خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو بابانازو
آپکا اردو بابااردو افسانےاردو تحاریرقاضی عبد الستار

نازو

از سائیٹ ایڈمن فروری 13, 2022
از سائیٹ ایڈمن فروری 13, 2022 0 تبصرے 95 مناظر
96

’’چھن چھن۔‘‘

آواز نے کانوں کو چور چور کردیا جیسے اس کے سامنے اس کی نازو نے سرخ چوڑیوں سے بھرے ہوئے دونوں ہاتھ دہلیز پر پٹخ دیے ہوں۔ دونوں سفید تندرست کلائیاں خون کی چھوٹی چھوٹی مہین لکیروں سے لالوں لال ہوگئیں۔ کتنی شدت سے جی چاہا تھا کہ اس جیتے جاگتے خون پر اپنے ہونٹ رکھ دوں۔ آج پھر اس کی زبان نمکین ہوگئی۔ آنکھیں چیخ پڑیں۔ دونوں زخمی کلائیاں دو بچوں کی لاشوں کی طرح اس کے پہلو میں جھول رہی تھیں۔ آنکھوں سے آنسو ابل رہے تھے۔ دھاروں دھار ہونٹ کانپ رہے تھے۔ عذابوں کی بددعائیں دے رہے تھے۔ اسےیقین نہ آرہا تھا کہ یہ وہی عورت ہے، اس کی وہی بیوی ہے جس کی بے مزہ قربت کی چکی میں سیکڑوں راتیں پس کرنابود ہوگئیں۔ طلاق کی چلمن کے پیچھے سے وہ کتنی پراسرار اور زرنگار لگ رہی تھی۔

ٹریکٹر پھر چلنےلگا۔ تھوڑا سا کھیت باقی رہ گیا تھا۔ گیہوں کی پوری فصل کٹی پڑی تھی۔ کہیں کہیں بڑےانبار لگے تھے۔ کہیں چھوٹے چھوٹے ڈھیر۔ جیسے بیتے ہوئے سال اور مہینے۔ انہوں نے ایک چھوٹے سے ڈھیر کو اپنی چھڑی سے الٹ دیا، سنہرے تنکوں اور ڈنٹھلوں کے ہجوم سے کچھ دانے نکل آئے،زندہ چمک دار جیسے گزرے دنوں کے ان گنت لمحوں کے بھوسے میں کچھ یادیں چمک رہی ہوں۔۔۔ یادیں ہماری بوئی ہوئی فصلوں کے دانے۔ ابھی نہ دھوپ تیز ہوئی تھی اور نہ ہوا گرم۔ لیکن وہ اپنے ادھیڑ جسم کے ساتھ ٹیوب ویل کے پانی سےلبریز پختہ نالی کے کنارے کنارے چلتا ہوا ڈامر کی سڑک پر آگیا۔

اب انجمنوں کی آوازیں دور اور دلکش ہونےلگی تھیں۔ سڑک کے دونوں طرف اسکولوں کی زرد عمارتوں میں امتحانوں کے پڑاؤ پڑے تھے اور شرارتوں کی ٹولیاں نہ جانے کہاں کھوگئی تھیں۔ بلاک کے دفتر پر بھیڑ لگی تھی۔ تقاوی اور بیسارے کے کاغذات بن رہے تھے۔ اب وہ بھیڑ سے ڈرنے لگا تھا۔ ان کی بے ادب نظروں سے کچلے جانے کے خوف نےاسے ایک گلی میں موڑدیا، جو کھری اور شاداب آوازوں سے چھلک رہی تھی۔ شور مچاتے زیوروں اور بھڑکدار کپڑوں سے چمک رہی تھی اور ان سب میں شرابور ہوتا اپنےمکان تک گیا جو اس کے آبائی مکان کا حصہ تھا۔ دوسرے حصوں میں ہسپتال، ڈاک خانہ اور گورنمنٹ اسٹور تھا۔ اس نے دروازے پر ہلکی سی تھپکی دی کہ ہسپتال میں انتظار کرتے مریضوں میں سےکوئی جان پہچان والا وقت گزارنے اس کے پاس نہ آجائے۔

پورا گھر جیسے بھونسلے رنگ میں رنگا ہوا تھا۔ اس نے لانبے پتلے کمرے میں داخل ہوکر پنکھے کا سوئچ آن کیا جو وہاں اجنبی لگ رہا تھا۔ دروازے پر کسی نے آواز دی،’’مہردین۔‘‘

اور جب نازو طلاق کے کفن میں لپٹی ہوئی زخمی کلائیوں سمیت ہمیشہ ہمیشہ کے واسطے رخصت ہونےکے ادھے میں سوار ہوئی تو وہ لڑکھڑاتے ہوئے اس کے قریب گیا،’’میں تمہارا تمہارے بھائی کو ادا کردوں گا۔‘‘ جواب ملا،’’وہ اپنی ہونے والی کو میری طرف سے منہ دکھائی میں دیدیجیے گا۔‘‘ ایک سناٹا سا چھا گیا۔ وجود کے اندر سے باہر تک سب کچھ سنسان ہوگیا۔ نئی دلہن کے خواب میں بال تو اسی وقت پڑ گیا تھا جب اس نے نازو کو آنسوؤں میں نہاتے ہوئے دیکھاتھا، اس جملے سے چٹخ گیا تھا اور جب اس کی اچانک موت کی اطلاع آئی تو ٹکڑے ٹکڑے ہوگیا۔

آج پھر دونوں ہاتھوں میں منہ چھپالیا۔ نازو کے جہیز کی اونچی مسہری کے تکیے کا سہارا لے کر بیٹھ گیا کہ کہیں گر نہ پڑوں اور جب ہاتھ ہٹایا تو بائیں کان کا در دامن میں پڑا تھا۔ سونے کے در میں بیضاوی موتی دمک رہاتھا۔ وہ اسےدیکھتارہااور داہنا ہاتھ ہمیشہ کی طرح داہنے کان پر لرزتا رہا۔ اس لو میں بھی سوراخ تھااور اس میں بھی بائیں کان کی طرح در چمکا کرتاتھا۔ جس رات وہ کھوگیا تھا۔ کان کی لو کا سوراخ دل میں منتقل ہوگیا۔ ماں نے منت کے ذر اس لیے پہنائے تھے کہ بیٹے نہ جیتے تھے۔ بچپن لڑکیوں کی طرح برتا گیا۔ دوپٹےاوڑھائےگیے۔ گھروندے بنائے گیے۔ ہنڈ کلیاں بنائی گئیں۔ گڑیوں کی شادی رچائی گئیں۔ اور سب کچھ تو بھول گیا، چھوٹ گیا، لیکن کانوں کے در شحصیت کا حصہ بن گئے۔ خدوخال کی طرح وجود میں شامل ہوگیے۔ وہ نوجوانی میں بھی شوق سے پہنتا رہا۔ پھر دروازے پر شور سا مچ گیا۔ باورچی خانےسے بوڑھی عورت نے کوے کی طرح کون کون کی رٹ لگادی۔۔۔ وہ اطمینان سے سوچنےکے لیے خود باہر نکلا۔ دروازے پر مندر کھڑی تھی۔ ادھیڑ عمر کی گوری چٹی مندر! جس کی جوان رانوں میں انہوں نے اپنے بوسوں کے چراغ جلائے تھے۔

’’کیا ہے؟‘‘

’’میاں! آج برات آئے رہی ہے آپ کی بیٹوا کی۔‘‘

’’ہاں ہاں پھر۔‘‘

’’سب انتجام آپ کے ری دعا سے پکا ہے۔۔۔ مل مسند نائن مل رہی ہے۔‘‘

’’مسند ہے تو۔۔۔ لیکن معلوم نہیں کہاں ہے۔ جب وہ گئیں نہ ضرورت پڑی نہ تلاش کی گئی۔ تم باہر سے کسی کو بھیجو میں ڈھونڈوادوں۔‘‘ مندر کےجانےکے بعد اس کے تصور نے فراغت کا سانس لیا۔

برناپور کی شادی تھی اور اس کی نوجوانی۔ باپ کی موت کے بعد پہلی بار کسی تقریب میں شرکت کو نکلا تھا۔ آدھی رات کو کھانا ہوا۔ اور پچھیارے سے دولہا اندر آیا۔ تلچوری چلی اور ہنگامہ ہوا۔بوڑھی بوڑھی کٹکھنی عورتیں جو بولتے جلووں پر بھی کاڑھے بیٹھی تھیں ایک ہی ریلے میں بہہ گئیں۔روشنیاں جو دن رہے سے جل رہی تھیں اب سونے لگی تھیں۔ یہاں سے وہاں تک پھیلی ہوئی عمارت کے کئی حصے تاریک ہوچکے تھے۔ وہ کوئی چیز لینے اپنے کمرے میں آیا جو اندرونی اور بیرونی عمارتوں کے درمیان دوہرے دالانوں میں چھپا کھڑاتھا۔ وہ دیاسلائی کی روشنی میں لیمپ ڈھونڈ رہاتھا کہ اندرونی عمارت کی صحنچی میں ایک چہرہ چمک اٹھا اور اس طرح کہ دیا سلائی نے اسے جلادیا۔ وہ اتنا روشن تھا کہ اگر تھوڑا سا اور قریب آجاتا تو اس کے اپنے کمرے میں روشنی کی ضرورت نہ رہتی۔ وہ اسی طرف دیکھ رہی تھی۔ وہ جیسے جادو کےزور سے کھنچا ہوا چلا گیا۔ گھاس کے تختوں پر ڈھیر سامان سے بچتا ہوا صحنچی کے سامنے دالان کی سیڑھیوں پر پہنچ گیا۔

’’میاں سامنے والی کوٹھری میں تو مسند ہے نہیں۔ کاجی جی صاحب کابڑا بکس کھولیں؟‘‘

’’ہاں‘‘

صحنچی اس کے نور سے سنگ مرمر کی بن گئی تھی۔۔۔ سانس پھولنے لگاتھا۔ پہلوؤں میں درد کے نشتر اتر گیے۔ اریبی پائجامے کی چوڑیاں پسینے سے بھرگئیں کہ ایک آواز طلوع ہوئی۔

’’آپ؟‘‘

اور جیسے ہی وہ آگے بڑھا۔ روشنی،نور اور رنگ کاایک پیکر، ایک ہیولی اس سے ٹکرا گیا، اس پر بکھر گیا۔ داہنے کان پر کنول کا تازہ پھول لرز گیا اور اس کا کان اس کے سینے کی طرح خالی ہوگیا اور وہ ایک چھلاوے کی طرح اس کی بانہوں سےنکل گئی اور جب وہ جاگتی آنکھوں کے خواب سے بیدار ہوا تو کمرے میں سپاہی لیمپ جلا رہاتھا۔

’’میاں آپ کے داہنے کان کا در۔‘‘

پھر بہت سی روشنیاں صحنچی دالان اور صحن میں در ڈھونڈتی پھریں اور بہت دنوں بعد کسی بنت عم نے اس کے حال پر ترس کھاکر بتلادیا کہ دیبی پور کی بٹیا نازو سے بیاہ کرلیا۔ لیکن دیبی پور کی بٹیا نازو نے دلہن بن کر ساری ساری تفتیش کے جواب میں صرف اتنا کہا کہ میں نے تو وہ صحنچی دیکھی بھی نہیں اور اسی گھڑی نازو اس کی نگاہ سے گر گئی۔ خواب جتنا سنگین ہوتا گیا، زندہ موجود اور معصوم نازو کی حقیقت اتنی ہی پگھلتی چلی گئی۔ یہاں تک کہ آسودگی اور فراغت سے خواب دیکھنے کی آرزو اور تعبیر کو دوبارہ پالینے کی جستجو میں نازو کو طلاق دے دی گئی۔

’’میاں! بکس کھل گیا۔‘‘ میاں چونک کر اٹھے اور خواب میں چلنے لگے۔ لکڑی کا بڑا سا مٹیالا بکس کھلا پڑا تھا،’’اسے کیوں کھول دیا کمبختوں؟‘‘

’’جی؟‘‘

’’اب کھول ڈالا ہے تو ڈھونڈو۔‘‘

جازم، پردے، توشک، لحاف،رضائیاں اور دوشالے نکل نکل کر پھیل گیے، مگر مسند نہ ملی۔ پھر ایک چھوٹا سا صندوقچہ نکلا جس میں بڑا سا تالا پڑا تھا۔ سامان رکھواکر وہ اپنے کمرے میں آگیے۔ صندوقچہ کھولا تو چاندی کے چھوٹے چھوٹے زیور کنمناکر جاگ اٹھے۔ گڑیوں کے ننھے منے کپڑے جگر جگر کرنے لگے۔ سونے کی ٹوٹی ہوئی بالیاں ملیں، جن میں ایک سیس پھول پھنسا ہوا تھا۔ معلوم نہیں کتنے دنوں بعد وہ پہلی بار تنہائی میں مسکرایا۔ نازو اور حسین اور قاتل ہوگئی۔ پھر چور خانے سے سونے کا ایک در برآمد ہوا۔ جس میں بیضوی موتی پڑا تھا۔ ہاتھ کانپنے لگے۔ آنکھوں کے نیچے اندھیرا چھا گیا۔ وہ اگر کھڑے ہوتے تو گرپڑتے۔ سنبھل کر بیٹھے تو ہاتھ نےکان سے در کھینچ لیا اور اس طرح کہ سارے میں ننھے ننھے خون کے نگینے جڑ گیے۔ وہ دونوں کو ایک ہتھیلی پر رکھے دیکھتے رہے، دیکھتے رہے۔ یہاں تک کہ سن ہوگیے۔

قاضی عبد الستار

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • خونی لہریں،محبت اور طالبان
  • اپنے اشعار کا عنوان کروں گامیں یار
  • جدید ٹیکنالوجی
  • ابھی پات جھڑنے کی رت
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
ماڈل ٹاؤن
پچھلی پوسٹ
آنکھیں

متعلقہ پوسٹس

تم کو اس کا شعور تھا ہی نہیں

ستمبر 27, 2025

اُسے بھی ایسے ہی دل سے نکال پھینکا ہے

جنوری 29, 2020

میرا نام رادھا ہے

جنوری 15, 2020

خدا کو اک طرف

دسمبر 26, 2024

وارسا کی شرارتی دیویاں – پہلی قسط

جنوری 20, 2025

عیادت کرنامنع ہے

دسمبر 16, 2019

ایک زاہدہ، ایک فاحشہ

جنوری 24, 2020

سخاوت

دسمبر 10, 2025

مرثیے اور قصیدے کی مشترک جہتوں کا جائزہ

جنوری 1, 2023

 لالہ جی​

دسمبر 12, 2019

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • وصل کا شوق نچائے تو خوشی ہوتی ہے

    ستمبر 4, 2026
  • آمد

    ستمبر 4, 2026
  • چلو چلیں

    ستمبر 2, 2026
  • سر اتاروں گا ترا، بیج بھی بویا میں تھا

    ستمبر 2, 2026
  • نماز حضور ﷺ کے آنکھوں کی ٹھنڈک

    اگست 31, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • Visal abbasi on نہ بھٹکے ہیں نہ راستہ ہوا غلط
  • ایم اے دوشی on دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Meesam Ali Agha on دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ

اسلامی گوشہ

آمد

ستمبر 4, 2026

چلو چلیں

ستمبر 2, 2026

مدح خیر الوری کے پیار میں آجاتے ہیں

اگست 30, 2026

آزاد نعتیہ نظم – حل

اگست 28, 2026

12 ربیع الاول : آمدِ مصطفیٰ ﷺ

اگست 26, 2026

اردو شاعری

وصل کا شوق نچائے تو خوشی ہوتی ہے

ستمبر 4, 2026

سر اتاروں گا ترا، بیج بھی بویا میں...

ستمبر 2, 2026

نہیں خزاں ہی نشان قاتل

اگست 30, 2026

ہر گھڑی بس سوال کرتے ہیں

اگست 30, 2026

عجب سے عجب تیرا اسلوب دنیا

اگست 30, 2026

اردو افسانے

سرخ پینسلیں اور خستہ حال خیمہ

اگست 9, 2026

وہ درخت جو اپنے سائے سے رُوٹھ گیا

اگست 3, 2026

ماں کی خاموش دُعا

جولائی 24, 2026

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

واپسی

جون 2, 2026

اردو کالمز

نماز حضور ﷺ کے آنکھوں کی ٹھنڈک

اگست 31, 2026

سچ سامنے آنے لگا ہے

اگست 31, 2026

ایک نئے استعمار کا خاموش سفر

اگست 28, 2026

12 ربیع الاول : آمدِ مصطفیٰ ﷺ

اگست 26, 2026

"شہر نامہ سوم” ایک عمدہ ادبی اور تاریخی...

اگست 26, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • وصل کا شوق نچائے تو خوشی ہوتی ہے

    ستمبر 4, 2026
  • آمد

    ستمبر 4, 2026
  • چلو چلیں

    ستمبر 2, 2026
  • سر اتاروں گا ترا، بیج بھی بویا میں تھا

    ستمبر 2, 2026
  • نماز حضور ﷺ کے آنکھوں کی ٹھنڈک

    اگست 31, 2026
  • سچ سامنے آنے لگا ہے

    اگست 31, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

ہم دونوں کب اپنے تھے

نومبر 6, 2020

آج جن جھیلوں کا بس کاغذ...

جنوری 8, 2022

تختِ دل اس نے چنا پھر

نومبر 16, 2025
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں