خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ اردو افسانےچھمن کا فسانہ!
اردو افسانےاردو تحاریرمیمونہ احمد

چھمن کا فسانہ!

از سائیٹ ایڈمن مئی 9, 2020
از سائیٹ ایڈمن مئی 9, 2020 0 تبصرے 43 مناظر
44

چھمن کا فسانہ!

چیزیں قیمتی نہیں ہوتی ان سے جڑا احساس قیمتی ہوتا ہے، جو ان چیزوں کو قیمتی بنا دیتا ہے یہی وجہ ہے بے شمارچیزیں بکتی ہے خریدنے والا اپنے رشتوں کو اپنا ہونے کا احساس دینے کے لیے چیزیں خرید لے جاتا ہے، اور جب وہ چیزیں اپنی مقررہ جگہ پر پہنچ جاتی ہیں تو وہ اپنے ہونے کا احسا س منتقل ہو جاتا ہے، رشتوں میں گہرائی بڑھتی جاتی ہے لیکن اس کا مطلب ہر گز یہ نہیں ہے کہ چیزیں رشتوں کی گہرائی کے لیے ضروری ہیں ! یہی رشتے انسان کو زندگی میں اہم کردار ادا کرنا سکھا تے ہیں،کیونکہ جہاں حلال و حرام کا کلیہ رشتوں کو معلوم ہوتا ہے وہاں وہ اپنے رشتوں کو حرام سے بڑا بچاتے ہیں اور کامیاب ہو جاتے ہیں،اور جب زندگی بہت آگے بڑھ جاتی ہے تو ان رشتوں کو پھل مل جا تا ہے جب ان کے وہ بیج جن کو انھوں نے حلال کی بنیاد پر بو یا تھا وہ درخت بن جاتے ہیں ایسے درخت جو اس تلخ دنیا کا بڑی بہادری سے اکیلے مقابلہ کرتے ہیں اور فخر سے کھڑے ہوتے ہیں،وہ اپنے ضمیر کے سامنے مطمئن ہوتے ہیں جو دنیا کی سب سے بڑی نعمت اور رحمت ہے،ٹھنڈک ہے،سکون ہے وہ الگ ہوتے ہیں دنیا میں اور منفرد رہتے ہیں
چھمن نے بھی تو یہی کیا اپنے آبا و اجداد کے خلاف جا کر اپنے بیٹے کے لیے الگ منصب چن لیا تھا، کہیں کسی پڑھے لکھے کی بات جو کبھی ریڈیو پاکستان پر کسی نے کہی ہو گی !
چھمن کے جو والدین اپنے بچوں کو حلال کھلاتے ہیں ان کے بچوں کی عادات بھی حلال ہو جا تی ہے، وہ اس راستے پر نہیں چل پاتے جو نقصان کا راستہ ہو تا ہے،جو کسی کو تکلیف دینے کا راستہ ہوتا ہے، جو آہ کا راستہ ہو تا ہے، چھُمن اس وقت پندرہ سال کی تھی،اس کے سارے خاندان والے گداگری کے پیشے سے منسلک تھے،لیکن سارے خاندان میں ہلچل اس وقت مچی جب چھمن نے مانگنے سے انکا ر کر دیا۔
ارے کیا کہہ رہی ہے کلموہی،تم نہیں مانگو گی تو ہمارا پو را کیسے ہو گا، اماں میں کس واسطے منگا اے چنگانی ہوندا (میں کس لیے مانگو یہ درست نہیں ہوتا) اری یہی تو ہمارا خاندانی کام ہے، میں نی کرنا اما ں میں بس نی مانگنا لوکو ں کولو، او جیڑا رب ہے نا اما ں او مالک ہے اور اوہ ہی رازق ہے، پتہ نی تساں کیوں مانگدے ہوں لوکوں کولوں (پتہ نہیں تم کیوں لوگو ں سے مانگتے ہو)اچھا پتر چل نہ مانگ روٹی ٹکر ہی لا دے چل۔
چھمن کے ابا مینو ں نی لگدا چھمن منگن جاوے گی، ہاں بس میں بھی یہی سوچ رہا ہو ں اس کی شادی کرا دوں تاکہ یہ اپنے گھر کی ہو جائے، پھر جو اس کا شوہر کرے گا وہی وہ کر لے، چھمن کی شادی خاندان سے باہر کر دی اس کے والد نے کیونکہ وہ جانتا تھا چھمن بھیک نہیں مانگے گی۔
چھمن انتہائی سادہ لڑکی تھی یہ اس کے سسرال والے جان گئے تھے اور اس سے خو ش بھی تھے، لیکن قسمت کا کھیل یہ تھا کا چھمن کا شوہر جو کماتا تھا اس پرسود ضر ور لیتا تھا،یہ بات کو ئی نئی نہیں تھی اس لیے گھر میں اس بات کا تذکرہ کم ہوتا تھا، دو سال گزر گئے اور چھمن ایک بیٹے کی ماں بن گئی۔چھمن بے شک پڑھی لکھی نہیں تھی لیکن اپنے بیٹے کو بہترین انسان بنا نا چاہتی ہے اور ہر حرام راستے سے دور رکھنا چاہتی ہے یہ بات چھمن کا شوہر وکیل بھی جانتا تھا، لیکن اس کی تربیت میں حلال اور حرام کا کو ئی کلیہ موجو د نہیں تھا،وہ خو د سود لاتا، اور گھر میں سود چلتا تھا، چھمن سمجھ گئی تھی کہ اس کا شوہر وکیل ایسا کرتا ہے،چھمن نے وکیل سے کہا کہ وہ اپنے بچے کا خیال کرئے اس کے لیے سود نہ لائے،وکیل بھڑک گیا کہ سود تو سارے تاجر لیتے ہیں بہت سارے لو گ ایسا ہی کرتے ہیں دنیا آج یو ں ہی تو چل رہی ہے، آپ سمجھ نہیں رہے دنیا میں ایسے لوگوں کا اضافہ اسی لیے تو ہو رہا ہے کہ حلال و حرام کا فرق مٹنے لگا ہے، خاندان کے خاندان اس مرض میں مبتلا ہے اور ان کے بچے پھر کیسے سچے بنے گے جب ان کی بنیاد حرام پر رکھی جائے گی،اور پھر کھیتی خراب ہو جائے گی درخت بودے ہو جائے گے،
مجھے تمھاری باتوں سے کو ئی فرق نہیں پڑتا اور نہ میں ایسے کسی کلیے کو جانتا ہوں ! یہ کہہ کر وہ چلا گیا، لیکن چھمن اس کلیے میں مصروف تھی جو اس کے بچے کو بھی ان خوفناک لوگو ں کی فہرست میں کھڑا دکھا رہا تھا جس دنیا کی بات اس کے شوہر وکیل نے کی۔
ماں کی ذمہ داری بہت بڑی ہو تی ہے وہ ہی وہ مدرسہ ہوتی ہے جس میں بچے کی بنیا د رکھی جا تی ہے اگر اس کا بچہ بھی، ہائے میرے ربا ! رہ رہ کر چھمن کی تکلیف بڑھتی جا رہی تھی، جا نے اس ما ں کو کیا پڑی تھی اپنے بچے کو حلال اور حرام کے کلیہ سمجھا نے کی،ساری رات سو چتی رہی اور اگلی صبح پھر وکیل کے روبرو خدا کا واسطہ ہے اپنے بیٹے کا خیال کر و کل کو وہ بھی لوگوں کو تکلیف دے کر دوسروں کے چولہے سے رزق چھین کر اپنے گھر لا یا کرئے گایہ ظلم ہے اور میں اپنے بیٹے کو ایسے ظلم کی دنیا نہیں سکھا سکتی۔ وکیل بھڑک گیا جو مرضی کر و، دفعہ ہو جا و میرے گھر سے اور اسے بیٹے کو بھی لے جاؤ میں بھی دیکھو ں گا تم ایک بھکارن خاندان کی لڑکی کیسے پالے کی حلال کھلا کر اپنے بیٹے کو، چھمن کو احساس تھا کہ وکیل کیا کہہ رہا ہے، وہ تھوڑی دیر کھڑی رہی اور پھر اپنے بیٹے کو اُٹھا یا اور اس گھر سے چل دی کے اب اس کو پرورش کر نا ہے اپنے بیٹے کی، عورت کے لیے فیصلے کرنا بڑا مشکل ہو تا ہے لیکن جب بات اولاد کی ہو تو وہ بڑے سے بڑا فیصلہ بڑی آسانی سے کر لیتی ہے چا ہے وہ کتنی ہی تکلیف میں کیوں نہ ہو
پورے تیس سال گزر گئے اور چھمن کی محنت اس کا حلال اور حرام کا کلیہ جیت گیا تھا، اس کا بیٹا جس میں ساری خوبیا ں مو جود تھی،جو اس کی ماں کے مدرسے سے اسے ملی آج وہ کا لج کے ہر طالب علم کا پسندیدہ اُستاد بھی ہے اور کالج کا پرنسپل بھی جس کا نا م ڈاکٹر عادل وکیل ہے۔ اس کی ما ں نے تو صرف ایک بیج بو یا تھا آج وہ بہت سار ے بیج بور ہا ہے تاکہ اس کی ماں زندہ رہے، جو ایک بھکارن کی اولاد تھی پیپل والی مسجد میں جھاڑو دینے کے دس روپے روزانہ کماتی تھی،باقی دن سلائی کرتی، رات کو اپنے بیٹے کے لیے دعا کر نے والی چھمن اگر چہ زندہ نہیں ہے لیکن شور تو مچا یا ہے چھمن نے ایسا شور جس کی آواز اُٹھی ضرور تھی دبی نہیں اور اب بھی پھیلتی جا رہی ہے۔۔۔
٭٭٭

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • گیارہویں شریف کا مبارک مہینہ
  • مشرقی جمال
  • ”انا“اورقربانی
  • بُرقعے
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
میں جب احساس کے شہر میں پہنچا تو
پچھلی پوسٹ
گہرے پانیوں والی آنکھیں !

متعلقہ پوسٹس

تائی ایسری

مارچ 22, 2020

عید اور رسم مصافحہ

مئی 22, 2020

بسم اللہ

جنوری 12, 2020

مندر والی گلی

جون 14, 2020

کتب : کہانی چل رہی ہے اور خوابشار

جون 27, 2025

رب تعالیٰ سے عافیت مانگیں

جولائی 23, 2025

شاہد ذکی کی شاعری

جنوری 23, 2020

اخلاص کے ساتھ انفاق

جنوری 4, 2026

میجر شبیر شریف شہید

دسمبر 6, 2025

افروز عالم:عہد حاضر کا ایک حساس شاعر

مئی 2, 2020

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • غالب افسانہ

    جون 4, 2026
  • کہانی چل رہی ہے – تجزیاتی و تنقیدی مطالعہ

    جون 4, 2026
  • کیا ہم سنجیدہ قوم ہیں!

    جون 3, 2026
  • ملازمت بہتر یا کاروبار

    جون 3, 2026
  • زندگی بھر فکر کرتے رہے

    جون 2, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • Meesam Ali Agha on خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے

اسلامی گوشہ

کتاب «المتلذذون بالعلم»

جون 2, 2026

علم سے محبت کرنے والے

جون 2, 2026

” توکل ” کیا ہے

جون 2, 2026

یہ نور کس کا پھیل گیا ہے چمن...

مئی 26, 2026

مظہر ہے کبریا کا علیؑ مرتضیٰ کا نام

مئی 23, 2026

اردو شاعری

زندگی بھر فکر کرتے رہے

جون 2, 2026

خواب تصویر کر رہا ہوں میں

جون 2, 2026

شب ڈھل رہی ہے تھم چکا طوفان

جون 2, 2026

لمحوں کی قید کاٹ کے صدیوں میں آ...

جون 2, 2026

ممکن نہیں ہے جبر کی بیعت روا مجھے

جون 2, 2026

اردو افسانے

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

دادا جان کی ٹھنڈی چھاؤں

مئی 26, 2026

چائے کی پیالی

مئی 24, 2026

اردو کالمز

کیا ہم سنجیدہ قوم ہیں!

جون 3, 2026

ملازمت بہتر یا کاروبار

جون 3, 2026

کتاب «المتلذذون بالعلم»

جون 2, 2026

علم سے محبت کرنے والے

جون 2, 2026

لفظوں کا دیوتا اور سماج کی بے حسی

جون 2, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • غالب افسانہ

    جون 4, 2026
  • کہانی چل رہی ہے – تجزیاتی و تنقیدی مطالعہ

    جون 4, 2026
  • کیا ہم سنجیدہ قوم ہیں!

    جون 3, 2026
  • ملازمت بہتر یا کاروبار

    جون 3, 2026
  • زندگی بھر فکر کرتے رہے

    جون 2, 2026
  • کتاب «المتلذذون بالعلم»

    جون 2, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

لذتِ نفس کی غلام عورت

نومبر 27, 2024

تنہائی، فطرت اور خود شناسی

دسمبر 1, 2024

ذوق کی قصیدہ نگاری

اپریل 13, 2025
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں