خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ اردو تحاریرابو کھا رہے تھے ۔ امی تل رہی تھی
اردو تحاریراردو مزاحیہ تحاریرحافظ مظفر محسن

ابو کھا رہے تھے ۔ امی تل رہی تھی

حافظ مظفر محسن کی مزاحیہ تحریر

از سائیٹ ایڈمن جنوری 13, 2020
از سائیٹ ایڈمن جنوری 13, 2020 0 تبصرے 447 مناظر
448

ابو کھا رہے تھے۔۔۔ امی تل رہی تھی

’’امی تل رہی تھی، ابو کھا رہے تھے۔۔۔‘‘ میرے دوست نے آنسو بھری آنکھوں کے ساتھ جواب دیا۔۔۔ صبح سویرے خبر آئی کہ شیخ عطاء محمد صاحب قضائے الٰہی سے فوت ہو گئے ہیں۔ نمازِ جنازہ صبح چھ بج کے تیس منٹ پر ادا کی جائے گی۔۔۔ مجھے دلی صدمہ ہوا۔۔۔ میں نے استاد کمر کمانی کو فون کیا۔۔۔ ’’حضور میں آ رہا ہوں، تیار رہیں اپنے دوست شیخ رضا محمد کے والد شیخ عطاء محمد صبح فوت ہو گئے ہیں جنازے پر چلنا ہے۔۔۔؟یار پاگل ہو گئے ہو ابھی تو میں نے نماز کے بعد والی اپنی نیند پوری کرنی ہے اور اتنی صبح کون سا جنازہ ہوتا ہے، سردیاں ہیں ذرا دھوپ تو نکل آنے دو۔۔۔‘‘ خفا ہوتے ہوئے استاد کمر کمانی نے کہا۔۔۔ ’’ویسے بھی بکرا عید اتنی صبح سویرے پڑھی جاتی ہے۔۔۔ وجہ تم جانے ہو۔۔۔‘‘ استاد نے وضاحت کی۔
’’حضور میں کون سا منتظمین میں شامل ہوںیہ اعلان تو ان کے بیٹوں نے کیا ہے اور SMS بھی یہی چلا ہے۔۔۔پیکیج کرایا ہو گا تمہارے دوست نے 20 روپے ہزار SMS ۔۔۔؟‘‘ پھر سے وضاحت کی اور فون بند۔۔۔ حضور میں نے پیکیج نہیں کروا رکھا تیسری کال کر رہا ہوں، اب غصے میں بند نہ کرنا ۔۔۔ ورنہ ۔۔۔؟
اب کے میں نے فون بند کر دیا۔۔۔ فوراً کال آ گئی۔۔۔ میاں ۔۔۔ ’’ورنہ‘‘ سے تمہاری کیا مراد ہے۔۔۔ ’’ورنہ‘‘ کیا تم مجھے جنازے پر نہیں لے جاؤ گے۔۔۔ یہ شیخ برادری کی فوتیدگی ہے یہاں انہوں نے صبح چھ بجے نماز جنازہ کا وقت اسی لیے رکھا ہے کہ پونے سات تک جنازہ پڑھ کے فارغ ہوں اور اپنے اپنے گھر جا کر ناشتہ کریں تا کہ گھر والے بھی صبح صبح ابا جان کو دفن کر کے شاہ عالم مارکیٹ میں جا کر دکان کھولیں اور گاہکوں کو ڈیل کریں‘‘ میری ہنسی نکل گئی۔۔۔
استاد تو کتنی باریک باتیں کرتا ہے؟
’’تو اور کیا۔۔۔ میں جھوٹ بک رہا ہوں‘‘ استاد نے اکڑ کر جواب دیا۔
’’اور اگر وہ ظہر کے بعد جنازے کا وقت رکھتے تو۔۔۔‘‘ میں نے پوچھا۔
’’پھر مہمانوں کو جنازے کے بعد بریانی کھلانی پڑ جاتی۔۔۔‘‘ استاد نے نکتہ اٹھایا۔
جنازے کے بعد ہم لوگ افسردہ افسردہ گھر آئے تو گلی میں خاموشی تھی پتہ بھی نہیں چل رہا تھا کہ یہاں کوئی ’’تین کلو مچھلی کھا کر فوت ہوا ہے‘‘۔۔۔ استاد نے بات شروع کی۔۔۔ نہ کرسیاں نہ دریاں۔۔۔؟ روائتی معاملات نظر نہیں آ رہے تھے۔۔۔ جس طرح آج ساڑھے دس بجے اچانک پورے ملک میں یہ خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی کہ ’’پارٹیوں نے چپکے سے دھرنا ختم کر دیا ہے اور اپنے اپنے گھروں کو معاملات طے ہوتے ہی رخصت بھی ہو چکے ہیں‘‘ اور بچے جو سکولوں سے چھٹیوں کی غیر اعلانیہ خوشی انجوائے کر رہے تھے اُن کی خوشیاں دھرنا ختم ہونے سے ماند پڑھ گئیں ۔۔۔ یہ ہوتا ہے ’’سیاسی دھرنا‘‘ ۔۔۔ ؟؟!!
استاد یہ سب کیا ہے۔۔۔؟ جاہل بار بار سوال نہ اٹھایا کر میں پہلے وضاحت کر چکا ہوں کہ شیخ رضاء کا خیال تھا کہ صبح چھ بجے نمازِ جنازہ پڑھو اور اپنے اپنے گھر جا کر نمازِ جنازہ کے بعد اپنی مرضی کا ناشتہ کرو اور ۔۔۔ بس؟ نہ پبلک BUSY نہ ہم مصروف۔۔۔؟
میں گھبرا گیا۔۔۔ میں نے تو میاں محمود الرشید کو بھی بتا دیا تھا کہ اپنے شیخ عطاء محمد صاحب فوت ہو گئے ہیں۔۔۔ انہوں نے SMS کر دیا تھا کہ ساڑھے آٹھ بجے تین گاڑیوں پر آؤں گا۔۔۔ پی۔ ٹی۔ آئی کے کارکنوں سے بھری ہوں گی گاڑیاں۔۔۔ چلو 2018ء کے ’’پر امید اور پچھلے سے بہتر رزلٹ والے‘‘ الیکشن متوقع ہیں ذرا الیکشن مہم بھی اسی بہانے تیز ہو جائے گی۔ ناشتہ کا بندوبست کرنے کا بھی اُنہوں نے کہا تھا۔ جنازہ میں SMS کی وجہ سے کم لوگ شریک ہوئے کیونکہ صبح پانچ بجے کئی لوگوں نے SMS پڑھا ہی نہیں ہو گا کیونکہ آجکل شہر میں بڑے برائنڈ کی کمپنیاں بلیک فرائیڈے کے حوالے سے پچاس پچاس SMS بھیج رہی ہیں کہ ہر چیز پچاس فیصد رعائت پر حاصل کریں حالانکہ بنیادی طور پر ہمارے ملک کی سادہ خواتین کے ساتھ یہ بری کمپنیوں کی بڑی بے ایمانی ہے اور بیچاری خواتین اس لالچ میں مختلف شو روموں پر ہاتھا پائی اور کھینچا تانی کرتی دکھائی دیتی ہیں ۔۔۔ استاد نے خود سے ہی محمد حسین کو فون کر دیا۔۔۔ ’’میاں شیخ صاحب فوت ہو گئے ذرا تین چار نیلی لال دریاں جلد بھیج دو۔۔۔ ولیمے سے آئی دریاں نہ بھیج دینا، زردے کی خوشبو آتی ہے اور دل خراب ہونے لگتا ہے۔
استاد جی یہ دریاں کیوں منگوا رہے ہیں۔۔۔؟
’’میں نے مرنا ہے‘‘ استاد نے غصے سے گھورتے ہوئے رضاء کو جواب دیا۔۔۔ شیخ رضاء پھر بولا (آہستہ سے) اگر منگوانی ہے تو ایک منگوا لو۔۔۔ یہ کیٹرنگ والے بڑا کرایہ مانگتے ہیں۔۔۔ میں تو کہتا ہوں چندہ کر کے محلے والے دو تین دریاں اپنی ہی خرید لیں۔۔۔ ضرورت پڑتی رہتی ہے۔۔۔ پچیس اکتوبر کو میرے بیٹے کی ’’ختنے‘‘ بھی ہیں چلو وہاں بھی دریاں کام آ جائیں گی۔
میری ہنسی نکل گئی۔۔۔ اور شیخ رضاء دوسری طرف دیکھنے لگا۔
دریاں آ گئیں۔۔۔ ہم بیٹھ گئے۔۔۔ میں نے خود ہی شیخ رضاء کو بیٹھنے کی دعوت دی ۔
شیخ صاحب کیسے ہوئے ابا جی فوت۔۔۔ میں نے پوچھا تو سر پکڑ کر بولے ۔۔۔ ’’رات شہزاد چیمہ نے اپنے ’’فش فارم‘‘ کی صفائی کی تو بیس پچیس کلو مچھلی نکل آئی۔ انہوں نے پانچ کلو ہمیں بھی تحفت بھیج دی۔۔۔ ابا نے فرمائش کر دی۔۔۔ بھئی سردی کا سٹارٹ ہے اور مفت اتنی بڑی مقدار میں مچھلی آئی ہے ہمیں بھی کھلا دو‘‘۔۔۔ پچھلے سال مارچ میں کھائی تھی آخری بار۔۔۔
پھر کیا تھا۔۔۔ ’’امی جان مچھلی تل رہی تھیں اور ۔۔۔ ابا کھائے چلے جا رہے تھے‘‘ لگتا ہے ابا کلو۔۔۔ دو کلو کھا گئے۔۔۔؟ اور صبح نہیں اٹھے۔۔۔ پتہ نہیں رات کس پہر گزر گئے۔۔۔؟؟
’’میری ہنسی نکل گئی۔۔۔‘‘ رضاء کو شاید ابا کے فوت ہونے کا اتنا افسوس نہیں تھا جتنا دکھ اس بات کا تھا کہ ابا ۔۔۔ کلو ۔۔۔ دو کلو کھا گئے مچھلی۔۔۔ ایک ہی نشست میں۔۔۔ وہ بھی جاتے جاتے۔۔۔؟؟
اس سے پہلے میری ہنسی حیدر زیدی کے ابا جان کے جنازے پر ایسے ہی بے ساختہ نکلی تھی۔۔۔ جب ہم نے زیدی انکل کو قبر میں اتارا تو میں نے اک قبر میں بڑا سا سوراخ دیکھ کر پوچھا ۔۔۔ استاد یہ کیا ہے؟؟
ایسے بڑے سوراخوں میں عام طور پر بجّو رہتے ہیں۔۔۔ استاد نے بتایا۔
استاد بجّو کیسے ہوتے ہیں۔۔۔؟ میں نے پوچھا۔
’’ایسے۔۔۔‘‘ شیخ رضاء نے استاد کمر کمانی کی طرف اشارہ کر دیا۔
استاد غصے سے لال اور میری ہنسی نہ بند ہو۔۔۔ بعد میں شیخ بھی بے ساختہ ہنس پڑا۔۔۔ حیدر زیدی نے یہ منظر دیکھا تو تیز تیز قدم اٹھاتا ہمارے پاس آیا۔۔۔
’’بے غیرتو‘‘۔۔۔ میرے والد کو قبر میں اتارا جا رہا ہے اور تم ہنس رہے ہو۔
میں نے بجّو والی بات بتا دی۔۔۔ اب جو ہنسی کا فوارا حیدر علی زیدی کے منہ سے نکلا ہے۔۔۔ تو مت پوچھئے ہم کس قدر شرمندہ ہوئے۔۔۔ مگر ہنسی ہم میں سے کسی کی بھی بند نہیں ہو رہی تھی۔۔۔
ہم سنجیدگی طاری کریں لیکن ہم میں سے جس کی نظر استاد کمر کمانی پر پڑے۔۔۔ ہنسی چھوٹ جائے۔
مظفر یار رکشاء کروا اور استاد کمر کمانی۔۔۔ کو یہاں سے لے جا۔۔۔ بات جنگل کی آگ کی طرح قبرستان میں پھیل چکی ہے اور لوگ بجّو دیکھنے جوق در جوق آ رہے ہیں۔۔۔ اور جس کی نظر استاد پر پڑتی ہے اور جس نے بجّو نہیں بھی دیکھا وہ استاد کو دیکھ کر ہنسی نہیں روک پا رہا ’’عزت بچاؤ۔۔۔‘‘ استاد کو یہاں سے لے جاؤ۔۔۔
چونکہ میری گاڑی۔۔۔ جنازہ میں شریک لوگوں کی گاڑیوں میں پھنسی ہوتی تھی۔۔۔ اس لیے میں نے رکشہ کروایا اور استاد کو وہاں سے لے کر نکل پڑا۔۔۔
استاد نے اس افرا تفری میں قبرستان سے نکل جانے کی وجہ پوچھی۔۔۔ تو میں نے منہ پر انگلی رکھ کے چپ رہنے کو کہا۔۔۔ اور رکشے سے باہر دیکھنے لگا۔
کیونکہ ’’استاد کو دیکھنے کی سکت مجھ میں بھی نہ تھی‘‘۔
ویسے آپ نے قبرستانوں میں رہنے والی یہ مخلوق ’’بجّو‘‘ دیکھا ہے ۔۔۔ ’’نہیں‘‘ ۔۔۔ تو وقت لے کر مجھ سے مل لیں۔۔۔ میں آپ کی ملاقات استاد کمر کمانی سے کروادونگا۔۔۔‘‘؂
’’مزہ نہ آئے تو پیسے واپس‘‘

حافظ مظفر محسن

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • تنہا ہی چلنا ہے زندگی تجھے زندگی بھر
  • اقبال کی فکر اور غلطی ہائے مضامیں
  • خالد میاں
  • عِشق حقیقی
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
پہلے انڈا آیا ۔ یا مرغی
پچھلی پوسٹ
ہم کس قدر ’’مہذب‘‘ ہیں

متعلقہ پوسٹس

امکان

اپریل 5, 2020

اُلٹی دنیا

مئی 25, 2024

”جہیز“

اپریل 4, 2021

وحشی

اکتوبر 29, 2019

رضو باجی

فروری 5, 2022

ٹیکنالوجی کی ترقی

نومبر 8, 2025

خیالستان کی پری

اپریل 1, 2023

صاحبِ دل والوں کی دلی یا۔۔؟

مارچ 10, 2020

تلاش حق، ماں کی خدمت اور فرمان رسولﷺ

مئی 24, 2026

سچی حکایات

اگست 11, 2024

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • نہیں خزاں ہی نشان قاتل

    اگست 30, 2026
  • ہر گھڑی بس سوال کرتے ہیں

    اگست 30, 2026
  • عجب سے عجب تیرا اسلوب دنیا

    اگست 30, 2026
  • وہم ہے یا کہ گماں دیکھنا ہے

    اگست 30, 2026
  • ترش لہجے میں سخت بو لتا ہے

    اگست 30, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ایم اے دوشی on دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Meesam Ali Agha on دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ
  • مسعود فیروزی on شعر شور انگیز

اسلامی گوشہ

مدح خیر الوری کے پیار میں آجاتے ہیں

اگست 30, 2026

آزاد نعتیہ نظم – حل

اگست 28, 2026

12 ربیع الاول : آمدِ مصطفیٰ ﷺ

اگست 26, 2026

آقا کریم ﷺ کا احسان

اگست 23, 2026

لباس کی شرعی حیثیت

اگست 4, 2026

اردو شاعری

نہیں خزاں ہی نشان قاتل

اگست 30, 2026

ہر گھڑی بس سوال کرتے ہیں

اگست 30, 2026

عجب سے عجب تیرا اسلوب دنیا

اگست 30, 2026

وہم ہے یا کہ گماں دیکھنا ہے

اگست 30, 2026

ترش لہجے میں سخت بو لتا ہے

اگست 30, 2026

اردو افسانے

سرخ پینسلیں اور خستہ حال خیمہ

اگست 9, 2026

وہ درخت جو اپنے سائے سے رُوٹھ گیا

اگست 3, 2026

ماں کی خاموش دُعا

جولائی 24, 2026

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

واپسی

جون 2, 2026

اردو کالمز

ایک نئے استعمار کا خاموش سفر

اگست 28, 2026

12 ربیع الاول : آمدِ مصطفیٰ ﷺ

اگست 26, 2026

"شہر نامہ سوم” ایک عمدہ ادبی اور تاریخی...

اگست 26, 2026

تیسری ہندکو کانفرنس

اگست 24, 2026

آقا کریم ﷺ کا احسان

اگست 23, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • نہیں خزاں ہی نشان قاتل

    اگست 30, 2026
  • ہر گھڑی بس سوال کرتے ہیں

    اگست 30, 2026
  • عجب سے عجب تیرا اسلوب دنیا

    اگست 30, 2026
  • وہم ہے یا کہ گماں دیکھنا ہے

    اگست 30, 2026
  • ترش لہجے میں سخت بو لتا ہے

    اگست 30, 2026
  • نہ بھٹکے ہیں نہ راستہ ہوا غلط

    اگست 30, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

قرآن میں جنگ کے احکام

دسمبر 6, 2025

بچے

جنوری 25, 2020

خوابوں کی کشتی اور زندگی کا...

دسمبر 1, 2024
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں