خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو بابانازو
آپکا اردو بابااردو افسانےاردو تحاریرقاضی عبد الستار

نازو

از سائیٹ ایڈمن فروری 13, 2022
از سائیٹ ایڈمن فروری 13, 2022 0 تبصرے 35 مناظر
36

’’چھن چھن۔‘‘

آواز نے کانوں کو چور چور کردیا جیسے اس کے سامنے اس کی نازو نے سرخ چوڑیوں سے بھرے ہوئے دونوں ہاتھ دہلیز پر پٹخ دیے ہوں۔ دونوں سفید تندرست کلائیاں خون کی چھوٹی چھوٹی مہین لکیروں سے لالوں لال ہوگئیں۔ کتنی شدت سے جی چاہا تھا کہ اس جیتے جاگتے خون پر اپنے ہونٹ رکھ دوں۔ آج پھر اس کی زبان نمکین ہوگئی۔ آنکھیں چیخ پڑیں۔ دونوں زخمی کلائیاں دو بچوں کی لاشوں کی طرح اس کے پہلو میں جھول رہی تھیں۔ آنکھوں سے آنسو ابل رہے تھے۔ دھاروں دھار ہونٹ کانپ رہے تھے۔ عذابوں کی بددعائیں دے رہے تھے۔ اسےیقین نہ آرہا تھا کہ یہ وہی عورت ہے، اس کی وہی بیوی ہے جس کی بے مزہ قربت کی چکی میں سیکڑوں راتیں پس کرنابود ہوگئیں۔ طلاق کی چلمن کے پیچھے سے وہ کتنی پراسرار اور زرنگار لگ رہی تھی۔

ٹریکٹر پھر چلنےلگا۔ تھوڑا سا کھیت باقی رہ گیا تھا۔ گیہوں کی پوری فصل کٹی پڑی تھی۔ کہیں کہیں بڑےانبار لگے تھے۔ کہیں چھوٹے چھوٹے ڈھیر۔ جیسے بیتے ہوئے سال اور مہینے۔ انہوں نے ایک چھوٹے سے ڈھیر کو اپنی چھڑی سے الٹ دیا، سنہرے تنکوں اور ڈنٹھلوں کے ہجوم سے کچھ دانے نکل آئے،زندہ چمک دار جیسے گزرے دنوں کے ان گنت لمحوں کے بھوسے میں کچھ یادیں چمک رہی ہوں۔۔۔ یادیں ہماری بوئی ہوئی فصلوں کے دانے۔ ابھی نہ دھوپ تیز ہوئی تھی اور نہ ہوا گرم۔ لیکن وہ اپنے ادھیڑ جسم کے ساتھ ٹیوب ویل کے پانی سےلبریز پختہ نالی کے کنارے کنارے چلتا ہوا ڈامر کی سڑک پر آگیا۔

اب انجمنوں کی آوازیں دور اور دلکش ہونےلگی تھیں۔ سڑک کے دونوں طرف اسکولوں کی زرد عمارتوں میں امتحانوں کے پڑاؤ پڑے تھے اور شرارتوں کی ٹولیاں نہ جانے کہاں کھوگئی تھیں۔ بلاک کے دفتر پر بھیڑ لگی تھی۔ تقاوی اور بیسارے کے کاغذات بن رہے تھے۔ اب وہ بھیڑ سے ڈرنے لگا تھا۔ ان کی بے ادب نظروں سے کچلے جانے کے خوف نےاسے ایک گلی میں موڑدیا، جو کھری اور شاداب آوازوں سے چھلک رہی تھی۔ شور مچاتے زیوروں اور بھڑکدار کپڑوں سے چمک رہی تھی اور ان سب میں شرابور ہوتا اپنےمکان تک گیا جو اس کے آبائی مکان کا حصہ تھا۔ دوسرے حصوں میں ہسپتال، ڈاک خانہ اور گورنمنٹ اسٹور تھا۔ اس نے دروازے پر ہلکی سی تھپکی دی کہ ہسپتال میں انتظار کرتے مریضوں میں سےکوئی جان پہچان والا وقت گزارنے اس کے پاس نہ آجائے۔

پورا گھر جیسے بھونسلے رنگ میں رنگا ہوا تھا۔ اس نے لانبے پتلے کمرے میں داخل ہوکر پنکھے کا سوئچ آن کیا جو وہاں اجنبی لگ رہا تھا۔ دروازے پر کسی نے آواز دی،’’مہردین۔‘‘

اور جب نازو طلاق کے کفن میں لپٹی ہوئی زخمی کلائیوں سمیت ہمیشہ ہمیشہ کے واسطے رخصت ہونےکے ادھے میں سوار ہوئی تو وہ لڑکھڑاتے ہوئے اس کے قریب گیا،’’میں تمہارا تمہارے بھائی کو ادا کردوں گا۔‘‘ جواب ملا،’’وہ اپنی ہونے والی کو میری طرف سے منہ دکھائی میں دیدیجیے گا۔‘‘ ایک سناٹا سا چھا گیا۔ وجود کے اندر سے باہر تک سب کچھ سنسان ہوگیا۔ نئی دلہن کے خواب میں بال تو اسی وقت پڑ گیا تھا جب اس نے نازو کو آنسوؤں میں نہاتے ہوئے دیکھاتھا، اس جملے سے چٹخ گیا تھا اور جب اس کی اچانک موت کی اطلاع آئی تو ٹکڑے ٹکڑے ہوگیا۔

آج پھر دونوں ہاتھوں میں منہ چھپالیا۔ نازو کے جہیز کی اونچی مسہری کے تکیے کا سہارا لے کر بیٹھ گیا کہ کہیں گر نہ پڑوں اور جب ہاتھ ہٹایا تو بائیں کان کا در دامن میں پڑا تھا۔ سونے کے در میں بیضاوی موتی دمک رہاتھا۔ وہ اسےدیکھتارہااور داہنا ہاتھ ہمیشہ کی طرح داہنے کان پر لرزتا رہا۔ اس لو میں بھی سوراخ تھااور اس میں بھی بائیں کان کی طرح در چمکا کرتاتھا۔ جس رات وہ کھوگیا تھا۔ کان کی لو کا سوراخ دل میں منتقل ہوگیا۔ ماں نے منت کے ذر اس لیے پہنائے تھے کہ بیٹے نہ جیتے تھے۔ بچپن لڑکیوں کی طرح برتا گیا۔ دوپٹےاوڑھائےگیے۔ گھروندے بنائے گیے۔ ہنڈ کلیاں بنائی گئیں۔ گڑیوں کی شادی رچائی گئیں۔ اور سب کچھ تو بھول گیا، چھوٹ گیا، لیکن کانوں کے در شحصیت کا حصہ بن گئے۔ خدوخال کی طرح وجود میں شامل ہوگیے۔ وہ نوجوانی میں بھی شوق سے پہنتا رہا۔ پھر دروازے پر شور سا مچ گیا۔ باورچی خانےسے بوڑھی عورت نے کوے کی طرح کون کون کی رٹ لگادی۔۔۔ وہ اطمینان سے سوچنےکے لیے خود باہر نکلا۔ دروازے پر مندر کھڑی تھی۔ ادھیڑ عمر کی گوری چٹی مندر! جس کی جوان رانوں میں انہوں نے اپنے بوسوں کے چراغ جلائے تھے۔

’’کیا ہے؟‘‘

’’میاں! آج برات آئے رہی ہے آپ کی بیٹوا کی۔‘‘

’’ہاں ہاں پھر۔‘‘

’’سب انتجام آپ کے ری دعا سے پکا ہے۔۔۔ مل مسند نائن مل رہی ہے۔‘‘

’’مسند ہے تو۔۔۔ لیکن معلوم نہیں کہاں ہے۔ جب وہ گئیں نہ ضرورت پڑی نہ تلاش کی گئی۔ تم باہر سے کسی کو بھیجو میں ڈھونڈوادوں۔‘‘ مندر کےجانےکے بعد اس کے تصور نے فراغت کا سانس لیا۔

برناپور کی شادی تھی اور اس کی نوجوانی۔ باپ کی موت کے بعد پہلی بار کسی تقریب میں شرکت کو نکلا تھا۔ آدھی رات کو کھانا ہوا۔ اور پچھیارے سے دولہا اندر آیا۔ تلچوری چلی اور ہنگامہ ہوا۔بوڑھی بوڑھی کٹکھنی عورتیں جو بولتے جلووں پر بھی کاڑھے بیٹھی تھیں ایک ہی ریلے میں بہہ گئیں۔روشنیاں جو دن رہے سے جل رہی تھیں اب سونے لگی تھیں۔ یہاں سے وہاں تک پھیلی ہوئی عمارت کے کئی حصے تاریک ہوچکے تھے۔ وہ کوئی چیز لینے اپنے کمرے میں آیا جو اندرونی اور بیرونی عمارتوں کے درمیان دوہرے دالانوں میں چھپا کھڑاتھا۔ وہ دیاسلائی کی روشنی میں لیمپ ڈھونڈ رہاتھا کہ اندرونی عمارت کی صحنچی میں ایک چہرہ چمک اٹھا اور اس طرح کہ دیا سلائی نے اسے جلادیا۔ وہ اتنا روشن تھا کہ اگر تھوڑا سا اور قریب آجاتا تو اس کے اپنے کمرے میں روشنی کی ضرورت نہ رہتی۔ وہ اسی طرف دیکھ رہی تھی۔ وہ جیسے جادو کےزور سے کھنچا ہوا چلا گیا۔ گھاس کے تختوں پر ڈھیر سامان سے بچتا ہوا صحنچی کے سامنے دالان کی سیڑھیوں پر پہنچ گیا۔

’’میاں سامنے والی کوٹھری میں تو مسند ہے نہیں۔ کاجی جی صاحب کابڑا بکس کھولیں؟‘‘

’’ہاں‘‘

صحنچی اس کے نور سے سنگ مرمر کی بن گئی تھی۔۔۔ سانس پھولنے لگاتھا۔ پہلوؤں میں درد کے نشتر اتر گیے۔ اریبی پائجامے کی چوڑیاں پسینے سے بھرگئیں کہ ایک آواز طلوع ہوئی۔

’’آپ؟‘‘

اور جیسے ہی وہ آگے بڑھا۔ روشنی،نور اور رنگ کاایک پیکر، ایک ہیولی اس سے ٹکرا گیا، اس پر بکھر گیا۔ داہنے کان پر کنول کا تازہ پھول لرز گیا اور اس کا کان اس کے سینے کی طرح خالی ہوگیا اور وہ ایک چھلاوے کی طرح اس کی بانہوں سےنکل گئی اور جب وہ جاگتی آنکھوں کے خواب سے بیدار ہوا تو کمرے میں سپاہی لیمپ جلا رہاتھا۔

’’میاں آپ کے داہنے کان کا در۔‘‘

پھر بہت سی روشنیاں صحنچی دالان اور صحن میں در ڈھونڈتی پھریں اور بہت دنوں بعد کسی بنت عم نے اس کے حال پر ترس کھاکر بتلادیا کہ دیبی پور کی بٹیا نازو سے بیاہ کرلیا۔ لیکن دیبی پور کی بٹیا نازو نے دلہن بن کر ساری ساری تفتیش کے جواب میں صرف اتنا کہا کہ میں نے تو وہ صحنچی دیکھی بھی نہیں اور اسی گھڑی نازو اس کی نگاہ سے گر گئی۔ خواب جتنا سنگین ہوتا گیا، زندہ موجود اور معصوم نازو کی حقیقت اتنی ہی پگھلتی چلی گئی۔ یہاں تک کہ آسودگی اور فراغت سے خواب دیکھنے کی آرزو اور تعبیر کو دوبارہ پالینے کی جستجو میں نازو کو طلاق دے دی گئی۔

’’میاں! بکس کھل گیا۔‘‘ میاں چونک کر اٹھے اور خواب میں چلنے لگے۔ لکڑی کا بڑا سا مٹیالا بکس کھلا پڑا تھا،’’اسے کیوں کھول دیا کمبختوں؟‘‘

’’جی؟‘‘

’’اب کھول ڈالا ہے تو ڈھونڈو۔‘‘

جازم، پردے، توشک، لحاف،رضائیاں اور دوشالے نکل نکل کر پھیل گیے، مگر مسند نہ ملی۔ پھر ایک چھوٹا سا صندوقچہ نکلا جس میں بڑا سا تالا پڑا تھا۔ سامان رکھواکر وہ اپنے کمرے میں آگیے۔ صندوقچہ کھولا تو چاندی کے چھوٹے چھوٹے زیور کنمناکر جاگ اٹھے۔ گڑیوں کے ننھے منے کپڑے جگر جگر کرنے لگے۔ سونے کی ٹوٹی ہوئی بالیاں ملیں، جن میں ایک سیس پھول پھنسا ہوا تھا۔ معلوم نہیں کتنے دنوں بعد وہ پہلی بار تنہائی میں مسکرایا۔ نازو اور حسین اور قاتل ہوگئی۔ پھر چور خانے سے سونے کا ایک در برآمد ہوا۔ جس میں بیضوی موتی پڑا تھا۔ ہاتھ کانپنے لگے۔ آنکھوں کے نیچے اندھیرا چھا گیا۔ وہ اگر کھڑے ہوتے تو گرپڑتے۔ سنبھل کر بیٹھے تو ہاتھ نےکان سے در کھینچ لیا اور اس طرح کہ سارے میں ننھے ننھے خون کے نگینے جڑ گیے۔ وہ دونوں کو ایک ہتھیلی پر رکھے دیکھتے رہے، دیکھتے رہے۔ یہاں تک کہ سن ہوگیے۔

قاضی عبد الستار

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • پریشانیاں اور آزمائش اور اس میں اللہ کی حکمت
  • رفتار
  • تجھ کو لگتا ہے عارضی دکھ ہے
  • سعادت حسن منٹو
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
ماڈل ٹاؤن
پچھلی پوسٹ
آنکھیں

متعلقہ پوسٹس

محبت زندہ رہتی ہے

نومبر 7, 2020

جوتےکی نوک پر

جنوری 21, 2020

سورہ اخلاص(منظوم ترجمہ)

جنوری 18, 2025

کثیف روحیں

جنوری 30, 2021

سر سید احمد خان کی خدمات

ستمبر 3, 2025

تمہارے ہوتے ہوئے جاں مری کو آیا دکھ

نومبر 30, 2021

کشمیر

جون 21, 2020

جس سمے تیرا اثر تھا مجھ میں

مئی 23, 2020

ہم اہلِِ مہر و محبت طلب، رسد کے نہیں

اکتوبر 16, 2025

ایک تیری دید کی میں پھر پیاسی رہ گئی

نومبر 17, 2020

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

    اپریل 15, 2026
  • لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

    اپریل 14, 2026
  • کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی

    اپریل 14, 2026
  • خیبر پختو نخواہ کا افسانہ

    اپریل 12, 2026
  • انجمن پنجاب

    اپریل 11, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے
  • سردار حمادؔ منیر on یا رسولِ خدا اشرفِ انبیاء

اسلامی گوشہ

مرا سخن سخنِ شاہکار ہو جائے

اپریل 6, 2026

سرکارؐ رازِ حق سے مجھے آشنا کریں

اپریل 6, 2026

قرآنِ کریم میں تدبر کیسے کریں؟

اپریل 4, 2026

ایک تھپڑ اور کئی سوال

مارچ 26, 2026

کلام نبویؐ کی کرنیں

مارچ 23, 2026

اردو شاعری

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

اپریل 15, 2026

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

اپریل 14, 2026

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی

اپریل 14, 2026

دکھی ہے دل مرا لیکن غموں سے

اپریل 7, 2026

تمہیں میری محبت کا جو اندازہ نہیں ہوتا

اپریل 6, 2026

اردو افسانے

عورت کی تعلیم کی اہمیت

اپریل 7, 2026

اب بس کرو ماں

اپریل 4, 2026

باغ علی باغی (قسط اول)

اپریل 3, 2026

سونے کی بالیاں

مارچ 29, 2026

گل مصلوب

مارچ 25, 2026

اردو کالمز

مودی کا ہندو خطرے میں ہے

اپریل 11, 2026

طاقت کا توازن اور پائیدار امن!

اپریل 10, 2026

ماں بننے کا سفر اور جوائنٹ فیملی کا...

اپریل 8, 2026

سوچ کا انقلاب

اپریل 7, 2026

جنگ کے شعلے اور سسکتی انسانیت

اپریل 5, 2026

باورچی خانہ

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

سادہ مٹن ہانڈی

جولائی 5, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

    اپریل 15, 2026
  • لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

    اپریل 14, 2026
  • کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی

    اپریل 14, 2026
  • خیبر پختو نخواہ کا افسانہ

    اپریل 12, 2026
  • انجمن پنجاب

    اپریل 11, 2026
  • تنقید کیا ہے

    اپریل 11, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

ایک تیری دید کی میں پھر...

مارچ 7, 2020

یوں بھـــی اپنا دل بہـــــــــــلاتا رہتا...

مئی 14, 2020

احساس محبت

نومبر 11, 2025
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں