خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ اردو تحاریرصاحبِ دل والوں کی دلی یا۔۔؟
اردو تحاریراردو کالمزروبینہ فیصل

صاحبِ دل والوں کی دلی یا۔۔؟

روبینہ فیصل کا ایک اردو کالم

از سائیٹ ایڈمن مارچ 10, 2020
از سائیٹ ایڈمن مارچ 10, 2020 0 تبصرے 464 مناظر
465

صاحبِ دل والوں کی دلی یا۔۔؟
“دلی کے مسلمان دلی میں ایسے پھنس گئے تھے جیسے چوہے دان میں چوہے۔نہ پائے رفتن نہ جائے ماندن۔”
مندرجہ بالا جملہ پڑھیں اور بوجھیں کہ یہ 1857کے غدر کا ہے یا 1947 کے تقسیم ِ ہندوستان کا اور یا فروری 2020کے ہنگاموں میں پھنسی(شہریت کا قانون منسوخ ہونے کے بعد) دلی کا ہے؟
مسلمانوں کی حالت زار پر یہ جملہ تو شاہد احمد دہلوی کی کتاب” دلی کی بپتا ” سے ہے جس میں وہ تقسیم کے وقت دلی کے خون آشام واقعات کو احاطہ تحریر میں لائے ہیں اور اس میں 18ستمبر 1947کو دلی سے روالپنڈی والی ٹرین، جو تین شب اور دو دنوں پر مشتمل ایک دل کو ہلا دینے والا سفر تھا,اس کی رپورتاژ ہے۔مگر آپ چاہیں تو اس جملے کو بغیر کسی جھجک کے1857 کے غدر میں رکھ دیں یا آج کے دہلی میں۔۔۔
بقول میر تقی میر کے:
دلی جو ایک شہر تھا عالم میں انتخاب
ہم رہنے والے ہیں اسی اجڑے دیار کے
اب تک دلی نہ جانے کتنی بار اجڑی ہے مگر شہردلی ایک ایسا فینکس ہے جو بارہا راکھ ہونے کے بعد بھی اسی راکھ سے ایک نئی سج دھج کے ساتھ اٹھ کھڑا ہوتا ہے۔ اسی کو انتظار حسین کچھ یوں لکھتے ہیں:
“دلی نے ہمیشہ ہی وقفے وقفے سے اپنے گود کے پالوں کو بہت رلایا ہے۔ وہ اس کی گود سے چھٹ کر در بدر رلتے پھرتے ہیں۔ ادھر یہ خاک و خون میں لوٹ کر پھر سے جی اٹھتی ہے۔ چولا بدل کر نئے نویلوں کی گود لے کر پھر خوش و خرم نظر آنے لگتی ہے۔ جب مولانا حالی دلی مرحوم کا فسانہ سنا رہے تھے عین اسی ہنگام،اس خاکستر سے ایک نئی دلی جی اٹھنے کے لئے کنمنا رہی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
2014میں مجھ ناچیز کو بھی جواہر لعل نہرو یو نیورسٹی کی انتظامیہ کی طرف سے ایک اردو کانفرس میں ایک مقرر کی حیثیت سے جانے کا موقع ملا۔ یہ میری خوش قسمتی تھی کہ میں نے ایسے تاریخی اور اسرار سے بھرے شہر میں اپنی زندگی کے تین دن گزارے۔اس پر کئی کالم پہلے بھی لکھ چکی ہوں، آج جو بات شدت سے یاد آرہی ہے وہ اس کانفرس کی مہمان خصوصی اس وقت کی کلچرل منسٹر اور” ساس بھی کبھی بہوتھی” کی مشہور اداکارہ سمتری ایرانی کا اردو کانفرس میں خالص ہندی میں تقریرفرمانا اوراس میں علامہ اقبال کی روح سے معذرت کئے بغیر ان کے شعر کی کمر کچھ یوں توڑنا کہ کسی طرح اردو زبان ہی کی کمر ٹوٹ جائے، فرماتی ہیں؛”ہندی ہے زبان ہماری اور ہندوستان ہے ہمارا۔۔”
میں، جو سنسکرت میں گندھی ہندی کو سمجھنے کی ناکام کوشش میں غرق تھی، یہ مڑا تڑا مصرعہ سن کر چونک اٹھی۔مگر یوں لگتا تھا میرے سوا کسی کو یہ بات چونکنے کے قابل نہیں لگی،یہ دیکھ کر میں بھی خاموش رہی بلکہ کوشش کر کے آنکھوں میں اتری حیرت کو بھی پی گئی کہ کہیں کسی نے اسے دیکھ لیا تو میری ایسی بے وقت کی حیرانگی پر حیران و پریشان نہ ہو جائے۔۔ مگر یہ ضرور پتہ لگ گیا کہ یہاں کے رہنے والے مسلمانوں (اردو کو بچانے کے لئے وہی کوشاں ہیں) کو اس رویے کی عادت ہے اور یہ شائد ان کی روزمرہ زندگی کا ایک عام سا حصہ ہے کہ انہوں نے دل دل میں یہ تسلیم کر رکھا ہے کہ وہ درجہ دوم کے شہری ہیں تب ہی تواردو کی بقا کے لئے منعقد کی گئی کانفرس میں ہی آکرسادہ سی ہندی (اردو سے ملتی جلتی) بولنے والی ایک ٹی وی اداکارہ جس کا ڈرامہ مشترکہ زبان کی وجہ سے ہی انڈیا پاکستان دونوں میں یکساں مقبول تھا، وہ وزیر بنی اپنے تئیں ثقیل ہندی کی تلوار سے ہی اردو کا گلہ کاٹ کر چلی گئی۔۔۔ میں نے بعد میں منتظمین سے پو چھا کہ ایسا کیوں ہوا؟ وہ خاموش رہے بلکہ مجھے ٹال کر کوئی اور بات شروع کر دی گئی اور مجال ہے کہ کسی نے اس خاتون وزیر کے اس متعصب رویے پر حیرت کا اظہار کرنے کی جرات بھی کی ہو۔۔ یہیں پر رکیں اور دیکھیں اسی موقع پر شاہد احمد دہلوی،تقسیم ِہندوستان کے وقت دلی کے مسلمانوں کے حالات کے بارے میں کیا لکھتے ہیں کہ جسے پڑھ کرہمیں اندازہ ہو جائے کہ غیرت ایک دن میں نہیں مرتی؛
“مسلمانوں کو منہ پر گالیاں دینا، مارنا، ذلیل کرنا، پاکستان نہ جانے کے طعنے دینا۔ ڈرانا، دھمکانا اور ستانا، شرناتھیوں کا شیوہ تھا۔ خود مسلمانوں کی حمیت مر چکی تھی۔ گائے اور کمیلا خود مسلمانوں نے بند کر دیا تھا۔ خوشامد اور چاپلوسی کی باتیں کرنے لگ گئے تھے۔ پاکستان اور جناح کو برا کہتے سنتے تو خود بھی برائی کرنے لگتے۔ پہلے میاں بغیر سوچے سمجھے مار بیٹھتا تھا اور اب پٹنے پر بھی اس کا ہاتھ نہ اٹھتا تھا۔ ذلت کی ٹھوکریں نہ کھاتا تو اور کرتا بھی کیا؟ اس کی فریاد بے کار بلکہ فریاد کرے تو گنہ گار،حمایت کی بجائے عداوت مسلمانوں کا دستور ہو گیا۔ بھائی بھائی کا گلہ کٹوانے لگا۔ ان حالات میں کیا جرات کسی میں باقی رہ سکتی ہے؟دلی کے مسلمان ہر حیثیت سے اپنی انتہائی پستی کو پہنچ چکے تھے اور اس پر بھی قانع ہو گئے تھے۔ کیونکہ پاکستان آنے کا ان میں بوتا ہی نہیں تھا مجبورا دلی ہی میں انہیں رہنا تھا۔ گاندھی جی کے مارے جانے سے حالات نسبتا کچھ بہتر ہو ئے، حکومت کی آنکھیں کھلیں کہ دشمن مسلمان نہیں بلکہ خود ان کے اندر، ان کے ہی ہم مذہب ہیں۔ سیوک سنگ کی وہ جماعت جسے انہوں نے خود ہی پروان چڑھایا تھا اب خود ان کے لئے ایک بڑا خطرہ بن گئی تھی۔ وہ تو کہئے کہ گاندھی جی جیسی شخصیت کے قتل سے مہا سبھا اور سنگ میں اندر خانے پھوٹ پڑ گئی ورنہ ہندوستان کی موجود حکومت کا تختہ الٹنے میں کیا کسر رہ گئی تھی؟ مسلمانوں سے بار بار مطالبہ کیا جاتا تھا کہ وہ اپنی وفاداری کا ثبوت دیں، ہندوستانی مسلمان کے لئے تو سوائے وفادار سرکار رہنے کے اور کوئی چارہ نہیں تھا لیکن پھر بھی ان سے عملی ثبوت مانگا جا تا تھا۔ گاندھی جی کے مارے جانے سے یہ ثبوت بھی مل گیا۔ ”
مذید ایک جگہ لکھتے ہیں:
“ہر طرف فساد برپا تھے، گلیاں لاشوں سے اٹی پڑی تھیں، کنویں مردہ جسموں سے بھرے جا چکے تھے اور اس وقت بھی حکومت کا نظریہ یہ تھا کہ سارے فساد کی جڑ مسلمان ہیں، ان سے ہتھیار لے لئے گئے تھے، سبزی کاٹنے والی چھری تک ان کے گھروں میں نہ چھوڑی گئی تھی۔ دلی کے اس وقت کے حاکم اعلی مسلمان تھے مگر انہیں بھی گھر میں نظر بند کر دیا گیا تھا۔ مسلمانوں کو چھرا گھونپنے کی واردتیں عام تھیں۔”
اورلکھتے ہیں کہ ” حکومت کی پالیسی یہ تھی مسلمانوں میں خوف و ہراس پھیلا دو تاکہ وہ ڈر کر پاکستان بھاگ جائیں اور جو بچ رہیں وہ کبھی سر نہ اٹھا سکیں،مسلمان اس لئے بھی گرفتار کر لئے جاتے کہ ان کی جیبوں سے دیا سلائی برآمد ہو جاتی۔لوگ پریشان ہو کر کانگریسی مسلمانوں کے پاس جاتے تو انہیں کہا جاتا کہ جناح کے پاس جاؤ۔۔ ”
“کرفیو کی پابندیاں صرف مسلمانوں کے لئے تھیں۔نہ داد نہ فریاد، مسجدیں ویران ہو گئیں، کانگریسی مولویوں نے چپ سادھ لی۔ ان کے پاس ایک ہی جواب تھا کہ یہ سب کیا دھرا جناح کا ہے۔گاندھی کی پراتھناروزانہ ریڈیو پر نشر کی جانے لگی کہ؛
” مسلمانوں کو چاہیئے کہ وہ اپنے ہتھیار مجھے دے جائیں۔”
اس کا آہنسا صرف مسلمانوں کے لئے تھا۔ شائد وہ دنیا کو یہ جتانا چاہتا تھا کہ سب فتنہ و فساد کی جڑ صرف مسلمان ہیں۔اگست ۷۴۹۱ کے آخر اور ستمبر کے شروع میں حریفوں کی سرگرمیاں بڑھ گئیں۔ انگریزوں کا دست ِ شفقت انہی کے سر پر تھا۔مسلمانوں کے لئے زمین تنگ اور آسمان دور تھا۔۔۔۔۔۔۔گھروں سے باہر نہ نکلتے تو جلا دئیے جاتے اور اگر باہر نکلتے تو تہ تیغ کر دئیے جاتے۔۔۔۔۔۔ ”
“جب تقریبا آدھا شہر مسلمانوں سے خالی ہو گیا تو پرانے قلعے میں کیمپ کھول دیا گیا تاکہ اجڑے ہو ئے مسلمان اس میں جا کر پناہ لے سکیں اور وہاں سے پاکستان جا سکیں۔۔ ”
آج جس جامع مسجد دہلی سے ایک دفعہ پھر مسلمانوں کی آہ و بکا کی آوازیں بلند ہو ئی ہیں، اسی جامع مسجد میں پاکستان بننے کے بعد کئی ہزار خانماں برباد پناہ کی خاطر اکھٹے ہو گئے تھے۔۔دہلوی صاحب وہاں گاندھی کی آمد کا حال لکھتے ہیں:
“مسلمان ان کے درشن کرنے اس قدر بے تاب ہو کر لپکے جیسے مہاتما نہیں آسمان سے پر ماتما اتر آیا ہو, مہاتما گاندھی زندہ باد کے نعروں سے مسجد گونج اٹھی۔اللہ اللہ کیا وقت تھا گاندھی جی کو دیکھ کر لوگ خانہ خدا میں خدا کو بھول گئے۔۔۔وہ خاموش آیا اور تسلی کا کوئی لفظ کہے بغیر خاموش چلا گیا اور اگلے دن مسجد خالی کرنے کا سرکاری حکم نامہ آگیا۔۔۔”
دلی کی بپتا۔۔اس بدقست شہر کی نہ تو ایک زمانے کی بپتا ہے اور نہ مسلمانوں کی صرف ایک ہی دفعہ لٹنے کی داستان ہے۔۔ اس بپتا کو ہم کسی بھی منظر نامے میں آگے پیچھے کر سکتے ہیں۔ چاہیں تو غدر والے دلی پر لے جائیں چاہیں تو آج کے دہلی میں۔
1857 میں دلی کی گلیاں انسانوں کی لاشوں سے اٹی پڑی تھیں۔ تب بھی آسمان نے ایسے ایسے رونگٹے کھڑے کردینے والے انسانی مظالم دیکھے کہ کلیجہ ہی پھٹ جائے۔ایک ہی خاندان کے کسی فرد کو سر ِ عام پھانسی دی جاتی تو باقی خاندان کے افراد قطار میں کھڑے ہو کر اپنی اپنی باری کا انتظار کر رہے ہو تے تھے۔ بوڑھے لوگوں کو بھی سینے میں گولیاں ماری جارہی تھیں۔تب بھی غالب نے کہا تھا؛” لال قلعہ،جامع مسجد کا رش، یمنا پر چہل قدمی اور پھولوں کا سالانہ میلہ دلی میں ان میں سے اب کچھ بھی نہیں بچا۔۔”
پھر دہلی کی بربادی کا ماتم کرتے کرتے غالب نے انگریزوں کی جیب میں دیا سلائی دیکھ کر ان کے علم وہنر کے گیت گانے شروع کر دئیے تھے۔ اور تب بھی موقع شناس مولوی مسجدوں میں بیٹھ کر مسلمانوں کو انگریز کی اطاعت کے فرمان جاری کر رہے تھے اور ساتھ میں انہیں انگریز کی شیطانی زبان اور تعلیمات سے بچنے کے احکامات بھی جاری کر رہے تھے، جس کا اثر آج تک ہے،کہ انڈیا کا مسلمان اسی کشمکش سے آج تک نکلا نہیں۔ تب بھی ہر دوسرے پر جاسوس ہونے کا شک ہو تا تھا۔ باہمی اعتبار کی فضا ختم ہو چکی تھی، بالکل 1947کی طرح بالکل 2020کی طرح۔۔
مسلمان اپنی وفاداریاں آج کے دن تک ثابت کرنے پر لگے ہوئے ہیں۔ اسبابِ بغاوت ہند یعنی کہ وضاحتوں کی کہانیاں، ایک دوسرے پر الزام اور ایک دوسرے کی مخبریاں، آج بھی بالکل کل کی طرح ہے۔ یہاں کچھ نہیں بدلا۔۔ صرف جلد کا رنگ بدلا ہے۔۔ گوری چمڑی سے
براؤن چمڑی تک کا سفر ہے۔۔باقی دلی کے اجڑنے کی کہانی وہی ہے۔ دلی کے لوگوں کا نصیب بھی وہی ہے۔۔ دلی کی انتظامیہ کا رویہ آج بھی وہی ہے جو کل تھا جو پرسوں تھا یعنی دہشت گردوں کی سرپرستی اور مظلوموں کو دہشت گرد قرار دینے والا۔ایسے میں اپنے نصیب کو رونے کی بجائے نصیب کو بدلنے کی طاقت ہونی چاہیئے۔ مگر یہ بھی سچ ہے کہ محمد علی جناح جیسے باہمت اور خودار لیڈر روز روز نہیں پیدا ہو تے۔ مسلم وہنداتحاد کے سب سے بڑے حامی کا ہندوؤں کی احساس ِ برتری کو پہچان کرکہ وہ مسلمانوں کو برابری کا حق دینے کی بجائے اپنے زیر ِ دست رکھنے کے جنون میں مبتلا ہیں۔ اپنی بااصول سیاست کا سب سے بڑا یو ٹرن لینا اور پاکستان کا بن جانا اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ اور آج کے ہندوستان کے حالات میں یہ گواہی کچھ زیادہ ہی معتبر ہو گئی ہے کہ سر اٹھا کر جینے کی خواہش رکھنا ہی اصل میں جینا ہے۔ ورنہ آپ کو لوگ ٹھوکروں پر رکھیں گے، زندہ دفن کریں گے، سر عام ڈنڈوں یا گولیوں سے ماریں گے اورآپ کی آہ و بکا بھی بے اثر رہ جائے گی۔
اپنی حالت کو بدلنے کا خیال دل میں خود سے نہ اٹھے اور اس کے لئے جناح کی طرح باہمتی سے ڈٹے نہ رہیں تو دنیا کو کیا پڑی ہے کہ آ پ کی حالت کو سدھاریں۔۔ رحم کی بھیک مانگنے کی بجائے اپنے حق کی خاطر دشمنوں کے لئے اتنے بے رحم اور اٹل ہو جائیں کہ آپ کے وجود کو تسلیم کرنے کے سوا ان کے پاس کوئی چارہ نہ رہ جائے۔ دلی، جے این یو سے اٹھنے والی مساوی حقوق کی تحریک اس بات کی ایک جھلک ہے۔۔خدا کرے دلی کے مسلمان اپنے حق کی خاطر اور ظلم کے خلاف یو نہی ڈٹے رہیں مگر یہ خوف کل بھی مسلط تھا، آج بھی ہے کہ انگریز اور ہندو دونوں کو اس بات پر کامل یقین ہے کہ غدار اس قوم میں سب قوموں سے زیادہ سہولت سے مل جاتے ہیں۔۔
قوموں کے اتحاد کو کمزور کرنے والے یہ غدار ہی قوموں کو جھکانے کا باعث بنتے ہیں۔۔ ماشاللہ ہماری قوم ایسے غداروں کی دولت سے مالا مال ہے۔بکنا ان کا محبوب مشغلہ ہے۔ دوسرے بھائی کی جڑ کاٹنا ان کی بہترین تفریح ہے۔مگر پھر بھی امید ہے کہ ناانصافی اور سچ کے خلاف اٹھ کھڑے ہو نے اور ڈٹے رہنے والے لوگ اپنی تقدیر بدل لیں گے۔انڈیا جیسے سیکولر اور جمہوری ملک میں اگر آج بھی کچھ نہ بدلا تو کل بھی آنے والی نسلیں اسی تعصب کا شکار ہو کر ذلیل و خوار ہو تی رہیں گی۔

روبینہ فیصل

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • پاکستان ؛عالمی تعلقات میں کامیابی کی راہیں
  • ایسی پستی ایسی بلندی کا تنقیدی جائزہ
  • نازو
  • آئیے ذرا خود کو بھی ٹٹولیئے
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
کوئی بھی اپنوں جیسی بات اب کرتا نہیں ہے
پچھلی پوسٹ
میرا جسم میری مرضی

متعلقہ پوسٹس

شراب

جنوری 5, 2018

مشین گردی

نومبر 28, 2020

اقبال یا انشا، غلط نسبت

دسمبر 20, 2022

مریم مختیار

نومبر 25, 2025

غیر متوقع آفت یا سیاسی انتقام؟

ستمبر 6, 2020

05 فروری:یوم ِیکجہتی کشمیر!

فروری 5, 2021

جشن آزادی کی شرعی حیثیت

اگست 13, 2026

انجام بخیر

نومبر 14, 2019

تاریخ کے وارث – آخری قسط

جنوری 17, 2025

موتری

جنوری 16, 2019

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • نہیں خزاں ہی نشان قاتل

    اگست 30, 2026
  • ہر گھڑی بس سوال کرتے ہیں

    اگست 30, 2026
  • عجب سے عجب تیرا اسلوب دنیا

    اگست 30, 2026
  • وہم ہے یا کہ گماں دیکھنا ہے

    اگست 30, 2026
  • ترش لہجے میں سخت بو لتا ہے

    اگست 30, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ایم اے دوشی on دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Meesam Ali Agha on دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ
  • مسعود فیروزی on شعر شور انگیز

اسلامی گوشہ

مدح خیر الوری کے پیار میں آجاتے ہیں

اگست 30, 2026

آزاد نعتیہ نظم – حل

اگست 28, 2026

12 ربیع الاول : آمدِ مصطفیٰ ﷺ

اگست 26, 2026

آقا کریم ﷺ کا احسان

اگست 23, 2026

لباس کی شرعی حیثیت

اگست 4, 2026

اردو شاعری

نہیں خزاں ہی نشان قاتل

اگست 30, 2026

ہر گھڑی بس سوال کرتے ہیں

اگست 30, 2026

عجب سے عجب تیرا اسلوب دنیا

اگست 30, 2026

وہم ہے یا کہ گماں دیکھنا ہے

اگست 30, 2026

ترش لہجے میں سخت بو لتا ہے

اگست 30, 2026

اردو افسانے

سرخ پینسلیں اور خستہ حال خیمہ

اگست 9, 2026

وہ درخت جو اپنے سائے سے رُوٹھ گیا

اگست 3, 2026

ماں کی خاموش دُعا

جولائی 24, 2026

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

واپسی

جون 2, 2026

اردو کالمز

ایک نئے استعمار کا خاموش سفر

اگست 28, 2026

12 ربیع الاول : آمدِ مصطفیٰ ﷺ

اگست 26, 2026

"شہر نامہ سوم” ایک عمدہ ادبی اور تاریخی...

اگست 26, 2026

تیسری ہندکو کانفرنس

اگست 24, 2026

آقا کریم ﷺ کا احسان

اگست 23, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • نہیں خزاں ہی نشان قاتل

    اگست 30, 2026
  • ہر گھڑی بس سوال کرتے ہیں

    اگست 30, 2026
  • عجب سے عجب تیرا اسلوب دنیا

    اگست 30, 2026
  • وہم ہے یا کہ گماں دیکھنا ہے

    اگست 30, 2026
  • ترش لہجے میں سخت بو لتا ہے

    اگست 30, 2026
  • نہ بھٹکے ہیں نہ راستہ ہوا غلط

    اگست 30, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

بھگت سنگھ کون ہے؟

اکتوبر 27, 2020

پاکستان–سعودی عرب دفاعی معاہدہ

ستمبر 18, 2025

انسانیت کا جنازہ ذرا دھوم سے...

اگست 25, 2025
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں