِ خدا اشرفِ انبیاء

اسلامی گوشہ

مرا سخن سخنِ شاہکار ہو جائے

اپریل 6, 2026

سرکارؐ رازِ حق سے مجھے آشنا کریں

اپریل 6, 2026

قرآنِ کریم میں تدبر کیسے کریں؟

اپریل 4, 2026

ایک تھپڑ اور کئی سوال

مارچ 26, 2026

کلام نبویؐ کی کرنیں

مارچ 23, 2026

اردو شاعری

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

اپریل 15, 2026

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

اپریل 14, 2026

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی

اپریل 14, 2026

دکھی ہے دل مرا لیکن غموں سے

اپریل 7, 2026

تمہیں میری محبت کا جو اندازہ نہیں ہوتا

اپریل 6, 2026

اردو افسانے

عورت کی تعلیم کی اہمیت

اپریل 7, 2026

اب بس کرو ماں

اپریل 4, 2026

باغ علی باغی (قسط اول)

اپریل 3, 2026

سونے کی بالیاں

مارچ 29, 2026

گل مصلوب

مارچ 25, 2026

اردو کالمز

مودی کا ہندو خطرے میں ہے

اپریل 11, 2026

طاقت کا توازن اور پائیدار امن!

اپریل 10, 2026

ماں بننے کا سفر اور جوائنٹ فیملی کا...

اپریل 8, 2026

سوچ کا انقلاب

اپریل 7, 2026

جنگ کے شعلے اور سسکتی انسانیت

اپریل 5, 2026

باورچی خانہ

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

سادہ مٹن ہانڈی

جولائی 5, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

    اپریل 15, 2026
  • لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

    اپریل 14, 2026
  • کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی

    اپریل 14, 2026
  • خیبر پختو نخواہ کا افسانہ

    اپریل 12, 2026
  • انجمن پنجاب

    اپریل 11, 2026
  • تنقید کیا ہے

    اپریل 11, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

اتنا ظرف ھو ابن آدم میں

ستمبر 3, 2025

بیت رہی ہے زندگی اسی انتظار...

جنوری 23, 2020

کردار، کردار نگاری اور تخلیقیت

مارچ 16, 2026
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں