خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپ کا سلامسنہری چوٹی
آپ کا سلاماردو افسانےاردو تحاریرسبین علی

سنہری چوٹی

از سائیٹ ایڈمن مارچ 25, 2026
از سائیٹ ایڈمن مارچ 25, 2026 0 تبصرے 24 مناظر
25

برف سے ڈھکی اُس فلک بوس چوٹی کا نام سنہری پہاڑ کیوں پڑا اس بارے میں بیس کیمپ کی قریبی بستی میں کئی کہانیاں مشہور تھیں۔ وہاں چاندنی راتوں میں چاند کے ساتھ ساتھ تمام ستارے بھی زمین کے بہت قریب آ جاتے۔ نیچے وادی میں دیودار کی لکڑی سے تعمیر گھروں اور اپنے آتش دانوں میں چیڑ کی خوشبودار لکڑیاں جلانے والے چرواہے وادی کے کنارے سے جھانکتے ستاروں کو دیکھ کر یہ سوچتے کہ اگر اس وقت وہ پہاڑ کی چوٹی پر موجود ہوتے تو ایک آدھ ستارہ توڑ لینا ان کی دسترس میں تھا۔ وہیں انہیں گلابی تلچھٹ کی مانند جلتے ہوئے روشن ستاروں کے جھرمٹ میں نیلگوں روشنیاں بھی نظر آتیں۔ صبح ہوتی تو کرنوں کا جھومر سفید برف پر سجا دیتی جب شام ہونے لگتی تو اس پہاڑ کا سایہ دور دور تک زمین پر اتر جاتا اور چوٹی غروب ہوتے سورج کی نارنجی کرنوں کو منعکس کرتی تو زمین کے ماتھے پر طلائی تاج کی مانند نظر آتی۔ بلند اور مغرور چوٹی دھیرے دھیرے بستی کے لوگوں میں متبرک حیثیت اختیار کرتی جا رہی تھی۔ وہاں دور دراز سے کوہ پیما اور عام سیاح دشوار گزار راہوں اور سنگلاخ چٹانوں کو عبور کر کے پہنچتے تھے۔ ان لوگوں کا خیال تھا کہ سنہری پہاڑ کے کسی غار میں آفاقیت کے بھید چھپے ہیں۔
انہیں کسی نے بتایا تھا کہ اگر جگ میں اُس بھید کی سلطنت ہوتی تو دنیا میں کوئی رنج نہ ہوتا۔ انسان پرندوں کی مانند ایک دیس سے دوسرے دیس بنا کسی رکاوٹ کے پرواز کرتے۔ چشمے صحراؤں میں بھی ابل پڑتے، درختوں پر دگنا پھل آتا اور کوئی جاندار قحط سے ہلاک نہ ہوتا۔

جفاکش کوہ پیما اس پہاڑ کی چوٹی تک پہنچنے کی تیاری کئی کئی ماہ کرتے اور ٹولیوں کی صورت میں سنگلاخ چٹانوں اور برفانی تودوں میں راستہ تلاش کرتے۔ اس بستی میں اُن کی حیثیت سورماؤں کی سی تھی۔کوہ پیمائی پر جاتے وقت انہیں دعاؤں کے حصار میں رخصت کیا جاتا اور واپس لوٹنے پر ان کی خوب پذیرائی کی جاتی۔
وہ لڑکی جس کا نام زِمل تھا ان راستوں میں کھڑی رہتی جہاں سنہری پہاڑ کو سر کرنے والے کوہ پیما گزرا کرتے تھے۔ وہ کبھی کوہ پیمائی کو نہ جا سکی نہ ہی اس کے پاس ایسے وسائل تھے مگر اُن رفعتوں کو بڑی محبت اور مرعوبیت سے تکتی اور جب بھی جفاکش کوہ پیما اس چوٹی کی جانب روانہ ہوتے تو سڑک کنارے کھڑی وہ انکی راہوں میں جنگلی پوپی کے پھول نچھاور کرتی۔ کئی کوہ پیما واپس نہ لوٹتے کوئی برفانی طوفان (blizzards) کا لقمہ بن جاتا تو کسی کو کھائیاں نگل جاتیں۔ جو چند کوہ پیما واپس لوٹتے ان کی جلد مجروح اور اعضاء مضمحل ہوتے مگر آنکھوں میں فتح مندی کی چمک ہوتی جو برف کے ذرات کو پلکوں پر یوں پہنے ہوتی جیسے افریقہ کے قبائلی شکاری اپنے شکار کیے ہوئے شیر کا دانت گلے میں پہنتے ہیں۔

ایک دن جب کوہ پیماؤں کی بڑی ٹولی سنہری چوٹی کو سر کرنے نکل چکی تھی اس لڑکی کو اتنا بڑا پوپی کا پھول ملا جو اس وادی میں کہیں اُگا ہی نہ تھا۔ اسے سمجھ نہ آئی کہ وہ پھول کہاں نچھاور کرے۔
اس نے دونوں ہاتھوں کو دستِ دعا کی مانند جوڑ کر اُس عجیب ہمالیائی گُل لالہ کو تھاما اور محویت سے تکنے لگی۔خشک موسم کے دوران ان کی بستی میں کئی بار پانی دور سے لانا پڑتا تھا۔ اس لیے وہاں پرانے وقتوں سے بزرگ گلیشئیر کی کاشت کرتے۔ نر اور مادہ گلیشئیر کی برف کو ملا کر اس پر اباسین کا پانی چھڑکتے،گندم کا بھوسہ پھیلاتے اور خدا سے مناجات کرتے تاکہ گلیشئیر بستی کو بہا لے جانے یا روند ڈالنے کی بجائے دائیں بائیں پھیلتا پانی کا ذخیرہ بنے۔

انہیں پہاڑوں اور برفانی تودوں پر مارخور چوکڑیاں بھرتے پھرتے اور کوہ پیماؤں کی بلندیاں سر کرنے کی فطرت کو دعوتِ مبارزت دیتے نظر آتے۔
انسان جسے ہر چیز پر فاتح بننے کا جنون ودیعت ہوا ہے کیسے مارخور کے فخر سے تنے سر اور مضبوط جثے کو گوارا کرتا۔ دھیرے دھیرے پہاڑوں پر مارخوروں کی تعداد گھٹنے لگی۔جس بستی نے پتھروں پر برف کے بیج بوئے تھے اپنے جانوروں کو پرستان جیسی چراہ گاہوں میں پھولوں سے بھری گھاس پر چرایا تھا وہیں اُسی بستی میں رائفلیں اور شکاری بندوقیں دیواروں پر آویزاں نظر آنے لگیں۔ جن میں بل کھاتے سینگوں والے مارخوروں کے سر بھی حنوط کیے دیواروں کی زینت ہوتے۔

وہاں دنیا کے ہر کونے سے کوہ پیما تو آتے ہی تھے مگر مارخوروں کی شہرت کے بعد دنیا بھر کے ماہر شکاریوں کو ایک نئی اور دلآویز شکار گاہ میسر آ گئی۔ دیکھتے ہی دیکھتے ہزاروں کی تعداد میں چوکڑیاں بھرتے مارخور نایاب ہو گئے۔ کئی کئی دنوں تک شکاریوں کو مارخور کا سراغ تک نہ ملتا۔ ایسے میں کچھ باشعور لوگ سامنے آئے اور جانوروں کی نسل بچانے کے لیے آواز بلند کرنے لگے۔ بہت عرصہ ان کی صدا پہاڑوں کی گونج کی بجائے صدا بصحرا ثابت ہوتی رہی مگر بالاخر قوانین بنے، لاگو ہوئے۔ بنا لائسنس شکار پر پابندی لگی اور مارخور کی نسل بچانے کے لیے کاوشیں ہونے لگیں۔
زِمل جو آئے دن محبت اور مرعوبیت سے کوہ پیماؤں کی ٹولیوں کو سنہری پہاڑ کی کٹھنائیوں میں پڑتے فتح یاب ہوتے یا بلیزرڈز کا لقمہ بنتے دیکھتی تھی، تنہا بستی میں کسی اصل فاتح کی منتظر رہتی جس کے روؤں پر برف کے ذرات جمے ہوں آنکھوں میں فتح مندی کی چمک ہو اور جس سے وہ پوچھ سکتی کہ سنہری چوٹی کو سر کرتے وقت اُس نے رفعتوں کا کیا بھید پایا تھا۔

مگر کچھ بلندیاں گورکھ دھندہ ہوتی ہیں۔ وہ مہم جوئی کے تمنائیوں کو اپنی جانب متوجہ کرتی ہیں نشانِ منزل تک پہنچنے دیتی ہیں مگر اپنے بھید نہیں کھولتیں۔ یا اُن رفعتوں کا سرے سے کوئی راز ہی نہیں ہوتا۔ برف کے چُنگل میں صحرا کے جیسے سراب کھلی آنکھوں نظر نہیں آتے مگر منجمد ہوتی آنکھوں میں خوابوں کا حصہ بن جاتے ہیں۔
نیچے بستی میں کئی لڑکیاں ان سورماؤں کی منتظر رہیں جو سنہری چوٹی کا راز کھوج کر لے آئیں مگر واپس آنے والے سبھی ایک گہری چپ لیے لوٹتے رہے اور ان میں سے کئی کوہ پیما اگلے موسم بہار میں پھر اُسی کھوج میں پلٹ آتے۔ زمل کی عمر سے کئی برس گھٹتے رہے ہمالیائی پھول جو ہر موسمِ بہار میں پھر سے لہلا اٹھتا، کسی سورما کا منتظر ہی رہا۔ بستی کے بوڑھے ہر سرما کی آمد پر اُسی طرح گلیشئیر کی کاشت کرتے، اپنے دریاؤں چوٹیوں اور برفانی تودوں کی طویل عمر کی مناجات کرتے اور مارخوروں کی نسل بچانے کو جتن کرتے نظر آتے۔ زمل نے سنا تھا اعلیٰ نسل کے فقط چند منہ زور نر ہی باقی بچے ہیں کہ ڈوئل Duel میں ہر مخالف کے سینے پر کاری ضرب لگاتے ہیں۔ جو پر تمکنت اور ازلی دلیری سے ماداؤں کے دل کی دھڑکنوں میں بسیرا کرتے ہیں۔

ایک دن کوہ پیماؤں کے بھیس میں شکاریوں کی بڑی ٹولیاں بستی میں آن موجود ہوئیں۔ انکی آمد کی اطلاع اور مقصد کو خفیہ رکھا گیا تھا۔
کئی دن تک بند کمروں میں اور سرگوشیوں میں شکار کی تدبیریں کھوجی جاتی رہیں۔ بالآخر انہیں بستی کے سب سے منہ زور نر زونو کے شکار کا پروانہ مل گیا۔ بدلے میں تازہ چَھپے کرنسی نوٹوں کی ہزاروں گڈیاں تھیں۔

کہنے والوں نے کہا اِس رقم سے ماداؤں کو چارہ اور تحفظ فراہم کیا جائے گا۔ ان کی افزائش نسل کے لیے کوششیں کی جائیں گی۔ لوگوں میں آگاہی پھیلانے کو مہم چلانے کے لیے ادارے کے اخراجات پورے ہوں گے اور سیاحت کو فروغ ملے گا۔
دور مار رائفلوں اور بندوقوں سے مسلح شکاری ٹولیوں نے کئی جگہ گھات لگا رکھی تھی۔ زمل کو بستی کی ہوا میں خوف کی مہک گھلی محسوس ہو رہی تھی۔

ماداؤں نے کمسن میمنوں کے ساتھ چارے پر منہ مارنے کی بجائے غاروں میں دُبک جانے میں عافیت سمجھی۔
زونو کے کُھروں کی رگڑ سے پتھروں پر چنگاریاں نکل رہی تھی۔ وہ اپنے پہاڑ کے کبھی دائیں اور کبھی بائیں طرف چوکڑیاں بھرتا ان نر زادوں کو بھگانے کی سعی میں تھا جن کی نالیاں نیلے شعلے اگل رہی تھیں۔

دفعتاً زونو اس غارکے سامنے سے جن میں قدیم داستانوں کے مطابق آفاقیت کے بھید چھپے تھے لُڑھکتا ہوا گھاٹی میں آن گرا۔
شکاری فتح کے گیت گاتے اس کے مجروح جسم کی تلاش میں گھاٹیوں میں اترنے لگے۔ پہاڑوں پر شام اتر رہی تھی جفتی ہونے کو آمادہ اسکی مادہ نے کرلاتی ہوئی آواز نکالی جو وادی میں دور تک گونجتی رہی۔

اسی سہ پہر چوٹی کی جانب سے برف پھسلنے لگی۔ لینڈ سلائیڈ اور برفانی طوفان کی زد میں آ کر مہم جوؤں کی بڑی ٹولی ایک بار پھر اپنے قدم اکھاڑ بیٹھی۔ شدید برفانی طوفان کی وجہ سے انکی تلاش ممکن نہ تھی اس لیے کوہ پیماؤں کے لا پتہ ہونے کا اعلان کر دیا گیا۔
بستی میں شام اتر آئی۔ جھٹپٹے کے وقت بادلوں جیسی نرم برف میں دھیرے دھیرے کوئی سایہ گھاٹی کی طرف بڑھ رہا تھا۔ دور سے دیکھنے والے سیاح سہم گئے۔ وہ زمل تھی جس نے اپنے ہاتھ میں نایاب ہمالیائی گل لالہ تھام رکھا تھا۔ ایک لحظہ کے لیے اس نے سنہری چوٹی کی طرف غور سے دیکھا جیسے کوئی بڑا بھید آشکار ہو رہا ہو۔ پھر اس نے گہری خاموشی سے زونو کو دیکھا اور وہ ہمالیائی پھول اُس پر نچھاور کر دیا۔

سبین علی

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • سید ضمیر جعفری
  • افسر کا فن
  • کج روی کا حسن
  • دولت کا غیر منصفانہ بٹوارہ
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
رشتوں کی حقیقت
پچھلی پوسٹ
سمندر کے نام ایک غنائیہ

متعلقہ پوسٹس

23مارچ: یومِ پاکستان!

مارچ 25, 2022

روشنی میں بھٹکتا جگنو

مارچ 21, 2020

دلچسپ و عجیب

ستمبر 1, 2022

حضرت بہلول دانا رحمتہ اللہ تعالیٰ علیہ

مئی 18, 2024

ویرا

جنوری 3, 2020

تنہائی، فطرت اور خود شناسی

دسمبر 1, 2024

حالات قابو میں نہیں ہیں !

مئی 3, 2020

مارچ میں مارچ

مارچ 8, 2021

اسلام میں نوجوانوں کا کردار اور ذمہ داریاں

اکتوبر 31, 2025

صرف دعا فرما دیں

اکتوبر 19, 2019

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

    مئی 18, 2026
  • کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

    مئی 17, 2026
  • کیا ہم بے وقوف ہیں؟

    مئی 16, 2026
  • موبائل سے بڑھ کر کون

    مئی 16, 2026
  • پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

    مئی 15, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے
  • سردار حمادؔ منیر on یا رسولِ خدا اشرفِ انبیاء

اسلامی گوشہ

رب تعالیٰ پر بھروسہ

مئی 11, 2026

احتساب اور چھٹائی کا قدرتی عمل

مئی 3, 2026

چشمِ کرم سے مجھ کو بھی سرکارﷺ دیکھیے

مئی 1, 2026

اللہ کی محبت کے رنگ

اپریل 21, 2026

مرا سخن سخنِ شاہکار ہو جائے

اپریل 6, 2026

اردو شاعری

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی...

مئی 15, 2026

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

مئی 11, 2026

میں نے دیکھا جگ میں ایسا

مئی 11, 2026

ماں : رحمتوں کا سائباں

مئی 9, 2026

ہنسایا گر نہیں جاتا ، رلایا بھی نہیں...

مئی 8, 2026

اردو افسانے

کیوں کہ

مئی 3, 2026

عورت کی تعلیم کی اہمیت

اپریل 7, 2026

اب بس کرو ماں

اپریل 4, 2026

باغ علی باغی (قسط اول)

اپریل 3, 2026

سونے کی بالیاں

مارچ 29, 2026

اردو کالمز

انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

مئی 18, 2026

کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

مئی 17, 2026

کیا ہم بے وقوف ہیں؟

مئی 16, 2026

پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

مئی 15, 2026

پاکستان میں انگریزی کا تسلط کیوں برقرار ہے؟

مئی 14, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

    مئی 18, 2026
  • کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

    مئی 17, 2026
  • کیا ہم بے وقوف ہیں؟

    مئی 16, 2026
  • موبائل سے بڑھ کر کون

    مئی 16, 2026
  • پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

    مئی 15, 2026
  • بیگمات کی پراسرار علالتیں اور ریسٹورنٹ سینڈروم

    مئی 15, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

گرہن

مارچ 30, 2020

حرام جادی

جنوری 15, 2020

نوحهِٔ زمین

دسمبر 15, 2024
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں