خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو باباپاکستان کا دوٹوک موقف
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمزیوسف صدیقی

پاکستان کا دوٹوک موقف

از سائیٹ ایڈمن اکتوبر 14, 2025
از سائیٹ ایڈمن اکتوبر 14, 2025 0 تبصرے 73 مناظر
74

افغانستان میں غیر قانونی حکومت اور پاکستان کا دوٹوک موقف

افغانستان ایک بار پھر تاریخ کے نازک ترین موڑ پر کھڑا ہے۔ وہاں اقتدار ہے، مگر زبردستی کا ہے۔ حکومت ہے، مگر جواز نہیں۔ یہ وہ ملک ہے جہاں ہر طاقتور آیا، لیکن کوئی امن نہ لا سکا۔ دو ہزار اکیس میں جب طالبان نے بندوق کے زور پر کابل پر قبضہ کیا تو دنیا نے سمجھا شاید جنگ ختم ہو گئی۔ مگر درحقیقت، ایک نئی جنگ شروع ہوئی ۔۔۔ عوام اور اقتدار کے درمیان، اصول اور طاقت کے درمیان، مذہب اور سیاست کے درمیان۔

طالبان کا قبضہ کسی عوامی فیصلے کا نتیجہ نہیں تھا۔ نہ الیکشن ہوئے، نہ مشاورت، نہ آئین باقی رہا۔ پارلیمنٹ تحلیل، عدلیہ تابع، اور اختلاف کی ہر آواز خاموش۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی برادری نے اس حکومت کو تاحال تسلیم نہیں کیا۔ اکیسویں صدی میں دنیا کے کسی بھی ملک کے لیے یہ ممکن نہیں کہ وہ عوامی نمائندگی کے بغیر اقتدار میں رہے اور اسے قانونی حکومت سمجھا جائے۔ طالبان کا اقتدار طاقت سے قائم ہے، عوام کی رضامندی سے نہیں۔ اور طاقت کا دوام ہمیشہ مختصر ہوتا ہے۔

پاکستان نے برسوں افغان مسئلے پر نرمی برتی۔ مگر اب حالات نے رخ بدل دیا ہے۔ دفترِ خارجہ کے حالیہ بیان نے معاملہ بالکل واضح کر دیا۔
دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ
ہمیں امید ہے کہ ایک دن افغان عوام کو حقیقی آزادی نصیب ہوگی اور افغانستان میں ایک حقیقی نمائندہ حکومت حکمرانی کرے گی

یہ بیان صرف سفارتی جملہ نہیں، ایک تاریخی حقیقت کا اعتراف ہے۔ پاکستان نے برسوں طالبان سے تعلقات رکھے، لیکن اب اس نے وہ بات کہہ دی جو سب سوچ رہے تھے مگر کہنے سے ڈرتے تھے۔ پاکستان نے تسلیم کر لیا کہ کابل میں حکومت نہیں، قبضہ ہے۔ اور قابض کو قابض کہنا ہی سچائی کی بنیاد ہے۔

اسلامی جمہوریت کا تقاضا عدل، شورائیت اور عوامی مشاورت ہے۔ طالبان اگر اسلام کا نام لے کر حکومت کر رہے ہیں تو انہیں اسلام کے اصولوں کو سمجھنا ہوگا۔ اسلام میں حکمران وہ نہیں جو طاقت سے مسلط ہو جائے، بلکہ وہ ہے جو عدل سے نظام قائم کرے۔ جہاں مشاورت ختم ہو، وہاں ظلم شروع ہوتا ہے۔ عورتوں سے تعلیم چھیننا، صحافت کو خاموش کروانا، رائے کو دبانا — یہ شریعت نہیں، خوف کی حکمرانی ہے۔ اسلام علم کا علمبردار ہے، جبر کا نہیں۔

افغانستان کے عوام آج تھکے ہوئے ہیں۔ وہ پچھلے پچاس برسوں سے مسلسل جنگ، دربدری اور غیر یقینی کا شکار ہیں۔ کبھی روس، کبھی امریکہ، اب طالبان۔ عام افغان کے لیے ہر نیا حاکم ایک نیا عذاب ہے۔ معیشت تباہ، کرنسی کمزور، بینک خالی، روزگار ختم۔ لاکھوں لوگ بھوک کے دہانے پر ہیں۔ خواتین گھروں میں قید ہیں، بچیاں اسکول نہیں جا سکتیں، اور نوجوان ملک چھوڑنے کے خواب دیکھ رہے ہیں۔ دنیا دیکھ رہی ہے، مگر بول نہیں رہی۔

پاکستان کے لیے یہ صورتحال محض انسانی مسئلہ نہیں بلکہ قومی سلامتی کا چیلنج بھی ہے۔ سرحد پار سے حملے بڑھ رہے ہیں، دہشت گردی کے جال دوبارہ فعال ہو رہے ہیں، اور کابل کی حکومت خاموش تماشائی بنی بیٹھی ہے۔ اگر افغانستان اپنے علاقے سے دہشت گرد گروہوں کو کنٹرول نہیں کرتا تو پاکستان مجبوراً سخت فیصلے کرے گا۔ اب وہ وقت گزر گیا جب طالبان کے وعدوں پر یقین کر لیا جاتا تھا۔ پاکستان اب اپنی سلامتی پر سمجھوتہ نہیں کرے گا۔

عالمی برادری نے بھی افسوس ناک دوہرا معیار اپنایا ہے۔ ایک طرف وہ طالبان کو تسلیم کرنے سے انکار کرتی ہے، دوسری طرف افغان عوام کو منجمد اثاثوں، بند بینکنگ نظام اور امداد کی کٹوتیوں کے ذریعے سزا دے رہی ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ طالبان کے بجائے عام لوگ پس رہے ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیمیں چیخ رہی ہیں، مگر عالمی طاقتوں کے مفادات ان چیخوں سے زیادہ طاقتور ہیں۔ مغرب کو یہ سمجھنا ہوگا کہ ایک بھوکا اور مجبور افغانستان پورے خطے کے لیے خطرہ ہے۔

طالبان حکومت کے اندر بھی تقسیم بڑھ رہی ہے۔ کچھ لوگ دنیا سے تعلق چاہتے ہیں، کچھ مکمل تنہائی میں یقین رکھتے ہیں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ تنہائی کسی ریاست کو نہیں بچا سکتی۔ طالبان اگر واقعی افغانستان کے خیرخواہ ہیں تو انہیں عوام کے ساتھ مکالمہ شروع کرنا ہوگا، ایک آئینی فریم ورک وضع کرنا ہوگا، اور ایسا نظام قائم کرنا ہوگا جس میں ہر قوم، ہر زبان، ہر مذہب اور ہر طبقہ شامل ہو۔ جب تک یہ نہیں ہوگا، طالبان کی حکومت دنیا کے لیے غیر قانونی ہی رہے گی۔

پاکستان کا حالیہ موقف صرف افغانستان کے لیے نہیں بلکہ پورے خطے کے لیے پیغام ہے۔ اب دنیا کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ عوام کے ساتھ کھڑی ہے یا بندوق والوں کے ساتھ۔ پاکستان نے سچ بول دیا ۔۔اب باقی دنیا پر ہے کہ وہ سچ سننے کی ہمت رکھتی ہے یا نہیں۔ اگر عالمی برادری نے حقیقت سے منہ موڑا تو نقصان صرف افغانستان کا نہیں ہوگا، پورے خطے کا ہوگا۔

اکیسویں صدی میں بندوق کی حکومتوں کے لیے کوئی گنجائش نہیں بچی۔ یہ صدی آئین، اداروں اور عوامی شمولیت کی صدی ہے۔ جو ریاست عوام سے الگ کھڑی ہوگی، وہ خود اپنی بنیاد کھو دے گی۔ طالبان اگر سمجھتے ہیں کہ وہ طاقت کے بل پر حکومت چلا لیں گے تو یہ بھول ہے۔ طاقت عارضی ہوتی ہے، مگر عوام کی رضا مستقل قوت ہے۔

افغانستان کو امن چاہیے، انصاف چاہیے، ترقی چاہیے۔ اس کے عوام اب مزید تجربات برداشت نہیں کر سکتے۔ پاکستان نے جو کہا وہ وقت کی آواز ہے ۔۔۔ افغانستان میں حکومت نہیں، قبضہ ہے۔ اور دنیا کا کوئی ملک اس قبضے کو تسلیم نہیں کر رہا۔ تاریخ کی دیوار پر یہ لکھا جا چکا ہے: عوام کے بغیر کوئی حکومت دیرپا نہیں ہوتی۔
طالبان کو اب فیصلہ کرنا ہوگا۔۔یا تو وہ عوام کے ساتھ کھڑے ہوں، یا تاریخ ان کے خلاف لکھ دی جائے گی۔ وقت گزر رہا ہے، اور وقت کبھی معاف نہیں کرتا۔

یوسف صدیقی

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • سیط وقت میں قرنوں قیام کرتا ہوا
  • نا مکمل تحریر
  • شہروں میں تفریحی سہولیات کی کمی
  • دل پہ ہے جب سے دباؤ یاد کا
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
ادب کی روشنی میں اُردو
پچھلی پوسٹ
زندگی

متعلقہ پوسٹس

ہم نے مل کر جناب لوگوں سے

جنوری 12, 2025

مرنے دیتے ہیں نہ جینے کا مزہ دیتے ہیں

اکتوبر 12, 2025

انسان کے اندر مثبت و منفی قوتیں

جنوری 6, 2026

میگها رت کی رات، خموشی

مئی 21, 2020

اے عشق نبیﷺ

دسمبر 19, 2025

غم پرندہ جو پہلی اڑانوں سے

دسمبر 26, 2024

اردو ادب پر سوشل میڈیا کے مثبت اثرات

جون 28, 2021

اردو زبان اور قائداعظمؒ کی بصیرت

ستمبر 14, 2025

جو سایوں کی وادی میں چلے

نومبر 3, 2019

امن بورڈ یا امن سے اکتاہٹ؟

مارچ 16, 2026

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • وصل کا شوق نچائے تو خوشی ہوتی ہے

    ستمبر 4, 2026
  • آمد

    ستمبر 4, 2026
  • چلو چلیں

    ستمبر 2, 2026
  • سر اتاروں گا ترا، بیج بھی بویا میں تھا

    ستمبر 2, 2026
  • نماز حضور ﷺ کے آنکھوں کی ٹھنڈک

    اگست 31, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • Visal abbasi on نہ بھٹکے ہیں نہ راستہ ہوا غلط
  • ایم اے دوشی on دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Meesam Ali Agha on دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ

اسلامی گوشہ

آمد

ستمبر 4, 2026

چلو چلیں

ستمبر 2, 2026

مدح خیر الوری کے پیار میں آجاتے ہیں

اگست 30, 2026

آزاد نعتیہ نظم – حل

اگست 28, 2026

12 ربیع الاول : آمدِ مصطفیٰ ﷺ

اگست 26, 2026

اردو شاعری

وصل کا شوق نچائے تو خوشی ہوتی ہے

ستمبر 4, 2026

سر اتاروں گا ترا، بیج بھی بویا میں...

ستمبر 2, 2026

نہیں خزاں ہی نشان قاتل

اگست 30, 2026

ہر گھڑی بس سوال کرتے ہیں

اگست 30, 2026

عجب سے عجب تیرا اسلوب دنیا

اگست 30, 2026

اردو افسانے

سرخ پینسلیں اور خستہ حال خیمہ

اگست 9, 2026

وہ درخت جو اپنے سائے سے رُوٹھ گیا

اگست 3, 2026

ماں کی خاموش دُعا

جولائی 24, 2026

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

واپسی

جون 2, 2026

اردو کالمز

نماز حضور ﷺ کے آنکھوں کی ٹھنڈک

اگست 31, 2026

سچ سامنے آنے لگا ہے

اگست 31, 2026

ایک نئے استعمار کا خاموش سفر

اگست 28, 2026

12 ربیع الاول : آمدِ مصطفیٰ ﷺ

اگست 26, 2026

"شہر نامہ سوم” ایک عمدہ ادبی اور تاریخی...

اگست 26, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • وصل کا شوق نچائے تو خوشی ہوتی ہے

    ستمبر 4, 2026
  • آمد

    ستمبر 4, 2026
  • چلو چلیں

    ستمبر 2, 2026
  • سر اتاروں گا ترا، بیج بھی بویا میں تھا

    ستمبر 2, 2026
  • نماز حضور ﷺ کے آنکھوں کی ٹھنڈک

    اگست 31, 2026
  • سچ سامنے آنے لگا ہے

    اگست 31, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

نہ فکر انبساط کی

مارچ 23, 2025

پانچ دن

جنوری 24, 2020

مرے پڑاؤ سے پرے

دسمبر 13, 2021
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں