خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ اردو تحاریرہم کس قدر ’’مہذب‘‘ ہیں
اردو تحاریراردو مزاحیہ تحاریرحافظ مظفر محسن

ہم کس قدر ’’مہذب‘‘ ہیں

حافظ مظفر محسن کی مزاحیہ تحریر

از سائیٹ ایڈمن جنوری 13, 2020
از سائیٹ ایڈمن جنوری 13, 2020 0 تبصرے 358 مناظر
359

ہم کس قدر ’’مہذب‘‘ ہیں

بچپن میں وقتاً فوقتاً گھر والے ہماری ’’ٹینڈ‘‘ کروا ڈالتے تھے۔ ہم اس پوزیشن میں نہ کبھی تھے نہ آج ہی ہیں کہ اس ’’جبر‘‘ پر احتجاج کر سکیں یا آگے سے ٹینڈ کرنے اور یہ جبر ہم پر مسلط کرنے والے کو آنکھیں ہی دکھا سکیں۔

آپ نے اکثر دیکھا ہو گا کہ جب کسی بچے (شیر خوار) کی ٹینڈ کا عمل شروع ہوتا ہے تو وہ پہلے تو اچھا اچھا محسوس کرتا ہے جیسے بڑے اہتمام سے کوئی ’’اچھا‘‘ کام ہونے والا ہو ۔۔۔ پھر جب کمال مہارت اور زبان سے خوش آمدی فقرے کہتا ہوا حجام اُسترا بچے کے سر پر پھیرتا ہے تو بچے کو اچھا لگتا ہو گا وہ سمجھا ہو گا کہ جس طرح ’’رسمِ ختنہ‘‘ انجام پائی تھی مٹھائی وغیرہ تقسیم کی گئی۔۔۔ یہ بھی ’’رسمِ ختنہ‘‘ کی طرح کوئی ’’اچھا عمل‘‘ ہی ہو گا اور جس طرح ’’رسمِ ختنہ‘‘ ایک فرض سمجھ کر ادا کی جاتی ہے ایسے ہی یہ رسم بھی نہایت اچھے ماحول میں ادا ہو رہی ہو گی ۔۔۔ ہم بڑے خوش آمدیوں کے چکر یا اُن کی چالبازیوں میں آ جاتے ہیں ۔۔۔ بچے تو پھر بچے ہیں ۔۔۔
ایک تازہ قطعہ لکھا خود پسندی کے انداز میں اور فیس بک پر چڑھا دیا۔ جب تین چار لڑکیوں اوہ، سوری ۔۔۔ عورتوں یا یوں کہہ لیں کہ تین چار شاعرات نے جب اُس قطعہ پر تعریفی جملے اچھالے ۔۔۔ تو مجھے اچھا لگا ۔۔۔ لیکن جب منگلا سے راجہ صفدر صاحب نے بھی تعریف کی تو خوشی سے دل اُچھلا اور ما بدولت جھومنے لگے ۔۔۔ آپ بھی قطعہ ملاحظہ کریں ۔۔۔؂
نرم باتیں گداز قصے ہیں
اپنے سب دل نواز قصے ہیں
نہیں ہے باعث ندامت کچھ
میٹھے ہیں مدھر سا ز قصے ہیں
نرم باتیں گداز قصے ہیں
خوش آمد اب ایک زندگی کا ضروری حصہ ہے جس طرح ملکی حالات اور تین سال سے چلنے والے سیاسی ’’دنگل‘‘ دیکھ کر لگتا ہے ’’کرپشن‘‘ ہماری زندگیوں کا ایک حصہ ہے ۔۔۔
ٍ بات شروع ہوئی تھی ’’رسم ٹینڈ کرائی‘‘ سے اور ’’رسمِ ختنہ‘‘ سے ہوتی ہوئی ’’رسوماتِ کرپشن‘‘ تک پہنچ گئی ۔ ٹینڈ ایک ایسا عمل ہے جس پر ’’عام‘‘ فہم کی حجامت سے بھی کہیں کم پیسے یعنی مالی نقصان بہت کم ہوتا ہے۔ ویسے ’’حجامت ہونا‘‘ ٹینڈ ہو جانا، یہ ہمارے ہاں رائج محاورے بھی ہیں جو ادیب خواتین و حضرات اکثر ہمارے ہاں سیاسی تحریریں یا کالم لکھتے ہوئے اپنا غصہ نکالنے کے لیے اپنی تحریروں میں ڈال دیتے ہیں حالانکہ جس سیاسی سستی کو، چھیڑنے کے لیے یہ ’’بد ذائقہ‘‘ محاورے تحریر میں ڈالے جاتے ہیں اُس شخصیت پر اس کا ذرا برابر بھی اثر نہیں ہوتا یا یوں کہہ لیں کہ وہ ایسی ’’چھیڑ خانی‘‘ کو اپنی جوتی کی نوک پر بھی نہیں لکھتے ۔۔۔ (حالانکہ ہمیں ایسے محاوروں پر شرمندہ ہونا چاہیے کیونکہ پچھلی صدی میں ’’لوگ‘‘ ایسی باتیں یا محاورے جب اُن سے منسوب کیے جاتے تھے پڑھتے ہوئے شرمندہ ہوتے تھے کچھ کو تو پیشانی پر پسینہ بھی محسوس ہوتا تھا) ۔۔۔
بات ٹینڈ سے شروع ہوئی تھی اور جا پہنچی ’’احساس‘‘ تک شرمندگی تک ۔۔۔ افسوس کہ اب ’’احساس‘‘ نام کی چیز کا ہمارے ہاں فقدان ہے لفظ شرمندگی شاید اگلے چھپنے والے ایڈیشن میں ’’ڈکشنری‘‘ سے نکال ہی دیا جائے کیونکہ ’’گوگل‘‘ ہو تو ڈکشنری کہاں ۔۔۔؟!
بچے کو اس وقت پتہ چلتا ہے کہ کیا ظلم ڈھایا جا چکا ہے جب اُس کے سامنے والے سر کے حصے پر اُسترا اپنا کام دکھا چکا ہوتا ہے اور یہ جان لیں کہ کچھ لوگوں کو ٹینڈ اُن کے چہرے کے مطابق اچھی لگتی ہے، اُس کی شخصیت نکھر سی جاتی ہے لیکن یہ مت بھولےئے کہ ٹینڈ کے فوائد بھی شاید کتابوں میں لکھاریوں نے لکھے ہوں مگر ٹینڈ کروانے کے نقصان کہیں زیادہ ہیں ۔۔۔
مثلاً ۔۔۔ آپ ٹینڈ سمیت لڑکیوں کے کالج کے سامنے سے نہیں گزر سکتے؟ کیونکہ اکثر لڑکیوں کے پاس اب ’’ٹچ‘‘ والے فون بھی ہیں اور اب ایک سیکنڈ میں Clips تیار بھی ہو جاتے ہیں اور پھر فیس بک پر چل بھی جاتے ہیں اور سینکڑوں شریر بچے جو ہر آن کمپیوٹر سے چپکے بیٹھے ہوتے ہیں، دیکھتے ہی دیکھتے بال کی کھال اتارنے میں مصروف ہو جاتے ہیں۔ پتہ اُس وقت چلتا ہے جب کوئی دور پار کا رشتہ دار فون کر کے بتاتا ہے ۔۔۔
’’یار تمہاری تو فیس بک پر دوستوں نے خوب ٹینڈ کی ہے؟‘‘ ۔۔۔ وغیرہ وغیرہ ۔۔۔
مجھے یاد ہے جب بچپن میں ہماری ٹینڈ ہوئی تو ہم نے مہذب ہونے کے باوجود ۔۔۔ حجام کو خوب ’’پنجابی‘‘ میں گالیاں دے ڈالیں ۔۔۔ ایک تو حجام ناراض ہو گیا دوسرا سب کو پتہ چل گیا کہ ہم بھی کس قدر ’’مہذب‘‘ ہیں؟! ایک واحد بات جس پر میں اپنے بھائی سے ناراض ہوا یہ کہ اُس نے ٹینڈ ہوتے ہی ہماری ٹینڈ سمیت فوٹو اتار لی ۔۔۔ اور وہ فوٹو ایک عرصہ تک لوگوں کے لیے تفنن طبع کا باعث بنتی رہی ۔۔۔ ویسے ایک ٹینڈ عزت اور خوشی کا باعث بھی ہوتی ہے وہ جو عمرہ شریف کی ادائیگی پر ہوتی ہے ۔۔۔ دعا کریں اللہ پاک ہمیں اُس ٹینڈ کی جلد سعادت عطاء فرمائے ۔۔۔ آمین ۔۔۔
یہ میری پہلی تحریر ہیں جس پر میں نے اصل بات کرنے سے پہلے اتنی طویل تمہید باندھ ڈالی ۔۔۔
ویسے سچ بتائیے ۔۔۔ آپ کو آج بھولا و بسرا وقت یاد آ گیا ہے ناں؟ ! آپ اس وقت اپنے اپنے سر پر ہاتھ پھیر کر گزرا وقت یاد کر رہے ہوں گے؟! اور ٹینڈ کی لذت بھی محسوس کر رہے ہوں گے؟۔۔۔
ہوا یوں کہ میں نے منظور بھائی (ٹینڈ والے) کو عرصہ ایک سال سے ٹینڈ سمیت دیکھا ۔۔۔ میرا منظور سے چونکہ مذاق بند ہے لہٰذا میں نے چاہتے ہوئے بھی یہ موضوع نہ چھیڑا ۔۔۔ حالانکہ اکثر منظور بھائی کو دیکھ کر میرے دائیں ہاتھ میں کجھلی ہونے لگتی مگر میں کنٹرول کر جاتا اور ٹینڈ پر میری تحریر موخر ہوتی چلی گئی ۔۔۔ حالانکہ ’’نسوار‘‘ پر میرا مضمون چھپنے اور پسند کئے جانے کے بعد ’’ٹینڈ‘‘ ہی وہ موضوع تھا ۔۔۔ جو مجھے لکھنے پر اکسا رہا تھا ۔۔۔ بلکہ ایک دو بار تو میں نے حجام کی دوکان کے پاس سے گزرتے ہوئے سوچا بھی کہ خود ہی ٹینڈ کروا ڈالوں تا کہ پتہ چلے کہ آجکل ’’ٹینڈ‘‘ کروانے والے کو کن کن فقروں سے پالا پڑتا ہے۔ کیا کیا سننا پڑتا ہے دوست دشمن اس Event کو کیسے انجوائے کرتے ہیں ۔۔۔؟!
علی عظمت؟ اکثر کیوں ٹینڈ کروا رکھتا ہے شاید جوانی میں اُس کی محبوبہ نے کہا ہے ۔۔۔ ’’علی عظمت بڑے گلوکار جب ٹینڈ سمیت اسٹیج پر آتے ہیں تو پبلک خوش ہوتی ہے ۔۔۔ انجوائے کرتی ہے؟‘‘ اور علی عظمت نے عوام کی خاطر یہ ’’کشٹ‘‘ کاٹا ہو ۔۔۔؟!
پہلے زمانے میں ٹینڈ کو ’’کائیں کائیں‘‘ کی کوّے بھی سلامی دیا کرتے تھے اور دوست محبت سے ٹینڈ پر ’’ٹھونگے‘‘ بھی لگاتے تھے جس طرح ’’چوّل‘‘ کی تعریف آج تک کوئی بھی نہیں کر سکا ایسے ہی ’’ٹھونگے‘‘ کی Defination بھی نہیں بیان ہوئی بس آپ گزارہ کریں جیسے پاناما کا فیصلہ کوئی سمجھ پایا ۔۔۔ کسی کے سر پر سے گزر گیا ۔۔۔ نہ کوئی نواز شریف کو بتا سکا کہ وہ کیوں نا اہل ہوئے نہ ہی عوام کو کچھ سمجھ آئی ۔۔۔ خیر اب تو پانامہ ۔۔۔ ماضی کا قصہ بن گیا کیوں کہ اب تو خبروں کا HOT موضوع ’’ٹینڈ‘‘ ہے یا پھر ’’مردم شماری‘‘ ؟ ۔۔۔ حالانکہ دنیا میں HOT موضوعات بدلتے رہتے ہیں لیکن افسوس کہ ہم نے اپنی زندگی کے تین سال پانامہ کی نذر کر ڈالے اُن کا رزلٹ کیا نکلے گا؟ یہ میں آپ کو کان میں بتاؤں گا ۔۔۔؟ ورنہ چینلز میرے پیچھے پڑ جائیں گے جیسے بہت سال پہلے HOT موضوع تھے ہمارے پیارے آصف علی زرداری ۔۔۔ وہ لاہور سے گرفتار ہوئے دس سال جیل کاٹی پھر صدرِ پاکستان بنے اور ۔۔۔ اور کل وہ تمام معاملات سے بری ہو گئے ۔۔۔ ہے ناں مزے کی بات؟!!!۔۔۔

حافظ مظفر محسن

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • دنیا کے مہذب معاشرے اور انسانیت کی تذلیل !
  • آہ بیکس
  • ثقافتی میل جول: روایت اور جدت کا سنگم
  • بیرسے ذائقہ بھی فائدہ بھی
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
ابو کھا رہے تھے ۔ امی تل رہی تھی
پچھلی پوسٹ
ایک مہرے کا سفر

متعلقہ پوسٹس

فاختہ کی چونچ میں دانہ

جون 15, 2020

قہقہوں کے سائے میں

جنوری 14, 2025

کتے کی زبان

مئی 25, 2024

کوکھ جلی

مارچ 29, 2020

19جولائی: الحاق ِ پاکستان

جولائی 19, 2020

کشمیر – عہد بہ عہد!

مئی 5, 2023

موسموں کی بہار – انشا پردازی پر اثر

جنوری 16, 2026

پاکستان کیسے ترقی کر سکتا ہے

مارچ 25, 2022

یوم آزادی اور آزادی

اگست 22, 2022

عمران حکومت کی آختہ کاری مہم

دسمبر 3, 2020

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • سوچتے رہو، جیتے رہو

    مارچ 18, 2026
  • بات کرتے ہو کیا دسمبر کی

    مارچ 17, 2026
  • اُردو شعرا پر سوشل انزائٹی کے اثرات

    مارچ 17, 2026
  • ماورا ہے سوچوں سے

    مارچ 17, 2026
  • گریہ و نالہ کناں ہیں دل _ برباد اور میں

    مارچ 17, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے
  • سردار حمادؔ منیر on یا رسولِ خدا اشرفِ انبیاء

اسلامی گوشہ

استخارہ

مارچ 15, 2026

مختصر سیرتِ رسولﷺ

مارچ 10, 2026

لیلۃ القدر – ایک رات اور پوری زندگی

مارچ 9, 2026

صدقۂ فطر کی حکمت و اہمیت

مارچ 9, 2026

اعتکاف احکام اور آداب

مارچ 9, 2026

اردو شاعری

بات کرتے ہو کیا دسمبر کی

مارچ 17, 2026

ماورا ہے سوچوں سے

مارچ 17, 2026

گریہ و نالہ کناں ہیں دل _ برباد...

مارچ 17, 2026

نشے میں ہم ہیں مگر

مارچ 17, 2026

یہ مرے گھر کے تین چار درخت

مارچ 17, 2026

اردو افسانے

عید کا ادھورا وعدہ اور لفظوں کا مصور

مارچ 17, 2026

دہلیز کا آخری وعدہ

مارچ 9, 2026

آدھی عورت آدھا خواب

جنوری 14, 2026

طوائف کون؟

جنوری 14, 2026

لمس

جنوری 12, 2026

اردو کالمز

سوچتے رہو، جیتے رہو

مارچ 18, 2026

اُردو شعرا پر سوشل انزائٹی کے اثرات

مارچ 17, 2026

میڈیا کا اثر اور ہماری سوچ تحریر

مارچ 17, 2026

کردار، کردار نگاری اور تخلیقیت

مارچ 16, 2026

امن بورڈ یا امن سے اکتاہٹ؟

مارچ 16, 2026

باورچی خانہ

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

سادہ مٹن ہانڈی

جولائی 5, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • سوچتے رہو، جیتے رہو

    مارچ 18, 2026
  • بات کرتے ہو کیا دسمبر کی

    مارچ 17, 2026
  • اُردو شعرا پر سوشل انزائٹی کے اثرات

    مارچ 17, 2026
  • ماورا ہے سوچوں سے

    مارچ 17, 2026
  • گریہ و نالہ کناں ہیں دل _ برباد اور میں

    مارچ 17, 2026
  • نشے میں ہم ہیں مگر

    مارچ 17, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

غزل گائیکی کی 110 سال کی...

نومبر 6, 2017

مدیانور کا بڑا تیندوا

نومبر 23, 2019

ناقابلِ شکست بندھن

دسمبر 15, 2024
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں