خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپ کا سلاماُس روز مدینہ بھی
آپ کا سلامابو خالد قاسمیاردو تحاریراردو کالمزاسلامی گوشہ

اُس روز مدینہ بھی

از سائیٹ ایڈمن دسمبر 6, 2025
از سائیٹ ایڈمن دسمبر 6, 2025 0 تبصرے 74 مناظر
75

کیا آپ کو پتہ ہے ؟ اُس روز مدینہ بھی بدک کر رو رہا تھا

مدینہ… وہ شہرِ مقدس، جس کی فضا میں آج بھی رسولِ اکرم ﷺ کے قدموں کی خوشبو بسی ہوئی ہے۔ وہ شہر، جو کبھی اپنے مکینِ اوّل ﷺ کی مسکراہٹ سے روشن تھا،
اور کبھی اُن کی جدائی میں آنسو بہاتا تھا۔ اسی مدینے نے تاریخ میں ایک ایسا دن بھی دیکھا ہے جب اس کی ہوا بھاری ہو گئی، گلیاں آہ و بکا سے لرز اٹھیں، اور آنسوؤں سے بھیگی فضا یوں محسوس ہونے لگی جیسے مدینہ خود رو رہا ہو۔
یہ وہ دن تھا جب ازواجِ مطہرات رضی اللہ عنہن کے متبرک حجرات ، وہ حجرے جن میں رسول اللہ ﷺ کی زندگی کے راز چھپے ہوئے تھے، مسجد نبوی ﷺ میں توسیع کی خاطر منہدم کیے جا رہے تھے۔
حجراتِ طاہرات سادگی کا وہ نقش جس نے دلوں کو موہ لیا۔ یہ وہی حجرے تھے جن کی چھتیں کھجور کی ٹہنیوں اور پتوں سے بنی تھیں، جن کی دیواریں مٹی اور لبن سے لپی ہوئی تھیں، جن کے دروازے ٹاٹ اور پردوں سے بنے تھے، جہاں سادگی، تقدس اور فقرِ نبوی ﷺ اپنی پوری عظمت کے ساتھ جلوہ گر تھے۔
یہ حجرے دراصل نبوی طرزِ زندگی کا عملی نمونہ تھے؛
وہی حجرے جن میں کبھی چولہا نہ جلتا تھا، جہاں مہینوں مہینوں گھر میں صرف پانی اور کھجوریں ہوتی تھیں،
جہاں رسولِ اکرم ﷺ اپنی ازواج کے ساتھ نہایت سادہ اور پاکیزہ زندگی بسر فرمایا کرتے تھے۔
ان کی مٹی، ان کا در و دیوار، ان کی سادگی… سب کچھ ایک ایسی داستان سناتا تھا جو کتابوں میں نہیں، بلکہ دلوں میں لکھی جاتی ہے۔
توسیعِ مسجدِ نبوی ﷺ کا فیصلہ جس نے دل ہلا دیے
زمانہ تھا 96 ہجری کا۔ اسلام کی سرحدیں وسیع ہو رہی تھیں، لوگ کثرت سے مدینہ آ رہے تھے، اور مسجد نبوی ﷺ موجودہ جماعت کے لیے تنگ پڑتی جا رہی تھی۔ خلیفۂ وقت ولید بن عبدالملک نے حکم بھیجا کہ: مسجد نبوی ﷺ کی توسیع کی جائے، اور اس کے ساتھ متصل ازواجِ مطہرات کے حجرات کو مسجد میں شامل کر دیا جائے۔ یہ حکم جب مدینہ کے گورنر حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ کے پاس پہنچا، تو ان کے دل پر بھی ایک لرزہ طاری ہو گیا۔ یہ فیصلہ معمولی نہیں تھا۔ یہ مدینہ کے دل تک دسترس رکھنے والا فیصلہ تھا۔
اسی لیے انہوں نے اہلِ مدینہ کو جمع کیا علماء، مشائخ، صحابہ کے شاگرد، اور عام شہری۔
انہوں نے حکمِ خلافت پڑھ کر سنایا۔ جیسے ہی الفاظ ختم ہوئے، ایسا معلوم ہوا کہ مجمع پر بجلی سی گر گئی ہو۔ سننے والوں کی نظریں جھک گئیں۔
ہونٹ کپکپانے لگے۔ اور پھر ایک آہ بلند ہوئی ایسی آہ جس نے مسجد نبوی ﷺ کی فضاؤں کو ہلا کر رکھ دیا۔ لوگ روتے ہوئے کہنے لگے: اے امیر! یہ وہی حجرے ہیں جن میں دنیا کی سب سے عظیم ہستی ﷺ نے سادگی کے ساتھ زندگی گزاری۔
یہ وہ گھر ہیں جنہیں دیکھ کر لوگ عبرت پکڑتے ہیں۔ ان کو گرانا نہیں چاہیے۔ کچھ حضرات نے کہا: کاش! انہیں اسی حالت پر چھوڑ دیا جائے، تاکہ آنے والی نسلیں دیکھ سکیں کہMasjid E Nabvi دنیا نے رسول اللہ ﷺ کو مختارِ کائنات بنا دیا تھا، مگر انہوں نے فقرِ اختیاری کو قبول فرمایا۔
اسی وقت بزرگ صحابی حضرت سَہل بن حُنَیفؓ کھڑے ہوئے۔ ان کی داڑھی آنسوؤں سے بھیگی ہوئی تھی۔ انہوں نے لرزتی ہوئی آواز میں کہا: کاش! ان حجروں کو اسی طرح چھوڑ دیا جاتا۔ لوگ جان لیتے کہ اللہ نے اپنے محبوب ﷺ کو دنیا کی چمک اور شان نہیں دی، بلکہ فقر، زہد اور سادگی عطا کی۔
یہ الفاظ سن کر مجمع میں پھر ایک ہچکیوں کا شور اٹھ گیا۔
حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ نے یہ ساری کیفیت اور اہلِ مدینہ کی آہ و فغاں خلیفہ کے نام لکھ بھیجی، لیکن فیصلہ برقرار رہا۔
اور پھر وہ لمحہ آ گیا… جب پہلی کدال چلائی گئی، پہلا جھٹکا لگا، پہلی اینٹ ہلی
تو مدینہ جیسے چیخ اٹھا۔
فضا آہ و بکا سے بھر گئی۔
بزرگوں کی سسکیاں، عورتوں کی رونے کی آوازیں، بچوں کی بے ساختہ چیخیں، سب مل کر ایسا منظر بنا رہی تھیں جیسے
مدینہ وہی درد محسوس کر رہا ہے جو اس نے رسول اللہ ﷺ کے وصال کے دن محسوس کیا تھا۔
تاریخ نگار لکھتے ہیں: اس دن مدینہ میں وہی رونا سنائی دیا جو رسول اللہ ﷺ کی وفات کے دن سنائی دیا تھا۔ وہ تاریخی لمحے مدینہ کی فضا میں ہمیشہ کے لیے رقم ہو گئے۔ توسیع مکمل ہوئی مگر دل ہمیشہ زخمی رہے ، حجرات منہدم ہو گئے، مسجد وسیع ہو گئی،
امت کے لیے یہ ایک ضرورت تھی، ایک مصلحت تھی۔
لیکن… جن لوگوں نے ان حجروں کو دیکھا تھا، جنہوں نے ان کی مٹی میں سادگی کا نور دیکھا تھا، ان کے دلوں میں ہمیشہ ایک خالی جگہ رہی۔
وہ جگہ جسے کبھی کوئی تعمیری اینٹ پُر نہ کر سکتی تھی۔
یوں مدینہ نے ایک دن پھر آنسو بہائے ایک دردناک دن، جس میں مٹی کی دیواریں تو گریں، مگر دلوں میں عشقِ رسول ﷺ کی عظمت اور بڑھ گئی۔
رضینا باللہ علی کل حال ۔

ابو خالد

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • بھٹو کی بیٹی
  • آج یاد آرہی ھے
  • جو میں سوئے طیبہ چلوں کبھی
  • شہری سہولیات پر حملے
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
قرآن میں جنگ کے احکام
پچھلی پوسٹ
حفاظِ قرآن کے لیے مفید معلومات

متعلقہ پوسٹس

کافر کوٹ کے کھنڈر

اکتوبر 9, 2022

رمضان واپس آ رہا ہے، رمضان واپس نہیں آرہا

مئی 20, 2020

اخبارات کا زوال اور سوشل میڈیا کا اُبھار

ستمبر 7, 2025

جال

مئی 21, 2020

وطن کے عشق میں بدعت نہیں کی

جولائی 7, 2026

سوچتے رہو، جیتے رہو

مارچ 18, 2026

شکاری

مئی 10, 2020

میرے نبیﷺ کی بات نہ پوچھو

دسمبر 20, 2019

پرورش کے امتحان

اکتوبر 5, 2025

نجات

جنوری 2, 2022

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • نہیں خزاں ہی نشان قاتل

    اگست 30, 2026
  • ہر گھڑی بس سوال کرتے ہیں

    اگست 30, 2026
  • عجب سے عجب تیرا اسلوب دنیا

    اگست 30, 2026
  • وہم ہے یا کہ گماں دیکھنا ہے

    اگست 30, 2026
  • ترش لہجے میں سخت بو لتا ہے

    اگست 30, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ایم اے دوشی on دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Meesam Ali Agha on دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ
  • مسعود فیروزی on شعر شور انگیز

اسلامی گوشہ

مدح خیر الوری کے پیار میں آجاتے ہیں

اگست 30, 2026

آزاد نعتیہ نظم – حل

اگست 28, 2026

12 ربیع الاول : آمدِ مصطفیٰ ﷺ

اگست 26, 2026

آقا کریم ﷺ کا احسان

اگست 23, 2026

لباس کی شرعی حیثیت

اگست 4, 2026

اردو شاعری

نہیں خزاں ہی نشان قاتل

اگست 30, 2026

ہر گھڑی بس سوال کرتے ہیں

اگست 30, 2026

عجب سے عجب تیرا اسلوب دنیا

اگست 30, 2026

وہم ہے یا کہ گماں دیکھنا ہے

اگست 30, 2026

ترش لہجے میں سخت بو لتا ہے

اگست 30, 2026

اردو افسانے

سرخ پینسلیں اور خستہ حال خیمہ

اگست 9, 2026

وہ درخت جو اپنے سائے سے رُوٹھ گیا

اگست 3, 2026

ماں کی خاموش دُعا

جولائی 24, 2026

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

واپسی

جون 2, 2026

اردو کالمز

ایک نئے استعمار کا خاموش سفر

اگست 28, 2026

12 ربیع الاول : آمدِ مصطفیٰ ﷺ

اگست 26, 2026

"شہر نامہ سوم” ایک عمدہ ادبی اور تاریخی...

اگست 26, 2026

تیسری ہندکو کانفرنس

اگست 24, 2026

آقا کریم ﷺ کا احسان

اگست 23, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • نہیں خزاں ہی نشان قاتل

    اگست 30, 2026
  • ہر گھڑی بس سوال کرتے ہیں

    اگست 30, 2026
  • عجب سے عجب تیرا اسلوب دنیا

    اگست 30, 2026
  • وہم ہے یا کہ گماں دیکھنا ہے

    اگست 30, 2026
  • ترش لہجے میں سخت بو لتا ہے

    اگست 30, 2026
  • نہ بھٹکے ہیں نہ راستہ ہوا غلط

    اگست 30, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

پاکستان کی شان بڑھانے والے!

نومبر 7, 2021

ہوئے مر کے ہم جو رسوا

جنوری 2, 2020

خوبصورت انعام

اگست 14, 2025
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں