خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ اردو تحاریرذائقے جو روپوش ہو گئے
اردو تحاریرانتظار حسینمقالات و مضامین

ذائقے جو روپوش ہو گئے

از قلم انتظار حسین

از سائیٹ ایڈمن دسمبر 4, 2019
از سائیٹ ایڈمن دسمبر 4, 2019 0 تبصرے 538 مناظر
539

عطاء الحق قاسمی نے ایک مرتبہ پھر اپنے کالم میں دلی کے کریم ہوٹل کا ذکر چھیڑا ہے۔ اور پھر اس پر اپنی حیرت کا اظہار کیا ہے کہ اس ہوٹل کے کھانوں میں ایسی کونسی بات ہے کہ پاکستان سے ادھر جانے والے اس ہوٹل کی طرف لپکتے ہیں۔ وہاں سے ہونٹ چاٹتے ہوئے نکلتے ہیں۔ وہ ہمیں بھی ساتھ میں کانٹوں میں گھسیٹتے ہیں کہ یہ شخص بھی وہاں ہمارا ہم نوالہ تھا۔ اور اس حوالے پر ہم شرمندگی سے سر جھکا لیتے ہیں۔ شاید وہ عزیز ہمیں شرمندہ کرنے ہی کے لیے ذکر چھیڑتا ہے۔

خیر اب ہم نے دلی کے کھانوں ہی کے حوالے سے کشور ناہید کا کالم بھی پڑھ لیا ہے۔ سو ہم نے سوچا کہ آخر ہم بھی منہ میں زبان رکھتے ہیں۔ گونگے کا گڑ کھا کر کب تک بیٹھے رہیں۔ کچھ ہمیں بھی بولنا چاہیے۔ اندیشہ ہمیں عطاء الحق قاسمی کی طرف سے نہیں، دلی والوں کی طرف سے ہے۔ کوئی بھی دلی والا ہمیں ٹوک سکتا ہے کہ تم دلی کے کھانوں پر سند کب سے بن گئے۔

تم نے جامع مسجد کی سیڑھیوں پر بیٹھ کر کتنے کھانے کھائے ہیں۔ بجا سوال کیا۔ اس پر ہم اتنا ہی کہہ سکتے ہیں کہ جامع مسجد کی سیڑھیوں پر یا دلی کے کسی بھی کوچے میں قورمے کی دیگ کھلتی تھی اور بریانی کی دیگ سے ڈھکن اٹھایا جاتا تھا تو اس کی مہک میرٹھ اور ہاپوڑ تک پہنچتی تھی۔ سو ہم ان ذائقوں سے اتنے ناآشنا بھی نہیں ہیں۔

ان کھانوں کی کچھ مہک براہ راست ہمارے مشام تک پہنچی۔ اس سے بڑھ کر ان غذائوں کی مہک ہم تک منشی فیض الدین اور اشرف صبوحی کے مہکتے بیان کے ذریعہ پہنچی۔ مگر منشی فیض الدین نے جس دسترخوان کا تذکرہ لکھا ہے وہ تو جہان آباد کا دسترخوان تھا۔ سن اٹھارہ سو ستاون میں جب جہان آباد اجڑگیا تو سمجھ لو کہ وہ تہذیب بھی مع اپنے دسترخوان کے اجڑ گئی۔ پھر جب دلی پھر سے آباد ہوئی تو کتنے ماہر باورچی بھٹیارے مر کھپ چکے تھے۔

مگر مٹھو بھٹیارا، گھمی کبابی، اور گنجے نہاری والے ابھی زندہ تھے۔ انھوں نے جو پکایا اسے اشرف صبوحی نے چکھا۔ ان کے واسطے سے ہم نے چکھا۔ ان ذائقوں کو ہم کیسے بھول جائیں۔ مگر 1947ء میں دلی میں جو رستخیز بیجا برپا ہوئی اس میں یہ ہنر مند بھی تتر بتر ہو گئے۔ کوئی وہیں اسی قیامت میں ڈھیر ہو گیا کسی نے وہاں سے نکل کر لاہور کا رخ کیا کسی نے کراچی کا۔

لیجیے اس پر ہمیں اپنا مرحوم دوست مظفر علی سید یاد آگیا۔ اس یار عزیز نے جتنا دلی کی شعر و شاعری کو چھانا پھٹکا تھا اتنا ہی دلی کے دسترخوان پر حق تحقیق ادا کیا تھا۔ یہ 1948ء کے اوائل کا ذکر ہے جب اس نے ہمیں خبردار کیا کہ دلی کا نہاری والا لاہور آن پہنچا ہے۔ یہاں آ کر لوہاری دروازے کے ایک گوشے میں اس نے اپنا تندور گرم کیا ہے اور نہاری کا کاروبار شروع کر دیا ہے۔

مال ہے نایاب پر گاہک ہیں اکثر بے خبر۔ فلاں فلاں صبح منہ اندھیرے مرغ کی بانگ کے ساتھ ہم تم اس کوچے میں پہنچیں گے اور نہاری کھائیں گے۔ لاہور کی انھی اولین صبحوں میں وہ صبح ابھی تک ہمارے تصور میں زندہ ہے اور وہ ذائقہ ہمارے تالو اور زبان کے بیچ چٹخارہ پیدا کر رہا ہے۔

اگر عطاء الحق قاسمی تھوڑا پہلے پیدا ہوئے ہوتے اور ہمارے ساتھ مل کر وہ نہاری کھالیتے اور مظفر نے اس ذائقہ پر جو تحقیق کر رکھی تھی اسے سن اور سمجھ لیتے تو کریم ہوٹل کے قورمے کو اجڑی ہوئی پرانی دلی کے حساب میں ڈال کر اس نگر کے تہذیبی زوال پر تھوڑا ماتم کرتے اور پھر بھول جاتے۔

اب ہم سوچ رہے ہیں کہ جب آبادیاں ادھر سے ادھر اور ادھر سے ادھر منتقل ہو رہی تھیں تو دلی سے کتنی چیزیں کتنے ہنر پاکستان منتقل ہو گئے۔ کتنے تو غزل گو وہاں سے چل کر یہاں آن براجے۔ اسی ہلہ میں ایک نہاری والا بھی اپنی نہاری والی دیگ سر پر رکھ کر یہاں آن پہنچا۔

مگر عجب ہوا کہ دلی کے غزل گو یہاں نہیں چل پائے۔ بس دلی کی نہاری چل گئی۔ ہاں اب جو نہاری یہاں چل رہی ہے تو اگر یہ وہ نہاری نہیں ہے جو پاکستان کی ایک نئی صبح کے ہون میں ہم نے کھائی تھی تو اس میں اس نہاری کی کوئی خطا نہیں ہے۔ خطا ہے شہر میں فروغ پاتے کمرشیلائزیشن کی۔ شاید کریم ہوٹل کا قورمہ بھی اسی کمرشیلائزیشن کا حاصل ہے۔

اب جامع مسجد کی کسی سیڑھی پر مٹھو بھٹیارا یا گھمی کبابی یا گنجا نہاری والا نظر نہیں آئے گا۔ سیڑھیوں کے بالمقابل ایک مارکیٹ قائم ہو گیا ہے۔ وہاں جو کچھ ہوٹلوں میں تیار ہوتا ہے اس کے اپنے ذائقے ہیں۔ ہونٹ چاٹنے والوں کو یہ سمجھانا بہت مشکل ہے کہ یہ مال اور ہے۔ جن ذائقوں کی مہک کو زمانے کی ہوا اڑا کر لے گئی وہ ذائقے اور تھے۔

ہاں اگر دلی کے کسی مہذب گھر کے باورچی خانے تک آپ کی رسائی ہے تو ان بچے کھچے ذائقوں سے تعارف کا امکان ہے۔ آپ نے دیکھا نہیں کہ کشور ناہید نے شمیم حنفی کی بیگم کے بنائے ہوئے کھانوں کا کس چٹخارے کے ساتھ ذکر کیا ہے۔ ادھر ہم سوچ رہے ہیں کہ اگر اس دیار میں ہمارا جانا نکل آیا تو ہمارے پہنچتے پہنچتے تو بھادوں کی رُت بوندوں سے بھرا اپنا دامن جھاڑ کر گزر چکی ہو گی۔ ہم کس منہ سے اس بی بی سے دال کے پراٹھوں کی فرمائش کریں گے۔

لیجیے اس پر ہمیں یاد آیا کہ ایک تقریب سے جب ہم دلی میں تھے تو شمس الرحمن فاروقی بھی الٰہ آباد سے وہاں پہنچے ہوئے تھے اور اپنی صاحبزادی باراں کے یہاں ٹھہرے ہوئے تھے۔ انھوں نے ہمیں پیش کش کی کہ آپ ہمارے ساتھ آ کر کھانا کھائیے۔ ہماری بیٹی مزعفر سے آپ کی تواضع کرے گی۔ مزعفر۔ اچھا۔ مزعفر تو اب ہمارے دسترخوانوں سے کنارہ کر کے دلی لکھنؤ کے تذکروں میں جا چھپا ہے۔

ہم انھیں تذکروں میں اس کا احوال پڑھ کر اپنے تالو اور زبان کے بیچ اس ذائقہ کی تجدید کر لیتے ہیں۔ مگر باراں بی بی نے جو دسترخوان اس شام سجایا تھا وہاں اصلی اور سچے مزعفر کی رکابی ہمارے سامنے مہک رہی تھی۔ مطلب یہ ہے کہ جب کسی تہذیب کا بستر لپٹتا ہے تو اس کے رنگ، اس کی مہک، اس کے ذائقے اپنی ناقدری دیکھ کر جہاں تہاں مہذب گھروں میں جا چھپتے ہیں۔ انھیں بازاروں میں مت ڈھونڈو

کیوں شاہد گل باغ سے بازار میں آوے

چاہے وہ شاہجہانی مسجد کے سائے میں پروان چڑھنے والا کھانے پینے کا بازار ہی کیوں نہ ہو۔

اور پرانی دلی کی بدنصیبی یہ ہے کہ وہ نئی دلی تو بن نہیں سکی۔ اور اسے بننا بھی نہیں چاہیے تھا۔ اسے پرانی دلی ہی کے طور پر رہنا زیب دیتا تھا۔ مگر افسوس کہ اب وہ پرانی دلی بھی نہیں رہی جس کے کوچے بھلے دنوں میں اوراق مصور نظر آتے تھے۔

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • عالمی امن اسرائیلی خواہشات سے مشروط
  • کس کی نظر لگی آشیانے کومیرے
  • غریب اور عید
  • ہماری تہذیب اور مرحوم عامر
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
میں دل پہ جبر کروں گا تجھے بھلا دوں گا
پچھلی پوسٹ
داغؔ کے کلام میں حمد و نعت

متعلقہ پوسٹس

چنبیلی

دسمبر 23, 2021

بڑے میاں

جنوری 30, 2021

جب شیطان ناکام ہوتا ہے

نومبر 20, 2024

باسط

جنوری 21, 2020

یوم پاکستان ایک نئی قرارداد کا منتظر!

مارچ 19, 2022

اُلٹی دنیا

مئی 25, 2024

آرٹسٹ کی موت

دسمبر 8, 2023

محبت کی ریت میں

دسمبر 6, 2024

فائو جی کیمرا

مارچ 26, 2023

ماہِ رجب

دسمبر 26, 2025

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

    مئی 18, 2026
  • کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

    مئی 17, 2026
  • کیا ہم بے وقوف ہیں؟

    مئی 16, 2026
  • موبائل سے بڑھ کر کون

    مئی 16, 2026
  • پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

    مئی 15, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے
  • سردار حمادؔ منیر on یا رسولِ خدا اشرفِ انبیاء

اسلامی گوشہ

رب تعالیٰ پر بھروسہ

مئی 11, 2026

احتساب اور چھٹائی کا قدرتی عمل

مئی 3, 2026

چشمِ کرم سے مجھ کو بھی سرکارﷺ دیکھیے

مئی 1, 2026

اللہ کی محبت کے رنگ

اپریل 21, 2026

مرا سخن سخنِ شاہکار ہو جائے

اپریل 6, 2026

اردو شاعری

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی...

مئی 15, 2026

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

مئی 11, 2026

میں نے دیکھا جگ میں ایسا

مئی 11, 2026

ماں : رحمتوں کا سائباں

مئی 9, 2026

ہنسایا گر نہیں جاتا ، رلایا بھی نہیں...

مئی 8, 2026

اردو افسانے

کیوں کہ

مئی 3, 2026

عورت کی تعلیم کی اہمیت

اپریل 7, 2026

اب بس کرو ماں

اپریل 4, 2026

باغ علی باغی (قسط اول)

اپریل 3, 2026

سونے کی بالیاں

مارچ 29, 2026

اردو کالمز

انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

مئی 18, 2026

کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

مئی 17, 2026

کیا ہم بے وقوف ہیں؟

مئی 16, 2026

پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

مئی 15, 2026

پاکستان میں انگریزی کا تسلط کیوں برقرار ہے؟

مئی 14, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

    مئی 18, 2026
  • کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

    مئی 17, 2026
  • کیا ہم بے وقوف ہیں؟

    مئی 16, 2026
  • موبائل سے بڑھ کر کون

    مئی 16, 2026
  • پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

    مئی 15, 2026
  • بیگمات کی پراسرار علالتیں اور ریسٹورنٹ سینڈروم

    مئی 15, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

ذہنی سکون

جنوری 1, 2026

کچھ باتیں ضروی ہیں

ستمبر 22, 2025

طاقت کا توازن اور پائیدار امن!

اپریل 10, 2026
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں