112
تاج نے تخت نے بغاوت کی
جب مرے وقت نے بغاوت کی
یاد تجھ کو نہیں کیا جب بھی
قلبِ دو لخت نے بغاوت کی
دونوں سمتوں کا جب ملاپ ہوا
تیسری سمت نے بغاوت کی
مجھ کو اپنے بھی چھوڑ جائیں گے
جب مرے بخت نے بغاوت کی
ہوش مندوں کی بزم میں دیکھو
آج اک مست نے بغاوت کی
شہر والوں کو دیکھ کر عنبر
دشت میں دشت نے بغاوت کی
فرحانہ عنبر
