102
اس کی آنکھوں کا کوئی خواب نہیں ہو پائے
ہنس تھے واقف تالاب نہیں ہو پائے
گریۂ غم کی حرارت سے پگھلتے ہوئے اشک
سرد لہجوں سے بھی برفاب نہیں ہو پائے
تم نے جی بھر کے محبت کی عنایت کی تھی
دشت پھر دشت تھے سیراب نہیں ہو پائے
ہجر نے طور طریقے تو سکھائے غم کے
ہم مگر مائل آداب نہیں ہو پائے
ایک دن تجھ کو اچانک یہ خبر آئے گی
تیرے بیمار شفا یاب نہیں ہو پائے
مجھ پہ کیا آتا گل سرخ کا موسم کوملؔ
جب مرے پیڑ ہی شاداب نہیں ہو پائے
