کیا کر رہی ھو؟
کچھ نہیں۔بس ویسے ہی سوچ رہی تھی۔
کیا؟
یہی کہ اگر اماں ابا۔مان جاۓ تو کتنا مزہ آۓ گا۔
ہاں یہ تو ھے۔پر اماں ابا کو اب کون مناۓ۔
بس یہی فکر ھے۔منائیں تو کیسے؟
اک کام کریں۔کیا؟
کیوں نہ اچھا سا کھانا ساتھ میٹھا بنا کر اماں ابا کی دعوت کریں۔کیا پتہ وہ مان جائیں۔
آئیڈیا برا تو نہی ھے۔پر میڈم ۔اماں کا کیا کرنا۔جو گھر پر ہیں۔اس کی فکر مت کرو وہ بھی بندوبست ھو جاۓ گا۔
کیسے؟ ایسے۔
فون پکڑاؤ ۔ہممم ۔کس کو کر رہی ھو؟
صبر کرو۔السلام علیکم آپی ۔کیسی ھیں آپ؟
وعلیکم السلام۔میں ٹھیک ۔تم سب کیسے ھو؟
ھم بھی ٹھیک۔۔اچھا آپی آپ سے اک کام ھے
کام۔بولوں۔آپی کالج کی ٹرپ جا رھی ھے ناران۔ کاغان تو ہم ابا کو منانے کی کوشش کر رھے ہیں۔اور أپ کو پتہ ابا کا۔تو ہم نے اک پلان۔سوچا۔ہممم
اس میں نادیہ بھی شامل ھے۔جی آپی ۔
فاریہ جو بھی کرنا کوسوچ کر کرنا ابا کے اصول آج تک کسی کے لیے نہی بدلے۔
آپی سن تو لیں۔اچھا بابا بولو۔
أپ کل امی کو اپنی طرف شام تک بلا سکتی ہیں۔
وہ کیوں؟کیونکہ ہم نے پیچھے سے اماں ابا کو کھانا بنا کر سرپرایز دینا شاید ابا مان۔جائیں۔
تو کھانے کا لالچ وہ بھی ابا کو ۔اور اماں کے کچن کی تباہی۔بہن مجھے اس سے دور ہی رکھو۔آپی پلیز ناں۔آپ کو اماں کچھ نہی کہتی۔
اچھا ۔ٹھیک ھے میں اماں کو کل اپنی طرف بلوالوں گی۔اور پھر تم
لوگ بنا لینا کھانا۔پر ٹھیک بنانا۔یہ نہ ھوں لینے کے دینے پر جائیں۔
فکر مت کریں۔نادیہ اور فاریہ شیف کل اپنے ہاتھوں سے ایسا کھانا بنائیں گی کہ سب انگلیاں چاٹتے رہ جائیں گے۔
اللہ خیر کریں۔میرے معصوم اماں ابا بھائ کی
اب ایسی بھی بات نھی۔اچھا بابا پھر رات کو میری دعوت بھی آپ کی طرف ھو گی۔
ضرور ضرور جی آیاں نوں۔
اک زور دار قہقہ دونوں طرف لگتا ھے۔چلوں اب فون رکھو اور بھی بہت کام ہیں مجھے۔اوکے جی شکریہ تعاون کے لیے ۔خدا حافظ۔
یہ تو ھو گیا۔ھممم۔دیکھ رھی ھوں۔
مگر یہ جو کھانا بنانا ھے وہ ہم نے بنانا۔نہی ساتھ والوں نے۔
ظاہر سی بات ھے ہم نے بنانا۔
پر بناۓ گے کیا؟
سالن۔پلاؤ۔چٹنی۔سلاد کھیر۔
اتنا کچھ بن جاۓ گا۔کیا ؟
بن جاۓ گا أخر یوٹیوب ھے ناں
ہاں وہ بھی ہے۔چل بہن کچھ پانے کے لیے کچھ کھونا پڑتا۔
نادیہ۔ایسا کریں گے جو جو ساماں آنے والا۔وہ کل کالج سے واپسی پر لے لیں گے۔ہاں ایسا ہی کریں گے۔پر پیسے کہاں سے اسکی فکر مت کرو۔پھوپھو جو دے کر گئ تھی تمہیں مجھے ان سے سب آجاۓ گا۔
ٹھیک ھے اگر پھر بھی اجازت نہ ملی تو
شکل اچھی نہ ھو تو بات اچھی کر لیتے ہیں۔
پھر ساری رات اس خواب میں گزر جاتی ھے ابا مان جاۓ گے۔
صبح صبح جلدی جلدی اٹھ کر وہ دونوں بہنیں فل تیاری سے کالج جاتی ہیں جیسے کوئ محاذ ھو۔
اماں انکو بتا دیتی ہیں ۔میں تمہاری آپی کی طرف جا رہی ھوں اس نے بازار جانا کوئی کام۔ھے اسے واپسی پر وہ ہماری طرف آۓ گی اور کھانے کی فکر مت کرنا وہ تمہاری آپی کہہ رہی تھی آکر بنا دے گی میرے ساتھ۔تم بس آرام سے دوپہر کا کھانا کھا کر پڑھائ کرنا۔
ٹھیک ھے جی اماں جیسے آپ کا حکم۔
چلوں اب جاؤ ۔دیر ھو رھی ھے۔
نادیہ کچن میں دیکھ رہی ھوتی ھے وہاں کیا کیا پڑا اور کیا کیا لانا
تم کچن میں کیا رہی ھو۔کچھ نہی اماں وہ بس اییوی۔ٹھیک۔
اللہ کی آمان میں۔خدا حافظ۔
خدا حافظ اماں۔
دیکھ لیا تھا کیا کیا پڑا ھے کیا کیا لانا
ہاں ۔کالج جا کر لسٹ بناتے ہیں۔
یہ ٹھیک ھے۔
کالج جاتے ہی سب دوست اک ہی سوال تم لوگ آرہے ھو ناں۔پلیز منا لو اپنے ابا کو
کوشش تو کر رہے ہیں بس دعا کرنا ھمارے لیے ہمارا پلان کامیاب ھو جاۓ۔آمین۔آمین
چھٹی کے بعد راستے سے وہ سب سامان خریدنے لگی۔اور سامان خریدتے خریدتے ان کو تھوڑی دیر ھو گی۔
اب وہ تیزی تیزی گھر کی طرف بڑھنے لگی۔
مگر دل میں بس اک ہی خیال تھا سب کیسے ھو گا۔
فاریہ ۔پہلے کھانا کھا لیں۔
دیکھوں وقت بہت ھو گیا ۔ساتھ ساتھ کام کرتے ہیں۔
چلوں۔
اب چپ کر کے سبزیاں کاٹو ۔مجھے میٹھا بنانے دو۔ایک طرف یوٹیوب میں ریسپی کھلی ھوئ تھی اور دوسری طرف کام شروع ۔فاریہ نے کھیر بنانا۔شروع کر دی۔اور نادیہ نے پلاؤ کی تیاری شروع کردی۔
اب نادیہ کو امی کے ساتھ کھانا بنانے مدد کرتی تھی اسکو تھوڑا بہت پتہ تھا ۔وہ پلاؤ بنانے میں لگ گئ۔
اور فاریہ دیکھ دیکھ کر کیھر کی طرف لگ گئ۔
دیکھؤ ۔ساتھ ساتھ گند سمیٹتی رہنا ۔پھر بعد میں زیادہ گند ھو گیا تو مشکل ھو گا۔
اور یہ نہ ھو اماں سے داد کی بجاۓ کچھ اور ہی مل جاۓ۔
کیا ھے مجھے آرام سے بنانے دو۔ اٹھاتی ھوں۔
لڑو مت دھیان سے کرو سب۔
یہ میٹھا چیک کرو ٹھیک ھے۔
دکھاؤ۔ ہمم تھوڑا سا اور ڈالو کتنا ۔دو چمچ کے برابر نہی پاگل ایک چمچ کیوں شوگر کرانی ھے سب کو
اچھا ناں۔یہ دیکھو پلاؤ کا رنگ کتنا پیارا لگ رہا۔ہاں امی کے ساتھ کھڑے ہو کر انکی مدد کرواتے کرواتے تمہیں سمجھ آگئ ھے۔
اسلیے تو امی کہتی ہیں۔ادھر بھی دھیان دیا کرو۔
اچھا ٹھیک ھے۔اب سالن کی طرف آتے ہیں۔
ہاں۔ریسپی نکالو زرا۔پھر ریسپی دیکھ۔دیکھ کر سالن بنانا شروع ھو جاتا۔ھر بات کا دھیان رکھا جاتا نمک ۔مرچ مصالحہ کہ ابا خوش ھو جائیں بس ۔اور اجازت دے دیں۔بس آمین۔
آمیں اتنی محنت کی ھے ۔
اچھا یہ اب سمیٹنا شروع کرو پھر مل کر سلاد بناتے ہیں۔چٹنی بھی بنانی ھے۔ہاں وہ تو ابا کو پسند ھے بہت۔
یہ سب کرتے کرتے شام ھو جاتی ھے۔
اور اتنے میں۔اماں اور آپی گھر آجاتی ہیں۔
چلوں نازو تم کھانے کی تیاری کرو ۔اچھا اماں أپ اندر جائیں۔میں کر لیتی ھوں۔
کچن میں آپی کی موجودگی دیکھ کر وہ خوش ہو جاتی ہیں۔ آپی چیک کریں کیسا بنا۔
ہممم خوشبو تو آرہی ھے۔
اماں کو پتہ تو نہی چلا۔نہی ابھی تک تو نہی۔ہاں کہہ رہے تھی خوشبو بہت آرھی ھے۔میں کہہ دیا ساتھ والوں کے گھر سے آرہی ھو گی۔
آگے سے کہتی ہیں میری کہاں اتنی قسمت کہ میری دو عدد ناکاراں بیٹیاں کچھ بناے۔
ھممم ۔ٹھیک یہ فاریہ تھی۔جو غصے سے دیکھ رہی تھی۔
چلیں چھوڑیں نمک چیک کریں۔
واۀ یہ تو بہت ذائقے دار بنا ھے۔
شکر ھے۔آپی کھیر دیکھیں۔واہ ۔
بھئ تم دونوں نے تو پوری دعوت کر دی آج۔
بس دعا کریں ابا مان جائیں۔
اللہ کرے ۔آمین
اتنے میں باہر دستک ھوتی ھے۔
ابا آگۓ۔
چلوں جلدی سے دسترخوان۔لگاؤ۔
پھر دونوں بہنیں بڑے سلیقے سے برتن چیزیں لگانا شروع کر دیتی ہیں۔
اماں ابا جب انکا بھائ دسترخوان پر أتے ہیں تو سب دیکھ کر پریشان ھو جاتے ہیں۔
یہ سب کس نے بنایا۔ نازو تو میرے ساتھ تھی۔
یہ ہم نے بنایا۔ میں اور فاریہ نے۔
ہییں۔ تم دونوں نے۔ پر یہ سامان کون لایا تھا۔
وہ ہم نے خرید لیا تھا
کیا اماں اب سوال نہ کریں۔ اور دعوت کا مزہ لیں۔
دعوت کس خوشی میں جناب۔
ابا ویسے ہی۔ ۔واہ جی واہ ماشاءاللّٰه
نازو کی اماں بیٹیاں اس قابل ھو ہی گئ ہیں تمہاری کہ گھر داری کر سکیں۔
اماں کو اسوقت کچن۔ کی پڑی تھی۔
فکر مت کریں ۔أپ کا کچن بلکل صاف ھے
ہمم پھر بہتر۔
چلیں ابا۔ بسم اللہ کریں۔
اب سب اپنی اتنی پلیٹ بنانے لگے۔ اور نادیہ ۔فاریہ سب کے جواب کے انتظار میں سب کو دیکھ رہی تھی۔
یہ تم دونوں نے بنایا۔ ہاں کیوں۔
نہی ۔کچھ نہی بھائ ٹھیک بنا۔؟
اماں ابا بتاۓ گے۔ میں کیا۔کہہ سکتا۔
واۀ ۔تم دونوں نے تو آج کمال ہی کر دیا ھے۔ بہت خوب ۔داد تو بنتی ھے۔ بلکل اماں جیسا ذایقہ ھے ۔
شکر ھے محنت رنگ لائ ھے۔
سب خوشگوار ماحول میں کھانا کھانے لگتے ہیں۔
دال میں کچھ کالا ھے۔ورنہ اتنی محنت ان دونوں سے توقع نہی۔ یہ اماں نازو۔ کو کہہ رہی تھیں۔ جب وہ دونوں کچن میں سمیٹا سمیاٹی کر رہی تھیں۔
اماں ابھی پتہ چل جاۓ گا۔
ابا کھیر بھی ھے۔
واۀ میٹھا بھی ھے۔
ابا آپ سے اک بات کی اجازت لینی تھی۔
مجھے معلوم ھے تم۔لوگوں کی کالج ٹرپ جارھی ھے۔اور یہ اہتمام بھی اسی لیے ھوا ھے۔
أپ کو کیسے پتہ۔تم لوگوں کے کالج کا نوٹیفیکشن میرے نمبر پر بھی اتا ھے۔اسلیے۔
اوُ۔تو أپ کو معلوم تھا۔جی بیٹا جی۔
ابا ہم نے بھی جانا۔پلیز سب جا رہے ہیں۔
دیکھو۔بچے۔میں تم لوگوں کو اکیلے بازار نہی جانے دیتا۔آج تم لوگوں نے خریداری کی۔میں تم لوگوں کی محنت دیکھ کر چپ کر گیا تھا۔
آئندہ اپنے بھائ سے منگوانا۔اگر ضرورت محسوس ھو تو۔
اب رہی بات ٹرپ کی۔تو میرے بچوں۔نازو بھی پڑھی ھے۔ مگر اس کو کبھی اجازت نہی ملی تھی جانے کی۔ اک اور بات
میں اور اماں تمہارے ساتھ وہاں نہی ھوں گے۔
اور ماحول حالات اس بات کی اجازت نھی دیتے۔ کہ اپنی بچیوں کو اکیلے بھیجا جاۓ۔ چاہے اپنے رشتے دار ہی کیوں نہ ھؤں۔
یہ بات نہی مجھے تم پر اعتبار نہی۔ مجھے اتنا اعتبار احمد پر نہ ھو جتنا تم پر ھے۔
پر میرے بچے ۔میں نہی بھیج سکتا۔ تم ٹرپ جتنے بلکہ اس سے زیادہ پیسے لے لو اماں کے ساتھ جا کر شاپنگ کر لو۔ پر ٹرپ کی اجازت نہی ملنی۔
پر ابا سب دوستیں جارہی ہیں۔ جانے دیں ناں۔
جب ابا نے منع کر دیا تو بار بار اصرار کیوں کر رہی ھو۔
اماں۔ بس جو ابا نے کہہ دیا اس پر عمل کرو اچھی بیٹیاں ضد نہی کرتی۔
چلوں اک کام۔ کرتے ہیں۔ ٹرپ جہاں جارہی ھے۔ کیوں نہ ہم بھی چھٹیوں پر وہاں جائیں۔
فاریہ کا منہ بنا ھوتا پر نادیہ مسکرا کر سچی ابا۔
واۀ پھر تو مزہ آۓ گا۔ نازو آپا اور اصغر بھائ بھی ساتھ چلیں گے ضرور بھئ۔
ویسے بھی مجھے خود۔ بڑا شوق ھے ناران۔ کاغان۔ دیکھنے کا ایسے میری بھی خواہش پوری ہو جاۓ گی۔
چلوں جی پھر ڈن۔ ھو گیا اس بار ہم سب جائیں گے۔ کیوں۔فاریہ ٹھیک ہے ناں۔
ابا۔ پیلز۔
دیکھوں بچے۔ ماں باپ ظالم نہی ھوتے۔ ماں باپ وہ فیصلہ کرتے ہیں جو اولاد کے لیے بہتر ھوتا ھے۔
اور میں اپنی بچیوں اور بیٹے کے لیے غلط فیصلہ کیا۔ سوچ بھی نہی سکتا۔
ٹھیک ھے ابا جیسے أپ کی خوشی
یہ ھوئ نہ بات۔ اب تو کھیر اور ڈالو۔اب اور کھاؤ گا۔
جی نہی ۔جتنی کھالی اتنی ہی ٹھیک ھے۔
دو چمچ دے دو اور مزے کی بنی ھے۔
میری بچیوں نے پہلی بار اتنی محنت سے بنایا ھے۔
مزہ آگیا آج ۔اب انعام۔ بھی تو بنتا ھے ناں۔
یہ لو جی پیسے جا کر اپنی اماں کے ساتھ اپنے پسند کی شاپنگ کر آنا۔ اور یہ نازو تمہارے بھی
پر ابا میں نے تو کچھ نہی کیا۔
بھئ بیٹی گھر آۓ تو خالی ہاتھ نھی بھیجتے۔
ابا میں رہ گیا ھوں۔
تمہارا کل رزلٹ آ لے اس حساب سے دوں گا
قہقہوں اور خوشگوار ماحول میں کر سب اپنی کھیر کے ساتھ باتوں میں مصروف ھو جاتے ہیں۔
اور ابا اماں دل ہی دل میں اپنی اولاد کے لیے ڈھیڑ ساری دعائیں مانگ کر اک دوسرے کی طرف دیکھ کر مسکراتے ہیں۔
یوں اک افسانہ مکمل ھوا محبت کے احساس کا۔
صنم فاروق حسین
