خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپ کا سلاملفظوں کا دیوتا اور سماج کی بے حسی
آپ کا سلاماردو تحاریراردو کالمزایم اے دوشی

لفظوں کا دیوتا اور سماج کی بے حسی

از سائیٹ ایڈمن جون 2, 2026
از سائیٹ ایڈمن جون 2, 2026 0 تبصرے 82 مناظر
83

خبر آئی ہے کہ لفظوں کا وہ لازوال دیوتا، جس نے زبان کو دھڑکنیں اور جذبات کو سادگی کا پیرہن عطا کیا، اب ہمیشہ کے لیے خاموش ہو گیا ہے۔ اردو غزل کا روشن ترین ستارہ، ڈاکٹر بشیر بدر 28 مئی کو 91 برس کی عمر میں اس جہاںِ فانی سے رخصت ہو گیا۔ لیکن اس سے بھی زیادہ دل کو دہلا دینے والی بات وہ منظر تھا جو ان کے آخری سفر میں دیکھنے کو ملا۔ جس نگری میں 35 لاکھ سے زائد افراد مکین ہوں، جہاں کی گلیوں میںBasir Badar ان کے اشعار گونجتے ہوں، وہاں اس عظیم تخلیق کار کے جنازے میں صرف 20 افراد کا شریک ہونا ادبی دنیا کے لیے ایک ناسور کی طرح ہے۔ یہ صرف ایک تخلیق کار کا جنازہ نہیں تھا، بلکہ اس مادی سماج کی اس بے حسی اور سردمہری کا بھی جنازہ تھا جو اپنے محسنوں کو ان کی زندگی میں تو سر آنکھوں پر بٹھاتی ہے، لیکن رخصتی کے وقت تنہا چھوڑ دیتی ہے۔ ایسے ہی موقعوں کے لیے شاید انہوں نے کہا تھا:

گھروں پہ نام تھے ناموں کے ساتھ عہدے تھے
بہت تلاش کیا کوئی آدمی نہ ملا

یہ وہی بشیر بدر تھے جن کا ایک شعر ہماری سیاسی اور سفارتی تاریخ کا حصہ بنا۔ یہ سنہ 1972 کا واقعہ ہے جب پاک و ہند کے درمیان جنگ کے سائے ابھی چھٹے نہیں تھے، ملک کا مشرقی حصہ جدا ہو کر بنگلہ دیش بن چکا تھا، اور اسکے وقت کے وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو امن معاہدے کی خاطر شملہ پہنچے تھے۔ وہاں دشمنی کی تلخی کو مٹانے اور مستقل امن کی راہ نکالنے کے لیے بھٹو صاحب نے انڈین وزیراعظم اندرا گاندھی کو بشیر بدر کا یہی تاریخی شعر سنایا تھا:

دشمنی جم کر کرو لیکن یہ گنجائش رہے
جب کبھی ہم دوست ہو جائیں تو شرمندہ نہ ہوں

کہا جاتا ہے کہ شملہ میں یہ کلام سن کر اندرا گاندھی نے چونک کر کہا تھا کہ ہمارا شعر ہمیں ہی سنا رہے ہیں۔ جس شاعر کے لفظ سرحدوں کے آر پار تاریخ کے رخ موڑنے کی طاقت رکھتے تھے، سوچنے کی بات ہے کہ کیا اس کا آخری سفر محض 20 کندھوں کا محتاج تھا؟ وہ زندگی کے آخری ایام میں شدید علالت اور ڈیمنشیا جیسے موذی مرض کا شکار تھے، جہاں یادداشت ان کا ساتھ چھوڑ چکی تھی اور وہ اپنوں تک کو پہچاننے سے قاصر تھے۔ ڈاکٹر صاحب کے قریبی دوست بتاتے ہیں کہ وہ جب بھی ان کے کمرے میں جاتیں، بشیر بدر یادداشت کھونے کے باوجود خواتین کے احترام میں کھڑے ہو جاتے۔ کبھی کبھار جب کوئی ان کے سامنے ان کے اپنے مصرعے پڑھتا، تو وہ لاشعوری طور پر اگلا مصرع مکمل کر دیتے۔ ان کی دوسری اہلیہ ڈاکٹر راحت بدر اور بیٹے طیب بدر نے آخری وقت تک ان کا خیال رکھا۔ لیکن افسوس! جس شاعر کے گھر کی تختی پر لکھا تھا:

اجالے اپنی یادوں کے ہمارے ساتھ رہنے دو
نہ جانے کس گلی میں زندگی کی شام ہو جائے

اس کی زندگی کی شام واقعتاً ایک ایسی گلی میں ہوئی جہاں پورا شہر روشن تھا، مگر جنازے کی صفیں ویران تھیں۔
ڈاکٹر بشیر بدر اردو ادب کے ان گنے چنے معماروں میں سے تھے جنہوں نے غزل کو پیچیدہ تراکیب سے آزاد کیا۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی غزلیں صرف ادبی نشستوں تک محدود نہیں رہیں بلکہ چائے خانوں سے لے کر سوشل میڈیا کی پوسٹس اور ایوانوں تک، ہر عام و خاص کی زبان پر جاری رہیں۔ ان کا دعویٰ تھا کہ شاعری اگر دلوں کو نہ چھوئے تو وہ محض لفظوں کا گورکھ دھندا ہے، اس لیے وہ زندگی کی کڑوی اور پیچیدہ سچائیوں کو نہایت سہل انداز میں کہہ جاتے تھے۔ جب وہ شہر کے بدلے ہوئے مزاج اور منافقت کا نقشہ کھینچتے تھے تو کہتے تھے:

کوئی ہاتھ بھی نہ ملائے گا جو گلے ملو گے تپاک سے
یہ نئے مزاج کا شہر ہے ذرا فاصلے سے ملا کرو

بشیر بدر کی تخلیقی پرواز صرف مشاعروں کی واہ واہ تک محدود نہیں تھی، انہوں نے علم و تحقیق کے میدان میں بھی گراں قدر کام کیا۔ ان کا علمی سفر اس وقت ایک نئے رخ پر مڑا جب انہوں نے 1974 میں میرٹھ کالج کے شعبہ اردو میں بطور لیکچرر اپنے سفر کا آغاز کیا اور 1980 کی دہائی کے آخر تک وہاں علم کی شمع روشن کرتے رہے۔ شاعری کے ساتھ ساتھ تنقید نگاری میں بھی اپنا کوئی ثانی نہیں رکھتے تھے۔ ان کی تصانیف اردو ادب کا وہ سرمایہ ہیں جنہیں کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ ان کے شعری مجموعوں میں اکائی، آمد، آہٹ، آس اور کلیاتِ بشیر بدر شامل ہیں۔ اس کے علاوہ تنقیدی ادب میں ان کی کتب آزادی کے بعد اردو غزل کا تنقیدی مطالعہ اور 20 ویں صدی میں غزل کو آج بھی نصابی اور تحقیقی حوالوں کے لیے سنگِ میل سمجھا جاتا ہے۔

18000 سے زائد اشعار کے خالق اس عظیم شاعر کو ان کی خدمات کے اعتراف میں ہندوستان کے باوقار اعزازات پدم شری اور ساہتیہ اکادمی ایوارڈ سے نوازا گیا، جبکہ اتر پردیش اور بہار کی اردو اکیڈمیوں نے بھی ان کی پذیرائی کی۔ یہی نہیں، بلکہ 1980 میں نیو یارک میں انہیں پوئٹ آف دی ایئر کے عالمی خطاب سے بھی سرفراز کیا گیا۔ انہوں نے اپنی پوری زندگی نفرتوں کو مٹانے اور محبتوں کو عام کرنے میں گزار دی، جیسا کہ ان کا شعر ہے:

سات صندوقوں میں بھر کر دفن کر دو نفرتیں
آج انساں کو محبت کی ضرورت ہے بہت

ڈاکٹر بشیر بدر صاحب کے قریبی دوست بھی اس بات کی گواہی دیتے تھے کہ بشیر بدر نے مشاعرے کے کلچر کو ایک نئی جدیدیت عطا کی، جس نے نئی نسل کو اردو ادب کی طرف راغب کرنے میں بہت بڑا کردار ادا کیا۔ وہ جانتے تھے کہ یہ عارضی عروج اور شہرتیں مستقل نہیں ہوتیں، اسی لیے وہ خود کو اور دنیا کو خبردار کرتے ہوئے کہتے تھے:

شہرت کی بلندی بھی پل بھر کا تماشا ہے
جس ڈال پہ بیٹھے ہو وہ ٹوٹ بھی سکتی ہے

ان کی اس مقبولیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ سنہ 2020 میں جب ان کی 85 ویں سالگرہ تھی، تو مدھیہ پردیش کے اس وقت کے گورنر لال جی ٹنڈن نے خود بھوپال میں ان کے گھر جا کر انہیں مبارکباد پیش کی تھی۔ یہ اس بات کا ثبوت تھا کہ حکومتیں اور وقت کے حکمران بھی ان کے مرتبے کے سامنے سر جھکاتے تھے۔ لیکن وقت کا پہیہ ہمیشہ ایک جیسا نہیں رہتا۔ زندگی کے آخری دور میں جب ڈیمنشیا نے ان کے ذہن پر دھندلاہٹ پھیلا دی، تو وہ بھوپال کے اسی گھر میں گوشہ نشین ہو کر رہ گئے۔ جس شخص کی آواز لاکھوں کے مجمعے کو مسحور کر دیتی تھی، وہ اپنے آخری دنوں میں خاموشی کی چادر اوڑھے دنیا سے کٹ چکا تھا۔

کسی نے سچ کہا تھا کہ بڑے فنکار کی اصل پہچان اس کے اعزازات یا سرکاری تمغے نہیں ہوتے، بلکہ وہ لفظ ہوتے ہیں جو وہ لوگوں کے حافظے میں چھوڑ جاتا ہے۔ بشیر بدر کے چاہنے والے کہتے ہیں کہ ان کی اصل طاقت وہ اشعار تھے جو زندگی کے ہر موڑ پر، خوشی ہو یا غم، عام انسان کی رہنمائی کرتے ہیں۔ ان کے انتقال کے بعد جب ان کی آخری رسوم ادا کی جا رہی تھیں، تو وہاں موجود مٹھی بھر لوگوں کی گفتگو کا مرکز بھی ان کی شاعری ہی تھی۔ وہ شاعر جو اپنی زندگی میں زمین کی تنگی کا گلہ کچھ اس انداز میں کر گیا تھا:

زندگی تو نے مجھے قبر سے کم دی ہے زمیں
پاؤں پھیلاؤں تو دیوار میں سر لگتا ہے

ان کی یہ رخصتی ہمارے ادبی اور سماجی شعور پر ایک بہت بڑا سوالیہ نشان چھوڑ گئی ہے۔ 35 لاکھ کی آبادی والے شہر میں ان کے جنازے کی یہ ویرانی اس بات کا اعلان ہے کہ ہم ایک ایسے مادی دور میں جی رہے ہیں جہاں زندہ لوگوں کی واہ واہ تو بہت ہوتی ہے، مگر رخصت ہو جانے والے محسنوں کے لیے کندھے کم پڑ جاتے ہیں۔ ڈاکٹر بشیر بدر بھلے ہی جسمانی طور پر ہم سے جدا ہو گئے ہوں، لیکن جب تک اردو زبان زندہ ہے، ان کی غزلوں کے اجالے ہمارے ساتھ رہیں گے اور وہ اپنے لفظوں کے ذریعے ہمیشہ امر رہیں گے۔ دنیا کے اس سفر کے اختتام پر ان کا یہی پیغام ہمیشہ گونجتا رہے گا:

مسافر ہیں ہم بھی مسافر ہو تم بھی
کسی موڑ پر پھر ملاقات ہوگی

ایم اے دوشی

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • ساحر لدھیانوی ۔ ایک نیا مطالعہ
  • سمینٹ میں دفن آدمی
  • لالہ امام بخش
  • جو سایوں کی وادی میں چلے
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
واپسی
پچھلی پوسٹ
خواب تصویر کر رہا ہوں میں

متعلقہ پوسٹس

شکاری عورتیں

اکتوبر 29, 2019

انگریزی نظام برصغیر میں

اپریل 3, 2022

سبیلِ شفق

دسمبر 10, 2024

حد کے اس پار

نومبر 7, 2019

تمنا وصل حسرت بن کہ رہ گئی

دسمبر 17, 2024

تاریخ کیا کہتی ہے

جولائی 10, 2020

سیاہ گڑھے

دسمبر 23, 2021

بھٹو کی وراثت اور بلاول

جنوری 3, 2020

راشد الخیری : حیات اور کارنامے

مئی 19, 2024

محسن سے ڈاکٹر محسن خالد محسن ؔ تک

مئی 30, 2026

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • زمیں کی بات کرتے ہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

    اکتوبر 11, 2026
  • مرد کے حصے کا ہجر

    اکتوبر 11, 2026
  • تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

    اکتوبر 11, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • Ayesha khan on میری خوش فہمی تھی
  • Ayesha khan on جن کو دیدار میسر ہو ہر شام تیرا
  • سعیدہ on جن کو دیدار میسر ہو ہر شام تیرا
  • سعیدہ on میری خوش فہمی تھی
  • صنم گل on مسدس نعتیہ نظم "مانگتا ہوں”

اسلامی گوشہ

زمیں کی بات کرتے ہیں

اکتوبر 11, 2026

شوقِ عبادت

اکتوبر 4, 2026

ذکر محمد ﷺ

ستمبر 30, 2026

شہر مکہ سے مدینے کا سفر ہو

ستمبر 26, 2026

مسدس نعت "معراجِ ثنا”

ستمبر 23, 2026

اردو شاعری

ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ...

اکتوبر 11, 2026

تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

اکتوبر 11, 2026

میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

اکتوبر 11, 2026

یوں آسماں کے ستارے نہ دیکھ

اکتوبر 11, 2026

لوگ نکمّے ہم سے سروکار نہیں رکھتے

اکتوبر 11, 2026

اردو افسانے

طاقت کا امتحان

ستمبر 27, 2026

سرخ پینسلیں اور خستہ حال خیمہ

اگست 9, 2026

وہ درخت جو اپنے سائے سے رُوٹھ گیا

اگست 3, 2026

ماں کی خاموش دُعا

جولائی 24, 2026

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

اردو کالمز

مرد کے حصے کا ہجر

اکتوبر 11, 2026

مجھے وہاں جانا ہے

اکتوبر 10, 2026

شوقِ عبادت

اکتوبر 4, 2026

تاریخ کشی

اکتوبر 1, 2026

یہ اعزاز ہے ہماری مٹی کا

ستمبر 28, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا موبائل ایپ

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • زمیں کی بات کرتے ہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

    اکتوبر 11, 2026
  • مرد کے حصے کا ہجر

    اکتوبر 11, 2026
  • تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

    اکتوبر 11, 2026
  • یوں آسماں کے ستارے نہ دیکھ

    اکتوبر 11, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

شبِ معراج

جنوری 17, 2026

بھلے ہی رائیگاں رکھتے مگر مسکن...

مارچ 20, 2026

ذمہ دار کون؟

مئی 3, 2020
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں