خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپ کا سلامانسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟
آپ کا سلاماردو تحاریراردو کالمزمحسن خالد محسن

انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

از سائیٹ ایڈمن مئی 18, 2026
از سائیٹ ایڈمن مئی 18, 2026 0 تبصرے 95 مناظر
96

Lانسان بڑی عجیب مخلوق ہے۔
بارش نہ ہو تو آسمان کو کوستا ہے۔
زیادہ ہو جائے تو چھت کو۔
بجلی نہ آئے تو حکومت بُری۔
آ جائے تو بِل بُرا۔
یوں لگتا ہے جیسے ناشکری ہماری قومی نہیں، انسانی عادت ہے۔
انسان کی مثال اُس بچے جیسی ہے جسے کھلونا چاہیے۔
کھلونا مل جائے تو نیا چاہیے۔
اور نیا مل جائے تو دوسرے کا اچھا لگنے لگتا ہے۔
دل کا پیٹ کبھی نہیں بھرتا۔
یہ وہ کنواں ہے جس میں خواہشوں کی بالٹی ہمیشہ خالی نکلتی ہے۔
ایک بزرگ نے کہا تھا:
"انسان کو اگر سونے کا پہاڑ مل جائے تو وہ اس پر چڑھ کر چاند مانگے گا۔”
یہی اصل مسئلہ ہے۔
ہم نعمت گنتے نہیں، خامیوں کا رجسٹر کھول لیتے ہیں۔
کسی کے پاس سائیکل ہو تو موٹر سائیکل کا غم۔
موٹر سائیکل والے کو گاڑی کا بخار۔
گاڑی والے کو بڑی گاڑی کی خارش۔
اور بڑی گاڑی والا کہتا ہے: "سکون نہیں ہے۔”
گویا سکون اب کسی شو روم میں قسطوں پر ملتا ہے۔
محاورہ ہے، "اونٹ کے منہ میں زیرہ۔”
انسان کی خواہش بھی ایسی ہی ہے۔
دُنیا بھر کی نعمتیں بھی اس کے دل کے سامنے زیرہ لگتی ہیں۔
ہمارے ہاں ایک عجیب رسم ہے۔
آدمی دو وقت کی روٹی کھا کر بھی کہتا ہے، "بس گزارا ہو رہا ہے۔”
پھر وہی آدمی شادی میں پانچ پلیٹیں بھر کر کھاتا ہے۔
ناشکری کا پیٹ اور دعوت کا پیٹ الگ الگ ہوتا ہے۔
حضرت علیؓ سے منسوب قول ہے:
"نعمت کی بقا شکر سے ہے۔”
لیکن ہم شکر ایسے کرتے ہیں جیسے بینک سے قرض واپس کر رہے ہوں۔
زبان سے "الحمدللہ”ایسے نکلتا ہے جیسے ابھی دُنیا ختم ہوئی ہے۔
ہمارا حال یہ ہے کہ
پنکھے کے نیچے بیٹھ کر گرمی کو گالیاں دیتے ہیں۔
ہیٹر کے سامنے سردی کواور دفتر میں بیٹھ کر نوکری کو۔
بے روزگار آدمی ہمیں دیکھ کر سوچتا ہے:
"یہ بندہ ناشکری میں پی ایچ۔ ڈی کیے بیٹھا ہے۔”
سوشل میڈیا نے ناشکری کو مزید جوان کر دیا ہے۔
پہلے آدمی اپنے محلے سے جلتا تھا۔
اب پوری دُنیا سے جلتا ہے۔
اِدھر کسی نے دبئی کی تصویر لگائی۔
اُدھر ہمارا دل اپنے کمرے کی دیواروں سے بدظن ہو گیا۔
ایک زمانہ تھا۔
لوگ خشک روٹی کھا کر بھی خوش تھے۔
اب پیزا کھا کر کہتے ہیں:
"مزہ نہیں آیا۔”
اس میں شک نہیں کہ ترقی ہوئی ہے۔
مگر شُکر پیچھے رہ گیا ہے۔
محاورہ ہے:”چراغ تلے اندھیرا۔”
انسان کے ساتھ بھی یہی ہے۔
اس کے پاس صحت، گھر، ماں باپ، اولاد، دوست سب ہوتے ہیں۔
لیکن وہ ایک کمی پر ایسا روتا ہے جیسے دُنیا اُجڑ گئی ہو۔
ایک فقیر سے کسی نے پوچھا:
"تم ہمیشہ خوش کیوں رہتے ہو؟”
فقیر بولا:
"کیونکہ میں وہ نہیں گنتا جو میرے پاس نہیں۔”
بات چھوٹی تھی۔
مگر پورا فلسفہ رکھتی ہے۔
ناشکری کی ایک وجہ موازنہ بھی ہے۔
ہم اپنے دُکھ کا موازنہ کسی کے سُکھ سے کرتے ہیں۔
اپنے سُکھ کا کسی کے دُکھ سے نہیں کرتے۔
یہ ایسا ہی ہے جیسے آدمی اپنی ٹوٹی چپل دیکھ کر روئے،
مگر ننگے پاؤں والے کو نہ دیکھے۔
اقبالؒ نے کہا تھا:
"ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی”
لیکن ہم ایسی مٹی ہیں جو بارش میں بھی شکوہ کرتی ہے۔
کبھی حکومت بُری۔
کبھی قسمت بُری۔
کبھی موسم بُرا۔
اگر چائے ٹھنڈی ہو جائے تو زندگی بے معنی لگنے لگتی ہے۔
ایک صاحب ہر وقت شکایت کرتے تھے۔
کہتے تھے:”میرے پاس کچھ نہیں۔”
دوست نے پوچھا: "گُردے بیچ دو گے؟”
کہنے لگے:”ہرگز نہیں!”
دوست بولا:”پھر کروڑوں کی چیزیں لے کر بھی فقیر بنے بیٹھے ہو؟”
اصل میں انسان عادت کا غلام ہے۔
نعمت ملتے ہی اس کا مزہ ختم ہو جاتا ہے۔
نئی چیز چند دن بعد پرانی لگتی ہے۔
اسی لیے دل پھر نئی خواہش پیدا کر لیتا ہے۔
یہ خواہشوں کی وہ ٹرین ہے جس کا آخری اسٹیشن قبرستان ہے۔
مرزا غالب نے کہا ہے:
"ہر ایک بات پہ کہتے ہو تم کہ تو کیا ہے
تمہی کہو کہ یہ اندازِ گفتگو کیا ہے”
ہماری ناشکری بھی کچھ ایسی ہی ہے۔
جو مل جائے، اس کی قدر نہیں۔
اورجو نہ ملے، اس کا ماتم۔
حالانکہ شکر صرف مذہبی حکم نہیں۔
نفسیاتی سکون بھی ہے۔
جو شکر گزار ہوتا ہے، وہ کم چیزوں میں بھی خوش رہتا ہے۔
اس کے چہرے پر اطمینان ہوتا ہے۔
اور جو ناشکرا ہو، وہ محل میں بھی بے سکون رہتا ہے۔
زندگی چائے کے کپ جیسی ہے۔
کبھی میٹھی۔
کبھی پھیکی۔
پینے والا اگر ہر گھونٹ پر شکایت کرے تو چائے بھی ناراض ہو جاتی ہے۔
اس لیے کبھی رُک کر اپنے پاس موجود نعمتیں گنیے۔
سانس چل رہی ہے۔
آنکھیں دیکھ رہی ہیں۔
پاؤں ساتھ دے رہے ہیں۔
یہ سب نعمتیں ہیں۔
ورنہ ہسپتال جا کر معلوم ہوتا ہے کہ ایک سانس کتنی قیمتی ہوتی ہے۔
ناشکری انسان کو اندر سے کھوکھلا کر دیتی ہے۔
شکر دل کو نرم کرتا ہے۔
اور نرم دل انسان ہی سکون پاتا ہے۔
یاد رکھیے:
زندگی ہمیشہ مکمل نہیں ہوتی۔
لیکن نعمتوں سے خالی بھی نہیں ہوتی۔
جو شخص کانٹوں میں بھی پھول دیکھ لے، وہی خوش رہتا ہے۔

محسن خالد محسنؔ

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • خیبر پختو نخواہ کا افسانہ
  • اگائیں کیسے یقین آنکھیں
  • سرسوں دوا بھی شفا بھی
  • شکاری عورتیں
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟
پچھلی پوسٹ
قربتِ لمس کو گالی نہ بنا

متعلقہ پوسٹس

کرونا بوسٹر

ستمبر 26, 2021

ایران، امریکہ کشیدگی کم کرانے میں پاکستان کاکردار

جنوری 11, 2020

سفر در سفر

نومبر 14, 2021

سیڑھیوں والا پُل

مارچ 20, 2020

اردو کی آخری کتاب

دسمبر 12, 2019

نئی جہت

مارچ 1, 2024

نغمهٔ شکست

مئی 30, 2025

پاک – امریکہ تعلقات

ستمبر 24, 2025

ہم نے پینے کی قسم کھائی ہے

فروری 8, 2026

اعتکاف احکام اور آداب

مارچ 9, 2026

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • زمیں کی بات کرتے ہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

    اکتوبر 11, 2026
  • مرد کے حصے کا ہجر

    اکتوبر 11, 2026
  • تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

    اکتوبر 11, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • Ayesha khan on میری خوش فہمی تھی
  • Ayesha khan on جن کو دیدار میسر ہو ہر شام تیرا
  • سعیدہ on جن کو دیدار میسر ہو ہر شام تیرا
  • سعیدہ on میری خوش فہمی تھی
  • صنم گل on مسدس نعتیہ نظم "مانگتا ہوں”

اسلامی گوشہ

زمیں کی بات کرتے ہیں

اکتوبر 11, 2026

شوقِ عبادت

اکتوبر 4, 2026

ذکر محمد ﷺ

ستمبر 30, 2026

شہر مکہ سے مدینے کا سفر ہو

ستمبر 26, 2026

مسدس نعت "معراجِ ثنا”

ستمبر 23, 2026

اردو شاعری

ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ...

اکتوبر 11, 2026

تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

اکتوبر 11, 2026

میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

اکتوبر 11, 2026

یوں آسماں کے ستارے نہ دیکھ

اکتوبر 11, 2026

لوگ نکمّے ہم سے سروکار نہیں رکھتے

اکتوبر 11, 2026

اردو افسانے

طاقت کا امتحان

ستمبر 27, 2026

سرخ پینسلیں اور خستہ حال خیمہ

اگست 9, 2026

وہ درخت جو اپنے سائے سے رُوٹھ گیا

اگست 3, 2026

ماں کی خاموش دُعا

جولائی 24, 2026

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

اردو کالمز

مرد کے حصے کا ہجر

اکتوبر 11, 2026

مجھے وہاں جانا ہے

اکتوبر 10, 2026

شوقِ عبادت

اکتوبر 4, 2026

تاریخ کشی

اکتوبر 1, 2026

یہ اعزاز ہے ہماری مٹی کا

ستمبر 28, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا موبائل ایپ

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • زمیں کی بات کرتے ہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

    اکتوبر 11, 2026
  • مرد کے حصے کا ہجر

    اکتوبر 11, 2026
  • تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

    اکتوبر 11, 2026
  • یوں آسماں کے ستارے نہ دیکھ

    اکتوبر 11, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

عقل داڑھ

جنوری 20, 2020

یہ جنگ فیصلہ کن موڑ پر...

ستمبر 17, 2025

بےنظیر بھٹو : جمہوریت کی ادھوری...

دسمبر 27, 2025
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں