خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ اردو تحاریرشکاری
اردو تحاریراردو مزاحیہ تحاریرڈاکٹر یونس بٹ

شکاری

از سائیٹ ایڈمن مئی 10, 2020
از سائیٹ ایڈمن مئی 10, 2020 0 تبصرے 84 مناظر
85

شکاری

وہ پاکستان کے ویران صوبے کے آباد سرکار ہیں، شکل سے بلوچ نہیں، پورا بلوچستان لگتے ہیں،مونچھیں اتنی نوکیلی کہ ان سے کسی کو زخمی کی جا سکتا ہے ، چیتے کی پھرتی، عقاب کی نظر، اونٹ کی دشمنی اور شیر سی ہلاشیری ہی نہیں، ان میں اور بھی کئی جانوروں والی خوبیاں موجود ہیں، وہ بگٹی قبیلے کے سردار ہیں، یہ اس قدر جنگجو قبیلہ ہے کہ، ان کے ہاں جس دن بچہ باہر کسی کو مار کر نہیں آتا، اس دن بچے کو مار دیتے ہیں، لوگ اپنے ذہن میں خدا کا تصور بنانے کیلئے سردار کو دیکھتے ہیں، معاف نہ کرنا اور حکم دینا اکبر بگٹی کو ورثے میں ملا ہے ، دوسرے کی بات یوں سنتے جیسے بادشاہ کسی کی فریاد سن رہا ہو، خود کو اپنے قد سے بھی اونچا سمجھتے ہیں، ویسے ان کا قد ایسا ہے کہ بندہ ان کے پاؤں سر تک پہنچے تو موسم بدل چکا ہوتا ہے ۔
دوران تعلیم کوئی پوچھتا آپ کس کلاس میں ہیں؟تو کہتے ہم اپر کلاس میں۔استاد پوچھتا ہوم ورک کیا ہے ؟تو کہتے ہمارے ہاں ہوم ورک نوکر کرتے ہیں، ہر معاملے میں خود کو دوسرے سے بڑا سمجھتے ہیں، وہ تو دس سال کی عمر میں خود کو تیس سال کے لوگوں سے خود کو بڑا سمجھتے ، ایچی سن کالج میں ان کی تعلیم کے دوران چیانگ کائی شیک دورے پر آیا تو بچوں کو لائن میں کھڑا کر کے ان سے ہاتھ ملانے کو کہا گیا، جب معزز مہمان موصوف تک پہنچے تو یہ پیٹھ پھیر کر کھڑے ہو گئے ، اب بھی جب کسی معزز مہمان کو آتا دیکھتے ہیں، ایسا ہی کرتے ہیں۔
لمبی بات نہیں کرتے ، بات اتنی مختصر ہوتی ہے کہ جونہی دوسرا متوجہ ہوتا ہے ، بات ختم ہو جاتی ہے ، کبھی کبھی تو یہ اتنی مختصر ہوتی ہے کہ اس کیلئے منہ بھی ہلانا نہیں پڑتا، اپنی بات میں زور پیدا کرنے کیلئے زور سے نہیں بولتے ، بلکہ چپ ہو جاتے ہیں، اس قدر صاف گو کہ بچپن میں بھی اس وقت تک کسی نہ ان کے منہ سے جھوٹ نہ سنا جب تک وہ باتیں نہ کرنے لگے ، انگریزی ادب اس قدر پسند ہے کہ جس کا ادب کرنا چاہیں، انگریزی میں کرتے ، کہتے ہیں، انگریزی پر میری گرفت ہے ، واقعی ان کی انگریزی قابل گرفت ہے ، سنا ہے جب وہ اردو کے خلاف ہوں تو اردو نہیں بولتے ، حالانکہ جب وہ اردو بولتے ہیں تو یہی لگتا ہے کہ وہ اردو کے خلاف ہیں۔
مجلس میں کوئی ایسی گفتگو یا واقعہ نہیں سناتے جس میں انکی حیثیت ثانوی ہو، اس لئیے وہ قیام پاکستان پر گفتگو نہیں کرتے ، وہ تو اپنے بیٹے کی شادی میں بھی تقریب کے دولہا خود ہی ہوتے ہیں،وہ کام نہیں کرتے جو سب کر سکیں، وہ کتاب تک نہیں پڑھتے جسے سب پڑھ سکیں، سیاستدانوں میں بیٹھے ہوں تو آنکھوں میں ایسی مستعدی ہوتی ہے جیسے مچان پر بیٹھے ہوں،ان سے پوچھو کسی کا شکار پسند کرتے ہیں؟تو کہیں گے شکاری کا۔نواب اکبر بگٹی ایک بار نصراللہ خان سے ناراض ہوئے تو کہا، آپ میں اور مجھ میں یہ فرق ہے کہ آپ نواب زادہ اور میں نواب ہوں۔
خود کو اپنی جماعت کا حصہ نہیں سمجھتے ، جماعت کو اپنا حصہ سمجھتے ہیں، وہ کسی جماعت میں کھپ نہیں سکتے ، جس جماعت میں جائیں، وہاں کھپ پڑ جاتی ہے ، ہمارے ہاں مخلوط حکومتیں ہی نہیں، حکمران بھی مخلوط ہوتے ہیں، لیکن کسی مس کا لیڈ کرنا موصوف کے نزدیک مس لیڈ کرنا ہے ، حکومت آسان اور حکمران مشکل ہے اور وہ حکمرانی کرتے ہیں، حکومت نہیں ، ہمیشہ اپنا سر اونچا رکھا، وہ تو سوتے وقت بھی سر اونچا رکھتے ہیں،چاہے اس کیلئے دو تکیے کیوں نہ استعمال میں ہو،کسی کی تعریف بھی یوں کرتے ہیں جیسے اس کا مذاق اڑا رہے ہو،بھٹو مرحوم نے انہیں بلوچستان کے تخت پر یوں بٹھایا جیسے ہمارے ہاں چھوٹوں کو پاؤں پر بٹھایا جاتا ہے ، ڈاکٹر سے پوچھو دو اور دو کتنے ہوتے ہیں؟ تو وہ کہے گا، ہوتے تو چار ہیں مگر آپ فلاں کنسلٹنٹ سے سکینڈ اوپینین لے لیں اور فلاں فلاں ٹیسٹ کروالیں، سیاست دان سے پوچھو دو اور دو کتنے ہوتے ہیں؟ تو وہ کہے گا آپ کتنے چاہتے ہیں، مگر اکبر بگٹی کے علاقے میں دو اور دو اتنے ہی ہوتے ہیں جتنے موصوف کہتے ہیں، وہ تو قبیلے کے کسی فرد کو زندہ دفن کرنے کا حکم دیں تو وہ لوگ پھر بھی کہیں گے کہ دفن تو کیا مگر اتنے رحم دل ہیں کہ مار کر نہیں کیا، وہ دونوں ہاتھ جیب میں ڈال کر بھی آپ پر ہاتھ ڈال سکتے ہیں، ذہین فتین اکبر بادشاہ کی آنکھوں میں ماضی کے ذکر سے چمک آ جاتی ہے ،جس سے لگتا ہے اب وہ جوان نہیں ہے ، ویسے بندہ تب بوڑھا ہوتا ہے ، جب اسے پتہ چلے کہ پچاس کا ہو گیا، لیکن انہوں نے آج تک خود کو یہ پتہ نہیں چلنے دیا۔
Mathematics اتنی کمزور کہ ایماڈنکن نے ان سے پوچھا کہ آپ نے اپنے ہاتھوں سے کتنے لوگوں کو قتل کیا؟ تو آپ نے کہا مجھے گنتی یاد نہیں، ہو سکتا ہے انہوں اس عمر میں قتل شروع کئیے ہوں جب ابھی گنتی سیکھنے شروع بھی نہ کی ہو، انہیں موت کے بعد زندگی پر ایمان نہیں، ان سے مل لو تو موت سے پہلے زندگی پر بھی ایمان نہیں رہے گا، ان میں ایک خوبی وہ بھی ہے ، جو کسی سیاست دان میں نہیں ہوتی، جس میں ہو وہ سیاستدان نہیں، وہ ہے اپنی رائے کے غلط ہونے کا سر عام اعتراف کرنا، وہ بزدل سیاست کے بہادر سیاست دان ہیں، کہتے ہیں میں کسی سیاسی پارٹی میں نہیں آ سکتا، مجھ میں کئی پارٹیاں آ سکتیں ہیں،دشمنی میں وہاں تک چلے جاتے ہیں جہاں تک دشمنی جا سکتی ہے ، کہتے ہیں میں جو سوچتا ہوں، وہ کرتا ہوں، حالانکہ وہ جو کرتے ہیں وہ اس سے تو یہ نہیں لگتا کہ وہ سوچتے ہیں، یہ جاننے کیلئے کہ وہ آپ کی بات سن رہے ہیں یا نہیں، آسان طریقہ ہے ، اگر آپ ان کا ذکر کر رہے ہیں تو وہ سن رہے ہیں، اگر نہیں کر رہے ہیں، تو وہ نہیں سن رہے ہیں،سیاست دان تو لوگوں کے مسائل کو وسائل بنا کر جیتے ہیں، اور وسائل کو لوگوں کیلئے مسائل بنا دیتے ہیں، مگر ان کا ذریعہ روزگار سیاست نہیں، ان کے تو قبیلے کے لوگ کبھی روزگار کی تلاش میں کہیں نہیں گئے ، روزگار ان کی تلاش میں سوئی کے مقام پر آیا، یہ Suicide موصوف کی اجازت کے بغیر Suicide ہے ، ان کی پسندیدہ شخصیت ہٹلر ہے ، مگر یہ بات اس طرح بتاتے ہیں جیسے وہ ہٹلر کی پسندیدہ شخصیت ہو، کہتے ہیں انہوں نے اپنی زندگی میں خود سے بڑا آدمی آج تک نہیں دیکھا واقعی جو ان سے بڑا نکلا، اسے دیکھا بھی نہیں، ون ان لوگوں میں سے ہیں جو اپنی ذات پر پی ایچ ڈی کرتے ہیں۔
کہتے ہیں سو سنار کی ایک سردار کی، اگرچہ سردار اتنے سیاست میں نہیں ہوتے جتنے لطیفوں میں ہوتے ہیں، ہم نے تو یہی دیکھا ہے کہ سردار کتنا ہی سیانا کیوں نہ ہو، لوگ پھر بھی اسے سردار جی ہی کہہ کر بلاتے ہیں، وہ بلوچ ہی نہیں بے لوچ سردار ہیں، سیاست میں اپنے بچوں کے والد کو اپنا آئیڈیل سمجھتے ہیں۔
غیر سنجیدگی کا مظاہرہ بڑی سنجیدگی سے کرتے ہیں،کسی افواہ پر یقین نہیں کرتے جب تک سرکاری طور پر اس کی تردید نہ جائے ، ان کے کئی محافظ ہیں جن کا دعوی ہے کہ جب تک موصوف کی زندگی ہے ہم انکو مرنے نہیں دیں گے ، موصوف بے اختیار اپنے اختیار کی بات کرتے ہیں، کسی کی تعریف بھی یوں کرتے ہیں جیسے اس کا مذاق اڑا رہے ہوں، کھانوں میں انہیں مرچیں پسند ہیں، ان کے کھانوں میں مرچیں نہیں ڈالی جاتیں، مرچوں میں کھانا ڈالا جاتا ہے ، بڑوں میں انہیں چھوٹے پسند ہیں، ان کے غسل خانے کے باہر میڈونا کی تصویر دیکھ کر ایماڈنکن نے پوچھا آپ نے یہ تصویر غسل خانے کے باہر کیوں لگائی؟ کہا غسل خانے کے اندر گیلی ہو جاتی ہے ، اس قدر تنہائی کہ قوالی نہ پسند ہے کہ اس میں گانے والا تنہا نہیں ہوتا، ویسے وہ گانا سنتے ہی نہیں، دیکھتے بھی ہیں، گانے والے کو داد یوں دیت ہیں جیسے تسلی دے رہے ہوں۔کہتے ہیں کہ بھٹو صاحب میرے کلاس فیلو تھے ، واقعی بھٹو کا تعلق بھی اسی کلاس سے تھا جس جس سے انکا ہے ، ان کا سیاسی کہنہ سالی کا ذکر کرو تو ناراض ہو جاتے ہیں، حالانکہ کہنے سالی کہنے پر تو ناراض سالی کو ہونا چاہئیے ، کہتے ہیں یہ فخر کی بات ہے کہ اے کے بروہی مجھے پڑھاتے رہے ہیں، مگر کہتے اس انداز سے ہیں جیسے اے کے بروہی کیلئے فخر کی بات ہو۔
جو شخص کچھ نہیں جانتا مگر سمجھتا ہے وہ سب جانتا ہے ، اس کیلئے سیاست بہترین پیشہ ہے ، موصوف بھی یہی پیشہ کرتے ہیں، ہم نے تو ہر کام صفر سے شروع کیا، یہاں تک کہ عمر بھی صفر سے شروع کی ، لیکن وہ سردار ہیں اور سرداروں کا صفر بھی بارہ سے شروع ہوتا ہے ، آپ یہ دعوی تو کر سکتے ہیں ہیں کہ آپ اس کے دوست ہیں، مگر یہ نہیں کہہ سکتے کہ وہ آپ کے دوست ہیں، اتنا کم سوتے ہیں کہ پوچھو نیند کب آتی ہے ؟ تو کہیں گے جب سویا ہوا ہوں۔
خوشامد غور سے سنتے ہیں، کہ خوشامد کرنے والا دراصل وہی کچھ کہہ رہا ہوتا ہے جو وہ خود کہنا چاہ رہے ہوتے ہیں، اتنا وہ نہیں بولتے جتنا ان کی تصویریں بولتی ہیں، ویسے مرد خاموش ہو تو آپ اس کی مکمل تصویر نہیں بنا سکتے اور عورت جب تک خاموش نہ ہو، آپ اس کی مکمل تصویر نہیں بنا سکتے ۔
وہ مولوی خولیا کے مریض ہیں، مذہبی معاملات پر یوں گفتگو کرتے ہیں جیسے لطیفہ سنا رہے ہوں، دین کے بارے میں انکا نظریہ وہی ہے ، جو شہنشاہ اکبر کا تھا، البتہ ان دنوں حکمرانوں میں یہ فرق ہے کہ شہنشاہ اکبر کے پاس نورتن تھے اور ان کے پاس No رتن ہیں۔

ڈاکٹر محمد یونس بٹ

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • سو روپے 
  • اُردو ادب میں بانو قدسیہ کا مقام
  • ہلکی دھڑکنیں
  • مائدہ ۔۔۔ اللہ کا دسترخواں
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
ملا نصیر الدین
پچھلی پوسٹ
شی مین

متعلقہ پوسٹس

جنرل عاصم ملک

اکتوبر 8, 2025

ایک نئے استعمار کا خاموش سفر

اگست 28, 2026

تخم بالنگا یا تخم ملنگا

دسمبر 20, 2021

اپنے دُکھ مجھے دے دو

جنوری 15, 2020

ٹکراؤ کی سیاست کے نقصانات

دسمبر 12, 2025

گیارہویں شریف کا مبارک مہینہ

اکتوبر 13, 2024

بے انتہا محبت

اگست 7, 2022

چائے کی پیالی

مئی 24, 2026

انٹرنیٹ کی سست رفتار

اگست 31, 2024

گناہ بے لذت اور معصوم کا خون

مارچ 29, 2024

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • نہیں خزاں ہی نشان قاتل

    اگست 30, 2026
  • ہر گھڑی بس سوال کرتے ہیں

    اگست 30, 2026
  • عجب سے عجب تیرا اسلوب دنیا

    اگست 30, 2026
  • وہم ہے یا کہ گماں دیکھنا ہے

    اگست 30, 2026
  • ترش لہجے میں سخت بو لتا ہے

    اگست 30, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ایم اے دوشی on دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Meesam Ali Agha on دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ
  • مسعود فیروزی on شعر شور انگیز

اسلامی گوشہ

مدح خیر الوری کے پیار میں آجاتے ہیں

اگست 30, 2026

آزاد نعتیہ نظم – حل

اگست 28, 2026

12 ربیع الاول : آمدِ مصطفیٰ ﷺ

اگست 26, 2026

آقا کریم ﷺ کا احسان

اگست 23, 2026

لباس کی شرعی حیثیت

اگست 4, 2026

اردو شاعری

نہیں خزاں ہی نشان قاتل

اگست 30, 2026

ہر گھڑی بس سوال کرتے ہیں

اگست 30, 2026

عجب سے عجب تیرا اسلوب دنیا

اگست 30, 2026

وہم ہے یا کہ گماں دیکھنا ہے

اگست 30, 2026

ترش لہجے میں سخت بو لتا ہے

اگست 30, 2026

اردو افسانے

سرخ پینسلیں اور خستہ حال خیمہ

اگست 9, 2026

وہ درخت جو اپنے سائے سے رُوٹھ گیا

اگست 3, 2026

ماں کی خاموش دُعا

جولائی 24, 2026

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

واپسی

جون 2, 2026

اردو کالمز

ایک نئے استعمار کا خاموش سفر

اگست 28, 2026

12 ربیع الاول : آمدِ مصطفیٰ ﷺ

اگست 26, 2026

"شہر نامہ سوم” ایک عمدہ ادبی اور تاریخی...

اگست 26, 2026

تیسری ہندکو کانفرنس

اگست 24, 2026

آقا کریم ﷺ کا احسان

اگست 23, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • نہیں خزاں ہی نشان قاتل

    اگست 30, 2026
  • ہر گھڑی بس سوال کرتے ہیں

    اگست 30, 2026
  • عجب سے عجب تیرا اسلوب دنیا

    اگست 30, 2026
  • وہم ہے یا کہ گماں دیکھنا ہے

    اگست 30, 2026
  • ترش لہجے میں سخت بو لتا ہے

    اگست 30, 2026
  • نہ بھٹکے ہیں نہ راستہ ہوا غلط

    اگست 30, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

ملک کی ترقی میں رکاوٹ کہاں...

نومبر 3, 2024

موم بتی کے آنسو

جنوری 15, 2020

”غزل کروٹ بدلتی ہے” ایک تنقیدی...

مارچ 3, 2026
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں