107
جو شخص تیرے غم میں بظاہر اداس ہے
وہ واقبِ سکوں ہے مسرت شناس ہے
اے مائلِ بہار کہی یہ نہ بھولنا
ہر گلشنِ آمید کا انجام یاس ھے
اٹھتی نہی ہے جانِب اربابِ اقتدار
شاید میری نگاہ زمانہ شناس ہے
دامن پہ اشکِ غم ہیں گریباں لہو سے تر
اے صبحِ نو گلوں کا یہ کیسا لباس ہے
شاید اسی کا نام ہیں مجبوری حیات
ٹوٹی ہوئی ہے آس مگر پہر بھی آس ہے
ٹکرا کے جس سے کتنے ہی طوفان پلٹ گئے
اے طلعت میری روح میں اک ایسی پیاس ہیں
طلعت سروہا
