کسی کو کرکے ناراض یوں خوش ہونے والے ہم کون
کسی کی ذات پر یوں کیچڑ اچھالنے والے ہم کون
دو چار نعمتوں سے نوازا دیا رب نے ہم کو تو پھر
اپنے آپ سے کم تر لوگوں کو سمجھنے والے ہم کون
مال و دولت عزت و شہرت سب رہ جائے گا یہاں
ان چیزوں پر پھر آخر یہاں اترانے والے ہم کون
کسی کو کم ملا کسی کو زیادہ یہ منشاء ہے رب کی
رب کی حکمت پر آخر سوال اٹھانے والے ہم کون
زندگی تو عارضی ہے اس دنیا کی آج ہے تو کل نہیں
اس زندگی کو اپنی ملکیت سمجھنے والے ہم کون
ناراضگی ناچاکی اور لاتعلقی میں ہم کہاں نکل گئے
رب تعالیٰ کے بنائے رشتوں کو نہ نبھانے والے ہم کون
مل کر رہنا محبتیں بانٹنا یہ ہے پسند رب تعالیٰ کو
پھر یوں سر عام نفرتوں کو پھیلانے والے ہم کون
کیا ہے ہماری اوقات اور کیا ہماری حیثیت یوسف
ہر بات پر یوں ہر کسی کو اکڑ دکھانے والے ہم کون
محمد یوسف میاں برکاتی
