اتنا ظرف ھو ابن آدم میں تو خود کو بادشاہ تصور نہ کرے۔انسان۔خقیقت میں انا پرست ھے۔ایسا انا پرست جو خود کی انا میں آکر خود کا ھی نقصان کر بیٹھتا ھے۔کبھی امیری کا گھمنڈ۔صحت کی اکڑ۔اولاد کا تکبر وغیرہ وغیرہ ۔ساری عمر انسان اس گھمنڈ میں نکال دیتا ھے کہ شاید یہ سب کچھ ایسے ہی رھے گا۔پر نہی سب کچھ ایسے نہی رہتا۔وقت بدلتا ھے اور وقت کے ساتھ انسان کا مقدر بھی۔
اپنا کیا آگے آتا ھے۔اپنی بوئ ھوئ فصل خود کاٹنی پڑتی ھے۔اور ذندگی کا وہ سب سے مشکل دورھوتا ھے۔کبھی کبھی اس فصل کاٹتے وقت ھاتھ زخمی ھو جاتے ہیں۔کیونکہ وہ فصل انا و تکبر میں رہ کر تلخ لہجے۔نفرت۔اور دوسروں کو خقیر سمجھنے کی نظر میں بوئ ھوتی ھے تب انسان کو احساس نہی ھوتا وہ کیا۔ بو رہا۔ ھے۔ جب کاٹتا ھے۔تب زخمی دل و ھاتھ اتنی۔ہی اذیت دے رہے ھوتے ہیں جتنی اذیت وہ دوسروں کو دیتا تھا۔
ہم انسان کہاں اتنا سوچتے ہیں۔بس فکر اتنی ھوتء ھے گھر۔کاروبار۔اولاد کا مستقبل اور کمائ کا ذریعہ بہترین لوازمات عیش و عشرت کی ذندگی ھو بس ان سب میں عبادت ۔نمازیں۔روزے۔عمرے ۔حج۔سب دکھاوا بن کے رہ جاتا ھے۔اور تکبر انسان کے بڑے ھونے کی شان ۔
لیکن اللہ پاک اک مہلت دے رہا ھوتا ھے اے ابن آدم آخر کب تک ایسے رھو گے۔لوٹ کر تو میرے پاس ہی آنا ھے ناں اور اپنے اعمالوں کا حساب بھی خود ہی دینا ھے۔دنیا و آخرت میں
اسکی رسی کی ڈھیل جتنی ڈھیلی ہوتی ھے وہ اتنی ہی سختی سے کھینچی جاتی ھے تب وہ اکڑ اسقدر ٹوٹ پھوٹ کا شکار ھوتی ھے کہ انسان کے وجود کا اک اک غرور خاک میں مل کر کئ من مٹی تلے مدفون ھوجاتا ھے۔
تب انسان کی اوقات معلوم پر جاتی ھے انسان نہ بادشاہ ھے۔نہ انا و تکبر کا مجسمہ۔انسان صرف خاک ھے اور اللہ کے در کا فقیر ایسا فقیر جو اس کے در پر پڑا رھے تو اللہ اس پر رحمت کی نظر ڈالے رکھتا ھے۔ورنہ اسکی پکڑ بہت سخت ھے۔
ہم ذندگی بھر جو مرضی کریں لیکن آخر میں ہمارے لیے صرف اتنا کہا جاتا ھے۔
اِنّا لِلّٰهِ وَاِنّا اِلَيْهِ رَاجِعُوْن
اللہ مرحوم کی بخشش فرماۓ آمین۔
بس یہ ہماری خقیقت و اصلیت ھے۔
اللہ واقعی ہماری بخشش فرمائیں۔ اور ہمیں وہ ہدایت دیں جس میں ہماری دنیا و آخرت کی عافیت ھو ۔
آمین۔
صنم فاروق حسین
