خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ اردو تحاریرشکاری
اردو تحاریراردو مزاحیہ تحاریرڈاکٹر یونس بٹ

شکاری

از سائیٹ ایڈمن مئی 10, 2020
از سائیٹ ایڈمن مئی 10, 2020 0 تبصرے 49 مناظر
50

شکاری

وہ پاکستان کے ویران صوبے کے آباد سرکار ہیں، شکل سے بلوچ نہیں، پورا بلوچستان لگتے ہیں،مونچھیں اتنی نوکیلی کہ ان سے کسی کو زخمی کی جا سکتا ہے ، چیتے کی پھرتی، عقاب کی نظر، اونٹ کی دشمنی اور شیر سی ہلاشیری ہی نہیں، ان میں اور بھی کئی جانوروں والی خوبیاں موجود ہیں، وہ بگٹی قبیلے کے سردار ہیں، یہ اس قدر جنگجو قبیلہ ہے کہ، ان کے ہاں جس دن بچہ باہر کسی کو مار کر نہیں آتا، اس دن بچے کو مار دیتے ہیں، لوگ اپنے ذہن میں خدا کا تصور بنانے کیلئے سردار کو دیکھتے ہیں، معاف نہ کرنا اور حکم دینا اکبر بگٹی کو ورثے میں ملا ہے ، دوسرے کی بات یوں سنتے جیسے بادشاہ کسی کی فریاد سن رہا ہو، خود کو اپنے قد سے بھی اونچا سمجھتے ہیں، ویسے ان کا قد ایسا ہے کہ بندہ ان کے پاؤں سر تک پہنچے تو موسم بدل چکا ہوتا ہے ۔
دوران تعلیم کوئی پوچھتا آپ کس کلاس میں ہیں؟تو کہتے ہم اپر کلاس میں۔استاد پوچھتا ہوم ورک کیا ہے ؟تو کہتے ہمارے ہاں ہوم ورک نوکر کرتے ہیں، ہر معاملے میں خود کو دوسرے سے بڑا سمجھتے ہیں، وہ تو دس سال کی عمر میں خود کو تیس سال کے لوگوں سے خود کو بڑا سمجھتے ، ایچی سن کالج میں ان کی تعلیم کے دوران چیانگ کائی شیک دورے پر آیا تو بچوں کو لائن میں کھڑا کر کے ان سے ہاتھ ملانے کو کہا گیا، جب معزز مہمان موصوف تک پہنچے تو یہ پیٹھ پھیر کر کھڑے ہو گئے ، اب بھی جب کسی معزز مہمان کو آتا دیکھتے ہیں، ایسا ہی کرتے ہیں۔
لمبی بات نہیں کرتے ، بات اتنی مختصر ہوتی ہے کہ جونہی دوسرا متوجہ ہوتا ہے ، بات ختم ہو جاتی ہے ، کبھی کبھی تو یہ اتنی مختصر ہوتی ہے کہ اس کیلئے منہ بھی ہلانا نہیں پڑتا، اپنی بات میں زور پیدا کرنے کیلئے زور سے نہیں بولتے ، بلکہ چپ ہو جاتے ہیں، اس قدر صاف گو کہ بچپن میں بھی اس وقت تک کسی نہ ان کے منہ سے جھوٹ نہ سنا جب تک وہ باتیں نہ کرنے لگے ، انگریزی ادب اس قدر پسند ہے کہ جس کا ادب کرنا چاہیں، انگریزی میں کرتے ، کہتے ہیں، انگریزی پر میری گرفت ہے ، واقعی ان کی انگریزی قابل گرفت ہے ، سنا ہے جب وہ اردو کے خلاف ہوں تو اردو نہیں بولتے ، حالانکہ جب وہ اردو بولتے ہیں تو یہی لگتا ہے کہ وہ اردو کے خلاف ہیں۔
مجلس میں کوئی ایسی گفتگو یا واقعہ نہیں سناتے جس میں انکی حیثیت ثانوی ہو، اس لئیے وہ قیام پاکستان پر گفتگو نہیں کرتے ، وہ تو اپنے بیٹے کی شادی میں بھی تقریب کے دولہا خود ہی ہوتے ہیں،وہ کام نہیں کرتے جو سب کر سکیں، وہ کتاب تک نہیں پڑھتے جسے سب پڑھ سکیں، سیاستدانوں میں بیٹھے ہوں تو آنکھوں میں ایسی مستعدی ہوتی ہے جیسے مچان پر بیٹھے ہوں،ان سے پوچھو کسی کا شکار پسند کرتے ہیں؟تو کہیں گے شکاری کا۔نواب اکبر بگٹی ایک بار نصراللہ خان سے ناراض ہوئے تو کہا، آپ میں اور مجھ میں یہ فرق ہے کہ آپ نواب زادہ اور میں نواب ہوں۔
خود کو اپنی جماعت کا حصہ نہیں سمجھتے ، جماعت کو اپنا حصہ سمجھتے ہیں، وہ کسی جماعت میں کھپ نہیں سکتے ، جس جماعت میں جائیں، وہاں کھپ پڑ جاتی ہے ، ہمارے ہاں مخلوط حکومتیں ہی نہیں، حکمران بھی مخلوط ہوتے ہیں، لیکن کسی مس کا لیڈ کرنا موصوف کے نزدیک مس لیڈ کرنا ہے ، حکومت آسان اور حکمران مشکل ہے اور وہ حکمرانی کرتے ہیں، حکومت نہیں ، ہمیشہ اپنا سر اونچا رکھا، وہ تو سوتے وقت بھی سر اونچا رکھتے ہیں،چاہے اس کیلئے دو تکیے کیوں نہ استعمال میں ہو،کسی کی تعریف بھی یوں کرتے ہیں جیسے اس کا مذاق اڑا رہے ہو،بھٹو مرحوم نے انہیں بلوچستان کے تخت پر یوں بٹھایا جیسے ہمارے ہاں چھوٹوں کو پاؤں پر بٹھایا جاتا ہے ، ڈاکٹر سے پوچھو دو اور دو کتنے ہوتے ہیں؟ تو وہ کہے گا، ہوتے تو چار ہیں مگر آپ فلاں کنسلٹنٹ سے سکینڈ اوپینین لے لیں اور فلاں فلاں ٹیسٹ کروالیں، سیاست دان سے پوچھو دو اور دو کتنے ہوتے ہیں؟ تو وہ کہے گا آپ کتنے چاہتے ہیں، مگر اکبر بگٹی کے علاقے میں دو اور دو اتنے ہی ہوتے ہیں جتنے موصوف کہتے ہیں، وہ تو قبیلے کے کسی فرد کو زندہ دفن کرنے کا حکم دیں تو وہ لوگ پھر بھی کہیں گے کہ دفن تو کیا مگر اتنے رحم دل ہیں کہ مار کر نہیں کیا، وہ دونوں ہاتھ جیب میں ڈال کر بھی آپ پر ہاتھ ڈال سکتے ہیں، ذہین فتین اکبر بادشاہ کی آنکھوں میں ماضی کے ذکر سے چمک آ جاتی ہے ،جس سے لگتا ہے اب وہ جوان نہیں ہے ، ویسے بندہ تب بوڑھا ہوتا ہے ، جب اسے پتہ چلے کہ پچاس کا ہو گیا، لیکن انہوں نے آج تک خود کو یہ پتہ نہیں چلنے دیا۔
Mathematics اتنی کمزور کہ ایماڈنکن نے ان سے پوچھا کہ آپ نے اپنے ہاتھوں سے کتنے لوگوں کو قتل کیا؟ تو آپ نے کہا مجھے گنتی یاد نہیں، ہو سکتا ہے انہوں اس عمر میں قتل شروع کئیے ہوں جب ابھی گنتی سیکھنے شروع بھی نہ کی ہو، انہیں موت کے بعد زندگی پر ایمان نہیں، ان سے مل لو تو موت سے پہلے زندگی پر بھی ایمان نہیں رہے گا، ان میں ایک خوبی وہ بھی ہے ، جو کسی سیاست دان میں نہیں ہوتی، جس میں ہو وہ سیاستدان نہیں، وہ ہے اپنی رائے کے غلط ہونے کا سر عام اعتراف کرنا، وہ بزدل سیاست کے بہادر سیاست دان ہیں، کہتے ہیں میں کسی سیاسی پارٹی میں نہیں آ سکتا، مجھ میں کئی پارٹیاں آ سکتیں ہیں،دشمنی میں وہاں تک چلے جاتے ہیں جہاں تک دشمنی جا سکتی ہے ، کہتے ہیں میں جو سوچتا ہوں، وہ کرتا ہوں، حالانکہ وہ جو کرتے ہیں وہ اس سے تو یہ نہیں لگتا کہ وہ سوچتے ہیں، یہ جاننے کیلئے کہ وہ آپ کی بات سن رہے ہیں یا نہیں، آسان طریقہ ہے ، اگر آپ ان کا ذکر کر رہے ہیں تو وہ سن رہے ہیں، اگر نہیں کر رہے ہیں، تو وہ نہیں سن رہے ہیں،سیاست دان تو لوگوں کے مسائل کو وسائل بنا کر جیتے ہیں، اور وسائل کو لوگوں کیلئے مسائل بنا دیتے ہیں، مگر ان کا ذریعہ روزگار سیاست نہیں، ان کے تو قبیلے کے لوگ کبھی روزگار کی تلاش میں کہیں نہیں گئے ، روزگار ان کی تلاش میں سوئی کے مقام پر آیا، یہ Suicide موصوف کی اجازت کے بغیر Suicide ہے ، ان کی پسندیدہ شخصیت ہٹلر ہے ، مگر یہ بات اس طرح بتاتے ہیں جیسے وہ ہٹلر کی پسندیدہ شخصیت ہو، کہتے ہیں انہوں نے اپنی زندگی میں خود سے بڑا آدمی آج تک نہیں دیکھا واقعی جو ان سے بڑا نکلا، اسے دیکھا بھی نہیں، ون ان لوگوں میں سے ہیں جو اپنی ذات پر پی ایچ ڈی کرتے ہیں۔
کہتے ہیں سو سنار کی ایک سردار کی، اگرچہ سردار اتنے سیاست میں نہیں ہوتے جتنے لطیفوں میں ہوتے ہیں، ہم نے تو یہی دیکھا ہے کہ سردار کتنا ہی سیانا کیوں نہ ہو، لوگ پھر بھی اسے سردار جی ہی کہہ کر بلاتے ہیں، وہ بلوچ ہی نہیں بے لوچ سردار ہیں، سیاست میں اپنے بچوں کے والد کو اپنا آئیڈیل سمجھتے ہیں۔
غیر سنجیدگی کا مظاہرہ بڑی سنجیدگی سے کرتے ہیں،کسی افواہ پر یقین نہیں کرتے جب تک سرکاری طور پر اس کی تردید نہ جائے ، ان کے کئی محافظ ہیں جن کا دعوی ہے کہ جب تک موصوف کی زندگی ہے ہم انکو مرنے نہیں دیں گے ، موصوف بے اختیار اپنے اختیار کی بات کرتے ہیں، کسی کی تعریف بھی یوں کرتے ہیں جیسے اس کا مذاق اڑا رہے ہوں، کھانوں میں انہیں مرچیں پسند ہیں، ان کے کھانوں میں مرچیں نہیں ڈالی جاتیں، مرچوں میں کھانا ڈالا جاتا ہے ، بڑوں میں انہیں چھوٹے پسند ہیں، ان کے غسل خانے کے باہر میڈونا کی تصویر دیکھ کر ایماڈنکن نے پوچھا آپ نے یہ تصویر غسل خانے کے باہر کیوں لگائی؟ کہا غسل خانے کے اندر گیلی ہو جاتی ہے ، اس قدر تنہائی کہ قوالی نہ پسند ہے کہ اس میں گانے والا تنہا نہیں ہوتا، ویسے وہ گانا سنتے ہی نہیں، دیکھتے بھی ہیں، گانے والے کو داد یوں دیت ہیں جیسے تسلی دے رہے ہوں۔کہتے ہیں کہ بھٹو صاحب میرے کلاس فیلو تھے ، واقعی بھٹو کا تعلق بھی اسی کلاس سے تھا جس جس سے انکا ہے ، ان کا سیاسی کہنہ سالی کا ذکر کرو تو ناراض ہو جاتے ہیں، حالانکہ کہنے سالی کہنے پر تو ناراض سالی کو ہونا چاہئیے ، کہتے ہیں یہ فخر کی بات ہے کہ اے کے بروہی مجھے پڑھاتے رہے ہیں، مگر کہتے اس انداز سے ہیں جیسے اے کے بروہی کیلئے فخر کی بات ہو۔
جو شخص کچھ نہیں جانتا مگر سمجھتا ہے وہ سب جانتا ہے ، اس کیلئے سیاست بہترین پیشہ ہے ، موصوف بھی یہی پیشہ کرتے ہیں، ہم نے تو ہر کام صفر سے شروع کیا، یہاں تک کہ عمر بھی صفر سے شروع کی ، لیکن وہ سردار ہیں اور سرداروں کا صفر بھی بارہ سے شروع ہوتا ہے ، آپ یہ دعوی تو کر سکتے ہیں ہیں کہ آپ اس کے دوست ہیں، مگر یہ نہیں کہہ سکتے کہ وہ آپ کے دوست ہیں، اتنا کم سوتے ہیں کہ پوچھو نیند کب آتی ہے ؟ تو کہیں گے جب سویا ہوا ہوں۔
خوشامد غور سے سنتے ہیں، کہ خوشامد کرنے والا دراصل وہی کچھ کہہ رہا ہوتا ہے جو وہ خود کہنا چاہ رہے ہوتے ہیں، اتنا وہ نہیں بولتے جتنا ان کی تصویریں بولتی ہیں، ویسے مرد خاموش ہو تو آپ اس کی مکمل تصویر نہیں بنا سکتے اور عورت جب تک خاموش نہ ہو، آپ اس کی مکمل تصویر نہیں بنا سکتے ۔
وہ مولوی خولیا کے مریض ہیں، مذہبی معاملات پر یوں گفتگو کرتے ہیں جیسے لطیفہ سنا رہے ہوں، دین کے بارے میں انکا نظریہ وہی ہے ، جو شہنشاہ اکبر کا تھا، البتہ ان دنوں حکمرانوں میں یہ فرق ہے کہ شہنشاہ اکبر کے پاس نورتن تھے اور ان کے پاس No رتن ہیں۔

ڈاکٹر محمد یونس بٹ

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • بے کاری
  • کیا ہمیں بندر بن جانا چاہیے؟
  • شمالی علاقہ جات کی سیاحت
  • دوسری شادی، معاشرہ اور منافقت
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
ملا نصیر الدین
پچھلی پوسٹ
شی مین

متعلقہ پوسٹس

ٹانگوں میں سوجن،پٹھوں کی کمزوری سستی

اپریل 28, 2026

میڈم – ناولٹ (قسط نمبر 3)

نومبر 6, 2025

شاعری کا ابتدائی سبق

مئی 21, 2024

ایک سپاہی کے خواب

اگست 20, 2023

مائدہ ۔۔۔ اللہ کا دسترخواں

مئی 5, 2021

مقابلے کی دوڑ میں کھوئی ہوئی نسل

اکتوبر 21, 2025

انوکھی محبت

دسمبر 29, 2021

پاکستان–سعودی عرب دفاعی معاہدہ

ستمبر 18, 2025

صفاتی ناول ’’صُفہ‘‘اور دُردانہ نوشین خان

جنوری 31, 2020

پردہ فاش

جنوری 24, 2020

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

    مئی 18, 2026
  • کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

    مئی 17, 2026
  • کیا ہم بے وقوف ہیں؟

    مئی 16, 2026
  • موبائل سے بڑھ کر کون

    مئی 16, 2026
  • پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

    مئی 15, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے
  • سردار حمادؔ منیر on یا رسولِ خدا اشرفِ انبیاء

اسلامی گوشہ

رب تعالیٰ پر بھروسہ

مئی 11, 2026

احتساب اور چھٹائی کا قدرتی عمل

مئی 3, 2026

چشمِ کرم سے مجھ کو بھی سرکارﷺ دیکھیے

مئی 1, 2026

اللہ کی محبت کے رنگ

اپریل 21, 2026

مرا سخن سخنِ شاہکار ہو جائے

اپریل 6, 2026

اردو شاعری

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی...

مئی 15, 2026

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

مئی 11, 2026

میں نے دیکھا جگ میں ایسا

مئی 11, 2026

ماں : رحمتوں کا سائباں

مئی 9, 2026

ہنسایا گر نہیں جاتا ، رلایا بھی نہیں...

مئی 8, 2026

اردو افسانے

کیوں کہ

مئی 3, 2026

عورت کی تعلیم کی اہمیت

اپریل 7, 2026

اب بس کرو ماں

اپریل 4, 2026

باغ علی باغی (قسط اول)

اپریل 3, 2026

سونے کی بالیاں

مارچ 29, 2026

اردو کالمز

انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

مئی 18, 2026

کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

مئی 17, 2026

کیا ہم بے وقوف ہیں؟

مئی 16, 2026

پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

مئی 15, 2026

پاکستان میں انگریزی کا تسلط کیوں برقرار ہے؟

مئی 14, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

    مئی 18, 2026
  • کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

    مئی 17, 2026
  • کیا ہم بے وقوف ہیں؟

    مئی 16, 2026
  • موبائل سے بڑھ کر کون

    مئی 16, 2026
  • پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

    مئی 15, 2026
  • بیگمات کی پراسرار علالتیں اور ریسٹورنٹ سینڈروم

    مئی 15, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

بے غرض محسن

دسمبر 10, 2017

پیر فتح شیر دیوان اور خدمتِ...

مارچ 10, 2026

شجر کی حکایت

جنوری 1, 2025
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں